وڑانگہ لونی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وڑانگہ لونی
وڑانگہ لونی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش November 5, 1984
قومیت پاکستان
بہن/بھائی
ارمان لونی  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انسانی حقوق کی کارکن، مصنفہ
پیشہ ورانہ زبان پشتو،  اردو،  انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں پشتون تحفظ تحریک کی رہنما اور رکن
تحریک تحریک تحفظ پشتون  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وڑانگہ لونی انسانی حقوق کارکن اور مصنفہ ہیں جو شمالی بلوچستان پاکستان میں سنجاوی شہر سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور وہ تحریک کی بانی رکن بھی ہیں، جس کا مقصد پشتون خواتین میں سیاسی شعور اجاگر کرنا ہے۔[1][2] وہ ابراہیم ارمان لونی کی بہن ہیں جنھیں حملے میں شہید کیا گیا۔[3][4][5][6][7][8]

سماجی سرگرمی[ترمیم]

وڑانگہ نے اپنے بڑے بھائی ارمان لونی کے ساتھ فروری 2018 میں پشتون تحفظ تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان دونوں نے پی ٹی ایم عوامی اجتماعات کے انعقاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، عام طور پر ایک ہفتہ قبل محفل کی جگہ کا سفر کرتے تھے تاکہ مقامی لوگوں میں آگاہی مہم چلائیں۔ وڑانگہ نے یاد دلایا: "ارمان نے کہا کہ امن اور انسانی وقار کے ساتھ ہمارے مستقبل کی بقا کے لئے خواتین کی آگاہی اہم ہے۔"[9]

اجتماعات میں ، وڑانگہ زیادہ تر اسٹیج سے تقریریں کرتیں تھیں لیکن ارمان عام طور پر پردے کے پیچھے رہنا پسند کرتے تھے۔ [10] ارمان اور وڑانگہ کی سرگرمیوں نے مقامی قبائلی سرداروں کو مشتعل کردیا، جس کی وجہ سے ارمان کا کنبہ اپنے آبائی سنجاوی سے پشتون قبائلی سردار نواب ایاز جوگزئی کے آبائی شہر قلعہ سیف اللہ منتقل ہو گیا، جہاں سےے انہیں پناہ کی پیش کش کی گئی۔ [11][12]

2 فروری 2019، وڑانگہ اور ارمان میں باہر لورالائی پریس کلب دھرنے میں ایک احتجاج میں شرکت کے بعد لورالائی، ان کے بھائی کو مبینہ طور پر پولیس کی طرف سے ایک کریک ڈاؤن کے دوران ہلاک کیا گیا تھا. تاہم پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا، جس پر پاکستان کے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے تنقید کی تھی۔[13][14] 9 فروری 2020 کو، پی ٹی ایم کے ارمان لونی کی پہلی برسی کے موقع پر لورالائی میں عوامی اجتماع سے قبل، سیکیورٹی فورسز نے وڑانگہ لونی، ارفع صدیق، ثنا اعجاز اور دیگر خواتین پی ٹی ایم کارکنوں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اجتماع کی جگہ پر جارہی تھیں۔ تاہم، جب سماجی کارکنان نے پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو کر ان کے خلاف احتجاج کیا تو انہیں رہا کردیا۔[15][16]

  1. "Why female Pashtun activists matter for PTM". Asia Times. 24 January 2019. اخذ شدہ بتاریخ 25 مارچ 2020. 
  2. "Pakhtun women pledge to struggle for their rights". Dawn. 1 January 2020. اخذ شدہ بتاریخ 25 مارچ 2020. 
  3. "ابراہیم ارمان لونی۔ پی ٹی ایم کا پہلا شہید". HumSub. February 6, 2019. اخذ شدہ بتاریخ March 25, 2020. 
  4. Anwar, Madeeha (February 7, 2019). "Alleged Killing by Police Angers Pashtuns in Pakistan". Voice of America. اخذ شدہ بتاریخ March 25, 2020. 
  5. "ارمان لونی کی ہلاکت پر کوئٹہ اور شمالی بلوچستان میں ہڑتال". BBC News اردو. 
  6. "بلوچستان میں احتجاج کے دوران جاں بحق ارمان لونی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی". Samaa TV. 
  7. "پوسٹ مارٹم میں ارمان لونی پر تشدد ظاہر نہیں ہوا؛ رپورٹ قبول نہیں: وڑانگہ". وی او اے. 
  8. اعجاز، ثنا (3 February 2020). "ارمان لونی کون تھے؟". نیا دور. 
  9. Jalalzai، Freshta (29 March 2019). "Female Activists Chart New Course In Pakistan's Conservative Pashtun Belt". Radio Free Europe/Radio Liberty. اخذ شدہ بتاریخ 25 مارچ 2020. 
  10. "The murder of Arman Loni". Daily Times. February 7, 2019. اخذ شدہ بتاریخ March 25, 2020. 
  11. "Wrunga Loni's Great Hope". Samaa TV. February 4, 2019. اخذ شدہ بتاریخ March 25, 2020. 
  12. "وڑانگہ لونی کا ارمان". Samaa TV. February 4, 2019. اخذ شدہ بتاریخ March 25, 2020. 
  13. "Panel discusses deaths of Ibrahim Loni, Babu Karim Jan". Business Recorder. March 6, 2019. اخذ شدہ بتاریخ March 25, 2020. 
  14. "سینیٹ کمیٹی کی ابراہیم ارمان لونی کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت". Express News. March 5, 2019. اخذ شدہ بتاریخ March 25, 2020. 
  15. "PTM Leaders Arrested In Loralai, Balochistan Ahead Of Public Meeting". Naya Daur. 2020-02-09. اخذ شدہ بتاریخ 25 مارچ 2020. 
  16. "پی ٹی ایم کے خواتین کارکنان زیرحراست رہنے کے بعد رہا". Daily Shahbaz. 2020-02-09. 06 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 مارچ 2020.