وفد بنوعقیل بن کعب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفد بنو عقیل بن کعب میں ربیع بن معاویہ بن خفاجہ بن عمرو بن عقیل،مطرف بن عبد اللہ بن الاعلم بن ربیعہ بن عقیل اور انس بن قیس بن المنتق بن عامر بن عقیل وفد کی صورت میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے یہ لوگ بیعت ہو کر اسلام میں داخل ہو ئے اپنی قوم کے بقیہ لوگوں کی طرف سے بھی اسلام قبول کیا نبی کریم نے انہیں مقام عقیق بن عقیل عطا فرمایا یہ ایک زمین تھی جس میں چشمے اور کھجور کے باغات تھے اس کے متعلق ایک سرخ چمڑے پر فرمان تحریر کر کے دیا جس کا مضمون یہ تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ سند ہے جو محمد الرسول اللہ نے ربیع و مطرف اور انس کو عطا فرمائی آپ نے ان لوگوں کو اس وقت تک عقیق عطا فرمایا جب تک یہ لوگ نماز کوقائم رکھیں زکوۃ کو ادا کرتے رہیں،اطاعت و فرماں برداری ادا کرتے رہیں آپ نے انہی کسی مسلمان کا کوئی حق نہیں دیا ۔ یہ فرمان مطرف کے پاس تھا لقیط بن عامر بن المنتق بن عامر بن عقیل جو رزین کے والد تھے بطور وفدخدمت میں پیش ہوئے تو انہیں ایک پانی والا مقام جس کا نام نظیم تھا عطا فرمایا انہوں ے اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کی۔ آپ کی خدمت میں ابو حرب بن خویلدبن عامر بن عقیل پیش ہوئے تو رسول اللہ نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور انہیں اسلام پیش فرمایا انہوں نے عرض کی بے شک اآپ اللہ سے ملے ہیں یا اس سے ملے ہیں جو اللہ سے ملا ہے۔ بے شک آپ اچھی بات فرماتے ہیں جس سے اچھی بات ہم نہیں جانتے لیکن میں اس دین پر جس کی آپ مجھے دعوت دیتے ہیں اور اس دین پر جس پر میں پہلے ہوں اپنے تیر گھما کر قرعہ ڈالوں گا انہوں نے تیر گھمایا تو کفر کا تیر ان کے خلاف نکلا ایک مرتبہ دوسری مرتبہ تیسری مرتبہ بھی یہی نکلا تو رسول اللہ سے عرض کرنے لگے یہ تو اسی طرف لے جاتا ہے جس کی آپ مجھے دعوت دیتے ہیں اور پھر اسلام قبول کیا ۔ وہ اپنے بھائی عقل بن خویلد کے پاس گئے انہیں اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کیا اور بتایا کہ مجھے موضع عقیق بھی انہوں نے عطا فرمایا ہے عقال بھی رسول اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوئے آپ نے ان کے سامنے بھی اسلام پیش کیا اور فرمایا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں وہ کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ ہبیرہ بن النفاضہ موضع لبان کے دونوں پہاڑیوں کے لڑائی کے دن بہت اچھے سوار تھے دوسری مرتبہ جواب دیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خالص (دودھ یا شراب)جھاگ اور پھیں کے نیچے ہوتی ہے جب تیسری مرتبہ دعوت دی تو انہوں نے اسلام کو قبول کر لیا اور رسول اللہ کی رسالت کی گواہی دی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد حصہ دوم صفحہ 55،56، محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی