وینا ٹنڈن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وینا ٹنڈن
معلومات شخصیت
پیدائش 7 ستمبر 1949ء (عمر 70 سال)
کاشی پور، اتراکھنڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
شوہر پرمود ٹنڈن
اولاد ایک لڑکا
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کیلیفورنیا، اروین
پنجاب یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ماہر طفیلیات (Parasitologist)،
تدریس
وجہ شہرت طفیلیات
اعزازات
پدماشری
ای کے جانکی امال یوارڈ
آئی ایس پی کامیاب زندگی ایوارڈ

وینا ٹنڈن ایک بھارتی ماہر طفیلیات، ماہرتعلیم اور نیشنل اکیڈمی آف سائنسیز، انڈیا بایوٹیک پارک، لکھنؤ میں ایک سینئر سائنس دان ہیں۔[1] وہ نارتھ ایسٹرن ہل یونیورسٹی میں حیوانیات کی سابق پروفیسر ہیں اور نارتھ ایسٹ انڈیا ہیلمنتھ پیراسائٹ انفارمیشن ڈاٹابیس میں چیف انویسٹی گیٹر ہیں۔[2] ان کو ان کیڑوں سے منتقل معتدی امراض پر تحقیق کے لیے جانا جانا ہے جو کھانے کے لیے کارآمد جانوروں کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ دو کتابوں کی مصنفہ ہیں اور طفیلیات پر ان کافی مضامین ہیں۔[3] حکومت ہند نے سائنس میں شراکت کے لیے انہیں ملک کے چوتھے سب سے اعلی شہری اعزاز پدم شری، سے 2016ء میں نوازا۔[4]

سوانح[ترمیم]

وینا ٹنڈن کی پیدائش 7 ستمبر 1949ء میں كاشي پور، بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں ہوئی۔ چنڈی گڑھ سے 1967ء میں جامعہ پنجاب سے حیوانیات میں گریجویشن کے بعد (بی ایس سی-آنرز) انہوں نے 1968ء میں ماسٹر کی ڈگری (ایم ایس سی) مکمل کی اور بعد میں اسی ادارے سے (پی ایچ ڈی) کی ڈگری کی۔ انہوں نے اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تحقیق یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، اروین کے سالماتی حیاتیات اور حیاتیاتی کیمیا محکمہ سے 1978-79 کے دوران کیا۔ ان کی تحقیق کا موضوع شراب کے دماغ اور جگر کی نسوں پر ہونے والے منفی اثرات پر تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ہماچل یونیورسٹی میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کیا، مگر بعد میں وہ نارتھ ایسٹرن ہل یونیورسٹی، شیلانگ کے شعبہ حیوانیات میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کیا جہاں انہوں نے ریٹائرمنٹ تک ایک پروفیسر کا رتبہ حاصل کیا تھا۔[5] ریٹائرمنٹ کے بعد، وہ بایوٹیک پارک، لکھنؤ میں سینئر سائنس دان ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

قومی سائنس اکیڈمی، بھارت نے ٹنڈن کو ایک فیلو کے طور پر 1998ء میں منتخب کیا۔[6] وہ 2005ء میں انڈین سوسائٹی فار پیراسیٹالوجی کی منتخب فیلو بنی۔[7] حکومت ہند نے 2016 میں انہیں پدم شری سے نوازا۔[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Distinguished Scientists"۔ Biotech Park۔ 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2016۔
  2. "DIT - North-East Parasite Information Analysis Centre"۔ North-East India Helminth Parasite Information Database۔ 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2016۔
  3. "Ex-NEHU teacher gets Padma Shri"۔ Shillong Times۔ 26 جنوری 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2016۔
  4. "Padma Awards" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Ministry of Home Affairs, Government of India۔ 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2016۔ |accessdate= اور |access-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  5. "I did not want to follow the convention"۔ Biospectrum India۔ 15 اپریل 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2016۔
  6. "NASI Fellows"۔ National Academy of Sciences, India۔ 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2016۔
  7. "ISP Fellows"۔ Indian Society of Parasitology۔ 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2016۔
  8. "Six from Northeast to receive Padma Shri, one Padma Bhushan"۔ The Northeast Today۔ 26 جنوری 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2016۔