ولبھاچاریہ
ولبھ | |
|---|---|
| ذاتی زندگی | |
| پیدائش | 7 مئی 1478ء[حاشیہ 1] |
| وفات | 7 جولائی 1530ء (52 سال) |
| مذہب | ہندومت (ویشنومت) |
| شریک حیات |
|
| اولاد |
|
| والدین |
|
| سلسلہ | ویدانت |
| بانی | پشٹی مارگ |
| فلسفہ | شدھ ادویت |
ولبھ، جنھیں ولبھاچاریہ یا ولبھ دکشت[1][حاشیہ 2] (7 مئی 1478ء – 7 جولائی 1530ء) کے ناموں سے بھی پہچانا جاتا ہے، ویشنومت کے کرشن بھکت فرقے ”پشٹی مارگ“ کے بانی تھے۔ انھوں نے شدھ ادویت کا فلسفہ پیش کیا۔
ولبھاچاریہ کے سوانح زندگی پشٹی مارگ کی لکھی ہوئی متعدد کتابوں میں بیان کی گئی ہیں۔ تیلگو براہمن خاندان میں پیدا ہونے والے ولبھ نے کم عمری ہی سے ہندو فلسفے کا مطالعہ کیا اور پھر بیس سال سے زائد عرصے تک برصغیر، بالخصوص خطۂ برج (ورج) کا سفر کرتے رہے۔ ولبھاچاریہ عقیدت پر مبنی بھکتی تحریک کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک بن کر ابھرے۔ انھوں نے ادویت ویدانت کے پیروکاروں کے خلاف کئی فلسفیانہ اور علمی مناظروں میں فتح حاصل کی اور گووردھن پر شری ناتھ جی کی باضابطہ پوجا کا آغاز کیا۔ ولبھاچاریہ نے گنگ و جمن اور گجرات (بھارت) میں کثیر تعداد میں اپنے مریدین بنائے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی سمپردائے (سلسلے) کی قیادت ان کے بڑے صاحبزادے گوپی ناتھ کے سپرد کی گئی۔
ولبھاچاریہ کے فلسفے نے رہبانیت کے مقابلے میں گھریلو طرزِ زندگی (گرہستی) کی حوصلہ افزائی کی اور یہ نظریہ پیش کیا کہ دیوتا کرشن کی والہانہ عقیدت کے ذریعے کوئی بھی شخص نجات حاصل کر سکتا ہے، خواہ وہ ترک دنیا نہ کرے۔ ولبھاچاریہ نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں جن میں "انو بھاشیہ" (برہما سوتر کی کی شرح)، "شوڈش گرنتھ" یا سولہ رسائل اور بھاگوت پران کی متعدد شروحات شامل ہیں۔
زندگی
[ترمیم]مآخذ اور تعینِ زمانی
[ترمیم]ولبھاچاریہ کی زندگی کے واقعات پشٹی مارگ کی متعدد مذہبی کتابوں میں مذکور ہیں۔ برج بھاشا کے مآخذ میں "چوراسی ویشنون کی وارتا"، "شری ناتھ جی پراکٹیہ کی وارتا" اور "چوراسی بیٹھک چرتر" شامل ہیں۔ بارز کے مطابق سب سے اہم سنسکرت ماخذ "شری ولبھ وِجے" ہے۔[2]
ایلن اینٹ وسٹل کا کہنا ہے کہ "چوراسی بیٹھک چرتر" اٹھارویں صدی کے اوائل کے بعد کی کتاب ہے، کیونکہ اس میں دیگر مذہبی کتابوں کے داخلی حوالے موجود ہیں۔[3] ساہا اور ہالے کے نزدیک اس کی تاریخِ تصنیف اٹھارویں صدی کے وسط کی ہے۔[4][5] ٹنڈن، بیچراک اور پشٹی مارگ کے کئی رہنماؤں کا بیان ہے کہ یہ انیسویں صدی کی کاوش ہے۔ ٹنڈن "گھرو وارتا"، "نج وارتا" اور "شری اچاریہ جی کی پراکٹیہ وارتا" کو بھی انیسویں صدی کی کاوشیں قرار دیتے ہیں جو قدیم "چوراسی ویشنون کی وارتا" اور "دو سو باون ویشنون کی وارتا" پر مبنی تھے۔[6] بھٹ کا کہنا ہے کہ "نج وارتا" الحاقی مواد سے پُر ہے اور اس میں تاریخی شعور کی کمی ظاہر ہے؛ اگر یہ واقعی ولبھ کے پوتے گوکل ناتھ کی اصل تصنیف تھی تو یہ اپنے اصل متن سے بہت دور ہو چکی ہے۔[7] "چوراسی بیٹھک چرتر" (جسے ہری رائے سے منسوب کیا جاتا ہے) ہندوستان بھر میں ولبھ کی ان چوراسی "بیٹھکوں" (نشست گاہوں) کی فہرست پیش کرتی ہے جہاں بیٹھ کر انھوں نے پشٹی مارگ کے اصولوں کی تبلیغ کی تھی۔ ساہا کے مطابق اس کتاب کا مقصد ولبھ کو ایک ممتاز فلسفی اور صاحبِ کرامات شخصیت کی حیثیت سے پیش کرنا ہے جس نے ہر جگہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا؛ یہ کتاب ولبھ کو ایک "دِگ وِجے" (فاتحِ عالم) کے طور پر پیش کرتا ہے جو چار دھام میں اپنے فلسفے کی برتری قائم کرتے ہیں۔[8]
"شری ناتھ جی کی پراکٹیہ وارتا" اپنی موجودہ شکل میں غالباً 1860ء کی دہائی میں لکھی گئی تھی، اگرچہ اس کے مندرجات انیسویں صدی سے قبل ہی زبانی طور پر معلوم تھے۔ "ولبھ وِجے" یا "یدوناتھ وِجے" کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ 1610ء میں تالیف کی گئی، تاہم جدید محققین کے مطابق یہ کتاب بیسویں صدی کے آغاز کے قریب لکھی گئی ہے۔[9][10]
دیگر سنسکرت متون میں گدادھر دویویدی کی "سمپردائے-پردیپ" (جس کے خاتمے پر سنہ 1552ء–53ء درج ہے، لیکن ہالے کے مطابق یہ دراصل 1600ء کی دہائی کے اواخر کی ہے)،[11] مرلی دھر داس کی "شری ولبھ اچاریہ چرتر" (تقریباً 1573ء)، "پربھو چرتر چنتامنی" (جسے دیوکی نندن سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن بھٹ کے نزدیک یہ انتساب بے بنیاد ہے)،[12] اور گوپال داس کی گجراتی نظم "ولبھ اکھیان" (تقریباً 1580ء) شامل ہیں۔ برج بھاشا کی ایک اور تصنیف "سمپردائے کلپ دروم" جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ وٹھل ناتھ بھٹ (جو وٹھل ناتھ کی دوسری بیٹی یمنا کے پوتے تھے)[13] نے لکھی ہے، شاستری کے نزدیک اسے قدیم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ گوکل ناتھ کے پیروکاروں کی دیگر کتابوں میں کلیان بھٹ کی "کلول"، کیشو داس کی گجراتی "ولبھ ویل" اور گوپال داس ویاراوالا کی گجراتی "پراکٹیہ سدھانت" شامل ہیں۔[10]
محققین کے مطابق روایتی مآخذ میں ولبھ کی جو زندگی پیش کی گئی ہے وہ کرامات، خرق عادت واقعات اور "واضح طور پر ناقابلِ یقین پہلوؤں" پر مشتمل ہے۔ پشٹی مارگ کے پیروکار ولبھ کو ایک مثالی الٰہی اوتار مانتے ہیں جو ایک مافوق الفطرت مقصد کے لیے پیدا ہوئے تھے اور ان کے تذکروں کا مقصد کرشن کے ساتھ ایک زندہ اور قریبی تعلق کو ظاہر کرنا ہے تاکہ وہ عقیدت مندوں کے لیے ایک مثال بن سکیں۔ بارز (1992ء) ولبھ کا جو سوانحی خاکہ پیش کرتے ہیں اس میں یہ روایتی عناصر شامل ہیں۔ ان کی سوانح عمری پر شارلٹ واڈویل نے یہ تنقید کی ہے کہ یہ محض انگریزی اور ہندی ولبھائی مآخذ پر انحصار کرتی ہے اور اس میں مآخذ کے اُس تنقیدی تجزیے کی کمی ہے جو ایک مغربی ماہرِ ہندیات کا خاصہ ہوتا ہے۔[14][15][2] شاستری، ولبھ کی سوانح عمریوں میں موجود کرامات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ولبھ کے پوتے گوکل ناتھ کے پیروکاروں کی لکھی ہوئی کتابوں میں ولبھ اور ان کے دوسرے صاحبزادے وٹھل ناتھ (جو گوکل ناتھ کے والد تھے) سے منسوب کرامات کا کوئی ذکر نہیں ملتا، چنانچہ اس پہلو سے یہ مآخذ گراں قدر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پیروکار اس کی بجائے گوکل ناتھ کو انسانی شکل میں خدا تصور کرتے تھے، جبکہ ولبھ اور وٹھل ناتھ ان کے نزدیک صرف معزز "اچاریہ" تھے۔ کسی ایک کتاب میں ولبھ کی مکمل سوانح عمری موجود نہیں ہے اور مختلف مآخذ میں متضاد معلومات ملتی ہیں، جس کی ممکنہ وجہ سترھویں سے انیسویں صدی کے درمیان اس مذہبی برادری کی داخلی گروہ بندی ہے۔[16][17]
بچپن
[ترمیم]روایات کے مطابق ولبھ کا خاندان ویلن ناٹو یا ویلن ناڈو تیلگو براہمنوں سے تعلق رکھتا تھا، جن کا شجرہ "بھاردواج گوتر" اور یجر وید کی "تیتریہ" شاخ سے جا ملتا ہے۔ ان کا آبائی گاؤں دریائے گوداوری کے جنوبی کنارے پر واقع "کانکر واڑا" تھا۔[19] کیشور رام کاشی رام شاستری نے "کانکر" (کنکیر) گاؤں کو "کانکر پانڈھو" یا "کانکر واڑا" بتایا ہے۔[20]
"شری ولبھ وِجے" جیسے بعض مآخذ میں مذکور ہے کہ ولبھ کی پیدائش چمپارنیہ کے جنگلات میں اس وقت ہوئی جب ان کے والدین مسلمانوں کے حملے کے خوف سے وارانسی سے فرار ہو رہے تھے۔ یہ مآخذ ان کی پیدائش کو معجزاتی قرار دیتے ہیں؛ کہا جاتا ہے کہ ان کے والدین نے بظاہر مردہ پیدا ہونے والے بچے کو کھیجڑی کے ایک درخت کے نیچے چھوڑ دیا تھا، لیکن پھر ایک غیبی آواز نے انھیں واپس بلایا۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے دیکھا کہ ولبھ زندہ ہیں اور آگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ دیگر تذکروں جیسے کہ "شری ناتھ جی پراکٹیہ کی وارتا" کے مطابق ولبھ متھرا کے "اگنی کنڈ" (آگ کے تالاب) میں نمودار ہوئے تھے۔[2][21][22]
زیادہ تر تذکرہ نگاروں نے ولبھ کی تاریخِ پیدائش 11 بیساکھ، 1535 وکرم سموت (7 مئی 1478ء) لکھی ہے۔ اگرچہ اس تاریخ کو گریگورین کیلنڈر میں تبدیل کرنے پر محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے (بعض 1478ء اور بعض 1479ء بتاتے ہیں)، لیکن ہالے نے برج میں مستعمل کیلنڈر سے مطابقت پیدا کر کے 1478ء کے سال کی تصدیق کی ہے۔[2][21][22] ولبھ کے پوتے گوکل ناتھ کے پیروکار ولبھ کا سالِ پیدائش 1473ء مانتے ہیں۔ جی ایچ بھٹ نے دونوں تاریخوں کا موازنہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 1473ء کا سال درست ہے۔ ان کی رائے میں 1473ء کا ذکر کرنے والے مآخذ 1478ء والے مآخذ کے مقابلے میں زیادہ قدیم اور مستند ہیں۔[23]
ولبھ کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ان کا خاندان واپس وارانسی منتقل ہو گیا۔ وہاں ولبھ نے سنسکرت کتابوں اپنشد، وید اور پران وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔[2][24]
انیسویں صدی کی تصنیف "شری گووردھن ناتھ جی کے پراکٹیہ کی وارتا" کے مطابق مادھویندر پوری (تقریباً 1420ء–1490ء) نے وارانسی میں ولبھ کو تعلیم دی تھی، تاہم اینٹ وسٹل ولبھ کی پیدائش اور مادھویندر کی وفات کی تاریخوں کے تفاوت کی بنا پر اسے "بعید از قیاس" قرار دیتے ہیں۔ روایت ہے کہ جب مادھویندر سے ولبھ کو پڑھانے کی فیس پوچھی گئی تو انھوں نے "شری ناتھ جی" کی خدمت کی خواہش ظاہر کی، کیونکہ انھیں الہام ہوا تھا کہ ولبھ ہی اس دیوتا کی باقاعدہ پوجا کا آغاز کریں گے۔ جب مادھویندر پوری کوہِ گووردھن پہنچے تو وہاں مقامی دیہاتی اس بت کی پوجا ناگ دیوتا کے طور پر اور سدو پانڈے کرشن سمجھ کر پوجا کر رہے تھے۔ مادھویندر پوری نے شری ناتھ جی کو مالا پہنائی، دستار سے سجایا اور دودھ پیش کیا (انھیں شری ناتھ جی نے بتایا تھا کہ وہ ٹھوس غذا صرف ولبھ کے آنے پر ہی قبول کریں گے)۔ اس کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مادھویندر کو بنگالی پجاریوں کا "مکھیا" مقرر کیا گیا تھا، جسے اینٹ وسٹل نے غیر یقینی قرار دیا ہے کیونکہ شری ناتھ جی کا مندر ان کی زندگی کے بعد تعمیر ہوا تھا۔ مادھویندر پوری بعد میں صندل کی لکڑی لینے جنوبی ہند چلے گئے اور وہاں سے کبھی واپس نہیں آئے۔[25][26][27][2][28] پشٹی مارگ کی دیگر کتابوں اور گوڑیہ ویشنو مت روایت کی کتابیں مادھویندر پوری کے شاگردوں کی شناخت اور گووردھن پر کرشن کے بت کے قیام کے حوالے سے مختلف بیانات پیش کرتے ہیں۔[29][30][31][32][33][34]
پہلا مذہبی سفر
[ترمیم]اپنی زندگی کے آخری ایام میں لکشمن بھٹ نے اپنی اہلیہ اور دس سالہ بیٹے کو ساتھ لے کر جنوبی ہند کی یاترا کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے پہلا قیام 1489ء میں پوری میں جگن ناتھ کے ویشنو مندر میں کیا۔ وہاں کا مقامی حکمران ایک عظیم فلسفیانہ مناظرے کی سرپرستی کر رہا تھا جہاں اہل علم کے سامنے چار سوالات رکھے گئے تھے: "سب سے افضل صحیفہ کون سا ہے؟ سب سے برتر دیوتا کون ہے؟ سب سے زیادہ مؤثر منتر کون سا ہے؟ اور سب سے آسان اور بہترین عمل کیا ہے؟" ولبھ نے ان کے جواب میں بالترتیب بھگود گیتا، کرشن، کرشن کا کوئی بھی نام اور کرشن کی سیوا (خدمت) کو پیش کیا۔ جس پر جگن ناتھ نے ان کے جواب کی تائید اور ادویت ویدانت کے حامیوں کی مذمت میں ایک شلوک تحریر کیا۔[35]
1490ء میں وہ تروپتی میں وینکٹیشور کے مندر پہنچے، جہاں لکشمن بھٹ کی وفات ہو گئی اور اِلّماگارو اپنے بھائی کے ساتھ وجے نگر میں رہنے لگیں۔[36]
وجے نگر میں عظیم الشان فتح
[ترمیم]جب ولبھ اپنے آبائی گاؤں کانکر واڑا میں مقیم تھے تو انھوں نے سنا کہ وجے نگر سلطنت کے بادشاہ کرشنا دیورایا کے دربار میں ایک فلسفیانہ مناظرہ (شاسترارتھ) منعقد ہو رہا ہے اور وہاں ویشنو مکاتبِ فکر کو ادویت ویدانت کے فلسفیوں کے ہاتھوں شکست ہو رہی ہے۔ ولبھ فوراً اس بحث میں شامل ہونے کے لیے وجے نگر پہنچے اور مادھو مکتبِ فکر کے فلسفی ویاس تیرتھ کی قیادت میں ویشنو خیمے میں شامل ہو گئے۔ ولبھ نے اپنی علمی قابلیت اور مناظرانہ مہارت کے ذریعے ادویت فلسفیوں کو شکست دی، جس پر کرشنا دیورایا نے انھیں بھاری مقدار میں سونے سے نوازا (جس کا زیادہ تر حصہ انھوں نے برہمنوں میں تقسیم کر دیا)۔[37]
ولبھ کو مادھو سمپردائے اور وشنو سوامی سمپردائے کی جانب سے معزز خطاب "اچاریہ" کی پیشکش بھی کی گئی۔ ولبھ نے وشنو سوامی مکتبِ فکر کا "اچاریہ" بننا پسند کیا۔ وشنو سوامی مکتبِ فکر کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں اور ولبھ کے دور تک اس کے پیروکار بہت کم رہ گئے تھے۔ ان فرقوں کے اکثر پیروکاروں کی رائے یہ ہے کہ ولبھ نے اس مکتبِ فکر کا "اچاریہ" بننا اس لیے پسند کیا تاکہ وہ اپنے نظریات کو مزید وقار عطا کر سکیں، ورنہ غالباً وشنو سوامی اور ولبھ کے خیالات کے درمیان کوئی حقیقی تعلق موجود نہیں ہے۔ پیروکاروں کی ایک قلیل تعداد وشنو سوامی اور ولبھ کے فلسفوں کے درمیان تعلق پر یقین رکھتی ہے، تاہم جدید محققین کے نزدیک ان دونوں فلسفوں کے درمیان کوئی باقاعدہ تعلق نہیں ہے۔[37] کیشور رام کاشی رام شاستری کے مطابق ولبھ نے خود کبھی وشنو سوامی کے مکتبِ فکر سے تعلق کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اپنی کتاب "سبودھنی" میں ولبھ نے دعویٰ کیا ہے کہ وشنو سوامی کا عقیدت مندانہ راستہ "تامس گُن" سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ ان کا اپنا راستہ "نرگُن" ہے۔ صرف بعد کے مصنفین جیسے کہ گوسوامی پروشوتم، یوگی گوپیشور اور گدادھر داس نے ولبھ اور لکشمن بھٹ کے فلسفیانہ مکتب کو وشنو سوامی سے جوڑا ہے۔ روایتی سوانح عمریوں میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بلوا منگل (وشنو سوامی مکتبِ فکر کے ایک دانشور) نے ولبھ کے اپنی نشست سنبھالنے کے لیے سات سو سال انتظار کیا۔ اس کے برعکس ولبھ خود بیان کرتے ہیں کہ بلوا منگل کے "مایا وادی" رجحانات کے باوجود وہ اپنی عقیدت کے ذریعے "موکش" حاصل کر سکتے ہیں۔[38]
مذہبی لٹریچر کے مطابق یہ مناظرہ 1490ء میں لکشمن بھٹ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ہوا تھا جب ولبھ کی عمر صرف تیرہ سال تھی؛[39] تاہم کرشنا دیورایا 1509ء میں وجے نگر کے بادشاہ بنے تھے۔[37]
اس مناظرے کا ذکر "چوراسی بیٹھک چرتر" میں ملتا ہے لیکن آزاد تاریخی مآخذ میں اس کا سراغ نہیں ملتا۔ ساہا کے مطابق وجے نگر کا یہ واقعہ "ایک فاتح ولبھ کے تصور کو پیش کرنے کے لیے ہے جو کرشن کے لیے برصغیر کو جیت رہے ہیں"۔[39] اس کا ذکر "سمپردائے پردیپ" میں بھی ہے، جس کی بیانیہ کہانی کو ہالے نے "واضح طور پر حقائق کے منافی" قرار دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ واقعہ سترھویں صدی کے آخر میں پشٹی مارگ کے مفادات کو آگے بڑھانے کے مقصد سے لکھا گیا تھا۔[11]
برہم سمبندھ منتر کا حصول اور شری ناتھ جی کی تنصیب
[ترمیم]
روایات کے مطابق 1493ء میں ولبھ نے ایک خواب دیکھا جس میں کرشن نے انھیں کوہِ گووردھن جانے اور اپنے اس "سوروپ" (عکس) کی باقاعدہ "سیوا" (خدمت) قائم کرنے کا حکم دیا جو برسوں پہلے وہاں نمودار ہوا تھا۔ جب وہ 1494ء میں گوکل پہنچے تو ولبھ کو ایک کشف ہوا جس میں کرشن ان کے سامنے نمودار ہوئے اور انھیں "برہم سمبندھ منتر" عطا کیا، جسے انسانی روح کے نقائص کو پاک کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ اگلی صبح ولبھ نے اپنے ساتھی دمودر داس ہرسانی کو یہ منتر پڑھایا جو پشٹی مارگ (ولبھ سمپردائے) کے پہلے رکن بنے۔[2][40] زیادہ تر مآخذ بتاتے ہیں کہ یہ واقعات گوکل میں پیش آئے، سوائے "شری ناتھ جی پراکٹیہ کی وارتا" کے جس کے مطابق یہ واقعہ جھارکھنڈ میں ہوا تھا۔[41]

جب ولبھ کوہِ گووردھن پہنچے تو وہ سدو پانڈے کے گھر گئے۔ سدو پانڈے کو برسوں پہلے کرشن کی جانب سے ایک خواب دکھایا گیا تھا جس میں انھیں بتایا گیا کہ کوہِ گووردھن پر نمودار ہونے والا پتھر دراصل ان کا اپنا سوروپ ہے اور انھیں اس پر نذرانہ پیش کرنا چاہیے۔ اس مورتی کو "دیو دمن" کے نام سے جانا جاتا تھا؛ ولبھ نے اعلان کیا کہ یہ دراصل شری گووردھن ناتھ جی (مختصراً شری ناتھ جی) کا سوروپ ہے اور رام داس چوہان نامی ایک سنیاسی کو باقاعدہ پوجا کے لیے مقرر کیا۔[2][42] 1499ء میں انبالہ سے تعلق رکھنے والے ایک دولت مند تاجر پورن مل کھتری نے شری ناتھ جی کے لیے ایک مندر کی تعمیر شروع کی۔[2][42]
نجی زندگی
[ترمیم]ممکن ہے کہ ولبھ کا ارادہ تاحیات برہم چریہ (مجرد) رہنے کا رہا ہو، لیکن 1501ء اور 1503ء کے درمیان اپنے دوسرے ہند گیر دورے میں وہ دیوتا وٹھوبا یا وٹھل (جو کرشن ہی کی ایک شکل ہے) کے درشن کے لیے پنڈھرپور گئے تھے۔ وہاں ولبھ کو وٹھل کی جانب سے شادی کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعض مذہبی مآخذ کا دعویٰ ہے کہ ایسا اس لیے تھا کیونکہ وٹھل ان کے بیٹے کے روپ میں جنم لینا چاہتے تھے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ ولبھ کے "بھکتی مارگ" (عقیدت کے راستے) کے فروغ اور تحفظ کے لیے نسل در نسل جانشینی کا سلسلہ قائم کرنے کے لیے تھا۔[2][43] اس واقعے کا ذکر "ولبھ اکھیان"، "نِج وارتا" اور "سمپردائے کلپ دُرم" میں ملتا ہے اور اینٹ وسٹل کے مطابق یہ بعد کے ادوار کی ایک اساطیری کہانی ہے۔[44]
اپنی ذات کی روایات اور رسم و رواج کے مطابق ولبھ نے 1502ء اور 1504ء کے درمیانی عرصہ میں اپنی ہی برادری سے تعلق رکھنے والی وارانسی کی ایک لڑکی مہالکشمی (المعروف اکا جی) سے شادی کی۔[45] تقریباً 1510ء–1512ء کے قریب وہ جوان ہو کر ان کے ساتھ رہنے لگیں۔[46][47][48] ولبھ کے دو مکانات تھے، ایک الٰہ آباد (پریاگ راج) کے پار دریائے جمنا کے کنارے اڑیل میں اور دوسرا وارانسی کے قریب چرناٹ میں۔ ساہا کے مطابق ان کے گھر کے محلِ وقوع نے انھیں ایک مرکزی مقام فراہم کیا جس کی مدد سے وہ پورے شمالی اور وسطی ہند میں تبلیغ اور لوگوں کو اپنے حلقۂ اثر میں بآسانی شامل کر سکتے تھے۔[49][50]
ان کے پہلے فرزند گوپی ناتھ 1512ء میں اڑیل میں پیدا ہوئے اور مذہبی روایت کے مطابق وہ کرشن کے بڑے بھائی بلرام کے اوتار تھے۔ ان کے دوسرے صاحبزادے وٹھل ناتھ 1515ء میں چرناٹ میں پیدا ہوئے، انھیں وٹھل کا اوتار تصور کیا جاتا ہے۔[2][48]
ہندوستان کے مذہبی اسفار اور تبلیغی دورے
[ترمیم]ولبھ نے پورے ہندوستان کے تین مذہبی اسفار کیے جن کی تفصیلات بعد کے مآخذ میں دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ اسفار 1479ء اور 1530ء کے درمیان ہوئے، اگرچہ ساہا ان تاریخوں کے درست ہونے پر شک ظاہر کرتے ہیں۔ دوارکا، قنوج، پوری، متھرا، گوکل اور گووردھن جیسے مقاماتِ زیارت پر ولبھ نے مذہبی و کلامی مباحثے کیے اور پیروکاروں و عقیدت مندوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ انھوں نے سندھ و گنگ کا میدان اور گجرات (بھارت) میں بڑے پیمانے پر تبلیغی مہمات چلائیں، جہاں انھوں نے بالترتیب مختلف ذاتوں مثلاً بھومی ہار، راجپوت، گجر، آہیر، کُرمی اور وانیا، بھاٹیہ، کانبی اور پاٹی دار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنے حلقۂ اثر میں شامل کیا۔[51] "چوراسی ویشنون کی وارتا" میں ولبھ کے چوراسی نمایاں ترین عقیدت مندوں کی زندگی کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ ان چوراسی عقیدت مندوں میں سے 39 براہمن، 36 تاجر یا زمیندار کھشتری، 5 ویش اور 6 شودر تھے۔[52]
ایک علمی نظریہ یہ ہے کہ ان گروہوں کے لیے ولبھ کی الٰہیات کی کشش کی وجہ سماجی ترقی (Social Mobility) تھی۔ زراعت پیشہ ذاتوں کے لیے، خاص طور پر گجرات میں، طہارت و پاکیزگی پر زور دینے سے انھیں اعلیٰ سماجی مقام ملا۔ تاجر پیشہ ذاتوں کے لیے طہارت کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی زندگی میں ضبطِ نفس اور کفایت شعاری پر زور نے ان کے مرتبے کو بلند کیا، جبکہ دولت کو کرشن کی مذہباً مستحسن سیوا (خدمت) کے لیے استعمال کی ترغیب دی۔[53]
ایک اور وجہ یہ تھی کہ ولبھ نے ایک ایسی گھریلو زندگی کی حوصلہ افزائی کی جو زندگی کی نفی کرنے کی بجائے اسے قبول کرتی تھی اور سماجی طور پر قدامت پسند نقطۂ نظر پیش کرتی تھی۔ یہ نظریہ ان ذاتوں کے لیے پرکشش تھا جن کے ذریعۂ معاش کا انحصار سماجی اور سیاسی استحکام پر تھا، خاص طور پر ہندوستان میں مسلم سلطنتوں کے بکھراؤ کے تناظر میں اس کی خاص اہمیت تھی۔[53]
وفات
[ترمیم]1530ء میں ولبھ نے سنیاس (ترکِ دنیا) کا عہد کیا اور وارانسی میں دریائے گنگا کے کنارے گوشہ نشین ہو گئے۔ ایک ماہ بعد انھوں نے اپنے بیٹوں گوپی ناتھ اور وٹھل ناتھ کو طلب کیا اور اٹھارہ یا انیس سالہ گوپی ناتھ کو اپنا جانشین نامزد کیا۔ مذہبی روایات کے مطابق وہ گنگا میں داخل ہوئے اور روشنی کی ایک لہر میں غائب ہو گئے۔[2][54] کہا جاتا ہے کہ یہ واقعہ 3 اساڑھ سود، 1587 وکرم سموت (7 جولائی 1530ء) کو پیش آیا۔[55]
تصانیف
[ترمیم]ولبھ نے اپنی زندگی میں متعدد کتابیں تصنیف کیں (تمام تر سنسکرت میں)، جن میں سے نمایاں کتابیں درج ذیل ہیں:[2][56]
- "انو بھاشیہ": برہما سوتر کی ایک نامکمل شرح (تیسری فصل کے تیئسویں شلوک تک)۔
- "سبودھنی": بھاگوت پران کی ایک نامکمل شرح (پہلے سے تیسرے اور دسویں اسکندھ کی مکمل شرح، جبکہ چوتھے، ساتویں اور گیارھویں اسکندھ کی جزوی شرح)۔
- "تتوارتھ دیپ نبندھ": ولبھ کے فلسفہ "شدھ ادویت" کی روشنی میں موجودہ ہندو صحائف کی تشریح پر مبنی کتاب۔
- "تتوارتھ دیپ نبندھ پرکاش": اصل کتاب "تتوارتھ دیپ نبندھ" کی ایک جزوی شرح (پہلے دو حصوں کی مکمل اور تیسرے حصے کی جزوی شرح)۔
- "شوڈَش گرنتھ": شدھ ادویت اور پشٹی مارگ کی الٰہیات کے اہم پہلوؤں پر سولہ رسائل۔
ولبھ سے منسوب کچھ دیگر کتابیں بھی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ ضائع ہو چکی ہیں یا وہ ان کی اپنی تصنیف نہیں ہیں۔ ان میں "جیمنیہ سوتر بھاشیہ"، "پاتراولمبنم"، "شری پروشوتم نام سہسرم"، "تری وِدھنا ماولی"، "پریما مرتھم"، "پری وردھ اشٹکم" اور "مدھورا اشٹکم" شامل ہیں۔ اسمتھ لکھتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ ولبھ کی وفات کے بعد ابتدائی بیس سالوں میں ان کا کچھ کام ضائع ہو گیا ہو، کیونکہ ان کا خاندان تنازعات میں گھرا رہا یہاں تک کہ گوپی ناتھ اور ان کے صاحبزادے پروشوتم کی وفات کے بعد وٹھل ناتھ خاندان اور سلسلے کے سربراہ بنے۔[57]
انو بھاشیہ
[ترمیم]"انو بھاشیہ" میں ولبھ "شدھ ادویت" کے لیے باقاعدہ فلسفیانہ ثبوت فراہم کرتے ہیں؛ یہ کتاب خالص فکری مباحث پر مشتمل ہے۔ ولبھ کا استدلال ہے کہ "جیو" (انفرادی روح) "اکشر برہمن" (کائنات کی مطلق اور ہمہ گیر حقیقت) سے الگ نہیں ہے، پھر بھی وہ خدا کے فضل (کِرپا) کی محتاج ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیو اپنے "سبھاؤ" (ذاتی فطرت) اور "ادھکاری" (اہلیت) کی بنا پر یا تو علم کے مذہبی راستے کی طرف مائل ہوتے ہیں یا عقیدت (بھکتی) کی طرف۔ ان کے نزدیک علم کا ثمر "موکش" ہے، یعنی ایک تجریدی، مطلق اور غیر شخصی "اکشر برہمن" میں ضم ہو جانا۔ اس کے برعکس عقیدت کا اعلیٰ ترین ثمر "نیتہ لیلا" میں داخل ہونا ہے (خواہ زندگی میں ہو یا موت کے بعد)، جو خدا کی خود بخود اور تخلیقی فطرت کا مشاہدہ کرنے اور اس میں شریک ہونے کی حالت ہے۔[57]
تتوارتھ دیپ نبندھ
[ترمیم]یہ کتاب تین حصوں میں منقسم ہے: "شاسترارتھ"، "سرونرنے" اور "بھاگوتارتھ"۔ "شاسترارتھ پرکرن" میں ولبھ "بھگود گیتا" کے مندرجات پر اپنی رائے دیتے ہیں، جسے وہ کرشن کے الفاظ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ ترین شاستر مانتے ہیں۔ وہ کائنات اور خدا کی ماہیت سمیت مختلف موضوعات پر بحث کرتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ "بھکتی" (عقیدت) کرشن کے اس علم پر مبنی ہے جیسا کہ "بھگود گیتا" اور "بھاگوت پران" میں بیان کیا گیا ہے۔ "سرونرنے پرکرن" میں ولبھ حریف مکاتبِ فکر کے فلسفوں کا جائزہ لیتے ہیں اور کائنات میں روحوں کی ماہیت اور عقیدت کے حوالے سے اپنے خیالات کی برتری ثابت کرتے ہیں۔ "بھگوتارتھ پرکرن" میں ولبھ "بھاگوت پران" پر بحیثیتِ مجموعی، اس کے اسکندھوں (جلدوں)، پرکرنوں (موضوعاتی تقسیم) اور ادھیایوں (ابواب) پر اپنا نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔[57]
سُبودِھنی
[ترمیم]بھاگوت پران کی یہ شرح ولبھ کی سب سے زیادہ باطنی تصنیف ہے اور یہ "بھاگوتارتھ پرکرن" کے مقابلے میں متن کی زیادہ گہری سطح پر تشریح فراہم کرتی ہے، جو "واکیہ" (جملہ)، "پدا" (لفظ) اور "اکشر" (حرف) تک جاتی ہے۔ اس متن میں ولبھ عقیدت مندانہ تجربات کے تجزیے کے لیے "النکار شاستر" (کلاسیکی ہندوستانی جمالیاتی نظریہ) کا استعمال کرتے ہیں۔[57]
شوڈَش گرنتھ
[ترمیم]یہ متن سولہ مختصر رسائل پر مشتمل ہے:[57]
- "یمنا اشٹکم": دریائے یمنا کی دیوی کے لیے ایک باطنی حمد جسے عقیدت مند روزانہ پڑھتے ہیں۔
- "بال بودھ": حریف مکاتبِ فکر کے مطابق "پروشارتھ" (انسانی زندگی کے چار مقاصد) کی وضاحت کرتا ہے۔
- "سدھانت مکتاولی": زمینی، روحانی اور سماوی سطحوں پر کرشن کی سیوا کی قدر و قیمت اور انفرادی اہلیت کے لحاظ سے پوجا کی مختلف اقسام کی وضاحت کرتا ہے۔
- "پشٹی پروا مریادہ بھید": جیو کی تین اقسام: "پشٹی"، "مریادہ" اور "پروا" کی وضاحت کرتا ہے۔
- "سدھانت رہسیہ": ولبھ کا اپنا بیان جس میں کرشن نے انھیں "برہم سمبندھ" کے بارے میں ہدایات دیں۔
- "نورتن": ایک حمد جس میں ولبھ عقیدت مندوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ پریشانیوں کو ترک کر دیں کیونکہ وہ کرشن کی سیوا سے توجہ ہٹاتی ہیں اور انھیں "لیلا" کا حصہ سمجھیں۔
- "انتہ کرن پربودھ": ولبھ اپنے دل کو فکر سے آزاد ہونے اور کرشن کی یکسوئی کے ساتھ عقیدت رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔
- "وویک دھیریا شَرَئے": تمیز، صبر اور الٰہی پناہ پر ولبھ کے خیالات کا خلاصہ ہے۔
- "چتوشلوکی": چار اشلوکوں پر مبنی حمد جو پشٹی مارگ کے مناسب عقیدت مندانہ اعمال کے طور پر "پرُوشارتھ" کی وضاحت کرتی ہے۔
- "شری کرشن شرئے": یہ بتاتا ہے کہ عقیدت مندوں کے لیے کرشن ہی واحد پناہ گاہ کیوں ہونے چاہئیں، وہ دوسرے دیوتاؤں سے برتر کیوں ہیں اور ان کی عقیدت ہی کل یگ سے نجات کا واحد ذریعہ کیوں ہے۔
- "بھکتی وردھنی": یہ واضح کرتا ہے کہ عقیدت خاموشی سے مختلف مراحل کے ذریعے کیسے بڑھتی ہے اور عقیدت کے حوالے سے طرزِ زندگی کی مختلف خوبیوں کی وضاحت کرتا ہے۔
- "جل بھید": پانی کی تمثیل استعمال کرتے ہوئے بیس قسم کے عقیدت مندوں کی درجہ بندی کرتا ہے جو اپنے "بھاؤ" (جذباتی کیفیت) اور روحانی صلاحیتوں کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
- "پنچ پدیانی": کرشن کی کہانیوں اور ثنا خوانی کے سننے والوں کی مختلف اقسام کی درجہ بندی کرتا ہے۔
- "سنیاس نرنے": ولبھ دنیاوی زندگی کے ترک (سنیاس) کے شرائط بتاتے ہیں، نیز اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ بھکتی کے لیے وقف سنیاسی علم (گیان) کے لیے وقف سنیاسیوں سے کیسے مختلف ہوتے ہیں۔
- "نرودھ لکشن": "نرودھ" کے تصور کی وضاحت کرتا ہے، جس سے مراد دنیاوی زندگی سے علاحدگی اور کرشن کے لیے یکسوئی کے ساتھ لگاؤ ہے، جس کے بارے میں ولبھ کہتے ہیں کہ وہ اسے حاصل کر چکے ہیں۔
- "سیوا پھلم": کرشن کی عقیدت کے (بعد از مرگ) ثمرات بیان کرتا ہے اور ان ماورائی عطیات کا ذکر کرتا ہے جو ایک فانی جسم کو کرشن کی محبت میں سرشار ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔
فلسفہ
[ترمیم]| مضامین بسلسلہ |
| ہندو فلسفہ |
|---|
| سلسلہ مضامین |
| ویشنومت |
|---|
|
|
ولبھ نے شنکر کے ادویت ویدانت کے جواب میں شدھ ادویت کا فلسفہ مرتب کیا اور اسے انھوں نے "مریادہ مارگ" یا "حدود کا راستہ" قرار دیا۔ ولبھ کا یہ دعویٰ تھا کہ ویدک قربانیوں، مندر کی رسومات، پوجا، مراقبہ اور یوگا پر توجہ مرکوز کرنے والے مذہبی شعبوں کی قدر و قیمت محدود ہے۔ مزید برآں، ولبھ نے مایا کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ یہ دنیا مطلق ہستی (خدا) ہی کا ایک مظہر ہے، اس لیے نہ تو یہ ناپاک ہو سکتی ہے اور نہ اس میں کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔[58] یہ مکتبِ فکر رہبانیت کے طرزِ زندگی کو مسترد کرتا ہے اور گھریلو زندگی (گرہست) کو عزیز رکھتا ہے، جس میں پیروکار خود کو کرشن کے ساتھی اور شریک سمجھتے ہیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی کو ایک مسلسل جاری "راس لیلا" تصور کرتے ہیں۔[59]
برہمن
[ترمیم]ولبھ کے مطابق برہم ہستی، شعور اور مسرت (ست چِت آنند) پر مشتمل ہے اور جب یہ مکمل طور پر ظاہر ہوتا ہے تو خود کرشن کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس روایت کا مقصد کرشن کی محبت میں سرشار ہو کر بے غرض سیوا (خدمت) انجام دینا ہے۔ ولبھ کے مطابق یکسوئی کے ساتھ مذہبی لگن کے ذریعے ایک عقیدت مند اس آگاہی کو حاصل کر لیتا ہے کہ دنیا میں ایسی کوئی چیز نہیں جو کرشن نہ ہو۔[60]
پشٹی
[ترمیم]ولبھ کے مطابق روحیں تین قسم کی ہوتی ہیں: "پشٹی"، "مریادہ" اور "پروا"۔ "پشٹی" اور "مریادہ" روحیں الٰہی روحیں ہیں جو بلندی یا نجات کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ "پشٹی" (جس کا مطلب "مکمل" یا "خوب توانا" ہے) روحیں عقیدت حاصل کرنے کے لیے صرف کرشن کے فضل (کِرپا) پر بھروسا کرتی ہیں اور خدا کے فضل کے بغیر دیگر تمام کوششیں ان کے نزدیک بے معنی ہیں۔[61][62]
ولبھ عقیدت کے دو پہلوؤں کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں: "مریادہ" اور "پشٹی"۔ "مریادہ" کے پیروکار اپنی روحانی جزا کے لیے اپنے اعمال اور خدا کے فیصلے پر بھروسا کرتے ہیں، جو صحائف کے احکامات کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کے برعکس "پشٹی" کے پیروکار مکمل طور پر خدا کے فضل پر بھروسا کرتے ہیں، وہ ذاتی کوشش کے بغیر مکمل عقیدت اور سپردگی کو ترجیح دیتے ہیں، جو خدا کے تئیں غیر مشروط محبت اور ایمان کی عکاسی کرتی ہے۔ ولبھ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پشٹی کا راستہ ذات پات یا جنس کی تمیز کے بغیر سب کے لیے کھلا ہے۔ وہ اس راستے کو محض لذت پر مرکوز سمجھنے کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دنیاوی خواہشات سے وابستہ ہوئے بغیر خالص الٰہی عقیدت کا نام ہے۔[63]
جگت
[ترمیم]ولبھ دنیا (جگت) کو اس یقین کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہوا دیکھتے تھے کہ دنیا برہمن ہی کا ایک اظہار اور مظہر ہے۔ وہ اس خیال کو قبول کرتے ہیں کہ برہمن نے خود کو انفرادی روحوں (جیو) اور دنیا دونوں صورتوں میں ظاہر کیا ہے۔ ولبھ کا استدلال تھا کہ برہمن نے اپنی فطری کھیل کود کی جبلت (لیلا) کے اظہار کے لیے وحدت سے کثرت میں تبدیل ہونے کی آرزو کی اور اس طرح دنیا پیدا کی۔ ولبھ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دنیا خیالی (مایا) نہیں ہے بلکہ اتنی ہی حقیقی ہے جتنا کہ خود برہمن، جو اپنی مسرت اور شعور کی صفات کو عارضی طور پر دبا کر خود کو ظاہر کرتا ہے۔ جب "جیو" اپنی جہالت کی وجہ سے دنیا کو غلط طور پر ایک الگ حقیقت اور کثرت سمجھنے لگتے ہیں، تو وہ "سنسار" (دنیاوی چکر) کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جو غیر حقیقی ہے۔[64]
ڈاک ٹکٹ
[ترمیم]حکومت ہند کے محکمہ ڈاک نے 14 اپریل 1977ء کو ولبھ اچاریہ کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔[65][66]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حواشی
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب Shastri 1961, p. 35
- ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ Barz 2018
- ↑ Entwistle 1987, p. 263
- ↑ Saha 2004, p. 107
- ↑ Hawley 2013, p. 82
- ↑ Bachrach 2014, pp. 59, 64-65
- ↑ Bhatt 1940, p. 601
- ↑ Saha 2004, p. 107-108
- ↑ Emilia Bachrach (2014)۔ Reading the Medieval in the Modern: The Living Tradition of Hagiography in the Vallabh Sect of Contemporary Gujarat (PhD thesis)۔ University of Texas at Austin۔ ص 127–130
- ^ ا ب Śāstrī 1977, pp. 8–9
- ^ ا ب Hawley 2013, p. 88-93
- ↑ Bhatt 1940, p. 596
- ↑ G.V. Devasthali (1977)۔ Śr̥ṅgāra-rasa-maṇḍana of Śrī Viṭṭhaleśa۔ Research Unit Publications۔ Poona: Bhandarkar Oriental Research Institute۔ ص X
- ↑ Barz 1992, p. 21
- ↑ Ch. Vaudeville (1979)۔ "The Bhakti Sect of Vallabhācārya Richard Barz"۔ Indo-Iranian Journal۔ ج 21 شمارہ 1: 55–56
- ↑ Bachrach 2014, pp. 60–61
- ↑ Śāstrī 1977, pp. 9–10
- ↑ Barz 1992, p. 24
- ↑ Barz 1992, p. 23
- ↑ Śāstrī 1977, p. 43
- ^ ا ب Barz 1992, pp. 23–25
- ^ ا ب Hawley 2015, pp. 187, 364
- ↑ G.H. Bhatt (1940)۔ "The Birthdate of Vallabhācārya, the Advocate of the Śuddhādvaita Vedānta"۔ Proceedings and Transactions of the Ninth All-India Oriental Conference, Trivandrum, December 20th to 22th 1937۔ Trivandrum: Government Press
- ↑ Saha 2004, p. 98
- ↑ Alan William Entwistle (1982)۔ The Rāsa Māna ke Pada of Kevalarāma: A Medieval Hindi Text of the Eighth Gaddī of the Vallabha Sect (PhD thesis)۔ University of London۔ ص 56
- ↑ Entwistle 1987, pp. 138-140
- ↑ Haberman 2020, p. 41
- ↑ Friedhelm Hardy (1974)۔ "Mādhavêndra Purī: A Link between Bengal Vaiṣṇavism and South Indian "Bhakti""۔ The Journal of the Royal Asiatic Society of Great Britain and Ireland۔ Cambridge University Press۔ ج 1: 31۔ JSTOR:25203503
- ↑ Entwistle 1987, p. 138
- ↑ Kenneth Russel Valpey (2006)۔ Attending Kṛṣṇa's Image: Caitanya Vaiṣṇava mūrtī-sevā as devotional truth۔ Routledge۔ ص 66
- ↑ David L. Haberman (2020)۔ Loving Stones: Making the Impossible Possible in the Worship of Mount Govardhan۔ Oxford University Press۔ ص 41–42
- ↑ Tony K. Steward، مدیر (1999)۔ Caitanya Caritāmṛta of Kṛṣṇadāsa Kavirāja: A Translation and Commentary۔ Harvard Oriental Series 56۔ ترجمہ از Edward C. Jr. Dimock۔ Department of Sanskrit and Indian Studies, Harvard University۔ ص 382
- ↑ Entwistle 1987, pp. 138–140
- ↑ Śāstrī 1977, p. 54
- ↑ Barz 1992, pp. 26–27
- ↑ Barz 1992, p. 27
- ^ ا ب پ Barz 1992, pp. 43–45
- ↑ Śāstrī 1977، شری وشنو سوامینو سمپردائے
- ^ ا ب Saha 2004, pp. 107–108
- ↑ Barz 1992, pp. 17–20, 28–29
- ↑ Entwistle 1987, p. 31
- ^ ا ب Barz 1992, pp. 28–29
- ↑ Barz 1992, p. 29
- ↑ Entwistle 1987, p. 163
- ↑ Françoise Mallison (1986). "Les Chants Dhoḷa au Gujarāt et Leur Usage pour la Dévotion Vallabhite". Bulletin de l'École française d'Extrême-Orient (بزبان فرانسیسی). 75: 89. DOI:10.3406/befeo.1986.1701. JSTOR:43731333.
- ↑ Edwin Francis Bryant (2007)۔ Krishna: A Sourcebook۔ New York: Oxford University Press۔ ص 482۔ ISBN:978-0-19-803400-1
- ↑ Kincaid, C. (جنوری 1933)۔ "Review: Imperial Farmans by K. M. Jhaveri"۔ Journal of the Royal Asiatic Society of Great Britain and Ireland شمارہ 1: 131–132۔ DOI:10.1017/S0035869X00072543۔ JSTOR:25194699۔ S2CID:163921774(رکنیت درکار)
- ^ ا ب Barz 1992, p. 38
- ↑ Saha 2004, pp. 111–112
- ↑ Barz 1992, p. 52
- ↑ Barz 1992, pp. 91, 140
- ↑ Saha 2004, pp. 107–114
- ^ ا ب Saha 2004, pp. 113–117
- ↑ G.H. Bhatt (1942)۔ "The Last Message of Vallabhācārya"۔ Annals of the Bhandarkar Oriental Research Institute۔ ج 23 شمارہ 1: 67–70
- ↑ Kokila A Shah (2013)۔ "2"۔ Shri Vallabhacharyas Shuddhadvaita philosophy of Vedanta (PhD thesis)۔ University of Mumbai۔ ص 48۔ hdl:10603/582847
- ↑ Govindlal Hargovind Bhatt (1953) [1937]۔ "The School of Vallabha"۔ The Cultural Heritage of India (2nd ایڈیشن)۔ The Ramakrishna Mission Institute of Culture۔ ج III: The Philosophies۔ ص 349–350
- ^ ا ب پ ت ٹ Smith 2022
- ↑ Saha 2004, pp. 98–106
- ↑ James G Lochtefeld (2002)۔ The Illustrated Encyclopedia of Hinduism: N–Z۔ Rosen Publishing۔ ص 539–540۔ ISBN:978-0823931804
- ↑ Saha 2004, pp. 98-106
- ↑ Marfatia 1967, pp. 70–75
- ↑ Barz 1992, pp. 71–73
- ↑ Marfatia 1967, pp. 72–74
- ↑ Marfatia 1967, pp. 29–30
- ↑ "Mahaprabhu Vallabhacharya Commemorative Stamp 1977 | Philcent #937 SG #846, MJ No. 720". Mintage World (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-10-10.
- ↑ "Commemorative postage stamps of India"۔ postagestamps.gov.in۔ 2021-09-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-10-10
مآخذ
[ترمیم]انگریزی
[ترمیم]- Richard K. Barz (1992) [1976]. The Bhakti Sect of Vallabhācārya (بزبان انگریزی). New Delhi: Munshiram Manoharlal.
- Richard Barz (2018)۔ "Vallabha"۔ در Knut A. Jacobsen؛ Helene Basu؛ Angelika Malinar؛ Vasudha Narayanan (مدیران)۔ Brill's Encyclopedia of Hinduism Online۔ Brill
- Alan W. Entwistle (1987)۔ Braj, Centre of Krishna Pilgrimage۔ Groningen: Egbert Forsten۔ DOI:10.1163/9789004646599۔ ISBN:978-90-6980-016-5
- John Stratton Hawley (2013)۔ "How Vallabhacharya Met Krishnadevaraya"۔ در Anila Verghese (مدیر)۔ Krishnadevaraya and His Times۔ Mumbai: K R Cama Oriental Institute
- John Stratton Hawley (2015). A Storm of Songs: India and the Idea of the Bhakti Movement (بزبان انگریزی). Harvard University Press. ISBN:978-0-674-18746-7.
- Mrudula I. Marfatia (1967). The Philosophy of Vallabhācārya (بزبان انگریزی). Delhi: Munshiram Manharlal. ISBN:978-81-215-0406-5.
- Shandip Saha (2004)۔ Creating a Community of Grace: A History of the Pusti Marga in Northern and Western India (1493–1905) (Thesis)۔ University of Ottawa
- Arunchandra D. Shastri (1961)۔ Puruṣottamajī: A Study (PhD thesis)۔ Maharaja Sayajirao University of Baroda۔ hdl:10603/59207
- F.M. Smith (2022)۔ "Vallabhācārya"۔ در J.D. Long؛ R.D. Sherma؛ P. Jain؛ M. Khanna (مدیران)۔ Hinduism and Tribal Religions. Encyclopedia of Indian Religions۔ Dordrecht: Springer۔ ص 1698–1707۔ DOI:10.1007/978-94-024-1188-1_813۔ ISBN:978-94-024-1187-4
گجراتی
[ترمیم]- Keśavarāma Kāśīrāma Śāstrī (1977). Śrīvallabhācārya mahāprabhujī : aitihyamūlaka jīvanī. Śrī Sayājī Sāhityamāḷā (بزبان گجراتی). Vaḍodarā: Prācyavidyā Mandira, Mahārājā Sayājīrāva Viśvavidyālaya.
بیرونی روابط
[ترمیم]- انٹرنیٹ آرکائیو پر ولبھاچاریہ کی کاوشیں
- ولبھ بریٹانیکا پر
- ولبھ کا فلسفہ، سریندر ناتھ داس گپتا، 1940ء
- Pushtipedia.com پشٹی مارگ کے انسائیکلوپیڈیا پر
- انٹرنیٹ آرکائیو کے روابط پر مشتمل مضامین
- 1479ء کی پیدائشیں
- 1531ء کی وفیات
- سولھویں صدی کے ہندوستانی فلاسفہ
- بھکتی تحریک
- ہندوستان کے ہندو روحانی گرو
- ہندوستانی ویشنوی شخصیات
- رائے پور، چھتیس گڑھ کی شخصیات
- ضلع رائے پور کی شخصیات
- سنسکرت شعرا
- تیلگو شخصیات
- ویشنوی سنت
- سولھویں صدی کے ہندو فلاسفہ اور الہیات دان
- 1530ء کی وفیات
- 1478ء کی پیدائشیں
- ویدانت
- ہندو فلسفہ
- بانیان مذاہب