وششٹ ادویت
| مضامین بسلسلہ |
| فلسفہ |
|---|
![]() |
| فلسفی |
| فلسفیانہ روایات |
| بلحاظ دور |
| فلسفیانہ ادب |
| فہرستیں |
|
|
| سلسلہ مضامین |
| ویشنومت |
|---|
|
|

وششٹ ادویت (سنسکرت: विशिष्टाद्वैत) ہندو فلسفے کا ایک مکتبِ فکر ہے جس کا تعلق ویدانت روایت سے ہے۔ وششٹ ادویت کا مطلب "امتیازات کے ساتھ غیر ثنویت" ہے اور یہ برہم کو بنیادی صفت کے طور پر تسلیم کرتا ہے جبکہ اس کی وجودی کثرت کا بھی اعتراف کرتا ہے۔ اس فلسفے کی خصوصیت ایک قسم کی مشروط واحدیت یا مشروط غیر ثنویت ہے۔ اس فلسفہ کا نمایاں تصور یہ ہے کہ تمام تر تنوع اور کثرت بالآخر ایک بنیادی وحدت سے پھوٹتی ہے۔
وششٹ ادویت ویدانت کے مطابق وشنو (نارائن) ہی برہم، ربِ اعلیٰ (ایشور)، روحِ اعلیٰ (پرماتما) ہے اور وہ ہمہ دانی، قدرت مطلقہ، ہمہ گیری اور خیر مطلق جیسی اعلیٰ صفات سے متصف ہے۔ کائنات اپنے وجود اور اپنی صفات کے لیے خدا (ایشور) کا محتاج ہے۔[1]
گیارھویں سے بارھویں صدی عیسوی کے فلسفی اور وششٹ ادویت فلسفے کے نمایاں علم بردار رامانج کا دعویٰ ہے کہ "پرستھان ترئی" (تین مآخذ) یعنی اپنشد، بھگود گیتا اور برہم سوتر کی تشریح اس طرح کی جانی چاہیے جو "کثرت میں وحدت" کو ظاہر کرے، کیونکہ کوئی بھی دوسرا طریقہ ان کی مطابقت کی خلاف ورزی کرے گا۔ ایک اور بڑے فلسفی ویدانت دیشیک، جنھوں نے وششٹ ادویت کے فلسفے کی توسیع میں نمایاں کردار ادا کیا، "وششٹ ادویت" کی تعریف ان لفظوں میں کرتے ہیں کہ برہم اپنی ذی روح اور غیر ذی روح کیفیات (یا صفات) سے متصف ہو کر ہی حقیقتِ مطلق ہے۔
| مضامین بسلسلہ |
| ہندو فلسفہ |
|---|
تاریخ
[ترمیم]وششٹ ادویت کی ابتدائی کتابیں اب دستیاب نہیں ہیں۔[2] تاہم اُن ابتدائی فلاسفہ کے نام رامانُج کی "ویدارتھ سنگرہ" میں ملتے ہیں جنھوں نے اس نظام کو وضع کیا۔ بودھاین، دَرَمِڈ، ٹنک، گوہدیو، کپردی اور بھروچی انھی فلسفیوں میں سے کچھ نام ہیں۔[3]
بودھاین کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ انھوں نے پورو اور ویدانت کی ایک جامع "ورتی" (شرح) لکھی تھی۔ ٹنک سے چھاندوگی اپنشد اور برہما سوتر کی شروحات منسوب ہیں۔ نویں صدی عیسوی کے ناتھ مونی، جو ویشنو مت کے صفِ اول کے اچاریہ تھے، انھوں نے تمل دیویہ پربندھم کو جمع کیا، ان کی درجہ بندی کی، تدوین کی، ان بھجنوں کو موسیقی سے آراستہ کیا اور انھیں ہر جگہ پھیلایا۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے بارہ الواروں میں سب سے نمایاں "نملوار" سے براہِ راست یہ الہامی بھجن جنوبی بھارت میں ترونلویلی کے قریب واقع الوار تھروناگری کے مندر میں یوگی بصیرت کے ذریعے حاصل کیے تھے۔ یاموناچاریہ نے بادشاہت ترک کر دی اور اپنی زندگی کے آخری ایام شری رنگم میں دیوتا کی خدمت میں گزارے اور اس موضوع پر چار بنیادی کتب لکھ کر وششٹ ادویت فلسفے کی بنیادیں استوار کیں۔[4]
رامانج وششٹ ادویت فلسفے کے اصل علم بردار ہیں۔[5] رامانج نے اپنے پیشروؤں کے فکری خطوط کو برقرار رکھتے ہوئے ان علوم کی وضاحت کی جو اپنشدوں، برہما سوتر اور بھگود گیتا میں بیان ہوئے ہیں۔ ویدانت دیشیک اور پلئی لوکاچاریہ، جو رامانج روایت کے شاگرد تھے، ان کے درمیان فلسفہ پر نہیں بلکہ الٰہیات کے کچھ پہلوؤں پر معمولی اختلافات پیدا ہوئے، جن سے ودکلائی اور تھنکلائی مکاتبِ فکر وجود میں آئے۔[6]
وجہ تسمیہ
[ترمیم]"وششٹ" کے معنیٰ ہیں اخص الخاص (جو دوسروں کے برابر نہ ہو یا دوسروں سے مختلف ہو)۔
بنیادی اصول
[ترمیم]وششٹ ادویت کے تین کلیدی اصول ہیں:[7]
- تتو: تین حقیقی ہستیوں کا علم، یعنی جیو (ذی روح نفوس یا شعور رکھنے والے)، اجیو (غیر شعوری اشیا) اور ایشور (وشنو نارائن یا پربرہم، جو روحِ اعلیٰ، تمام مظاہر کی علت اور کرم کی بنیاد پر فضل عطا کرنے والا باطنی خالق ہے)۔
- ہت: ادراکِ حقیقت کی راہیں، بھکتی (عقیدت) اور پرپتی (خود سپردگی) سے گذر کر۔
- پرشارتھ: وہ مقصد جسے حاصل کرنا ہے، یعنی "موکش" یا دنیاوی بندھنوں سے نجات۔
علمیات
[ترمیم]پرمان
[ترمیم]"پرمان" سنسکرت کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "علم کے ذرائع" اور یہ کسی بھی شے کے بارے میں استدلال کے ذریعے حاصل کردہ حقائق پر مبنی علم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
وششٹ ادویت ویدانت میں درج ذیل فقط تین "پرمانوں" کو علم کے مستند ذرائع کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے:
- "پرتیکش" — ادراک کے ذریعے حاصل ہونے والا علم۔ اس تناظر میں ادراک سے مراد عام طور پر حسی ادراک ہے۔ دورِ حاضر کے سیاق میں سائنسی آلات کے ذریعے مشاہدے سے حاصل کردہ علم بھی اس زمرے میں شامل ہوگا، کیونکہ انھیں ادراک کی ہی توسیع سمجھا جاتا ہے۔
- "انومان" — استخراج و استنتاج کے ذریعے حاصل ہونے والا علم۔ استخراج سے مراد استنباطی استدلال اور تجزیہ ہے۔
- "شبد" — شروتی کے ذریعے حاصل ہونے والا علم۔ شروتی سے مراد وہ علم ہے جو صحائف یعنی اپنشد، برہما سوتر اور بھگود گیتا سے حاصل کیا جائے۔
علمیات کے اصول
[ترمیم]جب علم حاصل کرنے کے ان تین طریقوں کے درمیان بظاہر کوئی تضاد پیدا ہو تو ترجیح کے تین اصول درج ذیل ہیں:
- "شبد" یا "شروتی" پرمان ان معاملات میں سب سے اعلیٰ مقام رکھتا ہے جن کا تصفیہ یا حل "پرتیکش" (ادراک) یا "انومان" (استخراج) کے ذریعے ممکن نہ ہو۔
- "انومان" دوسرے درجے پر ہے۔ جب کوئی مسئلہ صرف حسی ادراک کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، تو اسے استخراج کی بنیاد پر حل کیا جاتا ہے، یعنی جو بھی دلیل زیادہ منطقی ہو۔
- جب "پرتیکش" کسی خاص مسئلے پر قطعی موقف پیش کر دے تو "شبد" کی ایسی تشریح کر کے اس ادراک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو اس مشاہدے کے خلاف ہو۔
مابعد الطبیعیات
[ترمیم]وجودیات
[ترمیم]وششٹ ادویت کی وجودیات تین ہستیوں کا خاکہ پیش کرتی ہے: چت (ذی روح موجودات)، اچت (غیر شعوری ہستیاں) اور ایشور (پربرہم)۔
چت
[ترمیم]وششٹ ادویت میں "چت" جیو اور آتما کا ہم معنی ہے۔[8] چت میں وہ تمام موجودات شامل ہیں جو احساس، شعور اور انفرادی خود آگاہی رکھتے ہیں۔ جیو کی فطرت علم بھی ہے اور وہ خود علم حاصل کرنے والا (عالم) بھی ہے۔ اسے ایک شمع سے تشبیہ دی جاتی ہے جو خود کو بھی روشن کرتی ہے اور دوسری اشیا کو بھی۔[9] یہ سانکھیہ نظام کے "پُرُش" سے مشابہ ہے۔
جیو کی تین اقسام ہیں:
- "نِتیہ": ابدی طور پر آزاد جیو جو کبھی سنسار کے بندھن میں نہیں رہے۔
- "مکتا": وہ جیو جو پہلے سنسار میں تھے لیکن اب آزاد ہو چکے ہیں۔
- "بدھا": وہ جیو جو سنسار کے بندھن میں جکڑے ہوئے ہیں۔[10]
جیو کے خصائص حسب ذیل ہیں:
- اس کا ناقابلِ تقسیم ہونا۔[11]
- عمل کا فاعل (کرنے والا) اور اس کے نتائج سے لطف اندوز ہونے والا ہونا۔[12]
- تعداد میں لامحدود اور ایک دوسرے سے مختلف ہونا۔[13]
اچت
[ترمیم]اچت غیر شعوری ہستیوں کی دنیا ہے جسے مادے سے یا زیادہ واضح طور پر غیر شعوری کائنات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ سانکھیہ نظام کی "پراکریتی" سے مشابہ ہے۔
اچت کی تین ہستیاں ہیں:
- پراکریتی: کائناتی مادۂ اولیں اور وہ سب کچھ جو اس سے ارتقا پاتا ہے۔ مثال کے طور پر مادی دنیا۔
- نتیہ وبھوتی: ماورائی روحانی کائنات۔
- کال: وقت۔[14]
ایشور
[ترمیم]ایشور (جس سے مراد وشنو (نارائن) ہے) وہ برتر کائناتی روح ہے جو پوری کائنات اور تمام ذی روح موجودات پر مکمل اختیار رکھتی ہے، جو مل کر ایشور کا "ہمہ نامیاتی" (Pan-organistic) جسم بناتے ہیں۔ کائنات اور ذی روح موجودات کے ساتھ ایشور کی یہ تثلیث ہی "برہم" ہے، جو وجود کی کاملیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایشور "پربرہم" ہے جو لاتعداد مبارک صفات (کلیان گن) سے آراستہ ہے۔ ایشور کامل، ہمہ دان، ہمہ گیر، غیر مادی، خود مختار، کائنات کا خالق، اس کا فعال حکمران اور بالآخر اس کا فنا کرنے والا ہے۔[15] وہ بے علت، ابدی اور غیر متغیر ہے اور اس کے باوجود کائنات اور ذی روح موجودات کی مادی اور موثر علت ہے۔ وہ تمام موجودات میں جاری و ساری (جیسے دودھ میں سفیدی) بھی ہے اور ان سے ماورا (جیسے گھڑی سے آزاد گھڑی ساز) بھی۔ وہ عبادت کا محور ہے۔ وہ اخلاقیات کی بنیاد اور انسان کے کرم کا پھل دینے والا ہے۔ وہ اپنی "مایا" —الٰہی قدرت— سے دنیا پر حکومت کرتا ہے۔
انتریامِن
[ترمیم]باطنی حکمران ("انتریامِن") وہ رشتہ ہے جو ہر چیز کو جوڑتا ہے اور اس دنیا، اگلی دنیا اور تمام موجودات کی اندر سے نگرانی کرتا ہے (برہد آرنیک اپنشد 3.7.3-23)۔[16]
"وہ جو پانی میں بستا ہے، پھر بھی پانی کے اندر ہے، جسے پانی نہیں جانتا، پانی جس کا جسم ہے اور جو اندر سے پانی پر حکومت کرتا ہے —وہی آپ کی خودی ہے، باطنی حکمران، لافانی۔"
"وہ جو سورج میں بستا ہے، پھر بھی سورج کے اندر ہے، جسے سورج نہیں جانتا، سورج جس کا جسم ہے اور جو اندر سے سورج پر حکومت کرتا ہے —وہی آپ کی خودی ہے، باطنی حکمران، لافانی" — برہد آرنیک اپنشد 3.7.4–14
برہم
[ترمیم]ایشور اور برہم کے درمیان ایک لطیف فرق ہے۔ ایشور برہم کا "جوہر" ہے، جبکہ جیو اور جگت اس کی کیفیات (اور ثانوی صفات) ہیں اور "کلیان گن" (مبارک صفات) اس کی بنیادی صفات ہیں۔ ثانوی صفات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب دنیا نام اور شکل کے لحاظ سے الگ ہو جاتی ہے۔ مبارک صفات ازل سے ظاہر ہیں۔
"برہم ایشور کی وہ توضیح ہے جب اسے اس کی کاملیت میں سمجھا جائے —یعنی ایشور کا اس کی تمام کیفیات اور صفات کے ساتھ بیک وقت نظارہ۔"
چت اور اچت مکمل طور پر برہم پر منحصر ہیں۔[17] درج ذیل مثالیں برہم اور جیو کے تعلق کی وضاحت کرتی ہیں:
- شریر / شریری (جسم / روح)؛
- درویہ / گن (جوہر / صفت)؛
- انشی / انش (کل / جز)؛
- وشئی / وشے (موضوع / معروض)؛
- انگی / انگ (نامیہ / اعضا)؛[18]
ان تعلقات کا تجربہ برہم کو باپ، بیٹے، ماں، بہن، بیوی، شوہر، دوست، محبوب اور آقا مان کر کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، برہم ایک "شخصی وجود" (Personal being) ہے۔
- نِرگن برہم کا کیا مطلب ہے؟
رامانج برہم کو بلا صفات سمجھنے کے خلاف بھرپور دلیل دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک برہم "نِرگن" اس معنی میں ہے کہ ناپاک صفات اسے چھو نہیں سکتیں۔ وہ اس دعوے کے لیے تین وزنی وجوہات پیش کرتے ہیں:
شروتی / شبد پرمان: برہم کی نشان دہی کرنے والی تمام شروتیاں اور شبد ہمیشہ یا تو برہم کی موروثی صفات کی فہرست دیتے ہیں یا غیر موروثی صفات کی۔ شروتیاں صرف برہم میں ناپاک اور ناقص صفات کی موجودگی کی نفی کرتی ہیں، جو مخلوقات کی دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں شروتیوں میں ثبوت موجود ہیں۔ شروتیاں برہم کو مشاہدہ کیے جانے والے "تری گن" سے ماورا قرار دیتی ہیں۔ تاہم برہم لامحدود ماورائی صفات کا حامل ہے، جس کا ثبوت "ستیم گیانم اننتم برہم" (تیتریہ اپنشد) جیسے واکیوں میں ملتا ہے۔
پرتیکش پرمان: رامانج کہتے ہیں کہ "مواد کے بغیر ادراک ناممکن ہے"۔ اور تمام ادراکات میں لازمی طور پر برہم کو اس کی صفات کے ذریعے جاننا شامل ہے۔
انومان پرمان: رامانج فرماتے ہیں کہ "نِرگن توا" (بلا صفت ہونا) خود برہم کی ایک صفت بن جاتی ہے کیونکہ کوئی دوسری ہستی نِرگن نہیں ہے۔ رامانج نے برہم اور روح کے تعلق کو سادہ بنا دیا تھا۔ ان کے مطابق، اگرچہ روح برہم کا لازمی حصہ ہے، لیکن اس کا ایک آزاد وجود بھی ہے۔[19]
علیت
[ترمیم]سانکھیہ نظام کی طرح وششٹ ادویت "ست کاریہ واد" کے نظریے کی حمایت کرتا ہے نہ کہ "است کاریہ واد" کی۔ ست کاریہ واد کے مطابق، معلول (اثر) کوئی نئی ہستی نہیں ہے، بلکہ علت کی ہی تبدیل شدہ شکل ہے۔
وششٹ ادویت کے نظریے کو "برہم پرینام واد" کہا جاتا ہے، جس میں "پرینام واد" سے مراد علت سے معلول کا ارتقا ہے۔ برہم علت بھی ہے اور معلول بھی، لیکن بنیادی ہستی تمام شکلوں میں ایک ہی رہتی ہے۔
برہم کو دو قسم کی "کارنتو" (علت ہونے کے طریقے) تفویض کی گئی ہیں:
- "نِمِت کارنتو" — "موثر یا علت موجدہ ہونا"۔ مثال کے طور پر ایک سنار زیور بنانے والا ہوتا ہے، اس طرح وہ زیور کی "علت موجدہ" بن جاتا ہے۔
- "اُپادان کارنتو" — "مادی علت ہونا"۔ مثال کے طور پر سونا زیور کا مادہ ہے، اس طرح وہ زیور کی "مادی علت" بن جاتا ہے۔
وششٹ ادویت کے مطابق کائنات اور ذی روح موجودات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ تاہم وہ ایک لطیف حالت سے شروع ہوتے ہیں اور تبدیل ہوتے ہیں۔ لطیف حالت کو "علتی حالت" جبکہ تبدیل شدہ حالت کو "معلولی حالت" کہا جاتا ہے۔ علتی حالت وہ ہے جب برہم باطنی طور پر نام اور شکل کے لحاظ سے ممتاز نہیں ہوتا۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ وششٹ ادویت "برہم پرکار پرینام واد" کی پیروی کرتا ہے۔ یعنی یہ برہم کی کیفیات (جیو اور جگت) ہیں جو ارتقا کے عمل میں ہیں۔ علت اور معلول صرف ہمہ نامیاتی جسمانی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ برہم بطور کائناتی خودی، غیر متغیر اور ابدی ہے۔
برہم، جو ظہور سے پہلے لطیف چت اور اچت ہستیوں کو اپنے "شریر / پرکار" (جسم / کیفیت) کے طور پر رکھتا ہے، وہی برہم ہے جو ظہور کے بعد پھیلی ہوئی چت اور اچت ہستیوں کو اپنے "شریر / پرکار" کی حیثیت سے رکھتا ہے۔
تصور نجات
[ترمیم]انسانی وجود کے مقصد یا نصب العین کو "پُرُشارتھ" کہا جاتا ہے۔ ویدوں کے مطابق وجود کے چار مقاصد ہیں: ارتھ (دولت)، کام (لذت)، دھرم (راستی) اور موکش (دنیاوی بندھنوں سے مستقل نجات)۔ اس فلسفے کی رو سے پہلے تین مقاصد بذاتِ خود منزل نہیں ہیں بلکہ انھیں موکش کے حصول کی غرض سے حاصل کیا جانا چاہیے۔[20]
موکش (نجات)
[ترمیم]موکش کا مطلب "سنسار" یعنی بار بار جنم لینے کے چکر سے نجات یا رہائی ہے۔ وششٹ ادویت میں "بدھا" (بندھا ہوا) جیو صرف اپنی ذات سے آگاہ ہوتا ہے اور وہ "شریر شریری" (جسم اور روح) کے تعلق سے ناواقفیت کی حالت میں ہوتا ہے۔ سنسار میں بے شمار جنموں اور موتوں کے بوجھ تلے دبے کرم جیو کو ایشور کے "دھرم بھوت گیان" (صفاتی شعور) سے دور رکھتے ہیں۔ ایشور کے تخلیقی عمل کے ساتھ، مختلف اجسام میں ارتقا پاتے ہوئے، جیو انسانی جسم حاصل کرتا ہے جس میں وہ "بھکتی" کے ذریعے خود کی حقیقی فطرت اور ایشور کی حقیقی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایشور کے فضل سے نجات پاتا ہے۔ نجات کا سیدھا مطلب ایشور کا سچا علم حاصل کرنا اور "ویکنٹھ" (ایشور کی قیام گاہ) میں ایشور کی خدمت کرنا ہے۔ نجات کی حالت میں جیو اپنی انفرادی شناخت برقرار رکھتا ہے اور برہم کی طرح لامحدود علم اور خوشی رکھتا ہے، لیکن وہ برہم میں مدغم نہیں ہوتا۔ ادویت کے برعکس نجات صرف موت کے بعد ہی ممکن ہے ("ویدیہ مکتی") اور "جیون مکتی" کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔[21]
وَدَکلائی مکتبِ فکر نجات کے حصول میں انفرادی کوشش کے ساتھ ایشور کے فضل کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے بندر کے بچے کے اپنی ماں کو پکڑ کر رکھنا لازم ہے۔ تھنکلائی مکتبِ فکر ایشور کے فضل کو نجات کے لیے واحد ضرورت سمجھتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ایک بلی اپنے بچے کو اٹھاتی ہے اور اس میں بچے کی اپنی کوشش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔[22]
بھکتی بغرض حصول موکش
[ترمیم]وششٹ ادویت میں بھکتی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ بھکتی (عقیدت) کے ذریعے ایک جیو ویکنٹھ کی طرف بلند ہوتا ہے، جہاں وہ ایک ایسے جسم میں خدا کی خدمت سے لطف اندوز ہوتا ہے جو "ست چت آنند" ہوتا ہے۔ کرم یوگ اور گیان یوگ بھکتی یعنی مکمل سپردگی کے ذیلی راستے ہیں، کیونکہ عقیدت مند یہ جان لیتا ہے کہ معبود ہی اس کی باطنی خودی ہے۔ عقیدت مند اپنی حالت کو معبود پر انحصار کرتے ہوئے، اس کے سہارے اور اس کی رہنمائی میں محسوس کرتا ہے جو آقا ہے۔ انسان کو معبود کے خادم کی حیثیت سے زندگی گزارنی چاہیے اور اپنی تمام تر سوچ، لفظ اور عمل کو معبود کے قدموں میں پیش کر دینا چاہیے۔ انسان کو ہر چیز میں معبود کو اور معبود میں ہر چیز کو دیکھنا چاہیے۔ یہ وہی "کثرت میں وحدت" ہے جو عقیدت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔[23]
رامانج رب کے قدموں میں "شرناگتی" (مکمل سپردگی) کو موکش کا واحد ذریعہ تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک موکش کی تعریف یہ ہے کہ انسان سنسار سے نجات پا کر ایک روحانی جسم میں نارائن کی خدمت کے لیے ویکنٹھ چلا جائے۔ یہ اس فلسفیانہ مکتب فکر کی ایک امتیازی خصوصیت ہے، کیونکہ آدی شنکر کا ادویت اور مدھو اچاریہ کا دویت، موکش کے دو مختلف تصورات کے لیے بھکتی کو قبول کرتے ہیں۔ رامانج نے ویدوں کے مختلف حوالوں اور مختلف واقعات سے اس رائے کی تائید کی ہے جو ویکنٹھ کے دائرے میں ذاتی قیام کے حصول کے لیے شرناگتی کو ایک ذریعے کے طور پر نمایاں کرتے ہیں۔ رب کے قدموں میں مکمل سپردگی اس جنم کے اختتام پر موکش کی ضمانت دیتی ہے۔ چنانچہ شرناگتی اور موت کے درمیانی عرصہ میں ایسی روح کو اپنا وقت بھکتی کی نو اقسام کی مشق میں صرف کرنا چاہیے۔[24]
وششٹ ادویت کے پیروکار فرقے
[ترمیم]- جنوبی بھارت کا شری ویشنو سمپردائے[25]
- شمالی بھارت کا شری رامانندی فرقہ، جس کا راہبانہ نظام پورے بھارت میں سب سے بڑا ہے۔[26]
- آسام کا "دامودریہ ویشنو سمپردائے"
- گجرات کا سوامی نارائن سمپردائے
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ William Wainwright (19 دسمبر 2012)۔ "Concepts of God"۔ در Edward N. Zalta (مدیر)۔ Stanford Encyclopedia of Philosophy (Winter 2018 ایڈیشن)۔ Metaphysics Research Lab, Stanford University۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-17
- ↑ Matthew Chandrankunnel (2008ء)۔ Philosophy of Quantum Mechanics۔ New Delhi: Global Vision Publishing House۔ ص 945
- ↑ Surendranath Dasgupta (1922ء)۔ History of Indian philosophy vol.1۔ ص 433
- ↑ Swami Harshananda, A Concise Encyclopaedia of Hinduism. Bengaluru:Sri Ramakrishna Math & Mission Publication.
- ↑ Constance Jones (2007ء)۔ Encyclopedia of Hinduism۔ New York: Infobase Publishing۔ ص 490۔ ISBN:978-0816073368
- ↑ Swami Harshananda, A Concise Encyclopaedia of Hinduism. Bengaluru:Sri Ramakrishna Math & Mission Publication.
- ↑ P. N. Srinivasachari (1970ء)۔ The philosophy of Vis'iṣṭādvaita۔ Adyar, Madras۔ ص 22۔ ISBN:0-8356-7495-9۔ OCLC:507290
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (link) - ↑ Makarand Joshi۔ Vaisnavism Its Philosophy Theology And Religious Discipline SM Srinivasa Chari 2000۔ ص 66
- ↑ Makarand Joshi۔ Vaisnavism Its Philosophy Theology And Religious Discipline SM Srinivasa Chari 2000۔ ص 68–69
- ↑ Makarand Joshi۔ Vaisnavism Its Philosophy Theology And Religious Discipline SM Srinivasa Chari 2000۔ ص 71–72
- ↑ Makarand Joshi۔ Vaisnavism Its Philosophy Theology And Religious Discipline SM Srinivasa Chari 2000۔ ص 71
- ↑ Makarand Joshi۔ Vaisnavism Its Philosophy Theology And Religious Discipline SM Srinivasa Chari 2000۔ ص 72
- ↑ Makarand Joshi۔ Vaisnavism Its Philosophy Theology And Religious Discipline SM Srinivasa Chari 2000۔ ص 75
- ↑ Makarand Joshi۔ Vaisnavism Its Philosophy Theology And Religious Discipline SM Srinivasa Chari 2000۔ ص 85
- ↑ وائٹ یجر وید 32.3
- ↑ C. J. Bartley (2011ء)۔ An introduction to Indian philosophy۔ London: Continuum۔ ص 10, 178۔ ISBN:978-1-84706-448-6
- ↑ Deepak Kumar Sethy (2024-09-01ء). "An Exposition of the Notion Self and Identity in the Philosophy of Rāmānuja: A Critical Study". Journal of Indian Council of Philosophical Research (بزبان انگریزی). 41 (3): 381–399. DOI:10.1007/s40961-024-00332-5. ISSN:2363-9962.
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(help) - ↑ Deepak Kumar Sethy (2024-09-01ء). "An Exposition of the Notion Self and Identity in the Philosophy of Rāmānuja: A Critical Study". Journal of Indian Council of Philosophical Research (بزبان انگریزی). 41 (3): 381–399. DOI:10.1007/s40961-024-00332-5. ISSN:2363-9962.
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(help) - ↑ J.L.Mehta VOl3
- ↑ P. N. Srinivasachari (1970ء)۔ The philosophy of Vis'iṣṭādvaita۔ Adyar, Madras۔ ص 315–317۔ ISBN:0-8356-7495-9۔ OCLC:507290
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (link) - ↑ Tapasyananda, Swami. Bhakti Schools of Vedanta pg. 54-83
- ↑ "Vishishtadvaita." Britannica Academic, Encyclopædia Britannica, 31 Mar. 2015.
- ↑ "VishistAdvaitham Part 1 - Sri Velukkudi Krishnan"۔ video.google.com۔ 2011-06-22 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "9 forms of bhakti"
- ↑ John Carman (2005ء)۔ Encyclopedia of Religion (2nd ایڈیشن)۔ Gale۔ ج 13۔ ص 8727
- ↑ "Ramanandi Sampradaya"
بیرونی روابط
[ترمیم]- "سدھانت سنگرہ"، انگریزی ترجمہ، اٹھارھویں صدی سے
- Viśiṣṭādvaita "رامانج" اور "وینکٹ ناتھ" کے مطابق روح کا نظریہ، سریندر ناتھ داس گپتا، 1940ء
