وصی شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید وصی شاہ 21 جنوری 1973ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے شاعر کے علاوہ صحافی بھی ہیں اور مستقل کالم نگاری بھی کرتے ہیں، نئی بات لاہور میں ان کا مستقل کالم شائع ہوتا ہے، وصی شاہ ملک میں ادب کے حوالے سے ایک جانی مانی شخصیت ہیں، ان کی شہرہ آفاق شاعری کسی تعارف کی محتاج نہیں، وصی شاہ کئی مقبول ڈراموں‌کے لکھاری بھی ہیں اور آج کل ملک کے معروف اخبار اور اُردو پوائنٹ کے لیے کالم نگاری بھی کر رہے ہیں۔

شعری مجموعے[ترمیم]

  1. مجھے صندل کردو
  2. مرے ہو کے رہو
  3. آنکھیں بھیگ جاتی ہیں،
  4. میرے خواب تمہاری آنکھیں

نمونہ کلام[ترمیم]

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو

میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو

نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے

اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو ====================≠

  • کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا

تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو

اور بےتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو

میں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈ میں آکر مجھے چوما کرتی

تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا

رات کو جب بھی نیندوں کے سفر پر جاتی

مرمریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی

میں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا

تیری زلفوں کو ترے گال کو چوما کرتا

جب بھی بند قبا کھولنے لگتی جاناں

اپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ کرتا

مجھ کو بے تاب سا رکھتا تری چاہت کا نشہ

میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا

میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا

کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا

کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا

حوالہ جات[ترمیم]

کامران اعظم سوہدروی