ویکیپیڈیا:منتخب مضامین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ویکیپیڈیا کے منتخب مضامین

یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔

منتخب مضامین ویکیپیڈیا کے بہترین ترین مضامین کو کہا جاتا ہے، جیسا کہ انداز مقالات میں واضح کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہ مضمون کو اس فہرست میں شامل کیا جائے، مضامین پر نظرِ ثانی کے لیے امیدوار برائے منتخب مضمون میں شاملِ فہرست کیا جاتا ہے تاکہ مضمون کی صحت، غیر جانبداری، جامعیت اور انداز مقالات کی جانچ منتخب مضون کے معیار کے مطابق کی جاسکے۔ فی الوقت اردو ویکیپیڈیا پر 75 ہزار سے زائد مضامین میں سے بہت کم منتخب مضامین موجود ہیں۔ جو مضامین منتخب مضمون کو درکار صفات کے حامل نہیں ہوتے، اُن کو امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ اُن میں مطلوبہ بہتری پیدا کی جاسکے اور اُس کے بعد جب وہ تمام تر خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہوجاتی ہیں تو اُنہیں دوبارہ امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ مضمون کے بائیں جانب بالائی حصے پر موجود کانسی کا یہ چھوٹا سا ستارہ (یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔۔) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔مزید برآں یکہ اگر کوئی مضمون بیک وقت کئی زبانوں میں منتخب مضمون کی حیثیت حاصل کرچکا ہے تو اسی طرح کا چھوٹا ستارہ دیگر زبانوں کے آن لائن پر دائیں جانب اُس زبان کے نام کے ساتھ نظر آئے گا۔

  • مضمون کے منتخب ہونے پر {{امیدوار برائے منتخب مضمون}} کا سانچہ ہٹا کر {{منتخب مقالہ}} سانچہ کا اندراج کر دیا جائے۔
اختصار:
وپ:منتخب مضامین

منتخب مواد:

آلات منتخب مضمون:


مجموعات

·فنون، فنِ تعمیر اور آثارِ قدیمہ ·اعزاز،سجاوٹ اور امتیازیات ·حیاتیات ·تجارت، معیشت اور مالیات ·کیمیاء اور معدنیات ·کمپیوٹر ·ثقافت و سماج ·تعلیم ·انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی ·کھانا اور پینا ·جغرافیہ اور مقامات ·ارضیات، ارضی طبیعیات اور موسمیات ·صحت و طب ·تاریخ ·زبان و لسانیات ·قانون ·ادب اور فن کدہ ·ریاضیات ·شامہ میان (میڈیا) ·موسیقی ·فلسفہء اور نفسیات ·طبیعیات و فلکیات ·سیاسیات و حکومت ·مذہب، عقیدہ اور ضعف الاعتقاد ·شاہی، شریف اور حسب نسب ·کھیل اور تعمیری سرگرمیاں ·نقل و حمل ·بصری کھیل ·جنگ و جدل

2021/ہفتہ 01 [ترمیم]
Collage of places in Lucknow.jpg

لکھنؤ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کا دار الحکومت اور اردو کا قدیم گہوارہ ہے نیز اسے مشرقی تہذیب و تمدن کی آماجگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں لکھنؤ ضلع اور لکھنؤ منڈل کا انتظامی صدر دفتر موجود ہے۔ لکھنؤ شہر اپنی نزاکت، تہذیب و تمدن، کثیر الثقافتی خوبیوں، دسہری آم کے باغوں اور چکن کی کڑھائی کے کام کے لیے معروف ہے۔ سنہ 2006ء میں اس کی آبادی 2،541،101 اور شرح خواندگی 68.63 فیصد تھی۔ حکومت ہند کی 2001ء کی مردم شماری، سماجی اقتصادی اشاریہ اور بنیادی سہولت اشاریہ کے مطابق لکھنؤ ضلع اقلیتوں کی گنجان آبادی والا ضلع ہے۔ کانپور کے بعد یہ شہر اتر پردیش کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ شہر کے درمیان میں دریائے گومتی بہتا ہے جو لکھنؤ کی ثقافت کا بھی ایک حصہ ہے۔

لکھنؤ اس خطے میں واقع ہے جسے ماضی میں اودھ کہا جاتا تھا۔ لکھنؤ ہمیشہ سے ایک کثیر الثقافتی شہر رہا ہے۔ یہاں کے حکمرانوں اور نوابوں نے انسانی آداب، خوبصورت باغات، شاعری، موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کی خوب پذیرائی کی۔ لکھنؤ نوابوں کا شہر بھی کہلاتا ہے نیز اسے مشرق کا سنہری شہر اور شیراز ہند بھی کہتے ہیں۔ آج کا لکھنؤ ایک ترقی پذیر شہر ہے جس میں اقتصادی ترقی دکھائی دیتی ہے اور یہ بھارت کے تیزی سے بڑھ رہےبالائی غیر میٹرو پندرہ شہروں میں سے ایک ہے۔ لکھنؤ ہندی اور اردو ادب کے مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ اردو بولتے ہیں۔ یہاں کا لکھنوی انداز گفتگو مشہور زمانہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہندی اور انگریزی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 02 [ترمیم]
Nicosia Collage.png

نیکوسیا (یونانی: Λευκωσία لیفکوسیا) قبرص کا سب سے بڑا شہر اور میساوریا میدانی علاقہ کے تقریباً وسط میں دریائے پیدیوس کے کنارے پر واقع حکومت قبرص کا دار الحکومت ہے۔ یہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں انتہائی جنوب مشرقی دار الحکومت ہے۔ یہ شہر 4،500 برسوں سے مسلسل آباد ہے اور دسویں صدی سے قبرص کا دار الحکومت چلا آرہا ہے۔ قبرص بحران 1955–64ء کے بعد سے ترک قبرصی اور یونانی قبرصی شہر کی تقسیم کے بعد شہر کے شمالی اور جنوبی الگ الگ حصوں میں آباد ہیں۔ 1974ء میں ترکی کے قبرص کے حملے کے بعد شہر کے درمیان میں ایک عسکری خط اخضر قائم ہے جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہے۔ اس تقسیم کے بعد نیکوسیا کا جنوبی حصہ جمہوریہ قبرص کا دار الحکومت اور شمالی قبرص ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا دار الحکومت ہے۔

قانون سازی اور انتظامی افعال کے علاوہ نیکوسیا نے خود کو جزیرے کے اقتصادی دار الحکومت اور اہم بین الاقوامی کاروباری مرکز کے طور پر بھی منوایا ہے۔ 2018ء میں نیکوسیا دنیا کے تقابل میں قوت خرید میں بتیسواں امیر ترین شہر تھا۔ دیوار برلن کے خاتمے کے بعد نیکوسیا دنیا کا واحد منقسم دار الحکومت ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 03 [ترمیم]
EmperorSuleiman.jpg

سلیمان اول (المعروف سلیمان قانونی اور سلیمان اعظم) سلطنت عثمانیہ کے دسویں فرمانروا تھے جنہوں نے 1520ء سے 1566ء تک 46 سال تک حکمرانی کے فرائض انجام دیئے۔ وہ بلاشبہ سلطنت عثمانیہ کے سب سے عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے بے مثل عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت پوری مملکت اسلامیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مملکت کے لئے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کا اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 04 [ترمیم]
Hokusai-sketches---hokusai-manga-vol6-crop.jpg

ننجا (忍者) یا شنوبی (忍び) نوابی دور کے جاپان میں خفیہ کارندے یا قاتل ہوتے تھے۔ ننجا کے کاموں میں جاسوسی، سبوتاژ، دشمن کی صفوں میں گھسنا، قتل اور گوریلا جنگیں شامل تھیں۔ یہ کارروائیاں سامورائی سے کمتر درجے کی سمجھی جاتی تھیں کیونکہ سامورائی لڑائی اور عزت کے حوالے سے انتہائی سخت اصولوں کی پابندی کرتے تھے۔

سینگوکو دور میں (پندرہویں سے سترہویں صدی تک) کرائے کے قاتل اور جاسوس جو ایگا صوبے اور کوگا دیہات سے ملحقہ علاقوں میں سرگرم ہو گئے اور اسی علاقے کے قبائل کے پاس ننجا کے بارے میں زیادہ تر معلومات ہیں۔ توکوگاوا شوگون شاہی کے تحت جاپان کے اتحاد کے بعد (سترہویں صدی میں) ننجا گمنامی کا شکار ہو گئے۔

1868ء میں بحالی میجی کے بعد شنوبی کو قصے کہانیوں میں بہت اہمیت دی گئی۔ ننجا کے بارے بہت سی غلط باتیں مشہور ہو گئیں تھیں مثلاﹰ وہ غائب ہو سکتے تھے، پانی پر چل سکتے تھے اور قدرتی عناصر کو قابو میں کر سکتے تھے۔ چنانچہ اُس دور کے ننجا کے بارے میں بیشتر معلومات سینگوکو دور کی بجائے تخیل کی مدد سے اخذ کی گئی ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 05 [ترمیم]
PashtunsatMalakand.jpg

مالاکنڈ کا محاصرہ، 26 جولائی سے 2 اگست 1897ء تک برطانوی ہند کے شمال مشرقی سرحدی صوبے کے علاقے مالاکنڈ میں برطانوی افواج کے ایک فوجی کیمپ کو اس وقت مقامی پشتون جنگجوؤں کی جانب سے محاصرے کا سامنا کرنا پڑا جب ڈیورنڈ لائن کی وجہ سے بہت سے پشتونوں کی زمین دو ملکوں برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان منقسم ہوکر رہ گئی۔ اس 1519 میل (2445 کلومیٹر) سرحدی تقسیم کو افغان انگریز جنگوں کے بعد بنایا گیا جس کا مقصد برطانوی ہند کو روسی اثرات سے بچانا تھا۔

اس کی وجہ سے پشتون متاثرین میں بے چینی پھیلی اور ایک فقیر سعید اللہ نامی برطانوی افواج کے خلاف کھڑا ہوا اور 10٬000 جنگجوؤں کے ساتھ مالاکنڈ میں برطانوی چھاونی پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں برطانوی افواج کی دفاعی حالت انتہائی خراب تھی اور وہ بہت سے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے ایک چھوٹی سی چھاونی مالاکنڈ کے جنوب اور ایک چھوٹا قلعہ چکدرہ کے مقام پر واقع تھا اس کے باوجود برطانوی فوجیوں نے اپنے سے کئی گنا بڑے مسلح پشتون دستہ کو چھ دن تک جنگ میں الجھائے رکھا۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 06 [ترمیم]
Istanbul collage 5j.jpg

استنبول جسے ماضی میں بازنطیوم اور قسطنطنیہ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا ترکی کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر اور ملک کا معاشی، ثقافتی اور تاریخی مرکز ہے۔ استنبول یوریشیا کا بین براعظمی شہر بھی ہے جو بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود کے درمیان آبنائے باسفورس کے دونوں کناروں پر واقع ہے. یہ آبنائے ایشیا کو یورپ سے جدا کرتی ہے۔ اس کا تجارتی اور تاریخی مرکز یوروپی جانب ہے اور اس کی آبادی کا ایک تہائی حصہ آبنائے باسفورس کے ایشیائی کنارے کے مضافاتی علاقوں میں رہتا ہے۔ اس کے میٹروپولیٹن علاقہ میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ کی مجموعی آبادی ہے جس کی بنا پر استنبول کا شمار دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ عالمی طور پر یہ دنیا کا پانچواں سب سے بڑا شہر اور یورپ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ نیز یہ استنبول میٹروپولیٹن بلدیہ کا انتظامی مرکز بھی ہے۔

سرائے بورنو کے مقام پر 600 ق م میں بازنطیوم کے نام سے آباد ہونے والے شہر کے اثر و رسوخ، آبادی اور رقبہ میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا رہا اور یہ تاریخ کا سب سے اہم شہر بن گیا۔ 330ء میں قسطنطنیہ کے نام سے از سر نو آباد ہونے کے بعد یہ شہر تقریباً 16 صدیوں تک متعدد سلطنتوں کا دار الحکومت رہا جن میں رومی سلطنت/بازنطینی سلطنت (330ء–1204ء)، لاطینی سلطنت (1204ء–1261ء)، فالیولوجی بازنطین (1261ء–1453ء) اور سلطنت عثمانیہ (1453ء–1922ء) شامل ہیں۔ رومی سلطنت اور بازنطینی دور میں شہر نے مسیحیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا تھا تاہم 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد یہ مسلمانوں کا مرکز اور خلافت عثمانیہ کا دارالخلافہ بن گیا اور قسطنطنیہ کے نام سے 1923ء تک یہ سلطنت عثمانیہ کا دار الحکومت رہا۔ اس کے بعد دار الحکومت کو انقرہ منتقل کرکے اس شہر کا نام استنبول رکھ دیا گیا۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 07 [ترمیم]
Wazir khan mosque entry.jpg

مسجد وزیر خان شہر لاہور میں دہلی دروازہ، چوک رنگ محل اور موچی دروازہ سے تقریباً ایک فرلانگ کی دوری پر واقع ہے۔ یہ مسجد نقش ونگار میں کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علم الدین انصاری جو عام طور پر نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں مغلیہ سلطنت کے عہد شاہجہانی میں لاہور شہر کے گورنر تھے اور یہ مسجد انہی کے نام سے منسوب ہے۔ مسجد کی بیرونی جانب ایک وسیع سرائے ہے جسے چوک وزیر خان کہا جاتا ہے۔ چوک کے تین محرابی دروازے ہیں۔ اول مشرقی جانب چٹا دروازہ، دوم شمالی جانب راجہ دینا ناتھ کی حویلی سے منسلک دروازہ، سوم شمالی زینے کا نزدیکی دروازہ-مسجد کے مینار 107 فٹ اونچے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر دسمبر 1641ء میں سات سال کی طویل مدت کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ مسجد وزیر خان سلطنت مغلیہ کے عہد میں تعمیر کی جانے والی اب تک کی نفیس کاشی کار و کانسی کار خوبصورت مسجد ہے جو بادشاہی مسجد کی تعمیر سے 32 سال قبل (یعنی 1641ء میں) تکمیل کو پہنچی۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 08 [ترمیم]
تخطيط اسم مخدوم محمد هاشم التتوي السندي.png

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی (تولد 1104ھ بمطابق 1692ء – متوفی 1174ھ بمطابق 1761ء) سندھ کے علم و ادب کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والے اٹھارویں صدی کے عظیم محدث، یگانۂ روزگار فقیہ اور قادر الکلام شاعر تھے۔ کلہوڑا دور کے حاکمِ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑا نے انہیں ٹھٹہ کا قاضی القضاۃ مقرر کیا، انہوں نے بدعات اور غیر شرعی رسومات کے خاتمے کے لیے حاکم وقت سے حکم نامے جارے کرائے۔ ان کی وعظ، تقریروں اور درس و تدریس متاثر ہو کر بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ ان کی تصانیف و تالیفات عربی، فارسی اور سندھی زبانوں میں ہیں۔ انہوں نے فقہ، قرآن، تفسیر، سیرت، حدیث، قواعد، عقائد، ارکان اسلام سمیت تقریباً تمام اسلامی موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر و تالیف کیں، کتب کی تعداد کچھ محققین کے اندازے کے مطابق 300 ہے، کچھ محققین 150 سے زیادہ خیال کرتے ہیں۔ ان کی گراں قدر تصانیف مصر کی جامعہ الازہر کے نصاب میں شامل ہیں۔ ان کے مخطوطات کی بڑی تعداد بھارت، سعودی عرب، ترکی، پاکستان، برطانیہ اور یورپ کے بہت سے ممالک کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ پاکستان خصوصاً سندھ اور بیرونِ پاکستان میں ان کی کتب کے مخطوطات کی دریافت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 09 [ترمیم]
KL Composite2.jpg

کوالا لمپور رسمی طور پر وفاقی علاقہ کوالا لمپور جسے مقامی طور پر اس کے مخفف کے ایل (KL) کے نام سے جانا جاتا ہے ملائیشیا کا قومی دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ ملائیشیا کے عالمی شہر کے طور پر اس کا رقبہ 243 مربع کلومیٹر (94 مربع میٹر) اور 2016ء کے مطابق اس کی آبادی تقریباً 1.73 ملین تھی۔ کوالا لمپور عظمی جسے وادی کلانگ بھی کہا جاتا ہے ایک شہری علاقہ ہے جس کی آبادی 2017ء میں 7.25 ملین افراد تھی۔ آبادی اور اقتصادی ترقی دونوں میں یہ جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے میٹروپولیٹن علاقوں میں سے ایک ہے۔

کوالا لمپور ملائیشیا کا ثقافتی، مالیاتی اور اقتصادی مرکز ہے۔ یہاں پارلیمان ملائیشیا اور شاہ ملائشیا (یانگ دی‌ پرتوان آگونگ) کی سرکاری رہائش گاہ استانا نگارا بھی موجود ہے۔ شہر میں پہلے ایگزیکٹو اور وفاقی حکومت کی عدلیہ کی شاخوں دفاتر بھی موجود تھے تاہم 1999ء کے آغاز میں یہ ملائیشیا کے وفاقی انتظامی مرکز پتراجایا منتقل کر دیے گئے ہیں۔ تاہم سیاسی اداروں کے بعض حصے اب بھی کوالا لمپور میں موجود ہیں۔ کوالا لمپور ملائیشیا کے تین وفاقی علاقہ جات میں سے ایک ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2021/ہفتہ 10 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 10

2021/ہفتہ 11 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 11

2021/ہفتہ 12 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 12

2021/ہفتہ 13 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 13

2021/ہفتہ 14 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 14

2021/ہفتہ 15 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 15

2021/ہفتہ 16 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 16

2021/ہفتہ 17 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 17

2021/ہفتہ 18 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 18

2021/ہفتہ 19 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 19

2021/ہفتہ 20 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 20

2021/ہفتہ 21 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 21

2021/ہفتہ 22 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 22

2021/ہفتہ 23 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 23

2021/ہفتہ 24 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 24

2021/ہفتہ 25 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 25

2021/ہفتہ 26 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 26

2021/ہفتہ 27 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 27

2021/ہفتہ 28 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 28

2021/ہفتہ 29 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 29

2021/ہفتہ 30 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 30

2021/ہفتہ 31 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 31

2021/ہفتہ 32 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 32

2021/ہفتہ 33 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 33

2021/ہفتہ 34 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 34

2021/ہفتہ 35 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 35

2021/ہفتہ 36 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 36

2021/ہفتہ 37 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 37

2021/ہفتہ 38 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 38

2021/ہفتہ 39 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 39

2021/ہفتہ 40 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 40

2021/ہفتہ 41 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 41

2021/ہفتہ 42 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 42

2021/ہفتہ 43 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 43

2021/ہفتہ 44 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 44

2021/ہفتہ 45 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 45

2021/ہفتہ 46 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 46

2021/ہفتہ 47 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 47

2021/ہفتہ 48 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 48

2021/ہفتہ 49 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 49

2021/ہفتہ 50 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 50

2021/ہفتہ 51 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 51

2021/ہفتہ 52 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 52

2021/ہفتہ 52 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2021/ہفتہ 52