وقار النسا نون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وقار النسا نون
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش جون 1920  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 2000 (79–80 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سماجی کارکن  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وقار النساء نون ساتویں پاکستانی وزیر اعظم فیروز خان نون کی کی دوسری بیوی ہیں محترمہ کا سابقہ نام وکٹوریہ ریکھی تھا یہ آسٹریا میں پیدا ہوئیں تعلیم و تربیت برطانیہ میں ہوئی، ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان سے ملاقات ہوئی، ملک صاحب کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہو1945 کر بمبئی میں ان سے شادی کی اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقار النساء نون رکھ لیا انہیں وکی نون بھی کہا جاتا ہے.

سیاسی و عملی سرگرمیاں[ترمیم]

تحریک پاکستان میں کردار[ترمیم]

محترمہ نے تحریک پاکستان کو اجاگر کرنے کے لیے خواتین کے کئی دستے بھی مرتب کئیے اور سول نافرمانی کی تحریک میں انگریز کی خضر حیات کابینہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے اور جلوس منظم کرنے کی پاداش میں تین بار گرفتار بھی هوئیں.

 سماجی کام[ترمیم]

ٰ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لٹے پٹے مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے برا متحرک کردار ادا کیا، خواتین ویلفیئر کی اولین تنظیم اپواء  کی بانی ارکان میں آپ بھی شامل ہیں، وقار النساء  گرلز کالج راولپنڈی اور  وقار النساء  اسکول ڈھاکہ کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی، ہلال احمر کے لیے بھی آپ نے گراں قدر خدمات سر انجام دیں. ضیاء الحق کے دور میں بطور منسٹر ٹورازم کے فروغ کے لیے دنیا بھر کو پاکستان کی طرف بخوبی راغب کیا، پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن انہی کی نشانی ہے

گوادر کا پاکستان میں شمولیت کا معاملہ[ترمیم]

١٩٥٦ میں جب ملک فیروز خان نون نے وزارت خارجہ سنبھالی تو ہر قیمت پر گوادر کو واگزار کرانے کا عہد کیا اور نہایت باریک بنی سے تمام تاریخی حقائق و کاغذات کا جائزہ لی کر یہ مشن محترمہ کو سونپ دیا

محترمہ نے دو سال پر محیط یہ جنگ تلوار کے بجایے محض قلم،دلائل اور گفت و شنید سے جیتی جس میں برطانیہ کے وزیر اعظم  مکمیلن جو ملک صاحب کے دوست تھے انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا- یوں دو سال کی بھرپور جنگ کے بعد ٨ ستمبر ١٩٥٨ کو گوادر کی ٢٤٠٠ مربع میل یا ١٥ لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پاکستان کی ملکیت میں شامل ہو گیا.

اعزاز[ترمیم]

١٩٥٩ حکومت پاکستان نے ان کو گوادر کی شمولیت کے سلسلے میں دی جانے والی خدمات کے صلے میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز  "نشان امتیاز " سے نوازا .

وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن[ترمیم]

برطانیہ میں مقیم ان کی بے اولاد بہن کی جائداد جب ان کو منتقل ہوئی تو اس فنڈ سے انہوں نے "وکی نون ایجوکیشن فاؤنڈیشن" کی بنیاد رکھی جو آج تک قائیم ہے۔ محترمہ کی وصیت کے مطابق اس فنڈ کا ایک حصّہ ان نادار مگر زہین طلبہ کو آکسفورڈ جیسے اداروں میں تعلیم دلوانے میں خرچ ہوتا ہے جو واپس آکر ملک کی خدمات پر راضی ہوں.  

وفات[ترمیم]

محترمہ وقار النسا نون طویل علالت کے بعد ١٦ جنوری ٢٠٠٠ کو اسلام آباد میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ایک عمرہ کے بعد انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے غیر سمجھ کر نہ چھوڑ دینا بلکہ میری تدفین بھی ایک کلمہ گو مسلمان کی طرح انجام دینا

حوالاجات[ترمیم]

[1]گوادر کی ہیرو ... ایک مادر مہربان

  1. https://www.urdusafha.pk/gawader-ki-hero/