وفد بجیلہ
وفد بجیلہ رمضان 10ھ میں مدینہ منورہ آ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والا قبیلہ بجیلہ کا وفد تھا۔ بجیلہ انمار بن اراش کی نسل سے تعلق رکھنے والا یمنی عرب قبیلہ تھا۔ وفد کی قیادت جریر بن عبداللہ بجلی کر رہے تھے جو اپنی قوم کے ڈیڑھ سو افراد کے ساتھ آئے، اس لیے بعض مقامات پر اسے وفد جریر بجلی بھی کہا گیا ہے۔ وفد نے اسلام قبول کیا اور اس کے بعد جریر کی سربراہی میں ذو الخلصہ نامی بت کدہ منہدم کیا گیا۔[1]
آمد
[ترمیم]وفد کا قیام فروہ بن عمرو بیاضی انصاری کے ہاں تھا۔[1] روایت کے مطابق وفد کی آمد سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اس راستے سے اہل یمن کا ایک بہترین شخص آنے والا ہے جس کے چہرے پر بادشاہی کی علامت ہے۔ اس کے بعد جریر اپنی سواری پر آتے دکھائی دیے اور ان کے ساتھ ان کی قوم تھی۔[1] بعض روایات کے مطابق جریر نے مدینہ کے قریب پہنچ کر سفر کے کپڑے بدلے اور عمدہ لباس پہن کر مسجد نبوی میں داخل ہوئے، جہاں رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اپنی چادر بچھائی اور صحابہ سے فرمایا کہ جب کسی قوم کا معزز آدمی آئے تو اس کی عزت کرو۔[2]
وفد میں شامل قبیلہ بجیلہ کی شاخ احمس کے لوگ قیس بن ابی غرزہ احمسی کی قیادت میں ڈھائی سو کی تعداد میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے پر انھوں نے اپنا تعارف "احمس اللہ" کے نام سے کرایا اور آپ ﷺ نے ان کے لیے خیر کی بات فرمائی۔ آپ ﷺ کے حکم پر بلال بن رباح نے وفد کو عطایا دینے کی ابتدا احمس سے کی۔ اس کی تفصیل وفد احمس میں دیکھی جا سکتی ہے۔[1]
بیعت
[ترمیم]جریر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ بڑھا کر ان سے بیعت لی۔ بیعت ان باتوں پر تھی: اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا اور حاکم کی اطاعت کرنا، خواہ وہ حبشی غلام ہی ہو۔[1]
ذو الخلصہ کی مہم
[ترمیم]رسول اللہ ﷺ نے جریر سے ان کے علاقے کے حالات پوچھے تو انھوں نے بتایا کہ اللہ نے اسلام کو غلبہ دیا ہے، مساجد میں اذان دی جاتی ہے اور قبائل نے اپنے بت توڑ دیے ہیں۔ آپ ﷺ نے ذو الخلصہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ ابھی اپنی جگہ موجود ہے۔[1]
ذو الخلصہ یمن کے علاقے تبالہ میں واقع بت کدہ تھا جسے "کعبہ یمانیہ" بھی کہا جاتا تھا۔ جاہلیت میں دوس، خثعم اور بجیلہ کے قبائل اسے پوجتے تھے۔[2] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم مجھے ذو الخلصہ سے راحت نہیں دلاتے؟ آپ ﷺ نے جریر کے لیے جھنڈا باندھا۔ جریر نے عرض کیا کہ وہ گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ پاتے۔ آپ ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے ثابت قدم رکھ اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا۔[1] جریر احمس اور بجیلہ کے ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ انھوں نے بت کدے کو گرا دیا اور اسے آگ لگا دی۔ واپسی پر انھوں نے بتایا کہ بت کدے کو جلا دیا گیا اور اس مہم میں انھیں کسی نے نہیں روکا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیادوں اور سواروں کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔[1]
حدیث
[ترمیم]ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک قبیلہ دوس کی عورتیں ذو الخلصہ کے گرد اپنے کولھے نہ مٹکانے لگیں۔ ذو الخلصہ دوس کا بت تھا جسے وہ جاہلیت میں پوجتے تھے۔[3] شارحین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ آخر زمانے میں اس قبیلے کے لوگ پھر بت پرستی کی طرف لوٹ جائیں گے۔[4]
بعد کے حالات
[ترمیم]اسلام قبول کرنے کے بعد بجیلہ نے خلفائے راشدین کے دور میں عراق و فارس کی فتوحات میں حصہ لیا۔ عمر بن الخطاب کے عہد میں جریر بن عبد اللہ جنگ قادسیہ اور اس سے متعلق مہمات میں شریک رہے۔ بعد میں بجیلہ کے بہت سے لوگ کوفہ میں آباد ہو گئے۔[5]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 7 8 محمد بن سعد۔ طبقات ابن سعد۔ کراچی: نفیس اکیڈمی۔ ج 2۔ ص 90–91
- 1 2 ابن عبد البر (1992)۔ الاستيعاب في معرفة الأصحاب۔ دار الجيل۔ ج 1۔ ص 236
- ↑ صحیح بخاری و صحیح مسلم۔
- ↑ مظاہر حق شرح مشکوۃ شریف۔ ج 5۔ حدیث نمبر 89
- ↑ ابن حجر العسقلاني (1995)۔ الإصابة في تمييز الصحابة۔ دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 582