ویکیپیڈیا:مضمون کا عنوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مضمون کا عنوان اُس مضمون پر موجود پہلی بڑی سُرخی ہوتی ہے۔ اس مخصوص مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ عناوین سے متعلق ویکیپیڈیا کے دیگر اصولوں کو ٹھیک طور سے اور آسان زبان میں صارفین کو سمجھایا جا سکے۔

ویکیپیڈیا پر موجود مضامین کے عنوان اکثر کسی ایک موضوع کا نام یا اِس موضوع کی وضاحت کرتا ایک فقرہ ہوتا ہے۔ اکثر ایک سے زائد موضوع کا ایک ہی نام یا عنوان ہو سکتا ہے؛ چنانچہ اِس ایک عنوان کو بنیاد بنا کر اِن موضوعات کی تفریق میں دِقت پیش آتی ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں اِن موضوعات کے عناوین کے ساتھ قوسین (parentheses یا brackets) میں وضاحتی عبارت بھی دی جا سکتی ہے۔ عام طور پر، عنوان کو ایسا ہونا چاہیے کہ اِس سے نہ صرف مضمون کے مواد کا اندازہ لگایا جا سکے بلکہ اِس کی مدد سے اُس موضوع کے ساتھ مشابہت بھی پیدا ہو سکے۔ عنوان کا تعین یہ مدِ نظر رکھ کر کیا جاتا ہے کہ یہ عنوان جس موضوع کی نمائندگی کر رہا ہے اُس کو دیگر قابلِ اعتماد ذرائع میں کیسے جانا جاتا ہے۔

عنوان کیا رکھیں؟[ترمیم]

ایک اچھے عنوان میں مندرجہ ذیل خصوصیات ہوتی ہیں:

  • قابل شناخت عنوان کو پڑھ کر مضمون کے موضوع کو واضح ہو جانا چاہیے۔
  • قابل رسائی عنوان ایسا ہونا چاہیے جس تک آسانی سے پہنچا جا سکے، خواہ ویکیپیڈیا پر تلاش کے ذریعہ یا انٹرنیٹ کے دیگر سرچ انجن پر تلاش کے ذریعہ۔
  • درست اور واضح عنوان درست اور واضح ہونا چاہیے تاکہ مبہم اور ہم نام موضوعات اور مضامین میں امتیاز کیا جا سکے۔
  • مختصر عنوان چھوٹا اور مختصر ہونا چاہیے؛ زیادہ طویل عناوین نہ رکھے جائیں۔
  • دیگر عناوین سے مطابقت ویکیپیڈیا پر موجود دیگر عناوین کو نمونہ بنا کر اور ان کی طرز پر آپ کا عنوان بھی ہونا چاہیے۔

اِن خصوصیات پر مبنی عنوان رکھتے ہوئے اِس بات کا خیال رکھیں کہ یہ لازم نہیں ہے کہ اِن ہی پانچ نُقاط کو مدِ نظر رکھا جائے۔ یہ نقاط محض رہنما نقاط ہیں تاکہ ان پر غور کر کے ایک تسلی بخش عنوان رکھا جا سکے۔ کبھی عنوان رکھنا بہت آسان ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ خوب واضح نہیں ہوتا۔ تاہم آپ ایک نُقطے کو دوسرے پر ترجیح دے سکتے ہیں۔ البتہ اچھا یہ ہے کہ یہ عمل رائے شماری سے کیا جائے۔ اِس کی ایک مثال پاکستان پر لکھا گیا مضمون ہے۔ درستی کے اعتبار سے تو اِس مضمون کا عنوان اسلامی جمہوریۂ پاکستان ہونا چاہیے، لیکن کیونکہ محض پاکستان کا لفظ ہی ایک مختصر اور قابلِ شناخت عنوان ہے، لہذا یہاں وہی استعمال میں آیا ہے۔

عنوان میں القاب[ترمیم]

  • کسی بھی مضمون یا صفحہ کے عنوان میں شخصیات کا اصل نام بغیر کسی لقب، اعزاز یا دعائیہ کلمہ کے لکھا جائے۔
  • عنوان میں بقید حیات شخصیات کے نام کے ساتھ لقب یا دعائیہ کلمات قطعاً نہ لکھے جائیں۔
  • انبیاء، صحابہ اور دیگر مذاہب کی بنیادی اہم مذہبی شخصیات کے ساتھ سب سے معروف لیکن مختصر لقب لگایا جا سکتا ہے۔
  • لقب، اعزاز یا دعائیہ کلمات کے نام سے صفحات بنا کر انہیں اصل مضمون کی طرف رجوع مکرر کیا جا سکتا ہے، تاکہ ان کلمات سے تلاش کرنے والوں کو آسانی ہو۔
  • اگر کسی معروف شخصیت کے نام میں کسی شہر/مسکن/مقام وغیرہ لگایا جاتا ہو اور وہ شخصیت اسی حوالہ سے زیادہ معروف ہو تو عنوان میں اس انتساب کو درج کرنے کی گنجائش ہے، جسے عسقلانی، دہلوی، امرتسری وغیرہ۔
  • متعلقہ فرد یا شخصیت کا پیشہ عنوان میں درج نہ کیا جائے، مثلاً مفتی، ڈاکٹر، پروفیسر وغیرہ۔
  • اگر کسی دو شخصیات کے نام ، القاب یا دعائیہ کلمات ایک جیسے ہوں تو ان شخصیات کے مضامین اصل نام اور وجہ تسمیہ سے بنائے جائیں اور عمومی نام، القاب یا دعائیہ کلمات والے ناموں کے ضد ابہام صفحات بنائے جائیں۔
  • جملہ مذاہب کے افراد/صارفین کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ عناوین میں اپنی محترم شخصیات کے ساتھ القاب/دعائیہ کلمات لگا کر اسے اصل مضمون سے رجوع مکرر کر سکتے ہیں، البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ایسے رجوع مکرر صفحات دو سے زائد نہ ہوں۔
  • عنوان میں نام کے ہر کلمہ کے بعد خالی جگہ چھوڑی جائے، تاہم بغیر خالی جگہ والے ناموں سے رجوع مکررکا صفحہ بنایا جا سکتا ہے، مثلا عبد اللہ کو عبداللہ (بغیر سپیس) نہیں لکھا جا سکتا، البتہ عبداللہ سے رجوع مکرر صفحہ بنایا جا سکتا ہے۔
  • اس سلسلہ میں کسی قسم کے تنازع کی صورت میں منتظمین کی کثرت رائے حرف آخر اور فیصلہ کن سمجھی جائے گی۔

عام استعمال میں آنے والا اسم خاص[ترمیم]

کسی بھی شخص، چیز یا جگہ کے نام کو اسم خاص کہتے ہیں۔ چنانچہ اِن سب پر مبنی مضامین کا عنوان بھی یقیناً کسی اسم خاص کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مگر ضروری نہیں کہ کوئی شخص، چیز یا جگہ اپنے درست اسم خاص سے معروف ہو۔ انگریزی زبان میں ولیم نامی اشخاص کی عرفیت اکثر بل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اکثر بل کلنٹن کو ولیم کلینٹن اور بل گیٹس کو ولیم گیٹس پر ترجیح دیتے ہیں۔ لہٰذا، جب کسی شخص، چیز یا جگہ کے نام پر مبنی مضامین تحریر کیے جایئں تو یہ خیال رکھیں کہ ایسے عنوان کا تعین کیا جائے جو کہ عام طور پر استعمال ہونے والے اسم خاص کی عکاسی کرے۔

ناموں کی نقل نویسی کہاں بجا ہے؟[ترمیم]

اُردُو کے علاوہ دیگر اور زبانوں میں لکھے گئے ادب یا اِن زبانوں میں بنائی گئی فلمیں اور فنون کے ناموں کا ہرگز اردو زبان میں ترجمہ نہ کریں، مثلاً دی لارڈ آف دی رنگز اور بلیک ہاک ڈاؤن۔ تاہم، جیسا کہ ان مثالوں سے صاف ظاہر ہے، آپ کو چاہیے کہ ان ناموں کو محض نقل نویسی کر کہ ایسے مضامین کے عناوین متعین کر لیں۔ نقل نویسی کی شرائط مندرجہ ذیل اشیاء پر لاگو ہوتی ہیں:

  • اُردُو کے علاوہ کسی اور زبان میں کتب، فلموں یا فنون کے نام؛ مثلاً، دی لارڈ آف دی رنگز کو انگوٹھیوں کا سردار نہ بنا دیا جائے۔
  • کیمیائی، سائنسی، تکنیکی اور عام استعمال ہونے والی چیزوں کے نام؛ مثلاً، ہائیڈروجن کا ترجمہ کرنے بیٹھ جانا محض بیوقوفی ہوگی اور نہ ہی آئی پیڈ کا کوئی نعم البدل ہے۔
  • کسی بھی شخص کے نام کا ترجمہ نہ کریں۔ البتہ اگر کسی فرد کا اردو نام معروف ہو تو اِس نام کو ضرور استعمال کریں۔ مثلاً، ایریسٹوٹل کی جگہ ارسطو استعمال کریں۔

دیگر عمومی ہدایات[ترمیم]

  • تلفظ اور املا کی بنیاد پرشہروں اور مقامات کے مضامین کے نام بھی منتقل کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جو املا اردو میں کثرت سے رائج ہو وہ مانا جائے۔
  • شہروں کے نام، شخصیات کے نام وغیرہ میں املا اور تلفظ کو اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ جو املا سرکاری طور پر یا علاقائی طور پر تحریری مستعمل ہوں، وہ مانا جاتا ہے، جیسے اگر کوئی شخص اپنا نام ھ سے لکھتا ہے تو اسے ہ سے نہیں لکھ سکتے۔
  • یورپی یا دیگر علاقوں کی زبانوں میں جو جو الفاظ اردو میں رائج ہوں (خواہ انگریزی سے آ رہے ہوں) ان کو درست مانا جائے گا، مثلاً فرانس کے شہر پیرس کو فرانسیسی تلفظ کی بنا پر پاغی نہیں لکھا گیا، بلکہ معروف انگریزی تلفظ پیرس ہی درج کیا گیا ہے۔ البتہ جو اسمائے معروفہ فرانسیسی، جرمنی، وغیرہ زبانوں کے اردو میں عام نہیں نا ہی ان کا انگریزی تلفظ اردو زبان میں معروف ہو تو ان ناموں کو اصل زبان کے تلفظ کی بنیاد پر لکھا جائے گا۔
  • دوسری زبانوں کی کتب جن کا اردو میں ترجمہ کیا گيا ہے، ان کے عنوان کو اردو ترجمہ کے مطابق لکھا جائے، اگر ایک سے زائد تراجم ہیں تو اصل زبان کے عنوان سے قریب تر مفہوم رکھنے والے عنوان کو لیں اور بقیہ عناوین سے رجوع مکرر کیا جائے۔
  • فلموں، ڈراموں وغیرہ کے ناموں کو اردو میں لکھنے کی قطعا کوئی وجہ نہیں، فارسی یا عربی والے اگر ایسا کرتے ہیں تو اس کی وجہ ان زبانوں میں فلموں کی باقاعدہ اجازت کے ساتھ ڈبنگ اور عنوان کا علاقائی زبان میں درج کرنا بھی شامل ہے۔
  • اداروں اور تنظیموں کے نام اگر تنظیمی طور پر وہ خود اردو میں کوئی استعمال کرتے ہیں تو اسے مانا جائے۔ بقیہ ناموں میں سے جن کو دیگر اردو تحریروں میں ترجمہ کیا جا رہا ہو تو ان کو ترجمہ کیا جائے، نا کہ ہر نام کو۔ جیسے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے نام اردو میں ترجمہ شدہ ہیں۔ جب کہ نیشنل جیوگرافک کا اردو میں کوئی نام متداول نہیں۔
  • اصطلاحات، محاورات، الفاظ پر الگ الگ حکم لگے گا۔ اس لیے انھیں منتقل کرنے سے پہلے تبادلۂ خیال کرنا بہتر ہے۔