وہب بن منبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وہب بن منبہ ایک مؤرخ اور قدیم کتابوں کے اکثر قصے ان سے مروی ہیں اور صاحب الاخبار و قصص مشہور ہیں۔

ولادت[ترمیم]

وہب بن منبہ خلافت عثمان میں 34ھ مطابق 654ءمیں پیدا ہوئے بڑے زاہد متقی تابعین میں سے تھے صحاح ستہ کے راویوں میں شمار ہوتا ہے۔

نام و نسب[ترمیم]

پورا نام وہب بن منبہ بن كامل بن سيج کنیت ابو عبد الله الابناوی الذماری الصنعانی اليمانی ہے ہمام بن منبہ کے چھوٹے بھائی تھے۔

گورنر اور عہدہ قضا[ترمیم]

عمر بن عبد العزیز نے انہیں گورنر بنایا اورصنعا کے عہدۂ قضاء پرمامور تھے۔[1]

قصبہ ذمار[ترمیم]

ذمارایک قصبہ ہے جو صنعاءسے 16 فرسخ کے فاصلے پر ہے 40 سال تک عشاء کی نماز سے صبح کی نماز پڑھتے رہے۔

وفات[ترمیم]

وہب نے ہشام بن عبد الملک کے عہد میں 114ھ 732ءٌ صنعاء میں وفات ہوئی[2]

تصنیفات[ترمیم]

  • قصص الانبياء
  • قصص الاخيار [3]
  • ذکرالملوک فن تاریخ میں ایک مفید کتاب تھی، یہ اس وقت ناپید ہے؛ لیکن ساتویں صدی تک موجود تھی، علامہ ابن خلکان نے اس کتاب کودیکھا تھا؛ انھوں نے لکھا ہے کہ اس میں یمن کے متعلق بہت مفید معلومات ہیں اور اس میں ملوک حمیر کے اخبار وانساب اور ان کے مقابر واشعار کا تذکرہ تفصیل سے موجود ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرۃ الحفاظ:1/85
  2. ميزان الاعتدال فی نقد الرجال مؤلف: شمس الدين ذہبی ناشر: دار المعرفہ للطباعہ والنشر، بيروت - لبنان
  3. كشف الظنون
  4. ابنِ خلکان:2/180