وفد عبد القیس 5ھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

وفد عبد القیس دومرتبہ وفد کی صورت میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا پہلی مرتبہ میں آیا جس میں 13 یا 14 آدمی تھے اس وفد کا سربراہ اشج عصری تھا اس قبیلے کا ایک منقذ بن حبان سامان تجارت لیکر مدینہ آتا تھا جب رسول اللہ ہجرت فرما کر مدینہ آئے تو یہ شخص مسلمان ہو گیا اور نبی کریم کا ایک خط لے کر اپنی قوم کے پاس گیا اس کی قوم بھی مسلمان ہو گئی[1] ابوسعید خدری سے روایت ہے ہم آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا عبد القیس کے قاصد آن پہنچے اور کوئی اس وقت دکھلائی نہیں دیتا تھا خیر ہم اسی حال میں تھے کہ اتنے میں عبد القیس کے قاصد آن پہنچے اور اترے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے پاس آئے لیکن ان میں ایک شخص تھا اشج عصری (سر پھٹا ہوا)۔ اس شخص کا نام منذر بن عائذ تھا وہ سب کے بعد آیا اور ایک مقام میں اترا اور اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر آنحضرت کے پاس آیا بڑے اطمینان اور سہولت سے۔ آنحضرت نے فرمایا اے اشج تجھ میں دوخصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے ایک تو حلم دوسرے تو دہ (یعنی وقار اور تمکین سہولت) اشج نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ صفتیں مجھ میں خلقی ہیں یا نئی پیدا ہوئی ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں خلقی ہیں۔[2]

ابن عباس سے مروی ہے کہ جب بنو عبد القیس کا وفد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میرا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں حاضر ہوسکتے ہیں اس لیے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتا دیں؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں حکم دیا کہ اللہ ہی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لیے استمعال ہوتے تھے) انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پھر ہم کن برتنوں میں پانی پیا کریں؟ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا چمڑے کے مشکیزوں میں جن کا منہ باندھا جاسکے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الرحیق المختوم، صفحہ597، صفی الرحمن مبارکپوری، مکتبہ سلفیہ لاہور
  2. سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1067
  3. مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 1492