وضع الیدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وضع الیدین فی الصلات میں مسلمانوں کا ایک مشغول گروہ۔

ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کو وضع الیدین یا تکتف کہتے ہیں۔ وضع یدین حنفی، شافعی، زیدیہ، حنبلی، ظاہری اور اہل حدیث/سلفی مکاتب فکر میں رائج ہے۔

اب اس میں اختلاف ہے کہ دونوں ہاتھ کہاں رکھیں جائیں۔ ابو حنیفہ کہتے ہیں زیر ناف۔ مالک بن انس[ا] اور محمد بن ادریس شافعی کہتے ہیں ناف کے اوپر سینے کے نیچے۔ احمد بن حنبل سے دو روایت مشہور ہیں جسے عمر بن حسین خرقی نے بھی اختیار کیا ہے۔ ابو حنیفہ کے مطابق زیر ناف ہے اور تین کے نزدیک یہ سنت ہے کہ مصلی نماز میں نظر کرے طرف موضع سجود اپنے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. انہوں نے ہاتھ باندھنے کی اجازت صرف نوافل میں تھوڑی دیر کے لیے دی، ہاتھ تھک جانے کی صورت میں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. المدونة الكبرى (كتاب الصلاة الأول)، ص 169، دار الكتب العلمية
  2. رحمة الأمة في اختلاف الأئمة (كتاب الصلاة)، مصنف: محمد بن عبد الرحمن الدمشقي العثماني، ص 28، دار الكتب العلمية