وطن سکنیٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وطن سکنی : یہ وہ وطن ہے جہاں کوئی شخص اپنے شہر کے علاوہ کسی دوسری جگہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے مگر اس کا قیام لمبا ہو جائے جیسے رسول اللہ نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور نماز قصر ادا کی
صاحب بدائع امام کا سانی کے بیان کے مطابق وطن کی تین قسمیں ہیں : (1) وطن اصلی۔ (2) وطن اقامت (3)وطن سکنی۔ وطن سکنیٰ وطن اقامت اوروطن اصلی سے کم درجے کا وطن ہوتا ہے۔ [1]

وطن سکنی کب ختم ہوتا ہے[ترمیم]

وطن سکنی درج ذیل صورتوں میں باطل ہوجاتا ہے :

  • (1) وطن سکنی سے کوئی شخص وطن اصلی میں چلا جائے۔
  • (2) وطن سکنی سے کوئی شخص وطن اقامت اختیار کرلے ۔
  • (3) وطن سکنی سے کوئی شخص دوسرا وطن سکنی اختیار کرلے ۔

وطن سکنیٰ کا حکم[ترمیم]

وطن سکنی چونکہ درحقیقت شرعی وطن ہی ہوتا لہذا احکام میں اس کا کوئی اعتبار نہیں وطن سکنی میں آدمی بدستور مسافر رہتا ہے یہاں نماز قصر ادا کی جائے گی[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. البدائع : ج : 1: ص : 97، 98
  2. موسوعہ فقہیہ ،جلد27 صفحہ 297، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا