ولی دکنی کی شاعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ولی دکنی (اردو شاعری کا باوا آدم )(جمال دوست شاعر

آبرو شعر ہے ترا اعجاز
پر ولی کا سخن کرامت ہے

تجھ مثل اے سراج بعد ولی
کوئی صاحب سخن نہیں دیکھا

اردو شاعری کا باوا آدم[ترمیم]

ایک طویل عرصہ تک ولی دکنی کو اردو کا پہلا غزل گو تسلیم کیا جاتا رہا لیکن بعد میں تحقیق سے یہ بات ثبوت کو پہنچ گئی کہ اردو غزل کا آغاز ولی سے پہلے امیر خسرو سے ہی ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر وحید قریشی اس بارے میں لکھتے ہیں،
”ولی سے پہلے کم از کم غزل کے دوادوار گز ر چکے تھے ان ادوار کے شعراءکے کچھ نمونے بھی ملتے ہیں پہلا دور حضرت امیر خسرو سے شروع ہوتا ہے۔ جس میں دس شعراءہیں دوسرا قلی قطب شاہ سے شروع ہو کر میراں ہاشمی تک چودہ شاعروں پر مشتمل ہے اس کے بعد ولی کے معاصرین کا زمانہ ہے۔“

گویا یہ بات طے ہو گئی کہ اردو غزل کی خشت اوّ ل ولی کے ہاتھوں نہیں رکھی گئی بلکہ ولی سے صدیوں قبل غزل اپنی ابتداءکر چکی تھی تو پھر کس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اردو غزل گو کی اولیت کا تاج ولی کے سر پر رکھا جائے۔

اس سلسلے میں ہمیں ”آب حیات “ میں مولانا آزاد کی ایک رائے پر غور کرنا ہوگا۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں
”یہ نظم اردو کی نسل کا آدم جب ملک عدم سے چلا تو اس کے سر پر اولیت کا تاج رکھا گیا جس میں وقت کے محاورے نے اپنے جواہرات خرچ کیے اور مضامین کے رائج الوقت دستکاری سے میناکاری کی۔۔۔۔۔“
ولی کے بارے میں آزاد کے یہ تاثراتی اور ذاتی الفاظ اس بحث کا باعث بنے کہ ولی کو باواآدم قرار دیا جائے یا نہیں اگر اسے باوا آدم مان لیا جائے تو ان سے پہلے غزل گو شاعر کس کھاتے میں جائیں اگر ان کو باوا آدم تسلیم نہ کریں تو ان کی شا ن میں کیا کمی آجائے گی وغیر ہ وغیرہ۔

اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ذہن میں آتی ہے کہ شائد آزاد کے زمانے تک ولی سے پہلے غزل گو شاعروں کے بارے میں تحقیق نہ ہو سکی تھیاورآزاد کو یہ بات قطعی معلوم نہ ہو سکی کہ ولی سے قبل ہی غزل گو بلکہ بعض اچھے شعراءموجود ہیں اگر تو آزاد کا اس جملے سے یہی مطلب تھا تو یہ بات جدید تحقیقات کی روشنی میں بالکل غلط ثابت ہو چکی ہے۔ ہاں اگر آزاد کے ہاں جملے سے یہ تصور ہو کہ ولی سے قبل اردو شاعری کی روایت موجود تھی مگر اتنی پختہ نہ تھی اور ولی نے اسے ایک خاص شکل عطا کرکے ہمارے سامنے رکھا تو یہ بات ولی کو اردو شاعری کا باواآدم ضرور ثابت کرتی ہے۔

ولی کو اس اعتبار سے یقینا ہم باوا آدم کہہ کر اولیت کا تاج ان کے سر پر رکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے اردو شاعری کی روایات ترتیب دیں نہ صرف زبان بلکہ مضامین کی جدت اُن کا کارنامہ ہے۔ ولی کے روپ میں اردو غزل کو پہلی مرتبہ ایسا شاعر ملا جس نے زبان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارا اور نہ صرف اپنے دور کے تمام ادبی و فکری روایات کو شاعری کا حصہ بنایا بلکہ اظہار کی لذت اور زبان کی تعمیر کا اعجاز بھی دکھایا۔ اُردو غزل کے اظہار کے موضوعات کا تعین کیا۔ جو صدیوں تک غزل کا لازمہ سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اردو غزل کے اظہار کے سانچے مرتب کیے اور زبان کے مختلف تجربات کے ذریعے ایسا شعری سرمایہ دیا کہ جو غزل کی ترقی میں مددگار ثابت ہوا۔ اور اس طرح ولی کے ہاتھوں غزل کی جاندار روایات کا قیام عمل میں آیا۔ ولی محمد صادق اس بارے میں لکھتے ہیں،

” ولی کی شاعری کے چار نہایت اہم پہلو ہے ں، تاریخی، لسانی، فنی اور جمالیاتی، تاریخی لحاظ سے وہ اس وجہ سے اہم ہے کہ اس کے زیر اثر شمالی ہند میں جدید شاعری کا آغاز ہوا۔ اور رفتہ رفتہ یہ اسلوب تمام ملک پر چھا گیا۔ اس لیے اگر آزاد کے الفاظ میں اسے اردوشاعری کا باوا آدم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

ولی کی غزل گوئی[ترمیم]

ولی کو اردو کا سب سے پہلا باقاعدہ غزل گو تسلیم کیا جاتا ہے ابتداً ولی نے قدیم رنگ میں شاعر ی کا آغاز کیا تھا مگر اپنے سفردہلی کے دوران شاہ سعد اللہ گلشن کے مشورے پر ریختہ گوئی کی ابتداءکی اور اُسی میں عظمت اور انفرادیت کا ثبوت دیا۔ یہیں سے ان کی شاعری میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کی غزل گوئی کے جائزے کے بعد ان کی شاعری کی درج ذیل نمایاں خصوصیات کا تعین کیا جاسکتا ہے۔

ولی جمال دوست شاعر:۔[ترمیم]

ولی کی شاعری میں حسن و جمال کا موضوع بڑا اہم ہے۔ ولی سے پہلے کسی شاعر، حسن و جمال کابھرپور اور کامیاب تصور نہیں دیا۔ اسی لیے ڈاکٹر سے د عبد اللہ نے ولی کو جمال دوست شاعر کا لقب دیا ہے ان کی حسن پر ستی میں سرمستی وارفتگی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں ان کی حسن پرستی میں سرمستی اور سر خوشی کا رنگ نمایاں محسوس ہوتا ہے۔ وہ حسن کے ایک تجربے کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ جس سے اُن کی روح اور جسم میں سرمستی کی لہریں پیداہوتی ہیں۔ خود کو اس تجربے کے محسوسات میں گم کر دے نا چاہتے ہیں ان کی حسن پرستی صحت مندانہ انداز کی ہے۔ وہ حسن کو کسی ایسے تجربے کی بنیاد نہیں بناتے جو جنسی ہو اور جس سے صرف نفسانی خواہشات کا تعلق ہو یہی وجہ ہے کہ ولی کے ہاں جنسیت و احساساتِ حسن آفاقی تصورات کا حامل محسوس ہوتے ہیں وہ حسن کے احساس سے روح کی بالیدگی اور من کا سرور حاصل کرتے ہیں۔

نکل اے دِ لربا گھر سوں کہ وقت بے حجابی ہے
چمن میں چل بہار نسترن ہے ماہتابی کا

آج گل گشت چمن کا وقت ہے اے نو بہار
بادہ گل رنگ سوں ہر بام گل لبریز ہے

زندگی اور کائنات کا حسن:۔[ترمیم]

ولی حسن و جمال کے شعری تجربات بیان کرتے ہوئے کسی غم یا دکھ کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ وہ جمال دوست ہیں اس لیے کائنات کی ہر شے میں جمال دیکھتے ہیں ان کی نظر زندگی اور کائنات کے تاریک پہلوئو ں کو نہیں دیکھتی وہ صرف روشن پہلوئوں کا نظارہ کرتی ہے جہاں خوشی، امید اور مسرت کی سدا بہارچھائوں ہے وہ حسن سے مایوس ہو کر آہیں بھی نہیں بھرتے اس لیے کہ وہ با مراد عاشق ہیں اورمحبوب کے حسن کا دیدار انہیں حاصل ہے ان کی شاعری میں زندگی اور کائنات کا حسن بھینظر آتا ہے۔ ولی حسن کے حوالے سے ایسی فضاءقائم کرتے ہیں جہاں ہر طرف پھول ہی پھول اور وسیع سبزہ زار ہیں۔ شفاف اور ٹھنڈا پانی ہے پرندے چہچہا رہے ہیں چاندنی کھلی ہوئی ہے دور تک میدان اور راہ چاندنی میں نہائی ہوئی ہیں پوری کائنات مسکراتی معلوم ہوتی ہے جیسے فطرت کا تما م تر حسن ولی کے بیان میں سمٹ آیا ہے۔ ان اشعار کو دیکھیے جن میں ولی زندگی کے خوبصورت مظاہر کا ذکر کرتے ہیں۔

صنم تجھ دیدہ و دل میں گزر کر
ہوا ہے باغ ہے آبِ رواں ہے

نہ جائوں صحن گلشن میں کہ خوش آتا نہیں مجھ کو
بغیر از ماہ رو ہر گز تماشا ماہتابی کا

عارف ظہیر صدیقی یوسفی میں اس سلسلے میں یہ عرض کرنا چاھتا ھوں کہ امیر خسرو غزل میں تو اولیت رکھتے ہیں لیکن ہمیں سب سے پہلے یہ طے کرنا ھو گا کہ اردو زبان کا آغاذ کب ھوا۔ جہاں تک میری ناقص معلومات ہے اس کی رو سے میں یہ کہنا چاھتا ھوں کہ چونکہ اردو کا باضاطہ آغاز امیر خسرو کے زمانے میں نہیں ھو لہذا ہم جناب محترم امیر خسرو کو اردو کا پہلا شاعر نہیں کہہ سکتے،

احساسات حسن کی شاعری:۔[ترمیم]

ڈاکٹر سید عبد اللہ کے خیال میں ولی کی شاعری عراقی طرز کے زیادہ قریب ہے اس ”عراقی“ طرز سے ان کی مراد یہ ہے کہ ولی کے ہاں معاملات عشق کے بیان کی بجائے احساسات حسن کا بیان زیادہ ہے وہ معاملات عشق جن سے گفتگو محبوب سے ملاقات اور مکالمے کاپہلو نکلتا ہے وہ سب ولی کی شاعری کا حصہ ہے۔

مسند گل منزل ِ شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدہ بیدار کا

ڈاکٹر سید عبد اللہ ولی کے اس رجحان پر بحث کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں،
”ولی نے فکر کی گتھیاں نہیں سلجھائیں، انہوں نے چاند کی چاندنی اور آفتاب کی حسرت انگیز دھوپ، سپر نیلگوں کی دلکش وسعت اور صبح و شام کے دلاآویز حسن کا تماشائی بننا اور ان سے حواس ظاہر و باطن کو مسرور بنانا سیکھا اور سکھایا ہے۔ ولی فلسفہ زندگی کے ترجمان شارح نہ تھے۔ جمال زندگی کے وصاف اور قصیدہ خواں تھے۔“

تیرالب دیکھ حیواں یاد آوے
ترا مکھ دیکھ کنعاں یاد آوے

ترے دو نین دیکھوں جب نظر بھر
مجھے تب نرگستاں یاد آوے

ترے مکھ کی چمن کو دیکھنے سوں
مجھے فردوس ِ رضواں یاد آوے

سراپا نگاری[ترمیم]

ولی کی شاعری مے ں سراپا نگاری بدرجہ اتم موجود ہے۔ ولی نے اپنی شاعری میں جس محبوب کی تخلیق کی ہے وہ ان سے پہلے اورشائد بعد میں بھی اردو شاعری میں نہیں ملتا۔ انھوں نے واقعیت اور تخیل کی مدد سے اپنے محبوب کے حسن کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کی ہے ان کے اشعار سے محبوب کی خوبصورت تصویریں بنتی ہیں۔ اسی لیے ولی کو اردو ادب کا سب سے بڑا سراپا نگار شاعر مانا جاتا ہے۔ ان کے لیے محبوب کے مکھ میں سب سے زیادہ دلکشی ہے یہ مکھ حسن کا دریا ہے۔ اس کی جھلک سے آفتاب شرمندہ و بے تاب ہے۔ اس کا مکھ صفحہ رخسار صفحہ قرآں ہے اس کے بعد درجہ بدرجہ آنکھ اور اب، خال اور قد غرض سراپائے جسم کی تعریف و توصیف بہت عمدہ پیرائے میں بیان کی ہے۔ مندرجہ زیل اشعار دیکھیں کہ محبوب کے مختلف اعضائے جسمانی کا کتنی خوبصورتی کے ساتھ مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔

وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا
خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا

اے ولی دل کو آب کرتی ہے
نگہ چشم سرمگیں کی ادا

موج دریا کوں دیکھنے مت جا
دیکھ توزلف عنبریں کی ادا

ولی کا تصور محبوب:۔[ترمیم]

ولی کی شاعری پڑھتے ہوئے اس کے ایک محبوب کا تصور بھی ہمارے سامنے آتا ہے اس کا کوئی بھی نام نہیں۔ ولی اسے مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ کبھی”ساجن“ کہتا ہے اور کبھی ”پیتم“ کبھی ”لالن“ کہا ہے۔ تو کبھی ”من موہن“ کبھی محشر ناز وادا کا خطاب دیتاہے۔ تو کبھی ”فتنہ رنگیں ادا“ کا ان تمام ناموں سے اُس کی والہانہ محبت اور وارفتگی عشق کا پتہ ملتا ہے۔ اس کی صداقت محبت میں تو کچھ کچھ کلام ہی نہیں، بلکہ عقل کہتی ہے کہ اس مبالغہ حسن میں بھی کچھ نہ کچھ اصلیت ضرور ہے۔ ولی کا ساجن اردو شاعری کا روایتی محبوب نہیں ولی کا محبوب ”من موہن“ ،”شریف“ ،”خودار“ پاک نفس اور با حیا ہے۔

گرنہ نکلے سیر کو وہ نو بہار
ظلم ہے فریاد ہے افسوس ہے

عجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل رخ سوں
خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ

خوبصورت تشبیہات و استعارات:۔[ترمیم]

تشبیہ حسن کلام کا زیور اور شاعری کی جان خیال کی جاتی ہے ولی کو تشبیہات کے استعمال کے معاملے میں اجتہاد کا درجہ حاصل ہے ان کی شاعری کا نمایاں وصف ان کی خوبصورت تشبیہیں ہیں جو اپنے صحیح مواد پر انگوٹھی میں نگینے کی مانند خوبصورتی کے ساتھ جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

مسندِ گل منزل شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدہ بیدار کا

تیری یہ زلف ہے شام غریباں
جبیں تری مجھے صبح وطن ہے

دو آتش کیا ہے سرمہ چشم
داغ دل دیدہ سمندر ہے

ان تشبیہات میں جو کیف، حسن ندرت، جدت، دل کشی اور دل آویزی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ پھول کی کھلی ہوئی پنکھڑی کو ”دیدہ بیدار“ کہا با حیا محبوب کے سینے میں راز کی مانند ولی کے گھر آنا، ”زلف کا “ ”شام غریباں“ اور جبیں کا صبح وطن ہونا اور دل کے داغ کا بمنزلہ ”دیدہ سمندر“ ہونا ولی کی بے مثال فن کاری ہے اور چابک دستی کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ صرف چند مثالیں ہیں ولی کا پورا دیوان اسی قسم کی نادر تشبیہات سے سجا سنوارا پڑا ہے۔

سوز وگداز:۔[ترمیم]

غزل چونکہ معاملات مہر و محبت اور واردات عشق و عاشقی کی داستا ن ہے اس راہ کے مسافر کو قدم قدم پر ہجر و فراق کی تلخیاں سہنا پڑتی ہیں۔ کتنی رکاوٹیں عبور کرنا پڑتی ہیں جی جی کر مرنا اور مرمر کر جینا پڑتا ہے۔ اس لیے ان واردات و تجربات کے بیان میں سوز و گداز کا عنصر لازمی طور پر شامل ہوتا ہے ولی کی غزلوں میں سوز و گداز یقینا موجود ہے مگر اس کی کیفیت میر کے سوز و گداز سے مختلف ہے۔ اسی لیے میر کے ہاں سوز و گداز کی شدت ہے جبکہ ولی کے ہاں اس کے برعکس سوز و گداز میں بھی اُ ن کا احساس جمال کار فرما محسوس ہوتا ہے۔

اک گھڑی تجھ ہجر میں اے دلرباءتنہا نہیں
مونس و دمساز مری آہ ہے فریاد ہے

نہ ہوئے اُسے جگ میں ہر گز قرار
جسے عشق کی بے قراری لگے

زبان شگفتگی اور آہنگ:۔[ترمیم]

ولی ایک ذہین شاعر تھے۔ جنہوں نے مروجہ اظہار کے سانچوں کے جائزے کے بعد اپنی شعری بصیرت کی مدد سے اس بات کو محسوس کر لیا تھاکہ اُس وقت مروجہ زبان، اعلی شاعرانہ خیالات کے اظہار کے قابل نہیں چنانچہ انہوں نے خود زبان کے سانچوں کو مرتب کیا۔ ولی کی زبان ان سے پہلے غزل گو شاعروں سے قطعی طور مختلف محسوس ہوتی ہے۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے اس تبدیلی کا نمایاں احساس ہوتا ہے۔ یہ زبان مقامی ہندی اور فارسی الفاظ کا ایک خوبصورت آمیزہ ہے اس طرح ان کی زبان میں سلاست و شگفتگی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔

مت غصے کے شعلے سوں جلتے کو جلاتی جا
ٹک مہر کے پانی سوں یہ آ گ بجھاتی جا

تجھ گھر کی طرف سندر آتا ہے ولی دائم
مشتاق درس کا ہے ٹک درس دکھاتی جا

چھوٹی اور لمبی بحروں کا استعمال:۔[ترمیم]

شاعری کے بہائو کو تیز کرنے اور ترنم کی لہروں کو بلند کرنے کے لیے ولی چھوٹی اورلمبی بحروں کو استعمال کرتے ہیں۔ او ر غنائیت و موسیقی کا وہ جادو جگاتے ہیں کہ اُن کی فن کاری پر ایمان لانا پڑتا ہے۔

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مطلع انوا رکا

یاد کرنا ہر گھڑی اُس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا

شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا

عجب کچھ لطف رکھتا ہے شبِ خلوت میں گل رخ سوں
خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ

خارجیّت کا تصور:۔[ترمیم]

چونکہ ولی جمال دوست شاعر ہیں اس لیے وہ داخلیت کے اندھیرے کنویں میں بند نہیں رہ سکتے بلکہ اُن کے ہاں خارجیت کا بھی بھرپور نظارہ ہے وہ باہر کی دنیاکی رنگینیوں سے لطف اندوز اور محظوظ ہوتے تھے۔ وہ صرف اپنی ذات کے اندر آنکھیں بند کرکے گم نہیں ہو گئے تھے۔ ان کی آنکھیں زندگی اور کائنات کے حسن و جمال کا مسلسل مشاہدہ کرتی رہتی ہیں اور جہاں جہاں ان کے دیدہ بینا کے لیے سامان ِ نظارہ ملتا ہے وہ لطف و سرور حاصل کرتے ہیں۔ ان کی خارجیت بڑی نکھری ہوئی اور جاندار ہے اس میں صرف خارج کے کوائف کا احوال ہی قلمبند نہیں کیا گیا ولی کا ذاتی نقطہ نظر ہر موقع پر موجود رہتا ہے۔ وہ کائنات کا مطالعہ اس کے تحت کرتے ہیں خارجیت کا بیان کرتے ہوئے حسن و جمال کے تصورات کو پیش پیش رکھتے ہیں۔

مجموعی جائزہ:۔[ترمیم]

بقول رام بابو سکسینہ،
” جب ولی کا نیر اقبال چمکا تو چھوٹے چھوٹے تارے جو اُفق شاعری پر اُس وقت ضیاءفگن تھے سب ماند پڑ گئے ولی کو ریختہ کا موجد، گویا اردو کا چاسر خیال کرنا چاہیے اس زمانے میں اردو شاعری کا سنگ بنیاد باقاعدہ طور پر رکھا گیا۔ بقول حامد افسر ،
”یوں تو ولی دکنی اردو شاعر کہلاتے ہیں لیکن اُن کے کلام کا بہت سا حصہ اس زبان میں ہے جو فصیح مانی جاتی ہے اور ہمارے روزمرہ کی زبان داخل ہے۔ گویا ولی نے اپنے زمانے سے ڈھائی سوبرس بعد کی زبان کاصحیح اندازہ کر لیا۔ ولی حقیقی شاعر تھے انہوں نے غزل گوئی کا حق اد کر دیا۔“ بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ،
” حق یہ ہے کہ معاملات اور حکیمانہ گہرائی اور درد مندی اور سوز و گداز کی کمی کے باوجود ولی کا کلام بڑاخوش رنگ اور خوشگوار ہے۔ بہار آفریں الفاظ، خوش صورت تراکیب، گل و گلگشت کی تکرار، حسن کے ترانے اور نغمے، مناسب بحروں کا انتخاب اور اسالیب فارسی سے گہری واقفیت اور ان سے استفادہ ان سب باتوں نے ولی کو ایک بڑا رنگین شاعر بنا دیا ہے۔“


خوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا
میر تقی میر

ڈاکٹر مشاہدرضوی