وھب اللہ شاہ راشدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیر جھنڈو کا راشدی خاندان سندھ کا علمی خاندان ہے، ان کی دینی اور علمی خدمات کی دنیا معترف ہے، پیر جھنڈو کی لائبریری کا شمار دنیا کی بہترین لائبریریوں میں ہوتا ہے، یہاں اب بھی مخطوطات اور نادر کتابیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پیر وھب اللہ شاہ راشدی صاحب بھی اس خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کی ولادت 6 رمضان المبارک 1339 بمطابق 1921 میں اپنے نانا پیر امام الدین راشدی کے ہاں ضلع لاڑکانہ میں ہوئی. پیر رشداللہ شاہ راشدی صاحب کے بعد خاندانی اختلافات کے باعث حصول تعلیم میں کافی رکاوٹیں پیش آئیں باوجود اس مشکل صورت حال کے کافی علم حاصل کیا. اساتذہ میں حافظ اللہ رکھیہ صاحب (جو نابینا تھے انہوں) نے شاہ صاحب کو قرآن حفظ کروایا اور حافظ نور محمد جلالانی ان کے استاد تھے۔ اور اپنے شوق سے طب کی تعلیم بھی حاصل کی تھی. ان کا اصلاحی تعلق اپنے والد بزرگوار پیر سید ضیاء الدین راشدی صاحب سے تھا، ان سے ہی روحانی منازل طے کیں اور کسب فیض کیا. اپنے والد پیر سید ضیاء الدین راشدی صاحب کی وفات کے بعد چھٹے گدی نشین کے منصب پر فائز ہوئے اور مریدین کی تعداد سندھ میں ہزاروں میں ہے اور ان کو صوم صلوۃ کی پابندی کا حکم دیتے رہتے تھے۔ پیر صاحب سادہ اور مخلص انسان تھے۔ پیر وھب اللہ شاہ راشدی صاحب اپنے خاندان کے برعکس کٹر حنفی تھے۔ پیر صاحب نے اپنی نگرانی میں اپنے پردادا سید رشید الدین شاہ اور دادا پیر پیر رشد اللہ شاہ کے ملفوظات شائع کرائے تھے۔ لیکن افسوس کہ اپنا عظیم الشان کتب خانہ نیشنل میوزیم کراچی کو فروخت کر دیا، پیر صاحب 2004 میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے اور پیر جھنڈو کے قبرستان میں سپرد خاک ہیں۔ وفات کے بعد آپ کے فرزند ارجمند پروفیسر سید عباد اللہ شاہ راشدی گدی نشین بنے. نوٹ: پیر جھنڈو خاندان کی دینی اور علمی خدمات پر ڈاکٹر عبدالعزيز نہڑیو صاحب نے دو جلدوں میں تحقیقی مقالہ لکھا ہے، جس میں پیر وھب اللہ شاہ راشدی صاحب کا اتنا ہی ذکر ملتا ہے.

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات