ولی رحمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا
سید محمد ولی رحمانی
جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،سرپرست جامعہ رحمانی و سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیربہار
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1943  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خانقاہ رحمانی مونگیربہار
وفات 3 اپریل 2021 (77–78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پٹنہ بہار
رہائش خانقاہ رحمانی مونگیربہار،العزیز اپارٹ منٹ پٹنہ
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب مفکر اسلام، امیر شریعت، ممتاز ماہر قانون،ممتاز ماہر تعلیم سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر، سرپرست جامعہ رحمانی مونگیر
نسل شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی
والد سید شاہ منت اللہ رحمانی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ دعوت دین ، اصلاح و تربیت،قومی و بین الاقوامی مسلم نمائندگی،ملکی سیاسی و قانونی رہبری،تاریخ ہند و تاریخ عالم وغیرہ
تحریک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،مدارس اسلامیہ کنونشن،اصلاح معاشرہ،دینی و عصری اداروں کا قیام،تحفظ اردو،عصری اداروں میں دین کی بنیادی تعلیم،قیام مکاتب،

سید محمد ولی رحمانی (1943ء - 2021ء) ایک مشہور عالم دین، ماہر قانون، سیاست کے امام، صوفی وقت، نثر نگار، رکن قانون ساز کونسل، جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، امیرِ شریعت امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ اور مجاہد آزادی مولانا سید منت اللہ رحمانی کے جانشین اور دینی و عصری تعلیمی انقلاب کے ماہرِ فن استاذ تھے۔

مولانا محمد ولی رحمانی نے 1974ء سے 1996ء تک مسلسل بہار قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیے۔ آپ اپنے والد ماجد حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1991 کے بعد سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے سابق سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سابق سرپرست رہے، آپ کے دادا مولانا محمد علی مونگیری ندوۃ العلماء کے محرک اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانی و ناظم اول تھے۔ اس خانقاہ کے روحانی سلسلہ میں شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی بہت ہی اہم کڑی ہیں۔ وہ اپنی وفات تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ رحمانی 30 کے بانی بھی ہیں، جو ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔ [1] اس ادارہ سے ہر سال NEET اور JEE میں 100 سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا سید ولی رحمانی عوامی تقریر، اپنی شخصیت و ملی مسائل میں جرأت ، صاف گوئی و بے باکی اور دونوں ہی شعبوں میں تعلیم کے لیے مشہور تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر کسی کو ایک وقت میں دونوں طرح کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور کسی بھی چیز سے پہلے انسان کو انسان ہی ہونا چاہیے۔

امیرِ شریعت سابع کی حیات و خدمات پر مشتمل گراں قدر مقالات کا مجموعہ ہفت روزہ نقیب کا خصوصی شمارہ امیر شریعت سابع نمبر نائب امیر شریعتِ مولانا محمد شمشاد رحمانی کی نگرانی میں تیار ہوکر منظر عام پر آگیا ہے۔ یہ گراں قدر مجموعہ علمی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

شاہ عمران حسن نے مولانا ولی رحمانی کی سوانح عمری حیات ولی لکھی ہے جس میں تحقیقی شواہد اور تصویری جھلک کے ساتھ مولانا محمد ولی رحمانی کی کی زندگی کے قیمتی اور باریک گوشوں کے ساتھ ساتھ علمی،صحافتی، دینی،ملی،قومی اور ملکی خدمات کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔[2][3]

مولانا محمد ولی رحمانی کی حیات کی مختصر جھلک مولانا محمد رضاء الرحمن رحمانی استاذ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیربہار نے بھی اردو زبان میں مفکر اسلام زندگی کے سنگ میل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔[4]

انگریزی زبان میں مونگیر شہر کے ایک صحافی جناب فضل رحماں رحمانی نے the shining face of Muslim Ummah میں مولانا محمد ولی رحمانی کی حیات و خدمات اور کارناموں کو پیش کیا ہے[5]

تصنیفات و تالیفات[ترمیم]

مولانا سید محمد ولی رحمانی کی تصنیفات وتالیفات کی تعداد تقریباًبائیس ہے جو ادبی،قانونی،اصلاحی،سیاسی،سماجی،تاریخی،سوانحی،تنقیدی،تحقیقی اور فقہی نوعیت کی الگ الگ موضوعات پر لکھی گئی ہیں ۔کچھ کتابیں طبع ہوگئی ہیں اور کچھ زیر طبع ہیں۔مولانا رحمانی کی تصنیفات وتالیفات کی فہرست درج ذیل ہے :

  1. بیعت عہد نبوی میں
  2. آپ کی منزل یہ ہے
  3. شہنشاہ کونین کے دربار میں
  4. کیا 1857 پہلی جنگ آزادی تھی
  5. دینی مدارس میں صنعت و حرفت کی تعلیم
  6. تصوف اور حضرت شاہ ولی اللہ
  7. ممبئی ہائی کورٹ کا تازہ فیصلہ عدالتی روایات کے پس منظر میں
  8. حضرت سجاد مفکر اسلام
  9. مفت اور لازمی حصول تعلیم بچوں کا قانونی حق
  10. مسلم پرسنل لاء بورڈ اور ہندوستانی قانون
  11. یادوں کا کارواں
  12. اقلیتیوں کی تعلیم اور حکومت ہند کو چند قانونی اور عملی مشورے
  13. اقلیتی تعلیمی کمیشن ایکٹ مختصر جائزہ
  14. صبح ایک زندہ حقیقت ہے یقیناً ہوگی
  15. اپنے بچوں کی تعلیم کا عمدہ انتظام کیجیے
  16. تاباں درخشاں جاوداں (زیر طبع)
  17. مکاتیب ولی (زیر طبع)
  18. لڑکیوں کا قتل عام
  19. مجموعہ رسائل رحمانی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "BBC Report on Rahmani30" (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2020. 
  2. Media، The Milli Gazette, OPI, Pharos (4 اپریل 2016). "The Milli Gazette". milligazette.com. 
  3. http://www.milligazette.com/news/15250-life-and-work-of-maulana-mohammad-wali-rahmani
  4. مفکر اسلام زندگی کے سنگ میل مصنف مولانا محمد رضاء الرحمن رحمانی استاذ جامعہ رحمانی مونگیربہار. دارالاشاعت خانقاہ رحمانی مونگیربہار. 
  5. The shining face of Muslim Ummah. 

http://www.rahmanimission.info/president.html

بیرونی روابط[ترمیم]