وفد عامر بن طفیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفد عامر بن طفیل 10ھ میں عامر بن طفیل لبید صحابی کے اخیافی بھائی اربد بن قیس خالد بن جعفراورجبار بن اسلم شامل تھے یہ سب اپنی قوم کے سربر آوردہ اور شیطان تھے۔
عامر بن طفیل وہی شخص تھا جس نے بئر معونہ پر 70 صحابہ کو شہید کرایا تھا۔ ان کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قتل کرنا تھا، عامر اور اربد نے سازش کی کہ دھوکے سے قتل کریں گے عامر نے گفتگو شروع کی، اربد اپنے پلان کے تحت پیچھے گیا ایک بالشت تلوار نکال بھی لی تھی، اس کے بعد اللہ نے اس کا ہاتھ روک لیا اور تلوار بے نیام نہ کر سکا اللہ نے اپنے نبی کو محفوظ رکھا آپ نے ان کے لیے بد دعا کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ واپسی پر اربد اور اس کے اونٹ پر آسمانی بجلی گری جس سے وہ جل کر مر گیا عامر ایک سلولیہ عورت کے ہاں اترا اس کی گردن میں ایک گلٹی نکلی اور وہ یہ کہتا ہوا مر گیا آہ اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی اور سلولیہ عورت کے گھر موت[1]

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حرام بن ملحان) ام سلیم کے بھائی یعنی انس کے ماموں کو ستر سواروں کے ساتھ بنی عامر کے پاس بھیجا وجہ یہ ہوئی کہ مشرکوں کے سردار عامر بن طفیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین باتوں میں سے ایک بات کا اختیار دیا تھا اس نے کہا یا تو یہ ہونا چاہیے کہ گنوار اور دیہاتیوں پر آپ حکومت کریں اور شہر والوں پر میں حکومت کروں یا میں آپ کا خلیفہ یعنی جانشین بنوں یا پھر میں دوہزار غطفانی لشکر سے آپ پر چڑھائی کروں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے بد دعا فرمائی اور کہا: اے اللہ! تو مجھے عامر کے شر سے بچانا! چنانچہ اس دعا کے بعد عامر ایک عورت ام فلاں کے گھر طاعون میں مبتلا ہو گیا اور کہنے لگا کہ فلاں خاندان کے گھر کے یہاں اونٹ کے غدود کی طرح میرے بھی غدود نکل آیا پھر اس نے کہا میرا گھوڑا لاؤ جب گھوڑا آیا تو وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھتے ہی مر گیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الرحیق المختوم، صفحہ608، صفی الرحمن مبارکپوری، مکتبہ سلفیہ لاہور
  2. صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1314