وقار احمد شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
وقار احمد شاہ
Waqar Ahmad Shah.jpg
ڈاکٹر وقار احمد شاہ
ممبر اسمبلی بہرائچ صدر 12ویں اسمبلی[1]
عہدہ سنبھالا
دسمبر 1993ءاگست 1996ء
پیشرو برج راج ترپاٹھی
جانشین خود
حلقہ بہرائچ صدر
ممبر اسمبلی بہرائچ صدر 13ویں اسمبلی[2]
عہدہ سنبھالا
ستمبر 1996ءفروری 2002ء
پیشرو خود
جانشین خود
حلقہ بہرائچ صدر
ممبر اسمبلی بہرائچ صدر 14ویں اسمبلی[3]
عہدہ سنبھالا
فروری 2002ءاپریل 2007ء
پیشرو خود
جانشین خود
حلقہ بہرائچ صدر
ممبر اسمبلی بہرائچ صدر 15ویں اسمبلی[4]
عہدہ سنبھالا
مئی 2007ءمارچ2012ء
پیشرو خود
جانشین خود
حلقہ بہرائچ صدر
ممبر اسمبلی بہرائچ صدر 16ویں اسمبلی[5]
عہدہ سنبھالا
05مارچ2012ء–11مارچ2017ء
پیشرو خود
جانشین انوپما جیسوال
حلقہ بہرائچ صدر
اتر پردیش اسمبلی کے نائب صدر
عہدہ سنبھالا
14نومبر،2003ء سے 26جولائی،2004ء[6]
پیشرو ڈاکٹر عمار رضوی
جانشین راجیش اگروال
اتر پردیش اسمبلی کے کارگزار صدر
عہدہ سنبھالا
19مئی2004ءسے جولائی2004ء[7]
کبینیٹ وزیر برائے محنت و روزگار
عہدہ سنبھالا
اگست،2004ءسے جولائی،2007ء
کبینیٹ وزیر برائے محنت و روزگار
عہدہ سنبھالا
15مارچ2012ءسے 24 جنوری2014ء
جانشین شاہد منظور
ذاتی تفصیلات
پیدائش 06جولائی1943ء[8]
محلہ قاضٰی پورا شہر بہرائچ اتر پردیشبھارت
وفات 15اپریل2018ء[9]
لکھنؤ اتر پردیشبھارت
قومیت بھارتی
سیاسی جماعت سماجوادی پارٹی
شریک حیات محترمہ روباب سعیدہ(سابق ممبر لوک سبھا)
باپ خواجہ قمرالدین
تعلیم ڈاکٹر
مادر علمی کانپور یونیورسٹی
ذریعہ معاش سیاست ڈاکٹر
مذہب اسلام

ڈاکٹر وقار احمد شاہ کی پیدائش 06،جولائی 1943ء[10] تا 15 اپریل 2018ء میں محلہ قاضی پورہ شہر بہرائچ میں شہر کے ایک معروف خاندان میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام خواجہ قمرالدین تھا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

ڈاکٹر وقار احمد شاہ کی ابتدائی تعلیم بہرائچ میں ہی ہوئی۔ اور ڈاکٹری کی تعلیم آپ نے کانپور یونیورسٹی سے مکمل کی۔ ابتدائی دنوں میں آپ نے شہر کے ایک پرائمری اسکول میں کچھ دنوں تک تدریس کا کام انجام دیا۔ 1975ء سے 1982ء میڈکل آفیسر کے طور پر کام کیا۔ پھر اپنی ڈاکٹری کی پریکٹس کرنے لگے بعد میں درگاہ کے اسپتال سے منسلک ہو گئے۔ آپ کی کلینک آج بھی شہر کے قلب میں موجود ہے۔ آپ 1976ء سے انڈین میڈکل ایسوسی ایشن بہرائچ شاخ کے ارکان تھے۔ شہر کے مشہور کالج آزاد انٹر کالج کے مینجر رہے۔ ریڈکراس بہرائچ کے سرپرست تھے۔ مہاراج سنگھ انٹر کالج کی انتظامیہ کے ارکان تھے۔ ضلع آئی رلیف کمیٹی کے ارکان رہے۔ اس طرح آپ بہت سی تنظیموں سے آپ وابستہ رہے۔

سیاسی سفر[ترمیم]

ڈاکٹر وقار احمد شاہ ضلع بہرائچ کے ایک عظیم سیاسی رہنما ہے۔ آپ کا سیاسی سفر جنتا دل پارٹی سے شروع ہوتا ہے جب آپ 1989ء میں جنتا دل کی جیل بھرو تحریک میں ایک دن کے لیے جیل بھیجے گئے۔ آ پ نے مسلسل 5بار بہرائچ صدر اسمبلی حلقہ سے انتخاب میں فتح حاصل کی ہے جو ایک ر یکاڑ ہے۔ آپ پہلی بار 1993ءکے اسمبلی الیکشن میں سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ بہرائچ صدر اسمبلی سیٹ پر منتخب ہوئے۔ 1993ء میں سماجوادی پارٹی ودھان منڈل دل کے قیم رہے۔ 1993-94ء میں لوک لیکھا سمیتی کے ارکان رہے ۔1996ء میں ہوئے اسمبلی الیکشن میں دوسری بار فتح حاصل کی۔ 1996ءسے 2003ء تک سماجوادی پارٹی ودھان منڈل دل کے مکھ ستیچک رہے۔1997-1998ء میں سوال جواب کمیٹی میں ممبر رہے ۔2002ءمیں ہوئے اسمبلی الیکشن میں سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر مسلسل 3 مرتبہ بہرائچ صدر اسمبلیسیٹ پر منتخب ہوئے۔2002ء سے 2003ء تک ادھشٹاتا منڈل کے ارکان رہے۔ نومبر 2003ء میں اترپردیش اسمبلی کے نائب صدر منتخب ہوئے [6] اور اس عہدے پر مئی 2004ء تک فایز رہے۔ مئی 2004 ء سے جولائی 2004ء]][7] تک اترپردیش اسمبلی کے کارگزار صدر بھی رہے ۔اگست2004ءمیں کبینیٹ وزیر برائے محنت و روزگار بنائے گئے اور مئی2007ء تک اس عہدے پر فایز رہے۔ مئی 2007ءمیں ہوئے اسمبلی الیکشن میں مسلسل 4مرتبہ بہرائچ صدر اسمبلی سیٹ پر منتخب ہوئے َ َ 2007ء سے 2012ءتک سماجوادی پارٹی ودھان منڈل دل کے نائب رہنما رہے۔ 2012ء میں ہوئے اسمبلی الیکشن میں مسلسل 5 مرتبہ بہرائچ صدر اسمبلی سیٹ پر منتخب ہوئے اور ایک بار پھر کابینی وزیر برائے محنت و روزگار بنائے گئے۔ ڈاکٹر وقار احمد شاہ شدید بیمار ہونے کی وجہ سے 2014ء میں آپ کو کابینہ سے ہٹا دیا گیا ۔

ترقیاتی کام[ترمیم]

آپ نے بہرائچ میں کئی ترقیاتی کام کیے خاص طور پر سڑک اور بجلی پانی کے شعبۂ پر کام کیا۔ ضلع استپتال کو جدید سہولیات سے سنوارا۔ بچوں کے لیے ایک الگ وارڑ بنوایا جس سے بیمار بچوں کے علاج میں کافی سہولت ہوئی۔ ضلع خواتین اسپتال میں بھی جدید سہولیات سے مجیزنی کیا۔ ایک میڈیکل کالج کو پاس کرایا جس کا کام ابھی ہونا باقی ہے۔

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر وقار احمد شاہ کی وفات 15 اپریل2018ء کو 5 سال[11] کی لمبی علالت کے بعد لکھنؤ کے سِول اسپتال میں شام چھ بجے کے قریب ہوا۔ آپ کی نماز جنازہ 16 اپریل 2018 کو بعد نماز ظہر کو آزاد انٹر کالج کے میدان میں مسجدغازی سید سالار مسعودؒ کے شاہی امام ارشد القادری کی امامت میں پڑھی گئی اور تدفین چھڑے شاہ تکیہ میں واقع آبائی قبرستان میں ہوئی۔ آپ کے جنازہ میں شرکت کے لیے سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلٰی اکھلیش یادو اور سابق وزیر احمد حسن،راجیندر چودھری،فرید محفوظ قدوائی اور تمام سیاسی لیڈران کے علاوہ بلاتفریق ملت و مذہب ضلع کی عوام نے شرکت کی۔[12]

==بیرونی روابط==* https://www.bbc.com/hindi/regionalnews/story/2007/04/070417_beni_up.shtml* https://www.patrika.com/lucknow-news/sp-leader-former-minister-doctor-waqar-shah-died-2653622/* http://www.univarta.com/story/States/news/1200674.html

حوالہ جات[ترمیم]