وفد جرش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفد جرش اہل جرش کا وفد تھا انہوں نے دو آدمیوں کو رسول اللہ کے پاس بھیجا تھا کہ وہاں کے حالات پتہ کر کے آئیں یہ دونوں بارگاہ نبوی میں حاضر تھے کہ ایک روز رسول اللہ نے نماز عصر کے بعد فرمایا شکر کس شہرمیں ہے جرش کے دونوں آدمی بولے ہمارے شہر میں ایک پہاڑ کا نام شکر ہے جبکہ جرش کے لوگ اسے کشر ہی کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا اس کا نام کشر نہیں شکر ہے۔ ان دونوں آدمیوں نے پوچھا اس پہاڑ کا کے ساتھ کیا معاملہ ہے آپ نے فرمایا اس پہاڑ کے پاس اس وقت اللہ کے اونٹ ذبح ہو رہے ہیں یہ دونوں اس بات کو سن کر بیٹھ گئے ابوبکر صدیق یا عثمان غنی نے کہا کہ حضور نے تمہاری قوم کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ تم حضور سے دعا کراؤ کہ یہ ہلاکت تمہاری قوم سے دور ہو جائے۔ ان دونوں نے دعا کی درخواست کی۔ حضور نے دعا فرمائی "اے خدا ہلاکت کو ان سے اٹھا دے"

یہ دونوں شخص حضور سے رخصت لے کر اپنی قوم میں پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ اسی دن اسی وقت ان کی قوم کے لوگوں کو صرد بن عبد اللہ نے قتل کیا تھا جس وقت آپ نے مدینہ میں اللہ کے اونٹ ذبح ہونے کی خبر دی تھی۔ اس کے بعد اہل جرش کا ایک وفد حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف اسلام ہوا حضور نے ان کے واسطے شہر کے ارد گرد ایک چراگاہ کی حد مقرر فرما دی اور دوسرے لوگوں کو اس میں جانور چرانے کی ممانعت فرما دی[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرت ابن ہشام، جلد سوم، صفحہ 190، محمد عبد الملک ابن ہشام، کارخانہ اسلامی کتب کراچی