وکیل بازار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وکیل بازار
بازارِ وَکیل
Bazaar de Vakil, Shiraz, Irán, 2016-09-24, DD 48.jpg
عمومی معلومات
معماری طرز ایرانی
مقام شیراز، ایران
آغاز تعمیر وسط 1760
تکمیل اواخر 1760
تکنیکی تفصیلات
ساختی نظام بازار
(رفاہ عامہ)
سائز 3,000 m2 (قیاس)
ڈیزائن اور تعمیر
معمار کریم خان زند
انجینئر انجنئیروں کی ایک ٹیم جو سب خاندان زند سے تھے
وکیل بازار

وکیل بازار ، ایران کے شہر شیراز کا مشہور اور مرکزی بازا رہے ،جو دراصل مجموعہ بازاراں ہے۔ جو قاچاری اور افشاری دور کی درمیانی مدت عہد زَندیہ میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا نام خاندان زَندیہ کے بانی کریم خان زند ، جو خود کو وکیل رعایا کہتے تھے کی نسبت سے رکھا گیا تھا۔ وکیل بازار بلدیہ کے میدان سے آگے قلعہ کریم خان زند کے پہلو میں واقع ہے۔ اس بازار کو 8 جولائی 1972 عیسوی بمطابق 26 جمادی الاول 1392 ہجری بروز ہفتہ آثار قدیمہ ایران میں 924 نمبر کے تحت درج کیا گیا تھا۔

پس منظر[ترمیم]

وکیل بازار شیراز شہر میں ایران کے مشہور ترین روایتی اور تاریخی بازاروں میں سے ایک ہے۔ وکیل بازار کریم خان زند (1172–1193 ھ۔) کے حکم پر قائم کیا گیا تھا۔اس وقت یہ شیراز شہر کے مرکز میں ( میدان شہداء کے مشرق میں ) واقع ہے۔اس بازار کے اطراف میں دیگر تاریخی عمارات مثلاً مسجد وکیل اور حمام وکیل (شیراز) بھی موجود ہیں۔یہ بازار کریم خان زند کی چھوڑی ہوئی بہترین تعمیرات میں سے ایک ہے جو اب بھی زیر استعمال ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شاہ زند نے شیراز میں شاہ عباس اعظم کے دور کے قدیم بازار لار کو دیکھنے کے بعد وکیل بازار کی بنیاد رکھی ہوگی۔یہ بازار دور قدیم میں بھی تمام تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، یہاں مقامی و غیر ملکی اشیاء کی خرید و فروخت ، کرنسی کی تبدیلی ، اشیاء کے تبادلے ، رقم کی ترسیلی اور وصولی وغیرہ جیسے تمام امور اسی بازار کی دکانوں میں سر انجام پاتے تھے۔ بازار وکیل میں ایسا معقول بنکاری نما انتظام موجود تھا کہ خریدار اور تاجر اپنا مال بطور امانت رکھوا دیتے تھے اور پھر اپنی سہولت کے مطابق وصول کر لیا کرتے تھے۔

فرصت الدولہ شیرازی اپنی کتاب آثار عجم میں اس کے محل وقوع اور ہیئت کے بارے اس طرح لکھتے ہیں؛

یہ بازار دروازہ اصفہان سے لیکر قدیم بازار کے آغاز تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے دونوں طرف بہترین حجرے اور اور 74 بلند و بالا داخلی و خارجی دروازے ہیں۔ اور اس میں چار ذیلی بازار ہیں جو شرقا غربا باہم متصل و قطع ہوتے ہیں۔

بازار کی عمارتیں پختہ اینٹوں سے چونے اور گرائیوٹ کے مسالے سے تعمیر کی گئی ہیں جن کی بنیادوں میں تراشیدہ پتھر کی سلیں نصب ہیں۔ چاروں بازاروں کی چھت جو چار طرفی ہے انتہائی بلند اور دیدہ زیب بنائی گئی ہے۔ اس بازار کے مختلف حصے اور شعبے اپنے متعلقہ کاروبار یا صنعت کے نام سے جانے جاتے تھے جیسے ؛ بڑا بازار ( سپر مارکیٹ ) جہاں انواع و اقسام کی اشیاء دستیاب تھیں، کپڑے کا بازار، درزیوں کا بازار، بلور فروشوں کا بازار، شمشیر گروں کا بازار، کلاہ دوزوں کا بازار، زین سازوں کا بازار اور قندیل فروشوں کا بازار وغیرہ اس کے اہم اور بڑے شعبے تھے۔

فرصت الدولہ مزید لکھتے ہیں ؛

وکیل بازار مرحوم کریم خان وکیل کے بازاروں میں سے ایک ہے۔ جو مسجد وکیل کے جوار میں ہے۔ یہ بازار اینٹوں اور چونے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اور اس کی بنیادیں بڑے پتھروں کی ہیں اور اس کا مرکز چورستہ ہے اور چھتیں اس کی نہایت بلند اور دیدہ زیب ہیں۔ ایران میں اس طرز اور اسلوب کے بازار کم ہی دیکھے ہیں۔ اکتالیس محرابی چھتوں والا ایک بڑا بازار جو کپڑا فروشوں کا بازار کہلاتا ہےجس میں ہر قسم کا کپڑا دستیاب ہے۔ اور وہاں بلور فروش اور درزی اور خواتین درزی اور قصہ گو بھی ہیں۔ اور ایک بازار جس کی چھیالیس محرابی چھتیں ہیں وہاں کلاہ دوز ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح کرنسی تبدیل کرنے والے اور بہت سے شعبے ہیں۔ اور ایک بازار دس محرابی جہاں زرعی آلات اور ترکش ساز وغیرہ ہیں اور گیارہ محرابی بازار میں تلوار گر و ہم پیشہ وغیرہ اور یوں یہ بازار مسجد وکیل تک چلا جاتا ہے  . . ..

خیابان زَند میں بلدیاتی توسیع کے وقت وکیل بازار میں کچھ تبدیلی عمل میں آئی اور اس وقت خیابان زَند بہ شکل مستطیل اس کے چورستے کے قریب واقع ہے۔

تعمیر[ترمیم]

وکیل بازار کا اندرونی منظر

وکیل بازار کی تعمیر شاہ عباس اعظم کے دور کے قدیم بازاروں بازار قیصریہ لار شیراز اور اصفہان کے بلند بازار سے متاثر ہو کر کی گئی تھی لیکن وکیل بازار کی وسعت تمام ان بازاروں سے زیادہ ہے۔محرابی چھتوں والے اس بازار کے ۷۴ داخلی خارجی دروازے ہیں جو ۱۱ میٹر سے زیادہ بلند ہیں۔

تعمیراتی زاویے سے اس کے تین اہم اور الگ الگ تعمیری پہلو ہیں۔ ایک راستہ ( جو خریداروں کی آمد و رفت کے لیے ہے ) دوسرے دکانیں ( جو زمین سے دوسری منزل تک ہیں ) اور تیسرا دکانوں کے سامنے ایک الگ سے جگہ سامان اور خرید و فروخت کے لیے جسے جائے فروخت کہنا مناسب ہوگا۔

راستے اور پرچون فروش[ترمیم]

شمال مشرقی راستے میں روغنی، گمرک اور احمدی نام کی قدیم کاروان سرائیں ہیں جن کو راستہ بازار کے اندر سے ہی جاتا ہے۔ ان میں سے ہر کاروان سرائے میں کچھ کمرے ہیں۔

۱۔ مشرقی سمت جسے بازار علاقہ بندان کہا جاتا ہے اس میں دکانوں کی ۱۹ قطاریں ہیں یہاں غالیچہ اور عطر فروش بیٹھتے ہیں۔

۲۔ مغربی سمت جسے ترکش سازوں کا بازار کہا جاتا ہے اس میں ۱۰ دکانی قطاریں ہیں اور یہاں ایرانی قالین ملتے ہیں۔

۳۔ جنوبی سمت کا بازار جس کا داخلی راستہ مسجد وکیل کے ساتھ ہے شمشیر گروں کا بازار کہلاتا ہے اور اس میں ۱۱ دکانی قطاریں ہیں۔ کاروان سرائے وکیل کو راستہ آدی بازار سے جاتا ہے یہ سرائے آج کل سرائے فیل کہلاتی ہے۔

سنگ مر مر سے تعمیر شدہ ایک بہت بڑا حوض بھی ہے جسے ایک پتھر کی بنی ایک زیر زمین نہر سے پانی فراہم کیا جاتا تھا جو ترکش گروں کے بازار کے نیچے سے گزرتی تھی۔

نگار خانہ[ترمیم]

ماخذات[ترمیم]

  • بهاری، فخری، ” بازار وکیل “، در: مجلهٔ هنر و مردم، دوره ۱۴، ش ۱۶۲ - (فروردین ۱۳۵۵): ۶۰–۶۱. (منبع قدیمی و بدون مشکل حق تکثیر).
  • مجله اینترنتی فارس نگار
  • سایت اینترنتی میراث فرهنگی