وڈوو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وُڈوو ایک مذہب ہے جن کا مقصد لوگوں کی تکلیفیں دور کرنا اور انہیں بیماریوں سے نجات دلانا ہے۔ یہ دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ اس کی ابتدا افریقا سے ہوئی مؤرخین کے مطابق وُڈوو کی شروعات آج سے تقریباً چھ ہزار سال قبل پہلے کانگو کے علاقے میں ہوئی جب یہ مذہب صرف اور صرف افریقا میں پایا جاتا تھا۔ لیکن سترہویں صدی عیسوی کے دوران میں جب افریقا سے شمالی امریکا اور جنوبی امریکا غلاموں کی ترسیل شروع ہوئی تو غلاموں کے ساتھ ساتھ وُڈوو بھی ان ممالک میں چلا گیا۔ آج یہ مذہب افریقا کے علاوہ کیریبین جزائر، ہیٹی اور امریکی ریاست لوزیانا اور جارجیا میں پایا جاتا ہے۔ افریقا میں وڈوو کی خالص شکل پائی جاتی ہے جس پر بیرونی تہذیبوں کے اثرات کم سے کم پڑے ہیں۔

عقائد[ترمیم]

وڈوو ایک ایسا مذہب ہے جس میں روحوں کی پرستش کی جاتی ہے۔ وُڈسٹ (معتقد وُڈوو) کے مطابق یہ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہے ایک ظاہری دنیا جس میں ہم جی رہے ہیں اور ایک پوشیدہ دنیا جس میں موت کے بعد انسانوں نے چلے جانا ہے اور وہی روحوں کا ٹھکانا بھی ہے۔ زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وُڈسٹ روحوں کا قابو کر کے انہیں اپنا تابع بنا لیتے ہیں اور ان سے جائز و ناجائز کام کرواتے ہیں جبکہ وُڈسٹوں کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وُڈسٹ خود کو ”روحوں کا غلام یا نوکر“ تصور کرتے ہیں وہ روحوں کو خوش کرنے کے لیے جانوروں کی قربانی دیتے ہیں، منتر پڑھتے ہیں اور موم بتیاں جلاتے ہیں۔ جب انہیں لگتا ہے کہ روحین ان سے خوش ہو گئی ہیں تو اپنے گزارش روحوں کے سامنے رکھتے ہیں جس پر عمل کرنا یا نہ کرنا روحوں کے اختیار میں ہوتا ہے۔ ویسے تو وُڈوو میں تمام روحیں مقدس ہوتی ہیں لیکن چند روحیں جنہیں ”لوا“ کہا جاتا ہے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہیں جن میں سب سے اہم لوا ”پاپا لیگبا“ بھی ہے۔ وُڈسٹوں کے مطابق پاپا لیگبا روحوں کی دنیا کے چوکیدار ہیں اور انہی کی مرضی سے کوئی روح اس دنیا سے دوسری دنیا میں جا پاتی ہے

رسومات[ترمیم]

وُڈسٹوں کے مطابق وُڈوو کو بیماریاں دور کرنے، پریشانیوں سے چھٹکارے اور دھن دولت کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک وُڈسٹ کو ایک گڑیا کی ضرورت ہوتی ہے اس گڑیا کو بنانے کے لیے ایک وُڈسٹ کو کھانے پینے سے گریز کرنا پڑتا ہے پھر آٹھویں دن نہا دھو کر تھوڑا سا خالص موم لیا جاتا ہے اور اپنے خون کے چند قطرے لے کر اس موم کو اُس میں گوندھا جاتا ہے پھر اس کی ایک گڑیا بنائی جاتی ہے جو اس وُڈسٹ کی طرح دکھنی چاہیے اب اس کے سینے، پیٹ اور سر پر خون لگایا جاتا ہے اب اس کے بعد اس وُڈسٹ کے بغیر دھلے کپڑوں سے اسے کپڑے پہنائے جاتے ہیں یہ سب کام کرتے وقت وہ وُڈسٹ ایک خاص قسم کا منتر پڑھ رہا ہوتا ہے۔ وُڈسٹ کے تھوڑے سے بال کاٹ کر اس گڑیا کے تھوڑے سے بال لگائے جاتے ہیں اور پھر اس گڑیا کا نام اس وُڈسٹ کے نام پر رکھا جاتا ہے۔ پھر وُڈسٹ اس گڑیا کو ایک باکس میں رکھ کر اسے کسی خفیہ جگہ چھپا دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ گڑیا کسی دشمن کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس وُڈسٹ کی زندگی کے تمام معاملات اپنے کنٹرول میں کر سکتا ہے ان کے مطابق اس گڑیا میں ان وُڈسٹوں کی روح سما جاتی ہے۔ اگر کسی وُڈسٹ کی صحت خراب ہو جائے تو وہ اس گڑیا کو موم بتیوں کے درمیان میں رکھ کر خاص قسم کا منتر پڑھتا ہے جس کے فوراً بعد وہ صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پریشانیوں کے حل، دھن دولت کا حصول اور تمام دنیاوی کام بھی وُڈسٹ اپنی گڑیا کے اسی عمل سے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی دشمن کو موت کے گھاٹ اتارنے یا اس کو تکلیف دینے کے لیے بھی اس کی گڑیا بنائی جاتی ہے۔ وُڈسٹوں کے مطابق ماہر وُڈسٹ اپنا جسم کسی دوسرے جسم سے بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی مردے کے جسم سے بھی کام لیے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص وُڈوو کے ذریعے روحوں کو بُلا کر کوئی غلط کام کرواتا ہے تو اسے ”لال جادو“ کا نام دیا جاتا ہے۔ وُڈسٹوں کے مطابق روحیں بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتیں وہ نیوٹرل ہوتی ہیں یہ روحیں بلانے والے پر انحصار کرتا ہے کہ وہ روحوں کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]