وفد سلمہ بن عیاض

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفدسلمہ بن عیاض مدینہ منورہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا
اس وفد میں جارود بن معلی ازدی اور سلمہ بن عیاض تھے یہ دونوں دوست تھے جارود نے سلمہ سے کہا تہامہ میں ایک شخص ظاہر ہوا جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے کیا تم اس کے پاس جانا پسند کروگے اگر اس کے پاس خیر دیکھی توہم اس کے دین میں داخل ہو جائیں گے میری آرزو ہے کہ کاش وہ وہی نبی ہو جس کی بشارت عیسیٰ ابن مریم نے دی ہو مگر ہم دونوں کو اپنے دل میں تین تین سوال متعین کرلینے چاہیئں جو ہم ان سے کریں اور وہ سوال ہم ایک دوسرے کو بھی نہ بتائیں خدا کی قسم اگر انہوں نے ہمارے سوالوں کے جوابات دیے تو وہ سچے نبی ہیں جن کے پاس وحی آتی ہے۔
جب یہ دونوں حاضر خدمت ہوئے تو جارود نے سوال کیا
اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے پروردگا نے آپ کو کیا چیز دے کر بھیجا ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا
"یہ شہادت دیکر کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور ہر اس راستے اور دین سے برأت دیکر جو اللہ کے سوا عبادت کرائے اور یہ حکم دیکر کہ کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں اور زکوۃ اس کے حق کے ساتھ نکالی جائے رمضان کے روزوں کا حکم دیکراور یہ کہ جس شخص کو استطاعت و ہمت ہو وہ دینداری کے ساتھ بیت اللہ کا حج کرے جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے نفع کے لیے اور جو شخص برا عمل کرتا ہے اس کا وبال اسی پر پڑے گاتمہارا پروردگا بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں" پھر جارود نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر آپ نبی ہیں تو بتائیں ہم نے اپنے دلوں میں کیا منصوبہ بنایا تھا؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے تھوڑی دیر سر کو جھکایا اور پھر فرمایا
جہاں تک جارود تیرے سوالوں کامعاملہ ہے تم نے دل میں طے کیا تھاکہ مجھ سے جاہلیت کے زمانے کے قتل اور خون کے حساب،زمانہ جاہلیت کے عہد و پیمان کی حیثیت،اور حسن سلوک یعنی صدقہ کے متعلق پوچھوگے۔ پس سن لو زمانہ جاہلیت کا خون باطل ہے اور اس دور کا عہد وپیمان مردود ہے کیونکہ اسلام میں کوئی جھوٹا عہد و پیمان نہیں اور سن لو سب سے بہترین صدقہ اور حسن سلوک یہ ہے کہ اپنے بھائی کو جانور کی پیٹھ پر سواری دویا بکری پیش کر دو کیونکہ بکری صبح گھر سے جاتے ہوئے بھی دودھ دیکر جاتی ہے شام کو واپسی پر بھی دیتی ہے۔
اور جہاں تک تیرے سوالوں کا معاملہ ہے اے سلمہ تم نے دل میں سوچا تھا کہ مجھ سے ایک تو بت پرستی کے متعلق سوال کروگے دوسرا یوم سباسب کے متعلق پوچھوگے اور تیسرا نیچ اور کمتر آدمی کی جان کے قصاص اور بدلے کے بارے پوچھو گے۔
جہاں تک بت پرستی کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ [1]
بیشک تم اور وہ (بت) جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے (سب) دوزخ کا ایندھن ہیں، تم اس میں داخل ہونے والے ہو۔
اور جہاں تک یوم سباسب کا تعلق ہے تو اللہ نے اس کے بدلے میں ایک ایسی رات دی ہے یعنی لیلۃ القدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے لہذا تم اس رات کو رمضان کے آخر میں تلاش کرو جس کی علامت یہ ہے کہ وہ ایک روشن اور تابناک رات ہوتی ہے جس کی صبح میں سورج نکلتا ہے تو اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔ اور جہاں تک کمتر آدمی کا تعلق ہے تو سن لو سب مومن بھائی بھائی ہیں جن کے خون برابر درجے کے ہیں ان میں سے اعلیٰ ادنیٰ کا محافظ ہے اللہ کے نزدیک وہی سب سے معزز ہے جو زیادہ متقی ہے۔
یہ سن کر دونوں نے کلمہ پڑھا اور اسلام میں داخل ہو گئے[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سورۃ الانبیاء:آیت98
  2. سیرت حلبیہ جلد6 صفحہ 174،ب رہان الدین حلبی،دار الاشاعت کراچی