مندرجات کا رخ کریں

وڑائچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

وڑائچ (Waraich) پنجاب کے سب سے بڑے اور اہم جٹ قبائل میں سے ایک ہے، جو خاص طور پر گجرات اور گوجرانوالہ کے اضلاع میں کثیر تعداد میں آباد ہے [1])۔ تاریخی طور پر یہ قبیلہ اپنی زمینداری اور اثر و رسوخ کے لیے مشہور رہا ہے۔

تاریخی پس منظر اور اصلیت

[ترمیم]

وڑائچ قبیلے کے بارے میں درج ذیل تین مختلف روایات ملتی ہیں:

1. جٹ ماخذ کی روایت: وڑائچ خود کو ہمیشہ راجپوت ظاہر نہیں کرتے بلکہ ان کی ایک روایت کے مطابق ان کا جدِ امجد **'ڈھوڈھی'** (Dhudi) نامی ایک جٹ تھا جو سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ ہندوستان آیا اور گجرات میں آباد ہوا [2]۔ یہاں اس قبیلے نے قوت حاصل کی اور علاقے کے اصل گوجر حکمرانوں کو جزوی طور پر بے دخل کر کے زمینوں پر قبضہ کر لیا [3]۔ 2. سوریہ بنسی راجپوت ماخذ: ایک دوسری روایت کے مطابق ان کا مورثِ اعلیٰ ایک **سوریہ بنسی راجپوت** تھا جو غزنی سے ہجرت کر کے گجرات آیا تھا [4]۔ گوجرانوالہ کے وڑائچ بھی خود کو سوریہ بنسی راجپوت کہتے ہیں اور اپنے مورثِ اعلیٰ 'وڑائچ' کے والد کا نام **'متا'** (Mutta) بتاتے ہیں جو غزنی سے آکر گجرات میں بسا تھا۔ 3. راجا کرن کی نسل: ایک تیسری کہانی انھیں **راجا کرن** کی اولاد قرار دیتی ہے، جس کے مطابق ان کا مورث 'قصری' کے شہر سے دہلی گیا اور جلال الدین فیروز شاہ نے اسے حصار میں آباد کیا [5]۔ وہاں سے تقریباً پانچ سو سال قبل یہ قبیلہ گوجرانوالہ کی طرف منتقل ہوا۔

جغرافیائی پھیلاؤ اور سیاسی اہمیت

[ترمیم]

وڑائچ قبیلے کا پہلا مرکز ضلع گجرات تھا جہاں سے وہ مشرق کی جانب پھیلے [6]۔

  • گجرات: مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں یہ قبیلہ ضلع گجرات کے دو تہائی حصے پر قابض تھا اور آج بھی اس ضلع کے **170 دیہات** ان کی ملکیت ہیں [7]۔
  • گوجرانوالہ: انھوں نے دریائے چناب عبور کر کے گوجرانوالہ میں سکونت اختیار کی جہاں تحصیل گوجرانوالہ میں ان کے **41 دیہات** کا ایک جھرمٹ موجود ہے۔
  • دیگر علاقے: یہ قبیلہ پہاڑیوں کے دامن میں لدھیانہ اور مالیر کوٹلہ تک پھیلا ہوا ہے [8]۔ یہ منٹگمری (ساہیوال)، ملتان اور شاہ پور میں بھی بطور زراعت پیشہ جٹ قبیلہ آباد ہیں۔

سیاسی طور پر وڑائچ قبیلے کا **وزیر آباد** والا خاندان سکھوں کے عہدِ حکومت میں نہایت ممتاز اور صاحبِ اقتدار رہا ہے، جس کی تاریخ سر لیپل گریفن نے 'پنجاب چیفس' میں مفصل بیان کی ہے [9]۔

مذہب اور سماجی روایات

[ترمیم]

وڑائچ قبیلہ تقریباً مکمل طور پر مسلمان ہے، تاہم انھوں نے اپنی قدیم قبائلی اور بعض ہندو روایات کو برقرار رکھا ہے [10]۔

شادی کی منفرد روایات (سیالکوٹ)

[ترمیم]

سیالکوٹ کے وڑائچ جٹوں کی شادی کی رسومات دیگر جٹ قبائل سے تھوڑی مختلف ہیں:

  • شادی کے موقع پر **'بسیرا'** (میٹھا آٹا) اور **'مانڈا'** (روٹیاں) تیار کی جاتی ہیں۔
  • دلہا اپنے خاندان کی خواتین کے ہمراہ ایک **'جنڈ'** کے درخت کے پاس جاتا ہے۔ وہاں ایک میراثی دُنبے کا کان کاٹ کر اس کے خون سے تمام حاضرین کی پیشانی پر تلک لگاتا ہے۔
  • درخت کی شاخ پر سرخ اور پیلا دھاگہ (**مولی**) باندھا جاتا ہے اور دلہا اپنی تلوار سے اس کی ایک ڈالی کاٹتا ہے۔
  • سیرا اور مانڈا اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے کہ شادی شدہ مردوں کو تیرہ تیرہ ٹکڑے اور لڑکوں کو تین تین ٹکڑے ملتے ہیں۔
  • روحانی پیشوائی: گورداسپور میں اسلام قبول کرنے والے وڑائچ جٹ روحانی پیشواؤں کے طور پر مشہور ہیں اور ڈیرہ نانک سے چار میل دور واقع **جھنگی بخت شاہ جمال** کی زیارت گاہ کے متولی اسی قبیلے کے لوگ ہیں [11]۔

مختلف یا مخالف رائے

[ترمیم]
  • پٹھان ماخذ کا احتمال: وڑائچ نام کی صوتی مشابہت کی بنا پر یہ قیاس کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق پٹھانوں کے قبیلے **'بدیچ'** (Badech) سے ہو سکتا ہے، تاہم تاریخی شواہد انھیں جٹ یا راجپوت ہی قرار دیتے ہیں [12]۔
  • جرائم پیشہ گروہ: گورداسپور کی تحصیل شکر گڑھ میں وڑائچ نامی ایک گروہ کا ذکر ملتا ہے جو ماضی میں جرائم پیشہ سرگرمیوں کے لیے بدنام تھا؛ محققین کے مطابق یہ غالباً جموں کی پہاڑیوں کے 'بوڑوں' یا سیالکوٹ کے 'بھواروں' کے ہم نسل ہیں اور اصل وڑائچ جٹوں سے الگ شناخت رکھتے ہیں [13]۔
  • نام کی تبدیلی:** لاہور کے ضلع میں وڑائچ قبیلے کے لوگ اکثر **'چوہنگ'** (Chhang) کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں [14]۔

مستند مصادر سے اختلاف

[ترمیم]

اگرچہ وڑائچوں کی ایک بڑی تعداد خود کو راجپوت کہتی ہے، لیکن ڈیبٹسن اور میکلیگن جیسے محققین انھیں پنجاب کے "اصلی" جٹ قبائل میں شمار کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں کیونکہ وہ گرد و نواح کے دیگر جٹ قبائل میں آزادانہ شادیاں کرتے ہیں [15]۔ گوجرانوالہ میں وڑائچوں کے ہاں وراثت کی تقسیم **'پگ ونڈ'** کے اصول پر ہوتی ہے اور قبیلے کے اندر گود لینے کا رواج بھی عام ہے [16]۔

حوالہ جات

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Panjab Castes, Denzil Ibbetson, p. 115, Government Printing, Lahore, 1916
  2. Panjab Castes, p. 115
  3. ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ای ڈی میکلیگن، ایچ اے روز، ترجمہ: یاسر جواد، ص 448، بک ہوم، لاہور، 2014ء
  4. A glossary of the tribes and castes of the Punjab and North-West Frontier Province, H. A. Rose, Vol. 3, p. 487, Civil and Military Gazette Press, Lahore, 1914
  5. ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 449
  6. Panjab Castes, p. 115
  7. ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 448
  8. A glossary, Vol. 3, p. 487
  9. ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 449
  10. Panjab Castes, p. 115
  11. A glossary, Vol. 3, p. 487-488
  12. ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 449
  13. ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 449-450
  14. A glossary, Vol. 3, p. 487
  15. Panjab Castes, p. 115
  16. ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 448
 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔