وقار احمد سیٹھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


وقار احمد سیٹھ
Chief Justice of عدالت عالیہ پشاور
آغاز منصب
28 جون 2018
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Yahya Afridi
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Justice of عدالت عالیہ پشاور
آغاز منصب
2 اگست 2011
معلومات شخصیت
پیدائش 16 مارچ 1961 (59 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی اسلامیہ کالج یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ منصف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وقار احمد سیٹھ (انگریزی: Waqar Ahmed Seth) پاکستانی جج ہیں، وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ان کے والد سیٹھ عبدالواحد سینیئر سیشن جج ریٹائرڈ ہوئے جبکہ ان کے نانا خدا بخش پاکستان بننے سے پہلے 1929 میں بننے والی صوبے کی پہلی اعلیٰ عدالت میں جج رہے تھے۔

تعلیم[ترمیم]

چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک متوسط کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں انھوں نے اپنی تعلیم پشاور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی ہے۔انھوں نے اسلامیہ کالج سے گریجویشن کی اور لا کالج پشاور یونیورسٹی سے پہلے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے 1985 میں عملی وکالت کا آغاز کیا۔

کیرئر[ترمیم]

جسٹس وقار احمد سیٹھ 1990 میں ہائی کورٹ اور پھر 2008 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ انھیں 2011 میں ایڈیشنل سیشن جج تعینات کیا گیا اور اس کے بعد وہ بینکنگ کورٹس سمیت مختلف عدالتوں میں تعینات رہے۔وقار احمد سیٹھ نے 2018 میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف لیا[1]۔

مشرف سنگین غداری کیس[ترمیم]

انہوں نے مشرف سنگین غداری کیس میں بینچ کی صدارت کی اور اپنے فیصلے میں مشرف کو سزائے موت سنائی۔ انہوں نے فیصلے کے پیرا 66 میں تحریر کیا کہ مشرف اگر بیماری کی وجہ سے فوت ہو جائے تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر تین دن کے لیے ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]