وہاب اشرفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وہاب اشرفی
معلومات شخصیت
پیدائش 2 جون 1936  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 جولا‎ئی 2012 (76 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پٹنہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ادبی تنقید نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Tareekh-e-Adab-e-Urdu) (2007)[2]
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

ڈاکٹر سید عبد وہاب اشرفی (اردو/فارسی/عربی: سید عبد الوہاب اشرفی; ہندی: वहाब अशरफी) (2 جون 1936 – 15 جولائی 2012)[3] ایک بھارتی ادبی نقاد اور اردو ادب کی ایک نامور شخصیت تھے۔[4][5][6] وہ صوفی اشرف جہانگیر سمنانی کے خاندان سے تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہاب اشرفی کی ابتدائی زندگی بہار کے جہان آباد ضلع کے کوکو گاؤں میں گزری۔

ایوارڈ[ترمیم]

  • وہاب اشرفی نے 2007 ء میں اپنی کتاب تاریخ ادب اردو(تنقید) کے لیے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ حاصل کیا۔[7][8][9][10]
  • بہار اردو اکیڈمی ایوارڈ[11]
  • بھارتیہ بھاشا پریشد ایوارڈ

تعلیم[ترمیم]

وہاب اشرفی نے پی ایچ ڈی (اردو)، ایم۔اے اردو میں (تمغا یافتہ)، ایم۔ایے فارسی میں (تمغا یافتہ) اور ایل ایل کیا تھا۔ وہ جامعہ رانچی میں ایک سابق پروفیسر اور شعبہ اردو کے سربراہ رہے۔ انہوں جامعہ جواہر لعل نہرو اور نئی دہلی میں بھی تدریس کے فرائض سر انجام دیئے۔

کتابیات[ترمیم]

وہاب اشرفی نے تین درجن کتابیں تصنیف کیں۔[12] مندرجہ ذیل میں کچھ اہم کتابوں کے نام ہیں۔

  • تاریخ ادبیات عالم، 7 جلدیں
  • تاریخ ادب اردو، 4 جلدیں
  • فلسفۂ اشراکیت[13]
  • قدیم ادبی تنقید
  • مانی کی تلاش
  • تفہیم البلاغت
  • قطب مشتری کا تنقیدی جائزہ
  • مابعد جدیدیت
  • مثنوی اور مثنویات
  • مارکسی فلسفہ، اشتراکیت اور اردو ادب
  • قصہ بے سمت زندگی کا
  • میرا مطالعۂ قرآن

ان کی اکثر کتابوں کا دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے ارد وادبی رسالے مباحثہ کی ادارت بھی کی۔[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb145613853 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  3. "Noted Urdu writer Prof. Wahab Ashrafi passes away"۔ Theindianawaaz.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  4. Created by YouBihar View Groups۔ "KAKO – The Village of Legends – Bihar Social Networking and Online Community"۔ Youbihar.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  5. "Urdu critic Ashrafi passes away"۔ Indian Express۔ 2012-07-16۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  6. 15 جولائی 2012 – 8:56pm (2012-07-15)۔ "Renowned Urdu litterateur Wahab Ashrafi passes away"۔ TwoCircles.net۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  7. "de beste bron van informatie over sahitya akademy"۔ sahitya-akademi.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  8. "Professor Dr. Syed Abdul Wahab Ashrafi, Sahitya Academy Award winner, brought to you by Bihar Anjuman, the largest online group from Bihar or Jharkhand"۔ Biharanjuman.org۔ 1936-06-02۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  9. "::: Welcome To Patna U N I V E R S I T Y :::"۔ Patnauniversity.ac.in۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  10. "Google Discussiegroepen"۔ Groups.google.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  11. "Who's who of Indian Writers, 1999: A-M – Google Books"۔ Books.google.co.in۔ 1936-02-06۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  12. https://web.archive.org/web/20130315172548/http://www.urduyouthforum.org/biography/Wahab_Ashrafi_biography.php۔ مورخہ مارچ 15, 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 2, 2013۔ |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت) |title= غائب یا خالی (معاونت)
  13. Wahab Ashrafi۔ "Marx I Falsafa Ishtirakiyat Aur Urdu Adab : Urdu: Wahab Ashrafi: Text Books at Sapna Online"۔ Sapnaonline.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔
  14. "Mubahasa: Urdu magazine from Patna | The World of Urdu Poetry, Literature & News"۔ Urduindia.wordpress.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-02-27۔