مندرجات کا رخ کریں

وفد نخع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

وفد نخع بارگاہِ نبوی میں حاضر ہونے والا سب سے آخری وفد تھا، جو 11ھ کے ماہِ محرم میں مدینہ منورہ پہنچا اور اس کے تمام شرکاء پہلے ہی یمن میں اسلام قبول کر چکے تھے۔ [1]

پس منظر اور آمد

[ترمیم]

تاریخی اعتبار سے "وفدِ نخع" کی آمد نہایت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا۔ [2] یہ وفد 11 ہجری کے وسط ماہِ محرم میں مدینہ منورہ پہنچا۔ [3] یہ معاذ بن جبل کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آئے تھے نخع کا تعلق یمن کے مشہور قبیلے مذحج سے تھا اور یہ وفد اپنی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تھا۔ [4]

ارکانِ وفد اور قبولِ اسلام

[ترمیم]

اس وفد میں ارکان کی تعداد "دو سو" (200) تھی، جو اپنے ایمان کا باقاعدہ اعلان کرنے مدینہ آئے تھے۔ [2] یہ تمام افراد صحابیِ رسول معاذ بن جبل کی دعوتی کوششوں کے نتیجے میں یمن ہی میں اسلام قبول کر چکے تھے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد ان مہمانوں کے قیام کے لیے خصوصی انتظام کیا گیا اور انھیں "دار الضيافہ" (مہمان خانہ) میں ٹھہرایا گیا۔ [2] یہ رملہ بنت حارث نجاریہ صحابیہ کی ایک حویلی تھی۔ رملہ معاذ بن عفراء کی زوجہ تھیں

زرارہ بن عمرو اور خواب کا تذکرہ

[ترمیم]

وفد کے نمایاں ارکان میں "زرارہ بن عمرو" شامل تھے، جنھوں نے بارگاہِ نبوی میں حاضری کے موقع پر اپنے ایک منفرد تجربے کا ذکر کیا۔ [2] انھوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں نے اپنے اس سفر کے دوران ایک نہایت عجیب خواب دیکھا ہے"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات نہایت توجہ سے سنی اور دریافت فرمایا کہ انھوں نے خواب میں کیا دیکھا ہے۔ [2] اس گفتگو کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خواب کی تعبیر بیان فرمائی اور انھیں دینی و دنیاوی امور پر ہدایات عطا فرمائیں۔

تاریخی اہمیت و خصوصیت

[ترمیم]

وفدِ نخع کو سیرت کی کتب میں "آخر الوفود" (سب سے آخری وفد) کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ [2] ان کی آمد اس بات کی علامت تھی کہ جزیرہ نما عرب کے دور دراز علاقوں تک اسلام کا پیغام مکمل طور پر پہنچ چکا ہے اور قبائل جوق در جوق حلقہ بگوشِ اسلام ہو رہے ہیں۔ [5] اس وفد کی حاضری کے کچھ عرصہ بعد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے، اسی لیے اسے وفود کی فہرست میں آخری مقام حاصل ہے۔ [6]

زرارہ بن عمر کے خواب

[ترمیم]

ایک شخص زرارہ بن عمرو تھا اس نے عرض کیا میں نے راستے میں عجیب و غریب خواب دیکھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیان کرو۔
اس نے کہا میں نے ایک گدھی دیکھی ہے جس نے ایک بچہ جنا ہے۔ جس میں سرخی اورسیاہی کی آمیزش ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم اپنی بیوی یا لونڈی کو حاملہ چھوڑ آئے ہو۔ زرارہ نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمنے فرمایا اس کے ہاں تیرا بیٹا پیدا ہوا ہے۔ پوچھا اس کے سرخ و سیاہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا میرے قریب ہو جاؤ۔ قریب ہوا تو فرمایا کیا تم برص کی بیماری میں مبتلا ہو؟ جسے تم لوگوں سے چھپاتے ہو؟ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا ہے اس بات کا کسی کو علم نہ تھا اور آپ کے علاوہ اب بھی کوئی مطلع نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اسی کا اثر ہے۔
زرارہ نے دوسرا خواب بیان کیا کہ میں نے نعمان بن منذر کو دیکھا ہے اس کے کانوں میں دو بالیاں اور ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ عرب کی بادشاہی ہے جو اچھی حالت کی طرف لوٹ جائے گی۔
زرارہ نے تیسرا خواب سنایا کہ میں نے ایک بوڑھی عورت دیکھی جس کے سر کے بال سفید تھے اور وہ زمین سے نکلی آپ نے فرمایا یہ دنیا کا باقی ماندہ وقت ہے۔
زرارہ نے چوتھا خواب بیان کیا میں نے ایک آگ دیکھی ہے جو میرے اور میرے بیٹے کے درمیاں حائل ہو گئی ہے اور میرے اس بیٹے کا نام عمرو ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ایک فتنہ ہے جو آخری زمانے میں ہو گا عرض کی وہ فتنہ کیا ہے فرمایا لوگ اپنے امام کو قتل کریں گے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو دائیں بائیں تبدیل کیا اور فرمایا گناہ کرنے والا کہے گا کہ میں نیکی کر رہا ہوں اور ایک مومن کے نزدیک دوسرے مومن کا خون پانی پینے سے زیادہ میٹھا ہو گا۔ اگر تیرا بیٹا مر گیا تو تو اس فتنہ کو دیکھے گا اور اگر تو فوت ہوا تو تیرا بیٹا اس فتنے میں مبتلا ہو گا۔ اس نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعا فرمائیں کہ میں اس فتنے میں مبتلا نہ ہوؤں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا مانگی یا اللہ یہ اس فتنے کو نہ پائے چنانچہ یہ شخص فوت ہو گیا اور اس کا بچہ زندہ رہا۔ اوراس کا بیٹا وہ پہلا شخص تھا جس نے کوفہ میں عثمان غنی کی بیعت کو توڑا۔[7]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. محمد سليمان المنصورفوري (2004)۔ رحمة للعالمين۔ دار السلام۔ ج جلد. 1۔ ص صفحہ. 177
  2. 1 2 3 4 5 6 المنصورفوري 2004, p. جلد. 1، صفحہ. 177
  3. محمد بن عبد الباقي الزرقاني (1996)۔ شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية۔ دار الكتب العلمية۔ ج جلد. 5۔ ص صفحہ. 233
  4. ابو الربيع الكلاعي (1997)۔ الاكتفا بما تضمنه من مغازي رسول الله والثلاثة الخلفا۔ عالم الکتب۔ ج جلد. 1۔ ص صفحہ. 627
  5. الزرقاني 1996, p. جلد. 5، صفحہ. 113
  6. الزرقاني 1996, p. جلد. 5، صفحہ. 233
  7. المواہب اللدنیہ، جلد اول، صفحہ 679، فرید بکسٹال لاہور