ولیم فریزر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ولیم فریزر
William Fraser.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1784[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 مارچ 1835 (50–51 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Great Britain (1707–1800).svg مملکت برطانیہ عظمی
Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سرکاری[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ولیم فریزر (پیدائش: 1784ء– وفات: 22 مارچ 1835ء) ہندوستان میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم تھا جو دہلی میں بطور سیاسی ایجنٹ برائے انتظامات دہلی و مغلیہ سلطنت خدمات سر انجام دیتا رہا۔ ولیم فریزر نےمغل شہنشاہ اکبر شاہ ثانی کے عہد حکومت میں بطور سیاسی ایجنٹ ایسٹ انڈیا کمپنی فرائض سر انجام دیے۔ 1835ء میں ولیم فریزر قتل کر دیا گیا۔

سوانح[ترمیم]

مرقع دہلی میں ولیم فریزر کے قتل کی بابت مکمل تفصیل - 1843ء

ولیم فریزر 1784ء میں پیدا ہوا تھا۔ وہ دہلی میں کشمیری دروازہ کے قریب ایک کم بلند گنبد والی کوٹھی میں مقیم رہا۔ ولیم فریزر تین بار دہلی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا سیاسی ریزیڈینٹ اور بطور سیاسی ایجنٹ کے طور پر تعینات رہا۔ 1823ء میں پہلی بار نگران سیاسی ایجنٹ تعینات ہوا۔ 1828ء سے 1829ء تک دوسری بار بطور سیاسی ایجنٹ بحیثیت نگران کام کیا۔ 1832ء میں وہ مستقل طور پر سیاسی ایجنٹ ایسٹ انڈیا کمپنی دہلی میں تعینات ہوا اور 22 مارچ 1835ء تک اِس عہدے پر فائز رہا۔

ولیم فریزر کی قبر کا کتبہ، بمقام سینٹ جیمز گرجا گھر، دہلی

قتل[ترمیم]

22 مارچ 1835ء کو نواب شمس الدین احمد خان، والی فیروزپور جھرکہ و لوہارو کی ایماء پر کریم خان نے گولی مار کر قتل کر دیا۔[3] قاتل کو گرفتار کر لیا گیا اور اکتوبر 1835ء میں ولیم فریزر کے قتل میں کریم خان اور نواب شمس الدین احمد خان کو پھانسی دے دی گئی۔ نواب شمس الدین احمد خان کا ایک فرزند داغ دہلوی تھا جو بعد ازاں اردو کے مشہور شاعر کی حیثیت سے مقبول عام ہوئے۔ ولیم فریزر کے قتل کا واقعہ مرقع دہلی میں مفصل ملتا ہے جو تھامس مٹکاف نے 1844ء میں مرتب کروایا تھا۔ ولیم فریزر کو اولاً ایک باغ میں دفن کیا گیا لیکن بعد ازاں 1836ء میں جب سینٹ جیمز گرجا گھر، دہلی تعمیر ہوا تو کرنل جیمز اسسکنر نے ولیم فریزر کی باقیات کو سینٹ جیمز گرجا گھر، دہلی منتقل کروا دیا۔[4]

مرقع فریزر[ترمیم]

ولیم فریزر اردو کے مشہور شاعر مرزا غالب کا قدردان اور دوست تھا۔ مرقع فریزر ولیم فریزر کی ہندوستان سے دلچسپی کے تحت مرتب ہوا۔ اِس مرقع میں دہلی کی عوامی اور سماجی بودوباش سے متعلق تصاویر موجود ہیں اور علاوہ ازیں خاندان مغلیہ سلطنت کے متعلق تصاویر کثرت سے موجود ہیں۔ بہادر شاہ ظفر کے شاہی ہاتھی مولا بخش کی پہلی تصویر مرقع فریزر میں ہی ملتی ہے جو اکبر شاہ ثانی کے عہد حکومت میں شاہی ہاتھیوں میں مغل شہنشاہ کے لیے مختص تھا۔ یہ مرقع 1815ء سے 1819ء کی وسطی مدت میں مرتب ہوا تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/121960900 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب پ جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/121960900 — مصنف: ہنری مورس اسٹیفن — شائع شدہ از: ڈکشنری آف نیشنل بائیو گرافی نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "9d69228357b318e1ec5c6035070d72bff87d8a7e" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  3. Assasination of William Fraser, Agent to the Governor-General of India
  4. Patrick Horton (2002)۔ Delhi۔ Lonely Planet. pp. 91