ویکیپیڈیا:منتخب مضامین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ویکیپیڈیا کے منتخب مضامین

یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔

منتخب مضامین ویکیپیڈیا کے بہترین ترین مضامین کو کہا جاتا ہے، جیسا کہ انداز مقالات میں واضح کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہ مضمون کو اس فہرست میں شامل کیا جائے، مضامین پر نظرِ ثانی کے لیے امیدوار برائے منتخب مضمون میں شاملِ فہرست کیا جاتا ہے تاکہ مضمون کی صحت، غیر جانبداری، جامعیت اور انداز مقالات کی جانچ منتخب مضون کے معیار کے مطابق کی جاسکے۔ فی الوقت اردو ویکیپیڈیا پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد مضامین میں سے بہت کم منتخب مضامین موجود ہیں۔ جو مضامین منتخب مضمون کو درکار صفات کے حامل نہیں ہوتے، اُن کو امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ اُن میں مطلوبہ بہتری پیدا کی جاسکے اور اُس کے بعد جب وہ تمام تر خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہوجاتی ہیں تو اُنہیں دوبارہ امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ مضمون کے بائیں جانب بالائی حصے پر موجود کانسی کا یہ چھوٹا سا ستارہ (یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔۔) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔مزید برآں یکہ اگر کوئی مضمون بیک وقت کئی زبانوں میں منتخب مضمون کی حیثیت حاصل کرچکا ہے تو اسی طرح کا چھوٹا ستارہ دیگر زبانوں کے آن لائن پر دائیں جانب اُس زبان کے نام کے ساتھ نظر آئے گا۔

  • مضمون کے منتخب ہونے پر {{امیدوار برائے منتخب مضمون}} کا سانچہ ہٹا کر {{منتخب مقالہ}} سانچہ کا اندراج کر دیا جائے۔

منتخب مواد:

آلات منتخب مضمون:


مجموعات

·فنون، فنِ تعمیر اور آثارِ قدیمہ ·اعزاز، سجاوٹ اور امتیازیات ·حیاتیات ·تجارت، معیشت اور مالیات ·کیمیاء اور معدنیات ·کمپیوٹر ·ثقافت و سماج ·تعلیم ·انجینئری اور ٹیکنالوجی ·کھانا اور پینا ·جغرافیہ اور مقامات ·ارضیات، ارضی طبیعیات اور موسمیات ·صحت و طب ·تاریخ ·زبان و لسانیات ·قانون ·ادب اور فن کدہ ·ریاضیات ·شامہ میان (میڈیا) ·موسیقی ·فلسفہء اور نفسیات ·طبیعیات و فلکیات ·سیاسیات و حکومت ·مذہب، عقیدہ اور ضعف الاعتقاد ·شاہی، شریف اور حسب نسب ·کھیل اور تعمیری سرگرمیاں ·نقل و حمل ·بصری کھیل ·جنگ و جدل

2023/ہفتہ 01 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 01

2023/ہفتہ 02 [ترمیم]
Nicosia Collage.png

نیکوسیا (یونانی: Λευκωσία لیفکوسیا) قبرص کا سب سے بڑا شہر اور میساوریا میدانی علاقہ کے تقریباً وسط میں دریائے پیدیوس کے کنارے پر واقع حکومت قبرص کا دار الحکومت ہے۔ یہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں انتہائی جنوب مشرقی دار الحکومت ہے۔ یہ شہر 4،500 برسوں سے مسلسل آباد ہے اور دسویں صدی سے قبرص کا دار الحکومت چلا آرہا ہے۔ قبرص بحران 1955–64ء کے بعد سے ترک قبرصی اور یونانی قبرصی شہر کی تقسیم کے بعد شہر کے شمالی اور جنوبی الگ الگ حصوں میں آباد ہیں۔ 1974ء میں ترکی کے قبرص کے حملے کے بعد شہر کے درمیان میں ایک عسکری خط اخضر قائم ہے جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہے۔ اس تقسیم کے بعد نیکوسیا کا جنوبی حصہ جمہوریہ قبرص کا دار الحکومت اور شمالی قبرص ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا دار الحکومت ہے۔

قانون سازی اور انتظامی افعال کے علاوہ نیکوسیا نے خود کو جزیرے کے اقتصادی دار الحکومت اور اہم بین الاقوامی کاروباری مرکز کے طور پر بھی منوایا ہے۔ 2018ء میں نیکوسیا دنیا کے تقابل میں قوت خرید میں بتیسواں امیر ترین شہر تھا۔ دیوار برلن کے خاتمے کے بعد نیکوسیا دنیا کا واحد منقسم دار الحکومت ہے۔

2023/ہفتہ 03 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 03

2023/ہفتہ 04 [ترمیم]
Collage of places in Lucknow.jpg

لکھنؤ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کا دار الحکومت اور اردو کا قدیم گہوارہ ہے نیز اسے مشرقی تہذیب و تمدن کی آماجگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں لکھنؤ ضلع اور لکھنؤ منڈل کا انتظامی صدر دفتر موجود ہے۔ لکھنؤ شہر اپنی نزاکت، تہذیب و تمدن، کثیر الثقافتی خوبیوں، دسہری آم کے باغوں اور چکن کی کڑھائی کے کام کے لیے معروف ہے۔ سنہ 2006ء میں اس کی آبادی 2،541،101 اور شرح خواندگی 68.63 فیصد تھی۔ حکومت ہند کی 2001ء کی مردم شماری، سماجی اقتصادی اشاریہ اور بنیادی سہولت اشاریہ کے مطابق لکھنؤ ضلع اقلیتوں کی گنجان آبادی والا ضلع ہے۔ کانپور کے بعد یہ شہر اتر پردیش کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ شہر کے درمیان میں دریائے گومتی بہتا ہے جو لکھنؤ کی ثقافت کا بھی ایک حصہ ہے۔

لکھنؤ اس خطے میں واقع ہے جسے ماضی میں اودھ کہا جاتا تھا۔ لکھنؤ ہمیشہ سے ایک کثیر الثقافتی شہر رہا ہے۔ یہاں کے حکمرانوں اور نوابوں نے انسانی آداب، خوبصورت باغات، شاعری، موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کی خوب پذیرائی کی۔ لکھنؤ نوابوں کا شہر بھی کہلاتا ہے نیز اسے مشرق کا سنہری شہر اور شیراز ہند بھی کہتے ہیں۔ آج کا لکھنؤ ایک ترقی پذیر شہر ہے جس میں اقتصادی ترقی دکھائی دیتی ہے اور یہ بھارت کے تیزی سے بڑھ رہےبالائی غیر میٹرو پندرہ شہروں میں سے ایک ہے۔ لکھنؤ ہندی اور اردو ادب کے مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ اردو بولتے ہیں۔ یہاں کا لکھنوی انداز گفتگو مشہور زمانہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہندی اور انگریزی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔

2023/ہفتہ 05 [ترمیم]
Cairo at night ..jpg

قاہرہ مصر کا دار الحکومت اور افریقہ، عرب دنیا اور مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا شہری مجموعہ ہے۔ قاہرہ کبری میٹروپولیٹن علاقہ، جس کی آبادی 21.9 ملین ہے، آبادی کے لحاظ سے دنیا کا بارہواں بڑا میگا شہر ہے۔ قاہرہ کا تعلق قدیم مصر سے ہے، کیونکہ اہرامات جیزہ اور قدیم شہر ممفس اور عين شمس اس کے جغرافیائی علاقے میں واقع ہیں۔ نیل ڈیلٹا کے قریب واقع، شہر سب سے پہلے فسطاط کے طور پر آباد ہوا، ایک بستی جس کی بنیاد مسلمانوں کی فتح مصر کے بعد 640ء میں ایک موجودہ قدیم رومی قلعے، بابلیون کے ساتھ رکھی گئی تھی۔ دولت فاطمیہ کے تحت 969ء میں قریب ہی ایک نئے شہر القاہرہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس نے بعد میں ایوبی سلطنت اور سلطنت مملوک (مصر) ادوار (بارہویں-سولہویں صدی) کے دوران میں فسطاط کو مرکزی شہری مرکز کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔ قاہرہ طویل عرصے سے اس خطے کی سیاسی اور ثقافتی زندگی کا مرکز رہا ہے، اور اسلامی فن تعمیر کی پیش رفت کی وجہ سے اسے "ہزار میناروں کا شہر" کا عنوان دیا گیا ہے۔ قاہرہ کے تاریخی مرکز (قاہرہ المعز) کو 1979ء میں یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ دیا گیا۔

2023/ہفتہ 06 [ترمیم]

ابو ہذیل زفر بن حارث کلابی ( متوفی: ت 694–695ء) ایک مسلمان سپہ سالار، عرب قبیلہ بنو عامر کے سردار، اور 7ویں صدی کے اواخر میں قبیلۂ قیس کی سیاسی جماعت کے ممتاز قائد تھے۔ پہلی مسلم خانہ جنگی کے دوران میں انھوں نے 656ء میں بصرہ کے قریب جنگ جمل میں خلیفہ علی کی افواج کے خلاف عائشہ کی فوج میں اپنے قبیلے کی کمانڈ کی۔ اگلے سال، وہ عراق سے جزیرہ (جزیرہ فرات) چلے گئے اور جنگ صفین میں علی ابن ابی طالب کے خلاف خلافت امویہ کے مستقبل کے بانی معاویہ بن ابو سفیان کے ماتحت جنگ لڑی۔ دوسری مسلم خانہ جنگی کے دوران میں انھوں نے معاویہ کے بیٹے، خلیفہ یزید اول (د. 680–683ء) کی خدمت کی، جنھوں نے 683ء کی جنگ حرہ میں اموی مخالف باغیوں کے خلاف جند قنسرین کے دستوں کی قیادت کی۔

خانہ جنگی کے دوران یزید کی موت کے بعد، زفر نے بنو امیہ سے خلافت سلب کرنے کے لیے عبد اللہ بن زبیر کی سعی کی حمایت کی، قنسرین کے اموی گورنر کو بے دخل کر دیا اور دمشق کے زبیر نواز گورنر، ضحاک بن قیس فہری کی حمایت کے لیے قیسی افواج کو روانہ کیا۔ 684ء کی جنگ مرج راہط میں، قیس کو امویوں اور ان کے قبائلی اتحادی بنو کلب، قیس کے حریفوں نے کچل دیا اور ضحاک کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد، زفر نے قرقیسیا کے جزیران قصبے میں صدر دفتر قائم کیا اور قیس قبیلوں کی کلب کے خلاف قیادت کی، صحرائے شام میں مؤخر الذکر کے خلاف کئی چھاپے مارے۔ 688 تا 689ء، وہ اپنے تنازعات کو ٹھیک کرنے کی سابقہ ​​کوششوں کے باوجود، بنو سلیم کے اپنے قیسی اتحادی عمیر بن حباب کی حمایت میں قبیلۂ تغلب کے ساتھ تنازع میں الجھ گئے۔ 685 تا 691ء قرقیسیا کے تین محاصروں کی مزاحمت کرنے کے بعد، زفر نے اموی خلیفہ عبد الملک (د. 685–705ء) کے ساتھ صلح پر بات چیت کی۔ زفر نے ابن زبیر کے قیدیوں کو اموی دربار اور فوج میں مراعات کے بدلے میں چھوڑ دیا اور اپنے ان قیسی حواریوں کو معافی اور نقد رقم دے دی، جو اموی فوج میں شامل ہو گئے تھے۔ خلیفہ کے بیٹے مسلمہ سے زفر کی بیٹی رباب کے نکاح سے صلح ہو گئی۔

عبد الملک کے جانشینوں کے تحت، زفر کی اولاد کو اموی حکومت میں اس کے اعلیٰ مقام اور وقار کے ساتھ ساتھ قیس میں اپنی برتری حاصل ہوئی۔ 750ء میں، ان کے پوتے ابو الورد نے، امویوں کے جانشین عباسیوں کے خلاف قیسی بغاوت کی قیادت کی، جس میں وہ اور ان کے خاندان کے کئی افراد مارے گئے۔

2023/ہفتہ 07 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 07

2023/ہفتہ 08 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 08

2023/ہفتہ 09 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 09

2023/ہفتہ 10 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 10

2023/ہفتہ 11 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 11

2023/ہفتہ 12 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 12

2023/ہفتہ 13 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 13

2023/ہفتہ 14 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 14

2023/ہفتہ 15 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 15

2023/ہفتہ 16 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 16

2023/ہفتہ 17 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 17

2023/ہفتہ 18 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 18

2023/ہفتہ 19 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 19

2023/ہفتہ 20 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 20

2023/ہفتہ 21 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 21

2023/ہفتہ 22 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 22

2023/ہفتہ 23 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 23

2023/ہفتہ 24 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 24

2023/ہفتہ 25 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 25

2023/ہفتہ 26 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 26

2023/ہفتہ 27 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 27

2023/ہفتہ 28 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 28

2023/ہفتہ 29 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 29

2023/ہفتہ 30 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 30

2023/ہفتہ 31 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 31

2023/ہفتہ 32 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 32

2023/ہفتہ 33 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 33

2023/ہفتہ 34 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 34

2023/ہفتہ 35 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 35

2023/ہفتہ 36 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 36

2023/ہفتہ 37 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 37

2023/ہفتہ 38 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 38

2023/ہفتہ 39 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 39

2023/ہفتہ 40 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 40

2023/ہفتہ 41 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 41

2023/ہفتہ 42 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 42

2023/ہفتہ 43 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 43

2023/ہفتہ 44 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 44

2023/ہفتہ 45 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 45

2023/ہفتہ 46 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 46

2023/ہفتہ 47 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 47

2023/ہفتہ 48 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 48

2023/ہفتہ 49 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 49

2023/ہفتہ 50 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 50

2023/ہفتہ 51 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 51

2023/ہفتہ 52 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 52

2023/ہفتہ 52 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2023/ہفتہ 52