وفود عرب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وفود عرب (عرب کے وفدوں کا حال) سے مراد عموماً لیا جاتا ہے جبکہ اور10ھ بھی بارگاہ نبوت میں آنے والے وفود میں شامل ہیں کیونکہ ان سالوں میں تمام جزیرۂ عرب سے وفود کی آمد کا تانتا بندھ گیا تھا۔

وفود عرب کے دیگر نام[ترمیم]

تاریخ اور سیرت کی کتب میں ان سالوں کو سنۃ الوفود (وفود کا سال) اور عام الوفود بھی کہتے ہیں۔

وفد کی تحقیق[ترمیم]

وفود جمع ہے وفد کی۔ جس کے معنی مہمانی ہے جبکہ وافد۔ مہمان یا کسی قوم کا نمائندہ یا قاصد ہے، اس کی جمع وفود، وفاد اوراوفاد ہے۔ چونکہ وافد، مرسل الیہ کی طرف بطور مہمان جاتا ہے اس لیے بطورمہمان حاضر ہوں ے کو وفد۔ اور وفود (بمعنی جماعتوں کی صورت میں) بھی کہا جاتا ہے۔[1]

وفداً و وفودا و وفادۃ سے مشتقق ہے جب کوئی فتح یا کسی خطیر امر کی صورت میں بادشاہ کی طرف جائے۔ جوہری نے کہا : وفد فلان علی الامیر کہا جاتا ہے یعنی وہ پیغام رساں بن کر آیا، فہو وافد اس کی جمع وفد ہے جیسے صاحب کی جمع صحاب ہے وفد کی جمع وفاد اور وفود ہے اور اسم الوفادۃ ہے۔[2]

8ھ سے 10ھ[ترمیم]

وفود عرب فتح مکہ کے اگلے سال میں آنے شروع ہوئے، دور دراز علاقوں سے وفود کا سیلاب پھوٹ نکلا، یمن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سے سات سو آدمیوں پر مشتمل قافلہ نکلا جو راستے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے ترانے گاتا ہوا اور نمازیں پڑھتا رہا تھا، مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ اس طرح چند ہی مہینوں میں عرب کے بیشتر لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے۔ حتیٰ کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے تو اس وقت پورا عرب، اسلام کے زیرِنگیں ہوچکا تھا اور ملک میں کوئی مشرک باقی نہیں رہا تھا۔[3]

مکہ رمضان 8ھ میں فتح ہوا تھا۔ 9ھ میں اس قدر وفود اسلام لانے کے لیے مدینہ حاضر ہوئے کہ اس سال کا نام ہی عام الوفود پڑ گیا۔ ہر قبیلے کے چند معتبر لوگ مدینہ جاتے، اسلام کی تعلیم حاصل کرتے پھر واپس آکر اپنے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے لگتے۔ 9ھ میں حج کے موقع پر اعلان برأت کیا گیا۔ اس اعلان کی رو سے اب مشرکین عرب کے لیے دو ہی راستے رہ گئے تھے یا تو وہ اسلام میں داخل ہوجائیں یا پھر جزیرہ عرب سے باہر نکل جائیں۔ چنانچہ مشرکین عرب نے بھی پہلی ہی بات قبول کی اور اسلام لے آئے۔ اس طرح 10ھ میں سر زمین عرب کفر و شرک سے پاک ہو گئی۔[4]

وفود العرب[ترمیم]

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تبلیغ اسلام کے لیے تمام اطراف و اکناف میں مبلغین اسلام اور عاملین و مجاہدین کو بھیجا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض قبائل تو مبلغین کے سامنے ہی دعوتِ اسلام قبول کرکے مسلمان ہو جاتے تھے مگر بعض قبائل اس بات کے خواہش مند ہوتے تھے کہ براہِ راست خود بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو کر اپنے اسلام کا اعلان کریں۔ چنانچہ کچھ لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے نمائندہ بن کر مدینہ منورہ آتے تھے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانِ فیض ترجمان سے دعوتِ اسلام کا پیغام سن کر اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے اور پھراپنے اپنے قبیلوں میں واپس جا کر پورے قبیلہ والوں کو مشرف بہ اسلام کرتے تھے۔ انہی قبائل کے نمائندوں کو ہم وفود عرب کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔

اس قسم کے وفود اور نمائندگان قبائل مختلف زمانوں میں مدینہ منورہ آتے رہے مگر فتح مکہ کے بعد ناگہاں سارے عرب کے خیالات میں ایک عظیم تغیر واقع ہو گیا اور سب لوگ اسلام کی طرف مائل ہونے لگے کیونکہ اسلام کی حقانیت واضح اور ظاہر ہوجانے کے باوجود بہت سے قبائل محض قریش کے دباؤ اور اہل مکہ کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کرسکتے تھے۔ فتح مکہ نے اس رکاوٹ کو بھی دور کر دیا اور اب دعوتِ اسلام اور قرآن کے مقدس پیغام نے گھر گھر پہنچ کر اپنی حقانیت اور اعجازی تصرفات سے سب کے قلوب پر سکہ بٹھا دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی لوگ جو ایک لمحہ کے لیے اسلام کا نام سننا اور مسلمانوں کی صورت دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے آج پروانوں کی طرح شمع نبوت پر نثار ہونے لگے اور جوق در جوق بلکہ فوج در فوج حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں دور و دراز کے سفر طے کرتے ہوئے وفود کی شکل میں آنے لگے اور برضا و رغبت اسلام کے حلقہ بگوش بننے لگے چونکہ اس قسم کے وفود اکثر و بیشتر فتح مکہ کے بعد 9ھ میں مدینہ منورہ آئے اس لیے 9ھ کو لوگ سنۃ الوفود (نمائندوں کا سال) کہنے لگے۔

اس قسم کے وفود کی تعداد میں مصنفین سیرت کا بہت زیادہ اختلاف ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے ان وفود کی تعداد ساٹھ سے زیادہ بتائی ہے۔[5] علامہ قسطلانی و حافظ ابن قیم نے اس قسم کے چودہ وفدوں کا تذکرہ کیا ہے۔[6]

جبکہ عبد الرحمن کیلانی ایسے وفود کی تعداد کو (70) ستر کے قریب شمار کرتے ہیں۔[7]

فتح مکہ کے بعد مخالفین بھی یہ سمجھنے لگے کہ اب اسلام کی قوت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے پہلے کہ مسلمانوں سے ان کا تصادم ہوتا انہوں نے خود ہی اپنے وفود بارگاہِ نبوت میں بھیجنے شروع کر دیے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ وفود اپنی قوموں کے نمائندہ بن کر آتے تھے اور پھر اسلام کے نمائندے بن کر واپس جاتے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انوارالبیان فی حل لغات القرآن، علی محمد،سورۃمریم،آیت 85
  2. تفسیر قرطبی۔ ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی، مریم، 85
  3. تفسیر روح القران۔ ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی، سورۃ النصر، آیت 2
  4. تفسیر تیسیر القرآن، عبد الرحمن کیلانی، سورۃ النصر، آیت 2
  5. مدارج النبوۃ، عبد الحق محدث دہلوی، ج 2، ص 358
  6. سیرتِ مصطفی، مؤلف، عبد المصطفیٰ اعظمی، صفحہ 506 - 507، ناشر مکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی
  7. تفسیر تیسیر القرآن، عبد الرحمن کیلانی، التوبہ، 14