وفا راشدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وفا راشدی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 1926  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 نومبر 2003 (77 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس،  پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
استاذ وحشت کلکتوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محقق،  ادبی تنقید نگار،  شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

عبد الستار خان المعروف ڈاکٹر وفا راشدی (پیدائش: یکم مارچ 1926ء - وفات: یکم نومبر 2003ء) اردو زبان کے نامور ادیب، شاعر، محقق اور نقاد تھے۔ ان کی تصانیف اردو کی ترقی میں اولیائے سندھ کا حصہ اور بنگال میں اردو کافی شہرت رکھتی ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

وفا راشدی یکم مارچ 1926ء کو کلکتہ، برطانوی ہند میں گلزار احمد خان کے گھرپیدا ہوئے۔[1][2] مدرسہ عالیہ کلکتہ سے میٹرک کیا، 1947ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ اس کے بعد ایم اے (اردو) کی ڈگری اسی جامعہ سے حاصل کی۔ شعر و سخن کا آغاز لڑکپن میں ہی ہو گیا تھا، وحشت کلکتوی سے تلمذ رکھتے تھے۔ بعد ازاں تحقیق و تاریخ کی طرف راغب ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد مشرقی پاکستان منتقل ہو گئے۔ وہاں بنگال میں اردو کے عنوان سے تحقیق کتاب لکھی جو 1955ء میں شائع ہوئی اور اسے اردو کے ادبی حلقوں میں بہت پزیرائی ملی۔ مشرقی پاکستان کی تاریخ و ثقافت پر ان کی دوسری کتاب سنہرا دیس کے نام سے شائع ہوئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد لاہور منتقل ہو گئے اور یہاں صحافت کے پیشے سے وابستگی اختیار کی۔ بعد ازاں کوٹری اور حیدرآباد، سندھ سے ہوتے ہوئے مستقل طور پر کراچی میں چلے گئے اور ٹیلی کمیونیکیشن ٹریننگ اسکول سے منسلک ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انجمن ترقی اردو پاکستان سے بحیثیت سینئر اسکالر وابستہ ہو گئے۔ اردو کی ترقی میں اولیاء سندھ کا حصہکے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔دائرہ ادبِ پاکستان کے نام سے ایک ادبی تنظیم قائم کی۔ باقی عمر کراچی ہی میں بسر کی۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  • پیام ِ نو (1947ء)
  • جہان ِ رنگ و بو (1945ء)
  • بنگال میں اردو (ناشر: مکتبہ اشاعت اردو حیدرآباد، 1955ء)
  • چاند تارے (1958ء)
  • کیف و عرفاں (1961ء)
  • سنہرا دیس (1964ء)
  • خالد ایک آہنگ (1978ء)
  • اردو میں قومی شاعری
  • کیفیات ِ غالب
  • سندھ میں اردو نعتیہ شاعری(انتخاب)
  • آہنگِ ظفر
  • مہران نقش (ناشر: مکتبہ اشاعت اردو، 1986ء)
  • اردو کی ترقی میں اولیائے سندھ کا حصہ (ناشر: مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، 1991ء)
  • میرے بزرگ میرے ہم عصر (ناشر: مکتبہ اشاعت اردو حیدرآباد، 1995ء)
  • داستان ِ وفا (ناشر: مکتبہ اشاعت اردو حیدرآباد، 1997ء)
  • کلکتے کی ادبی داستانیں (ناشر: مکتبہ اشاعت اردو حیدرآباد، 1999ء)
  • تذکرۂ ِ علمائے سندھ (ناشر: مکتبہ اشاعت اردو حیدرآباد، 2000ء)
  • شمیم روش : شخصیت اور فن (ناشر دائرۂ علم و ادب کراچی حیدرآباد، 2003ء)
  • حیات وحشت

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر وفا راشدی یکم نومبر 2003ء کو انتقال کر گئے۔ ملیر، کراچی میں سپردِ خاک ہوئے۔[3][1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، اردو سائنس بورڈ لاہور، 2006ء، ص 919
  2. ^ ا ب ڈاکٹر وفا راشدی، بائیو ببلوگرافی ڈاٹ کام، پاکستان
  3. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل لاہور، 2019ء، ص 287