ویکیپیڈیا:منتخب مضامین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ویکیپیڈیا کے منتخب مضامین

یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔

منتخب مضامین ویکیپیڈیا کے بہترین ترین مضامین کو کہا جاتا ہے، جیسا کہ انداز مقالات میں واضح کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہ مضمون کو اس فہرست میں شامل کیا جائے، مضامین پر نظرِ ثانی کے لئے امیدوار برائے منتخب مضمون میں شاملِ فہرست کیا جاتا ہے تاکہ مضمون کی صحت، غیرجانبداری، جامعیت اور انداز مقالات کی جانچ منتخب مضون کے معیار کے مطابق کی جاسکے۔ فی الوقت اردو ویکیپیڈیا پر 75 ہزاز سے زائد مضامین میں سے بہت کم منتخب مضامین موجود ہیں۔ جو مضامین منتخب مضمون کو درکار صفات کے حامل نہیں ہوتے، اُن کو امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ اُن میں مطلوبہ بہتری پیدا کی جاسکے اور اُس کے بعد جب وہ تمام تر خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہوجاتی ہیں تو اُنہیں دوبارہ امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ مضمون کے بائیں جانب بالائی حصے پر موجود کانسی کا یہ چھوٹا سا ستارہ (یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔۔) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔مزید برآں یکہ اگر کوئی مضمون بیک وقت کئی زبانوں میں منتخب مضمون کی حیثیت حاصل کرچکا ہے تو اسی طرح کا چھوٹا ستارہ دیگر زبانوں کے آن لائن پر دائیں جانب اُس زبان کے نام کے ساتھ نظر آئے گا۔

  • مضمون کے منتخب ہونے پر {{امیدوار برائے منتخب مضمون}} کا سانچہ ہٹا کر {{منتخب مقالہ}} سانچہ کا اندراج کر دیا جائے۔
مختصرراہ:
وپ:منتخب مضامین

منتخب مواد:

آلات منتخب مضمون:


مجموعات

·فنون، فنِ تعمیر اور آثارِ قدیمہ ·اعزاز،سجاوٹ اور امتیازیات ·حیاتیات ·تجارت، معیشت اور مالیات ·کیمیاء اور معدنیات ·کمپیوٹر ·ثقافت و سماج ·تعلیم ·انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی ·کھانا اور پینا ·جغرافیہ اور مقامات ·ارضیات، ارضی طبیعیات اور موسمیات ·صحت و طب ·تاریخ ·زبان و لسانیات ·قانون ·ادب اور فن کدہ ·ریاضیات ·شامہ میان (میڈیا) ·موسیقی ·فلسفہء اور نفسیات ·طبیعیات و فلکیات ·سیاسیات و حکومت ·مذہب، عقیدہ اور ضعف الاعتقاد ·شاہی، شریف اور حسب نسب ·کھیل اور تعمیری سرگرمیاں ·نقل و حمل ·بصری کھیل ·جنگ و جدل

2017/ہفتہ 06 [ترمیم]
Saladin2.jpg

سلطان صلاح الدین یوسف بن ایوب ایوبی سلطنت ( کر دی ناوندی : سەلاحەدینی ئەییووبی / کر دی کرمانجی : Selahedînê Eyûbî )کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں ۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار بکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنہوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔

سلطان صلاح الدین نسلاً کرد تھے اور 1138ء میں کردستان کے اس حصے میں پیدا ہوۓ جو اب عراق میں شامل ہے ۔ شروع میں وہ سلطان نور الدین زنگی کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر کوہ صلاح الدین کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے کے بعد صلاح الدین کو 564ھ میں مصر کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ھ میں انہوں نے یمن بھی فتح کرلیا۔ نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد صلاح الدین حکمرانی پر فائز ہوۓ۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 07 [ترمیم]
EmperorSuleiman.jpg

سلیمان اول (المعروف سلیمان قانونی اور سلیمان اعظم) سلطنت عثمانیہ کے دسویں فرمانروا تھے جنہوں نے 1520ء سے 1566ء تک 46 سال تک حکمرانی کے فرائض انجام دیئے۔ وہ بلاشبہ سلطنت عثمانیہ کے سب سے عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے بے مثل عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت پوری مملکت اسلامیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مملکت کے لئے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کا اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 08 [ترمیم]
میلکم ایکس

میلکم ایکس (پیدائشی نام: میلکم لٹل) جو الحاج ملک الشہباز کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں ایک سیاہ فام مسلمان اور نیشن آف اسلام کے قومی ترجمان تھے۔ وہ 19 مئی 1925ء کو امریکہ کی ریاست نیبراسکا میں پیدا ہوئے اور 21 فروری 1965ء کو نیو یارک شہر میں ایک قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوئے۔ وہ مسلم مسجد اور آرگنائزیشن آف ایفرو امریکن کمیونٹی کے بانی بھی تھے۔

ان کی زندگی میں کئی موڑ آئے اور وہ ایک منشیات فروش اور ڈاکو بننے کے بعد گرفتار ہوئے اور رہائی کے بعد امریکہ میں سیاہ فاموں کے حقوق کا علم بلند کیا اور دنیا بھر میں سیاہ فاموں کے سب سے مشہور رہنما بن گئے۔ بعد ازاں انہیں شہید اسلام اور نسلی برابری کے رہنما کہا گیا۔ وہ نسلی امتیاز کے خلاف دنیا کے سب سے بڑے انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر ابھرے۔

1964ء میں حج بیت اللہ کے بعد انہوں نے نیشن آف اسلام کو خیر باد کہہ دیا اور عام مسلمان کی حیثیت اختیار کر لی۔ اس کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں نیو یارک میں قتل کردیے گئے۔ نیشن آف اسلام کے تین کارکنوں کو ان کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا لیکن کہا جاتا ہے۔ امریکی حکومت کے بھی ان کے قتل کی سازش میں ملوث تھی۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 09 [ترمیم]

لکھنؤ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کا دار الحکومت اور اردو کا قدیم گہوارہ ہے نیز اسے مشرقی تہذیب و تمدن کی آماجگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں لکھنؤ ضلع اور لکھنؤ منڈل کا انتظامی صدر دفتر موجود ہے۔ لکھنؤ شہر اپنی نزاکت، تہذیب و تمدن، کثیر الثقافتی خوبیوں، دسہری آم کے باغوں اور چکن کی کڑھائی کے کام کے لیے معروف ہے۔ سنہ 2006ء میں اس کی آبادی 2،541،101 اور شرح خواندگی 68.63 فیصد تھی۔ حکومت ہند کی 2001ء کی مردم شماری، سماجی اقتصادی اشاریہ اور بنیادی سہولت اشاریہ کے مطابق لکھنؤ ضلع اقلیتوں کی گنجان آبادی والا ضلع ہے۔ کانپور کے بعد یہ شہر اتر پردیش کا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ شہر کے درمیان دریائے گومتی بہتا ہے جو لکھنؤ کی ثقافت کا بھی ایک حصہ ہے۔

لکھنؤ اس خطے میں واقع ہے جسے ماضی میں اودھ کہا جاتا تھا۔ لکھنؤ ہمیشہ سے ایک کثیر الثقافتی شہر رہا ہے۔ یہاں کے حکمرانوں اور نوابوں نے انسانی آداب، خوبصورت باغات، شاعری، موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کی خوب پذیرائی کی۔ لکھنؤ نوابوں کا شہر بھی کہلاتا ہے نیز اسے مشرق کا سنہری شہر اور شیراز ہند بھی کہتے ہیں۔ آج کا لکھنؤ ایک ترقی پذیر شہر ہے جس میں اقتصادی ترقی دکھائی دیتی ہے اور یہ بھارت کے تیزی سے بڑھ رہےبالائی غیر میٹرو پندرہ شہروں میں سے ایک ہے۔ لکھنؤ ہندی اور اردو ادب کے مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ اردو بولتے ہیں۔ یہاں کا لکھنوی انداز گفتگو مشہور زمانہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہندی اور انگریزی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 10 [ترمیم]

لاہور (پنجابی: لہور (شاہ مکھی): ਲਹੌਰ (گرمکھی)؛ ہندی: लाहौर؛ عربی: لاهور‎؛ فارسی: لاھور‎؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب پاکستان کا دار الحکومت اور دوسرا بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔

لاہور رابجان برابر خریدہ ایم جاں دارایم و جنت دیگر خریدہ ایم

لاہور کی انتہائی قدیم تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ پرانوں کے مطابق رام کے بیٹے راجہ لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک قلعہ بنوایا۔ دسویں صدی تک یہ شہر ہندو راجائوں کے زیرتسلط رہا۔ گیارہویں صدی میں سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا، اور لاہور کو اسلام سے روشناس کرایا۔ شہاب الدین غوری نے 1186ء میں لاہور کو فتح کیا۔ بعدازاں یہ خاندان غلاماں کے ہاتھوں میں آ گیا۔ 1290ء میں خلجی خاندان، 1320ء میں تغلق خاندان، 1414ء سید خاندان 1451ء لودھی خاندان کے تحت رہا۔

ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں ابراہیم لودھی کو شکست دی جس کے نتیجے میں مغلیہ سلطنت وجود میں آئی۔ مغلوں نے اپنے دور میں لاہور میں عظیم الشان عمارات تعمیر کروائیں اور کئی باغات لگوائے۔ اکبر اعظم نے شاہی قلعہ کو ازسرنو تعمیر کروایا۔ شاہجہان نے شالامار باغ تعمیر کروایا جو اپنی مثال آپ ہے۔ 1646ء میں شہزادی جہاں آرا نے دریائے راوی کے کنارے چوبرجی باغ تعمیر کروایا جس کا بیرونی دروازہ آج بھی موجود ہے۔ 1673ء میںاورنگزیب عالمگیر نے شاہی قلعہ کے سامنے بادشاہی مسجد تعمیر کروائی۔

1739ء میں نادر شاہ اور 1751ء میں احمد شاہ ابدالی نے لاہور پر قبضہ جمایا۔ بعدازاں 1765ء میں سکھوں نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔ سکھ دور میں مغلیہ دور کی کئی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی۔ انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں کو شکست دیکر پنجاب کو برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا۔

لاہور کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم کے زیر صدارت میں قرارداد پاکستان منظور کی جس کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کو اپنا الگ آزاد ملک پاکستان حاصل ہوا۔ فروری 1974ء میں اس شہر نے دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی بھی کی۔

لاہور کے قریب شہر امرتسر، صرف 31 میل دور واقع ہے جو سکھوں کی مقدس ترین جگہ ہے۔ اسکے شمال اور مغرب میں ضلع شیخوپورہ، مشرق میں واہگہ اور جنوب میں ضلع قصور واقع ہیں۔ دریائے راوی لاہور کے شمال مغرب میں بہتا ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 11 [ترمیم]
دہلی

دہلی اور رسمی طور پر دہلی قومی دار الحکومتی علاقہ جسے مقامی طور پر دِلّی کہا جاتا ہے، بھارت کی دار الحکومتی عملداری ہے۔ یہ تین اطراف سے ہریانہ سے گھرا ہوا ہے جبکہ اس کے مشرق میں اتر پردیش واقع ہے۔ یہ بھارت کا مہنگا ترین شہر ہے۔ اس کا رقبہ 1،484 مربع کلومیٹر (573 مربع میل) ہے۔ 25 ملین آبادی پر مشتمل یہ شہر ممبئی کے بعد بھارت کا دوسرا اور دنیا کا تیسرا سب سے بڑا شہری علاقہ ہے۔ دہلی ممبئی کے بعد بھارت میں دوسرا امیر ترین شہر ہے، جس کے کل املاک 450 بلین امریکی ڈالر ہے اور یہ 18 ارب پتی اور 23000 کروڑ پتیوں کا مسکن بھی ہے۔

دریائے جمنا کے کنارے یہ شہر چھٹی صدی قبل مسیح سے آباد ہے۔ تاریخ میں یہ کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دار الحکومت رہا ہے جو کئی مرتبہ فتح ہوا، تباہ کیا گیا اور پھر بسایا گیا۔ سلطنت دہلی کے عروج کے ساتھ ہی یہ شہر ایک ثقافتی، تمدنی و تجارتی مرکز کے طور پر ابھرا۔ شہر میں عہد قدیم اور قرون وسطیٰ کی بے شمار یادگاریں اور آثار قدیمہ موجود ہیں۔ سلطنت دہلی کے زمانے کا قطب مینار اور مسجد قوت اسلام ہندوستان میں اسلامی طرز تعمیر کی شان و شوکت کے نمایاں مظاہر ہیں۔ عہد مغلیہ میں جلال الدین اکبر نے دارالحکومت آگرہ سے دہلی منتقل کیا، بعد ازاں 1639ء میں شاہجہاں نے دہلی میں ایک نیا شہر قائم کیا جو 1649ء سے 1857ء تک مغلیہ سلطنت کا دار الحکومت رہا۔ یہ شہر شاہجہاں آباد کہلاتا تھا جسے اب پرانی دلی کہا جاتا ہے۔ غدر (جنگ آزادی 1857ء) سے قبل برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر چکی تھی اور برطانوی راج کے دوران میں کلکتہ کو دار الحکومت کی حیثیت حاصل تھی۔ بالآخر جارج پنجم نے 1911ء میں دار الحکومت کی دہلی منتقلی کا اعلان کیا اور 1920ء کی دہائی میں قدیم شہر کے جنوب میں ایک نیا شہر "نئی دہلی" بسایا گیا۔

1947ء میں آزادئ ہند کے بعد نئی دہلی کو بھارت کا دار الحکومت قرار دیا گیا۔ شہر میں بھارتی پارلیمان سمیت وفاقی حکومت کے اہم دفاتر واقع ہیں۔ 1991ء میں بھارت کے آئین کی 69 ویں ترمیم کے مطابق دہلی کو خصوصی درجہ قومی دارالحکومت علاقہ عطا کیا گیا ہے۔ قومی دار الحکومتی علاقہ میں قریبی شہر فریدآباد، گرگاؤں، نوئیڈا، غازی آباد، فرید آباد عظمی، گریٹر نوئیڈا، بہادرگڑھ، سونی پت، پانی پت، کرنال، روہتک، بھیوانی، ریواڑی، باغپت، میرٹھ، مظفر نگر، الوار، بھرت پور بھی شامل ہیں۔ موجودہ دور میں دہلی بھارت کا اہم ثقافتی، سیاسی و تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 12 [ترمیم]
نوعمرچکری پر کام کرنے والا

پنجابی لوگ ہمہ اقسام کھیل کھیلتے ہیں۔ ان میں ہاکی اور کرکٹ سے لے کر کبڈی، کشتیاں اور کھدو کھوندی (ہاکی سے مشابہ کھیل) شامل ہیں۔ پنجاب میں 100 سے زائد روایتی کھیل موجود ہیں۔ بھارتی پنجاب کے لوگ کھیلوں میں خاص طور پر توجہ دیتے ہیں۔ اس کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس چھوٹی سی ریاست میں 845 کھلاڑی ریاست کے محکمہ کھیل کے قائم کردہ مختلف کھیلوں کے تربیتی مراکز کے تحت کھیلوں پر اپنی پکڑ مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ اپریل 2015ء میں حکومت پنجاب نے اسپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے ریاستی کھیلوں کی سہولتوں اور تربیتی مراکز میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ماہرین کے مطابق سرکاری سطح پر تربیت یافتہ کھلاڑیوں کی تعداد آنے والے کچھ سالوں میں 1300 سے تجاوز کر جائے گی۔ اس سے ریاست میں کھیل کے پروان کے لیے زندہ تہذیب اور عوام میں کھیلوں کی جانب رغبت کا اندازہ ہوتا ہے۔

پنجاب کے روایتی کھیلوں کے فروغ کے لیے بھارتی پنجاب کی ریاستی حکومت 2014ء سے پنجاب کے روایتی کھیلوں کو فروغ دینے کے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کھیلوں میں کشتیاں جیسا ریاستی کھیل بھی شامل ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 13 [ترمیم]
Al-Shafie Name.png

محمد بن ادریس شافعی جو امام شافعی کے لقب سے معروف ہیں، سنی فقہی مذہب شافعی کے بانی ہیں۔ آپ کے فقہی پیروکاروں کو شافعی (جمع شوافع) کہتے ہیں۔ آپ کا عرصہ حیات مسلم دنیا کے عروج کا دور یعنی اسلامی عہد زریں ہے۔ خلافت عباسیہ کے زمانہ عروج میں مسلک شافعی کا بول بالا بغداد اور بعد ازاں مصر سے عام ہوا۔ 150ھ میں متولد ہوئے اور 204ھ میں فوت ہوئے۔ مذہب شافعی کے پیروکار زیادہ تر مشرقی مصر، صومالیہ، ارتریا، ایتھوپیا، جبوتی، سواحلی ساحل، یمن، مشرق وسطیٰ کے کرد علاقوں میں، داغستان، فلسطین، لبنان، چیچنیا، قفقاز، انڈونیشیا، ملائیشیا، سری لنکا کے کچھ ساحلی علاقوں میں، مالدیپ، سنگاپور، بھارت کے مسلم علاقوں، میانمار، تھائی لینڈ، برونائی اور فلپائن میں پائے جاتے ہیں۔

مشہور روایات کے مطابق امام شافعی کی ولادت ماہِ رجب 150ھ مطابق ماہِ اگست 767ء میں بمقام غزہ بلاد الشام (موجودہفلسطین) میں ہوئی۔ ربیع بن سلیمان مرادی کہتے ہیں کہ: امام شافعی اُس سال پیدا ہوئے جس سال امام ابوحنیفہ فوت ہوئے۔ امام شافعی کا اپنا قول ہے کہ میری ولادت 150ھ میں ملک شام کے شہر غزہ میں ہوئی اور 2 سال کی عمر میں مجھے مکہ لایا گیا، یعنی 152ھ مطابق 769ء میں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں عسقلان میں پیدا ہوا اور دو سال کا ہوا تو میری والدہ مجھے مکہ کے آئیں۔

2017/ہفتہ 14 [ترمیم]

لفظ تفسیر عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ فسر ہے۔ یہ باب تفعیل کا مصدر ہے اس کے معنی ہیں واضح کرنا، کھول کر بیان کرنا، وضاحت کرنا، مراد بتانا اور بے حجاب کرنا کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں مسلمان قرآن کی تشریح و وضاحت کے علم کو تفسیر کہتے ہیں اور تفسیر کرنے والے کو مفسر۔ ایک عربی روۓ خط لغت میں [ لفظ فسر] کا اندراج۔ اسی عربی لفظ فسر سے ، اردو زبان میں ، تفسیر کے ساتھ ساتھ ديگر متعلقہ الفاظ بھی بناۓ جاتے ہیں جیسے؛ مُفسَر ، مُفَسِّر اور مُفَسّر وغیرہ ایک اردو لغت میں [ مُفسَر]، [ مُفَسِّر] اور [ مُفَسّــَر] کا اندراج۔ ۔ تفسیر کی جمع تفاسیر کی جاتی ہے اور مفسر کی جمع مفسرین آتی ہے۔

لغوی معنی

تفسیر کا مادہ ف-س-ر=فسر ہے اور اس مادہ سے جو الفاظ بنتے ہیں۔ ان سے بالعموم شرح و ایضاح کے معنی شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ فَسّرَ (ماضی) کے مصدری معنی ہیں: واضح کرنا، تشریح کرنا، مراد بتانا، پردا ہٹانا۔ جبکہ اسی سے تفسیر ہے کیونکہ اس میں بھی عبارت کھول کر معانی کی وضاحت کی جاتی ہے۔

تعریف

وہ علم جس سے قرآن کو سمجھا جاتا ہے۔ اس علم سے قرآن کے معانی کا بیان، اس کے استخراج کا بیان، اس کے احکام کا استخراج معلوم کیا جاتا ہے۔اور اس سلسلے میں لغت، نحو، صرف، معانی و بیان وغیرہ سے مدد لی جاتی ہے۔ اس میں اسباب نزول ، ناسخ و منسوخ سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ علامہ امبہانی کہتے ہیں: تفسیر اصطلاح علماء میں قرآن کریم کے معانی اور اس کی مراد کو واضح کرنے اور بیان کرنے کو کہتے ہیں، خواہ باعتبار حل الفاظ مشکل ہو یا باعتبار معنی ظاہر ہو یا خفی اور تاویل کلام تام اور جملوں کا مفہوم متعین کرنے کو کہتے ہیں۔ امام ماتریدی کے نزدیک: تفسیر اس یقین کا نام ہے کہ لفظ سے یہی مراد اور اس قدر یقین ہو کہ خدا کو شاہد ٹھہرا کر کہا جائے کا خدا نے یہی مراد لیا ہے۔ اور تاویل یہ ہے کہ چند احتمالات میں سے کسی ایک کو یقین اور شہادت الہی کے بغیر ترجیح دی جائے۔ امام ابو نصر القشیری کہتے ہیں کہ تفسیر موقوف ہے سماع اور اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر۔علامہ ابو طالب شعلبی کہتے ہیں: تفسیر کےمعنی لفظ کی وضع کا بیان کر دینا ہے، خواہ وہ حقیقت ہویا مجاز، مثلا صراط کے معنی راستہ، صیب کے معنی بارش، اور کفر کے معنی انکار۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 15 [ترمیم]
Varanasi collage.png

وارانسی (ہندی: वाराणसी؛ جسے بنارس بھی کہا جاتا ہے) بھارت کی ریاست اتر پردیش کا ایک تاریخی شہر ہے۔ اس کا ایک اور معروف نام کاشی بھی ہے۔ دریائے گنگا کے بائیں کنارے آباد ہے۔ اصل نام وارانسی ہے جو بگڑ کر بنارس ہوگیا۔ ہندوؤں کے نزدیک بہت متبرک شہر ہے۔ یہاں ایک سو سے زائد مندر ہیں۔ ہر سال تقریباً دس لاکھ یاتری یہاں اشنان کے لیے آتے ہیں۔ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی تعمیر کردہ مسجد اسلامی دور کی بہترین یادگار ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی جو 1916ء میں قائم کی گئی تھی بہت بڑی درس گاہ ہے۔ اس میں سنسکرت کی تعلیم کا خاص انتظام ہے۔ ہندومت کے علاوہ بدھ مت اور جین مت میں بھی اسے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

وارانسی کی ثقافت اور دریائے گنگا کا انتہائی اہم مذہبی رشتہ ہے۔ یہ شہر صدیوں سے ہندوستان بالخصوص شمالی ہندوستان کا ثقافتی اور مذہبی مرکز رہا ہے۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا بنارس گھرانا وارانسی سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ بھارت کے کئی فلسفی، شاعر، مصنف، وارانسی ہیں، جن میں کبیر، رویداس، مالک رامانند، شوانند گوسوامی، منشی پریم چند، جيشكر پرساد، آچاریہ رام چندر شکلا، پنڈت روی شنکر، پنڈت ہری پرساد چورسیا اور استاد بسم اللہ خان کچھ اہم نام ہیں۔ یہاں کے لوگ بھوجپوری بولتے ہیں جو ہندی کا ہی ایک لہجہ ہے۔ وارانسی کو اکثر مندروں کا شہر، ہندوستان کا مذہبی دار الحکومت، بھگوان شو کی نگری، ديپوں کا شہر، علم نگری وغیرہ جیسے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ مشہور امریکی مصنف مارک ٹوین لکھتا ہے "بنارس تاریخ سے بھی قدیم ہے، روایات سے بھی پرانا ہے"۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 16 [ترمیم]
Wazir khan mosque entry.jpg

مسجد وزیر خان شہر لاہور میں دہلی دروازہ، چوک رنگ محل اور موچی دروازہ سے تقریباً ایک فرلانگ کی دوری پر واقع ہے۔یہ مسجد نقش ونگار میں کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔علم الدین انصاری جو عام طور پر نواب وزیر خان کے نام سے جانے جاتے ہیں سلطنت مغلیہ کے عہد شاہجہانی میں لاہور شہر کے گورنر تھے اور یہ مسجد انہی کے نام سے منسوب ہے۔ مسجد کی بیرونی جانب ایک وسیع سرائے ہے جسے چوک وزیر خان کہا جاتا ہے۔ چوک کے تین محرابی دروازے ہیں۔ اول مشرقی جانب چٹا دروازہ، دوم شمالی جانب راجہ دینا ناتھ کی حویلی سے منسلک دروازہ، سوم شمالی زینے کا نزدیکی دروازہ-مسجد کے مینار 107 فٹ اونچے ہیں۔اس مسجد کی تعمیر دسمبر 1641ء میں سات سال کی طویل مدت کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچی۔مسجد وزیر خان سلطنت مغلیہ کے عہد میں تعمیر کی جانے والی اب تک کی نفیس کاشی کار و کانسی کار خوبصورت مسجد ہے جو بادشاہی مسجد کی تعمیر سے 32 سال قبل (یعنی 1641ء میں) تکمیل کو پہنچی۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 17 [ترمیم]
Lion waiting in Namibia.jpg

ببر شیر جنس پینتھرا میں موجود پانچ بڑی بلیوں میں شامل خاندان گربہ کا رکن ہے۔افریقی شیروں کی عام مستعمل اصطلاح سے مراد افریقہ کی ذیلی ببرشیروں کی انواع (species) ہیں۔بعض شیروں کا وزن ڈھائی سو کلو گرام سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے اور اس لحاظ سے یہ شیرکے بعد دوسری بڑی بلی ہے۔جنگلی ببر شیر افریقا کے نیم صحارا علاقوں اور ایشیا (جو بھارتی گیر فورسٹ نیشنل پارک میں پائی جاتی ہے اور اس علاقے میں یہ معدومی کے خطرے سے دوچار ہے) جبکہ ببر شیروں کی دیگر انواع شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا سے بہت پہلے غائب ہوچکی ہیں۔آج سے دس ہزار سال قبل پیلسٹوسین ادوار کے اواخر میں ببر شیر ہی انسان کے بعد سب سے زیادہ خشکی کے رقبے پر پھیلا ہوا ممالیہ تھا۔ اس زمانے میں یہ تقریباً تمام افریقا، تمام یوریشیا مغربی یورپ سے ہندوستان اور امریکہ میں يوكون سے پیرو تک پایا جاتا تھا ۔ببر شیر معدومی کے خطرے سے دوچار جانور ہے، اور افریقی خطے میں بیسویں صدی کے دوسرے حصے میں اس کی آبادی میں 30 سے 50 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ۔شیروں کی آبادی قومی پارکوں اور غیر محفوظ علاقوں میں غیر مستحکم ثابت ہوتی ہے۔اگرچہ اس کے معدوم ہونے کی وجوہات مکمل طور پرسمجھی نہیں جاسکیں لیکن مسکن سے محروم ہونا اور انسان سے سامنا ہونا جیسے امور عہد حاضر میں خطرے کی اہم وجوہات میں سے ہیں۔ افریقہ میں مغربی افریقی ببر شیروں کی آبادی معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 18 [ترمیم]
Allah1.png

خدا کے نام ہر مذہب میں اور ہر زبان میں الگ الگ ہیں، خدا کی صفات تو عام طور پر ایک جیسی ہی ملتی ہیں، کہ وہ خالق ہے، مالک، ہے رز‍ق دینے والا، گناہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا اور دعا سننے والا۔ پھر بھی مختلف مذاہب میں خدا کی کچھ خصوصیات الگ ہیں دوسرے مذہب سے، جس وجہ سے اس مذہب میں خدا کا کچھ ناموں کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو باقی مذہب میں ملتا ہے۔ جیسے مسیحیت میں صلیبی موت کے عقیدے نے مسیح کو اکلوتا، بیٹا، روح القدس کا نام دیا کيا ہے۔ جبکہ اسلام میں خدا کے ناموں میں واحد ہے، جس کا معنی ہے کہ وہ صرف ایک ہے، اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ مسیحیت، یہودیت میں خدا کو یہوداہ، ایلوہیم، ایل، وہ، میں جو ہوں سو میں ہوں، جیسے نام بھی دیئے گئے۔ زبانوں کے فرق سے انسانوں نے اس مالک الملک ہستی کو کہیں اﷲ، کہیں ایشور، کہیں گاڈ، کہیں یہوواہ، کہیں اہور امزدا، کہیں زیوس ، کہیں یزداں، کہیں آمن ، کہیں پانکو اور کہیں تاؤ کا نام دیا۔ دنیا بھر کے مذہب میں مختلف زبانوں میں اس ہستی کے لیے بیسیوں نام پائے جاتے ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 19 [ترمیم]
خلیفہ عباسی ظاہر لدین اللہ کے عہد حکومت میں خوارزم شاہی سلطنت کے بادشاہ علاؤ الدین محمد خوارزم شاہ الثانی کا مضروب کردہ چاندی کا جیتل جو تالقان شہر موجودہ افغانستان میں ضرب کیا گیا۔

الناصر لدین اللہ خلافت عباسیہ کا چونتیسواں خلیفہ ہے جس کا عہد خلافت 575ھ سے 622ھ تک محیط ہے ۔ الناصر لدین اللہ خلافت عباسیہ کا وہ واحد حکمران خلیفہ ہے جس کا عہد حکومت ایک طویل عرصہ یعنی 47 سال قمری تقریباً تک قائم رہا ۔ اِس طویل عہد حکومت میں اسلامی حکومت کا دائرہ اِقتدار دوبارہ بلاد عراق و شام سے نکل ہر ہندوستان اور مغرب یعنی مراکش تک قائم ہوگیا۔ الناصر کے زمانہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا عہد حکومت بہت اہم ہے جبکہ اِسی زمانہ میں ہندوستان میں باقاعدہ طور پر خاندان غلاماں دہلی کی حکومت منظم انداز میں قائم ہوگئی جسے خلافت عباسیہ کی جانب سے سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی۔وہ المعتصم باللہ کے بعد پُرہیبت و جلال زدہ خلیفہ واقع ہوا جس کی ہیبت سے امرائے حکومت و وزرا اور سلاطین تک لرزہ براندام رہتے۔ الناصر کے عہد حکومت میں دوبارہ خلافت عباسیہ کی شان و شوکت قائم ہوگئی حتیٰ کہ 581ھ میں دوبارہ بلاد مغرب (مراکش) میں اُس کے نام کا خطبہ جاری ہوا۔ناصر کا زمانہ روشن جبیں اور طرہ تاج فخر تھا۔ خلیفہ ناصر کے عہد خلافت میں دنیائے اسلام میں دو اہم ترین واقعات رُونما ہوئے، اول تو 589ھ/ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے چھڑوایا اور 1189ء تا 1192ء تک تیسری صلیبی جنگ جاری رہی۔ دوم یہ کہ ناصر کے زمانہ میں تاتاریوں کا عظیم طوفان اُٹھا جس نے دنیائے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا اور کئی مسلم سلطنتیں اِن کے حملوں سے ختم ہوگئیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 20 [ترمیم]
غازی بیگ ترخان

میرزا غازی بیگ ترخان (پیدائش:996ھ - وفات: 11 صفر، 1021ھ بمطابق 13 اپریل، 1612ء) سترہویں صدی عیسوی کے ترک النسل، سندھ کے ترخان خاندان کے آخری خودمختار فرماں روا میرزا جانی بیگ ترخان کے فرزند، مغل سلطنت کی طرف سے سندھ (یعنی ٹھٹہ اور بکھر) اور بعد ازاں ملتان بھی ان کی جاگیر میں دے دیا گیا۔ مغل شہنشاہ نورالدین جہانگیر نے انہیں اپنا امیر اور پھر فرزندی کے رتبے پر فائز کیا۔ جہانگیر نے انہیں بغاوت کو کچلنے کے لیے قندھار کی مہم پر روانہ کیا۔ بغاوت کے خاتمے کے بعد انتظامی اصلاحات کے لیے جہانگیر نے میرزا غازی کو قندھار کا صوبہ دار مقرر کیا جہاں انہوں نے قندھار کا انتظامِ حکومت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔

میرزا غازی کا شمار فارسی کے قادر الکلام شُعرا میں ہوتاتھا، انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں بہت سے شُعرا و اُدَبا کی سرپرستی کی اور ان کا دربار ہمیشہ شُعرا و اُدَبا سے بھرا رہتا تھا، جن میں نامور شاعر طالب آملی (جو بعد میں جہانگیری دربار کا ملک الشعرا بنا)، معروف مؤرخ اور تاریخ طاہری کے مؤلف میر طاہر محمد نسیانی ٹھٹوی، ملا اسد قصہ خوان، نامور شاعر ملا شیدا اصفہانی، میر بزرگ بن میر محمد معصوم بکھری، شمسائی زریں رقم، میر عبدالباقی، ملا شانی تکلو وغیرہ خاص طور پر مشہور و معروف ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 21 [ترمیم]
Old City (Jerusalem).jpg

قدیم شہر (انگریزی: Old City, عبرانی: העיר העתיקה‎, Ha'Ir Ha'Atiqah, عربی: البلدة القديمة‎, al-Balda al-Qadimah, آرمینیائی: Երուսաղեմի հին քաղաք, Yerusaghemi hin k'aghak' ) دیوار بند 0.9 مربع کلومیٹر (0:35 مربع میل) پر محیط علاقہ ہے، جو جدید شہر یروشلم میں واقع ہے۔

عہد نامہ قدیم کے مطابق گیارہویں صدی قبل مسیح میں داؤد علیہ السلام کے شہر کی فتح سے قبل یہاں یبوسی قوم آباد تھی۔ عہد نامہ قدیم کے مطابق یہ مضبوط دیواروں کے ساتھ قلعہ بند شہر تھا۔ داؤد علیہ السلام جس قدیم شہر پر حکومت کرتے تھے جسے شہر داؤد (City of David) کہا جاتا ہے، موجودہ شہر کی جنوب مشرق دیواروں کی طرف باب مغاربہ سے باہر تھا۔ داؤد علیہ السلام کے بیٹے سليمان علیہ السلام نے شہر کو وسعت دی۔ فارسی سلطنت کے دور میں 440 قبل مسیح میں نحمیا نے بابل سے واپسی پر شہر کی تعمیر نو کی۔ 41-44 عیسوی میںیہودیہ کے ہیرودیس اغریپا نے ایک نئی دیوار تعمیر کی جسے تیسری دیوار (Third Wall) کہا جاتا ہے۔

مسلمانوں نے خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے تحت ساتویں صدی (637 عیسوی) میں یروشلم فتح کیا۔ سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے یروشلم کا سفر کیا۔ حضرت عمر نے سوفرونیئس کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ کلیسائے مقبرہ مقدس کے دورہ کے دوران نماز کا وقت آ گیا، اور سوفرونیئس نے حضرت عمر کو کلیسا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن حضرت عمر نے کلیسا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلیسا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔ خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر کو پیش کی گئیں۔ اس پیشکش کو انکار نہ کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں، اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی کلیسا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔ 1193ء میں اس واقعہ کی یاد میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے ایک مسجد تعمیر کروائی جس کا نام مسجد عمر ہے۔ بعد ازاں عثمانی سلطان عبد المجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔

1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران یہ مغربی عیسائی فوج کے قبضے میں چلا گیا۔ 2 اکتوبر، 1187 کو صلاح الدین ایوبی نےاسے دوبارہ فتح کیا۔ اس نے یہودیوں کو طلب کیا اور شہر میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی۔

1219ء میں ایوبی خاندان کے سلطان دمشق المعظم عیسی شرف الدین نے شہر کی دیواروں کو مسمار کروا دیا۔1229ء میں یروشلم معاہدہ مصر تک تحت یہ فریڈرک دوم کے ہاتھوں میں چلا گیا، جس نے 1239ء میں دیواریں دوبارہ تعمیر کروائیں، لیکن انہیں امیر کرک نے دوبارہ مسمار کر دیا۔ 1243ء میں یروشلم دوبارہ عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا، جنہوں نے دیواروں کی دوبارہ مرمت کی۔ خوارزمی تاتاریوں نے 1244ء میں شہر پر قبضہ کرنے کے بعد دیواریں ایک بار پھر مسمار کر دیں۔

قدیم شہر کی موجودہ دیواریں سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیمان اول نے تعمیر کروائیں۔ دیواروں کی لمبائی تقریباً 4.5 کلومیٹر (2.8 میل)، اور اونچائی میں 5 سے 15 میٹر (16 سے 49 فٹ) کا اضافہ کیا، اسکی موٹائی 3 میٹر (10 فٹ) ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 22 [ترمیم]
موئن جو دڑو

موئن جو دڑو (سندھی:موئن جو دڙو اور اردو میں عموماً موہنجوداڑو بھی؛ انگریزی: Mohenjo-daro) وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی وادی سندھ کی تہذیب کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ صوبہ پنجاب سے 686 میل دور ہے یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم ہوگیا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اسے قدیم مصر اور بین النہرین کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے۔ 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کرار دیا۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 23 [ترمیم]
لاکھوں لوگ اربعین کے موقع پر حرم امام حسین، کربلا،عراق میں موجود ہیں

واقعہ کربلا، جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے امام حسین ابن علی اور ان کے رشتہ دار اور غلاموں کو 10 محرم الحرام، 61ھ میں عراق کے شہر کربلا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بے دردی سے شہید کیا گيا۔ اس واقعہ نے آنے والی صدیوں میں مسلمانوں پر ڈھیروں دور رس اثرات مرتب کیے۔ جو ہنوز جاری ہیں۔ واقعہ کربلا کے پس منظر، عوامل اور تفصیلات میں تاریخی بنیادوں پر اہل سنت و جماعت اور اہل تشیع کے درمیان کئی باتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ یہ واقعہ 10 محرم 61 ھ کو کربلا میں پیش آیا، اور اس میں امام حسین، اہل بیت اور اصحاب کو قتل کیا گیا۔ اس مضمون میں واقعہ کربلا کے اعداد و شمار بیان کئے گئے ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 24 [ترمیم]
سر سید احمد خان

سید احمد بن متقی خان (7 اکتوبر 1817ء - 27 مارچ 1898ء) جنہیں عام طور پر سر سید کہا جاتا ہے ایک انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریۂ عملیت کے حامل ، اور فلسفی تھے۔ سر سید احمد خان ایک نبیل گھرانے میں پیدا ہوئے جس کے مغل دربار کے ساتھ مضبوط تعلقات تھے۔ سر سید نے قرآن اور سائنس کی تعلیم دربار میں ہی حاصل کی جس کے بعد انہوں نے ولالت کی اعزازی ڈگری یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے عطا کی گئی۔

1838ء میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور 1867ء وہ چھوٹے مقدمات کے لیے جج مقرر کئے گئے۔ 1876ء میں وہ ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔1857ء کی جنگ آزادی کے دوران وہ سلطنت برطانیہ کے وفادار رہے، اور یورپیوں جانیں بچانے میں ان کا کردار کی ستائش کی گئی۔ بغاوت ختم ہونے کے بعد انہوں نے اسباب بغاوب ہند پر ایک رسالہ لکھا جس میں رعایائے ہندوستان کو اور خاص کر مسلمانوں کو بغاوت کے الزام سے بری کیا۔ مسلمانوں کے دقیانوسی اور راسخ الاعتقاد طرز کو ان کے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے، سرسید نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا۔

1859ء میں سر سید نے مرادآباد میں گلشن اسکول، 1863ء میں غازی پور میں وکٹوریہ اسکول اور 1864ء میں سائنسی سوسائٹی برائے مسلمانان قائم کی۔ 1875ء میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج جو جنوبی ایشیا میں پہلی مسلم یونیورسٹی بنا۔ اپنے کیریئر کے دوران سر سید نے بار بار مسلمانوں کو سلطنت برطانیہ سے وفاداری پر زور دیا اور تمام ہندوستانی مسلمانوں کو اردو کو بطور زبانِ رابطۂ عامہ اپنانے کی کوشش کی۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے گہری تنقید کا نشانہ بنے۔

سر سید کو پاکستان اور بھارتی مسلمانوں میں ایک موثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اکثر دو قومی نظریہ کا بانی تصور کیا جاتا ہے جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی نظریاتی بنیاد بنا۔ انہوں نے دیگر مسلم رہنماؤں بشمول محمد اقبال اور محمد علی جناح کو بھی متاثر کیا۔ سر سید کی اسلام کو سائنس اور جدیدیت کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کے لئے عقلیت پسند (معتزلہ) روایت کی وکالت نے عالمی طور پر اسلامی اصلاح پسندی کو متاثر کیا۔ . پاکستان میں کئی سرکاری عمارتوں اور جامعات اور تدریسی اداروں کے نام سر سید کے نام پر ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 25 [ترمیم]
پہلی صلیبی جنگ کے دوران رائنستان کے شہر متز میں یہودیوں کا قتل عام ، اگستے میجیٹ کی تصویر

اشکنازی (Ashkenazi) جنہیں اشکنازی یہودی (Ashkenazi Jews) بھی کہا جاتا ہے ایسے یہودی ہیں جو رومی عہد میں یورپ اور جرمنی کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان علاقوں میں بھی ان لوگوں نے لکھنے پڑھنے اور بودوباش میں عبرانی روایات کو قائم رکھا۔ ان کو عیسائی بادشاہوں کی طرف سے نفرت کا سامنا بھی تھا جو ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کا سبب بنتا تھا۔ اسی لیے یہ لوگ ۱۸ ء صدی کے  آخر تک معاشی طور پر مستحکم نہ ہو سکے۔

اشکنازی یہودی تارکین وطن کی آبادی  جو یہودیوں تارکین وطن کی ایک الگ اور یکجا برادری کے طور پر مقدس رومن سلطنت کے پہلے ہزاریہ کے اختتام کے وقت وقوع پزیر ہوئی۔ان   تارکین وطن اشکنازی یہودیوں  کی روایتی زبان   یدیش مختلف بولیوں پر مشتمل ہے۔ اشکنازی تمام تر  وسطی اور مشرقی یورپ میں  پھیلے اور وہاں برادریاں قائم کیں  جو قرون وسطی سےلیکر   حالیہ دنوں تک  ان کے بسنے کے بنیادی علاقے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں ان بے وطنوں کی اپنی ایک علاقائی  اور تارک وطن اشکنازی تشخص پروان چرھنے لگی ۔ قرون وسطی کے اخیر میں اشکنازی آبادی کا زیادہ تر حصہ مسلسل جرمن علاقوں سے باہر  پولینڈ اور لتھوانیا  میں (بشمول موجودہ  بیلاروس اور یوکرائن) مشرقی یورپ کی طرف منتقل ہوتاچلا گیا۔ ۱۸ء کے  آخر اور ۱۹ء صدی کے اوائل تک جو یہودی جرمنی ہی میں رہے یا واپس جرمنی آئے  انکی  ثقافتی اقدار نے دھارا بدلا- حثکالا (یہودی نشاة ثانیہ) کے زیر اثر  ، جدوجہد آزادی  ، دانشورانہ اور ثقافتی بدلاؤ کیلئے  انہوں  نے آہستہ آہستہ یدش زبان کا استعمال ترک کردیا اور اپنی مذہبی زندگی اور ثقافتی تشخص کی نئی جہتوں کو پروان چڑھانے لگے-" یورپ میں  قیام کے دوران اشکنازیوں نے یورپی ثقافت میں اپنا اہم حصہ ڈالا  اور فلسفہ ، ادب ، آرٹ ، موسیقی اور سائنس کے تمام شعبوں میں  قابل ذکر اور غیر متناسب اضافہ کیا " (ایرک ہوبسبام) – ہولوکاسٹ(مرگ انبوہ),یعنی  یہودی نسل کشی اور  دوسری عالمی جنگ کے  دوران اور تقریباًً ساٹھ لاکھ یہودیوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام  نے  اشکنازی تارکین وطن کی ثقافت  اور تقریباًً ہر اشکنازی یہودی خاندان کو متاثر کیا ۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 26 [ترمیم]
موہن داس گاندھی

موہن داس کرم چند گاندھی ( 2 اکتوبر، 1869ء تا 30 جنوری 1948ء) بھارت کے سیاسی اور روحانی رہنماء اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار تھے۔ انہوں نے ستیہ گرہ اور اہنسا (عدم تشدد) کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ستیہ گرہ، ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی ہے جو عدم تشدد پر مبنی ہے۔ یہ طریقئہ کار ہندوستان کی آزادی کی وجہ بنی۔ اور ساری دنیا کے لئے حقوق انسانی، اور آزادی کی تحاریک کےلئے روح رواں ثابت ہوئی۔ بھارت میں انھیں احترام سے مہاتما گاندھی اور باپو کہا جاتا ہے۔ انہیں بھارت سرکار کی طرف سے بابائے قوم(راشٹر پتا) کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ گاندھی کی یوم پیدائش (گاندھی جینتی) بھارت میں قومی تعطیل کا درجہ رکھتا ہے ا ور دنیا بھر میں یوم عدم تشدد کی طور پر منایا جاتا ہے۔ 30 جنوری، 1948ء کو ایک ہندو قوم پرست نتھو رام گوڈسے نے ان کا قتل کر دیا۔

جنوبی افریقا میں وکالت کے دوران میں گاندھی جی نے رہائشی ہندوستانی باشندوں کے شہری حقوق کی جدوجہد کے لئے شہری نافرمانی کا استعمال پہلی بار کیا۔ 1915ء میں ہندوستان واپسی کے بعد، انہوں نے کسانوں اور شہری مزدوردں کے ساتھ بےتحاشہ زمین کی چنگی اور تعصب کے خلاف احتجاج کیا۔ 1921ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالنے کے بعد، گاندھی ملک سے غربت کم کرنے ، خواتین کے حقوق کو بڑھانے ، مذہبی اور نسلی خیرسگالی، چھواچھوت کے خاتمہ اور معاشی خود انحصاری کا درس بڑھانے کی مہم کی قیادت کی۔ انہوں نے بھارت کوغیر ملکی تسلّط سے آزاد کرانے کے لیے سوراج کا عزم کیا۔ گاندھی نے مشہور عدم تعاون تحریک کی قیادت کی۔ جو 1930ء میں مارچ سے برطانوی حکومت کی طرف سے عائد نمک چنگی کی مخالفت میں 400 کلومیٹر (240 میل) لمبی دانڈی نمک احتجاج سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد 1942ء میں انہوں نے بھارت چھوڑو شہری نافرمانی تحریک کا آغاز فوری طور پر آزادی کا مطالبہ کے ساتھ کیا۔ گاندھی دونوں جگہ جنوبی افریقا اور بھارت میں کئی سال قید میں گزارے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 27 [ترمیم]

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی (پیدائش:10 ربیع الاول ،1104ھ بمطابق 19 نومبر، 1692ء - وفات:6 رجب ،1174ھ بمطابق 11 فروری، 1761ء) سندھ کے علم و ادب کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والے اٹھارویں صدی کے عظیم محدث، یگانۂ روزگار فقیہ اور قادر الکلام شاعر تھے۔ کلہوڑا دور کے حاکمِ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑا نے انہیں ٹھٹہ کا قاضی القضاۃ ( چیف جسٹس) مقرر کیا، انہوں نے بدعات اور غیر شرعی رسومات کے خاتمے کے لیے حاکم وقت سے حکم نامے جارے کرائے۔ ان کی وعظ، تقریروں اور درس و تدریس متاثر ہو کر بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ ان کی تصانیف و تالیفات عربی، فارسی اور سندھی زبانوں میں ہیں۔ انہوں نے فقہ، قرآن، تفسیر، سیرت، حدیث، قواعد، عقائد، ارکان اسلام یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سمیت تقریباً تمام اسلامی موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر و تالیف کیں، کتب کی تعداد کچھ محققین کے اندازے کے مطابق 300 ہے، کچھ محققین 150 سے زیادہ خیال کرتے ہیں۔ ان کی گراں قدر تصانیف مصر کی جامعہ الازہر کے نصاب میں شامل ہیں۔ ان کے مخطوطات کی بڑی تعداد بھارت، سعودی عرب، ترکی، پاکستان، برطانیہ اور یورپ کے بہت سے ممالک کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ پاکستان خصوصاً سندھ اور بیرونِ پاکستان میں ان کی کتب کے مخطوطات کی دریافت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 28 [ترمیم]

مسلمانوں کی عبادت گاہ کو مسجد کہتے ہیں۔ عموماً اسے نماز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر تاریخی طور پر یہ کئی حوالوں سے اہم ہیں مثلاً عبادت کرنے کے لیے، مسلمانوں کے اجتماع کے لیے، تعلیمی مقاصد کے لیے حتیٰ کہ مسلمانوں کے ابتدائی زمانے میں مسجدِ نبوی کو غیر ممالک سے آنے والے وفود سے ملاقات اور تبادلہ خیال کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مساجد (مسجد کی جمع) سے مسلمانوں کی اولین جامعات (یونیورسٹیوں) نے بھی جنم لیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی طرزِ تعمیر بھی بنیادی طور پر مساجد سے فروغ پایا ہے۔

لفظ 'مسجد' کا لغوی مطلب ہے ' سجدہ کرنے کی جگہ'۔ اردو سمیت مسلمانوں کی اکثر زبانوں میں یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ عربی الاصل لفظ ہے۔ انگریزی اور یورپی زبانوں میں اس کے لیے موسک (Mosque) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اگرچہ بعض مسلمان اب انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں میں بھی 'مسجد' استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ ہسپانوی لفظ موسکا (Moska) بمعنی مچھر سے نکلا ہے۔ البتہ بعض لوگوں کے خیال میں یہ بات درست نہیں ہے۔ اہلِ اسلام کے نزدیک 'مسجد' سے وہ عمارت مراد ہے جہاں نمازِ جماعت ادا کی جاتی ہے۔ اگر مسجد میں نمازِ جمعہ بھی ہوتی ہو تو اسے جامع مسجد کہتے ہیں۔ مسجد کا لفظ قرآن میں بھی آیا ہے مثلاً مسجد الحرام کے ذکر میں بے شمار آیات میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ بعض دانشوروں کے خیال میں تمام مساجد اصل میں مسجد الحرام ہی کی تمثیل ہیں اگرچہ بعد میں بہت شاندار اور مختلف الانواع طرز ہائے تعمیر پیدا ہوئے جس سے ایک الگ اسلامی طرزِ تعمیر نے جنم لیا۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 29 [ترمیم]
کولکاتا

کولکاتا (انگریزی: Kolkata؛ بنگالی: কলকাতা؛ تلفظ:/klˈkɑːtɑː/ ؛بنگالی تلفظ: [kolkat̪a]) جس کا سرکاری نام سنہ 2001ء سے قبل کلکتہ (انگریزی: Calcutta؛ تلفظ: /kælˈkʌtə/) تھا، بھارت کی ریاست مغربی بنگال کا دار الحکومت ہے جو دریائے ہوگلی کے مشرقی کنارے پر واقع ہے اور مشرقی بھارت کا اہم تجارتی، ثقافتی اور تعلیمی مرکز ہے۔ کولکاتا بندرگاہ بھارت کی قدیم ترین اور واحد اہم دریائی بندرگاہ ہے۔

2011ء میں شہر کی آبادی 4.5 ملین، جبکہ شہر اور اس کے مضافات کی آبادی 14.1 ملین تھی جو اسے بھارت کا تیسرا بڑا میٹروپولیٹن علاقہ بناتی ہے۔ کولکاتا میٹروپولیٹن علاقے کی معیشت کا حالیہ تخمینہ 60 تا 150 بلین امریکی ڈالر (مساوی قوتِ خرید خام ملکی پیداوار ) تھا، جو اسے ممبئی اور دہلی کے بعد بھارت کا تیسرا سب سے زیادہ پیداواری میٹروپولیٹن علاقہ بناتا ہے۔

اپنے بہترین محل وقوع کی وجہ سے کولکاتا کو "مشرقی بھارت کا داخلی دروازہ" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نقل و حمل کا اہم مرکز، وسیع مارکیٹ تقسیم مرکز، تعلیمی مرکز، صنعتی مرکز اور تجارتی مرکز ہے۔ کولکاتا کے قریب دریائے ہوگلی کے دونوں کناروں پر بھارت کے زیادہ تر پٹ سن کے کارخانے واقع ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں موٹر گاڑیاں تیار کرنے کی صنعت، کپاس-کپڑے کی صنعت، کاغذ کی صنعت، مختلف قسم کی انجینئرنگ کی صنعت، جوتوں کی صنعت، ہوزری صنعت اور چائے فروخت کے مراکز وغیرہ بھی موجود ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 30 [ترمیم]

فیصل آباد پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے، جس کا سابق نام لائل پور (Lyallpur) تھا۔ 1979ء میں اسے سعودی عرب کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز السعود کے نام پر فیصل آباد کا نام دیا گیا۔ اپنے دیہاتی تمدن کی وجہ سے ایک وقت تک اسے ایشیا کا سب سے بڑا گاؤں کہا جاتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم شہر بن کر نمودار ہوا اور اب اسے کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا کے عظیم قوال و موسیقار نصرت فتح علی خان کا تعلق اسی شہر سے تھا۔

شہر فیصل آباد کی تاریخ صرف ایک صدی پرانی ہے۔ آج سے کم و بیش 100 سال پہلےجھاڑیوں پر مشتمل یہ علاقہ مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ 1892ء میں اسے جھنگ اور گوگیرہ برانچ نامی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا۔ 1895ء میں یہاں پہلا رہائشی علاقہ تعمیر ہوا، جس کا بنیادی مقصد یہاں ایک منڈی قائم کرنا تھا۔ ان دنوں شاہدرہ سے شورکوٹ اور سانگلہ ہل سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مابین واقع اس علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع دوآبہ رچنا کا اہم حصہ ہے۔ لائلپور شہر کے قیام سے پہلے یہاں پکا ماڑی نامی قدیم رہائشی علاقہ موجود تھا، جسے آجکل پکی ماڑی کہا جاتا ہے اور وہ موجودہ طارق آباد کے نواح میں واقع ہے۔ یہ علاقہ لوئر چناب کالونی کا مرکز قرار پایا اور بعد ازاں اسے بلدیہ کا درجہ دے دیا گیا۔

موجودہ ضلع فیصل آباد انیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جھنگ سے لاہور جانے والے کارواں یہاں پڑاؤ کرتے۔ اس زمانے کے انگریز سیاح اسے ایک شہر بنانا چاہتے تھے۔ اوائل دور میں اسے چناب کینال کالونی کہا جاتا تھا، جسے بعد میں پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سر جیمز بی لائل کے نام پر لائلپور کہا جانے لگا۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 31 [ترمیم]
اسم محمدی خط ثلث میں

محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت مشہور عام تاریخ کے مطابق 12 ربیع الاول عام الفیل بمطابق 570ء یا 571ء کو ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیاء اکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کیلئے دنیا میں بھیجا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمرمیں نازل ہوئی۔ ان کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ حضرت آمنہ بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمت للعالمین اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے بہت نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی ، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا کثیر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز حضرت جبرائیل علیہ السلام (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچایا وہ یہ ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 32 [ترمیم]
ننجا

ننجا (忍者) یا شنوبی (忍び) نوابی دور کے جاپان میں خفیہ کارندے یا قاتل ہوتے تھے۔ ننجا کے کاموں میں جاسوسی، سبوتاژ، دشمن کی صفوں میں گھسنا، قتل اور گوریلا جنگیں شامل تھیں۔ یہ کاروائیاں سامورائی سے کمتر درجے کی سمجھی جاتی تھیں کیونکہ سامورائی لڑائی اور عزت کے حوالے سے انتہائی سخت اصولوں کی پابندی کرتے تھے۔

سینگوکو دور میں (پندرہویں سے سترہویں صدی تک) کرائے کے قاتل اور جاسوس جو ایگا صوبے اور کوگا دیہات سے ملحقہ علاقوں میں سرگرم ہو گئے اور اسی علاقے کے قبائل کے پاس ننجا کے بارے میں زیادہ تر معلومات ہیں۔ توکوگاوا شوگون شاہی کے تحت جاپان کے اتحاد کے بعد (سترہویں صدی میں) ننجا گمنامی کا شکار ہو گئے۔

1868ء میں بحالی میجی کے بعد شنوبی کو قصے کہانیوں میں بہت اہمیت دی گئی۔ ننجا کے بارے بہت سی غلط باتیں مشہور ہو گئیں تھیں مثلاﹰ وہ غائب ہو سکتے تھے، پانی پر چل سکتے تھے اور قدرتی عناصر کو قابو میں کر سکتے تھے۔ چنانچہ اُس دور کے ننجا کے بارے میں بیشتر معلومات سینگوکو دور کی بجائے تخیل کی مدد سے اخذ کی گئی ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 33 [ترمیم]
گریٹر نوئیڈا میں رام پرساد بسمل پارک

رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے۔ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔

وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔ 11 جون 1897ء (ہندو جنتری کے مطابق بروز جمعہ نرجلا ایکادشی بكرمی سن 1954) کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے۔ رام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء (پیر پوش کرشن نرجلا ایکادشی (جسے سپھل ایکادشی بھی کہا جاتا ہے) بكرمی سن 1984) کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔

بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔

11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابی لکھی جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 34 [ترمیم]
کتسودوساشن

کاتسودو شاشین یا Katsudō Shashin (活動写真?, متحرک تصاویر) کو جاپان میں سب سے پرانی انیمیشن (متحرک تصویری کام) سمجھی جاتی ہے۔ اس کے خالق کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں، لیکن دستیاب حوالوں سے اندازاََ اس کی تخلیق 1907ء سے 1911ء کے درمیان میں ہوئی ہے۔ممکن ہے کے اسی کام سے مغربی انیمیشن کی جاپان میں ابتدا ہوئی۔ اسے کیوٹو میں 2005ء میں ایک گھر کے پرجیکٹر میں دریافت کیا گیا ۔تین سیکنڈ پر مشتمل اسے ایک لڑکے کو دکھایا گیا ہے جو "活動写真" لکھتا ہے اور اپنی ٹوپی اتار کر اسے لہراتا ہے۔ اس میں استعمال کئے گئے فریم سٹنسل (ایک طریقہ جس میں تصاویر کو سانچوں پر رنگ ڈال بنایا جاتا ہے) تھے جو سرخ اور کالے رنگ کے تھے ان تصاویر کو تیزی سے حرکت دی جاتی تھی۔ اس کارٹون کی تصاویر پچاس سیلوائڈ اس فریموں پر مشتمل ہے جو تین سیکنڈ دورانیہ کی ہے اور فریم کی رفتار 16 فریم فی سیکنڈ کی حساب سے ہے۔ اس میں سمندری جہاز ران کی وردی میں ملبوس ایک لڑکا کنجی علامات میں "活動写真" (katsudō shashin، or "متحرک تصاویر") لکھتا ہے، اس کے بعد وہ اپنا رخ ناظرین کی جانب کرتا ہے اور ٹوپی اتار کر انھیں سلیوٹ کرتا ہے۔}

روایتی انیمیشن کے طریقے کے برعکس اس میں تصویر کھینچ کر فریم کو نہیں بنایا گیا، لیکن اس کے برعکس اسے سانچے کی مدد سے سیدھے فلم پر ڈلا گیا ہے۔ اسے کپا بین تصاویر ایک 35 ملی میٹر فلم پٹی پر سرخ اور کالے رنگوں میں ہیں ان تصاویر کو تیزی سے گھومایا جاتا ہے تاکہ کے اسے تسلسل سے دیکھا جا سکے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 35 [ترمیم]

مسلمان ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ کی زیارت کے لیے حاضر ہو کر وہاں جو مخصوص عبادتیں انجام دیتے ہیں، اس مجموعہ عبادات کو اسلامی اصطلاح میں حج اور ان انجام دی جانے والی عبادات کو مناسک حج کہتے ہیں۔ دین اسلام میں حج ہر صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے، جیسا کہ قرآن مقدس میں ہے: Ra bracket.png وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ Aya-27.png La bracket.png۔ حج اسلام کے 5 ارکان میں سب سے آخری رکن ہے، جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے: «اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر ہے، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زكوة دينا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔» مناسک حج کی ابتدا ہر سال 8 ذوالحجہ سے ہوتی ہے، حاجی متعین میقات حج سے احرام باندھ کر کعبہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوتے ہیں، وہاں پہونچ کر طواف قدوم کرتے ہیں، پھر منی روانہ ہوتے ہیں اور وہاں یوم الترویہ گزار کر عرفات آتے ہیں، اور یہاں ایک دن کا وقوف ہوتا ہے، اسی دن کو یوم عرفہ، یوم سعی، عید قربانی ، یوم حلق و قصر وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد حجاج رمی جمار (کنکریاں پھینکنے) کے لیے جمرہ عقبہ جاتے ہیں، بعد ازاں مکہ واپس آکر طواف افاضہ کرتے ہیں اور پھر واپس منی جاکر ایام تشریق گذارتے ہیں۔ حج کی عبادت اسلام سے قبل بھی موجود تھی، مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حج گذشتہ امتوں پر بھی فرض تھا، جیسے ملت حنیفیہ (حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے پیروکاروں) کے متعلق قرآن میں ذکر ہے: Ra bracket.png وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ Aya-26.png La bracket.png،۔ حضرت ابراہیم اور ان کے بعد بھی لوگ حج کیا کرتے تھے، البتہ جب جزیرہ نما عرب میں عمرو بن لحی کے ذریعہ بت پرستی کا آغاز ہوا تو لوگوں نے مناسک حج میں حذف و اضافہ کر لیا تھا۔ ہجرت کے نویں سال حج فرض ہوا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنہ 10ھ میں واحد حج کیا جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس حج میں حج کے تمام مناسک کو درست طور پر کر کے دکھایا اور اعلان کیا کہ: « خذوا عني مناسككم» ترجمہ: اپنے مناسک حج مجھ سے لے لو۔ نیز اسی حج کے دوران اپنا مشہور خطبہ حجۃ الوداع بھی دیا اور اس میں دین اسلام کی جملہ اساسیات و قواعد اور اس کی تکمیل کا اعلان کیا۔
زندگی میں ایک بار صاحب استطاعت پر حج فرض ہے، اور اس کے بعد جتنے بھی حج کیے جائیں گے ان کا شمار نفل حج میں ہوگا؛ ابو ہریرہ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے: « لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، چناں چہ حج ادا کرو»، صحابہ نے سوال کیا: "یا رسول اللہ! کیا ہر مسلمان پر ہر سال حج فرض ہے؟" تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے، دوبارہ سہ بارہ یہی سوال کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: «اگر میں ہاں کہہ دیتا تو واقعی فرض ہوجاتا، اور ایسا تم لوگ نہیں کرپاتے»، پھر کہا «جتنا میں کہوں اتنا سنو، اس سے آگے نہ پوچھو۔»
فرضیت حج کی پانچ شرائط ہیں: پہلی شرط مسلمان ہونا، غیر مسلموں پر حج فرض نہیں اور نہ ہی ان کے لیے مناسک حج ادا کرنا جائز ہے۔دوسری شرط عقل ہے، پاگل مجنون پر حج فرض نہیں۔ تیسری شرط بلوغ ہے، نابالغ بچے پر حج فرض نہیں۔ چوتھی شرط آزادی ہے، غلام و باندی پر حج فرض نہیں۔ پانچویں شرط استطاعت ہے، استطاعت کا مفہوم یہ ہے کہ حج محض ان افراد پر فرض ہے جو اس کی جسمانی و مالی استطاعت رکھتے ہوں (عورت ہے تو شرعی محرم بھی لازم ہے)۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 36 [ترمیم]
The Rangoli of Lights.jpg

دیوالی جو دیپاولی اور کے ناموں سے بھی معروف ہے ایک قدیم ہندو تہوار(کہیں کہیں تیوہار بھی کہا جاتا ہے) ہے، جسے ہر سال موسم بہار میں منایا جاتاہے۔یہ تہوار یا عید چراغان روحانی اعتبار سے اندھیرے پر روشنی کی، نادانی پر عقل کی، بُرائی پر اچھائی کی اور مایوسی پر اُمید کی فتح و کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس تہوار کی تیاریاں 9 دن پہلے سے شروع ہوجاتی ہوتی ہیں اور دیگر رسومات مزید 5 دن تک جاری رہتے ہیں۔ اصل تہوار اماوس کی رات یا نئے چاند کی رات کو منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار شمسی-قمری ہندو تقویم کے مہینہ کارتیک میں منایا جاتا ہے۔ گریگورین تقویم کے مطابق یہ تہوار وسط اکتوبر اور وسط نومبر میں واقع ہوتا ہے۔
دیوالی کی رات سے پہلے ہندو پیروکار گھروں کی مرمت، تزئین و آرائش، رنگ و روغن کرتے ہیں۔ دیوالی کی رات کو ہندو پیروکار نئے کپڑے پہنتے ہیں، دیے جلاتے ہیں، کہیں روشن دان، شمع اور کہیں مختلف شکلوں کے چراغ جلائے جاتے ہیں، یہ دیے گھروں کے اندر اور باہر، گلیوں میں بھی رکھے ہوتے ہیں۔ اور دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے، پٹاخے داغے جاتے ہیں, بعد میں سارے خاندان والے اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے، تحفے تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔ جہاں دیوالی منائی جاتی ہے وہاں دیوالی کو ایک بہتریں تجارتی موسم بھی کہا جاتا ہے۔ دیوالی ہندوؤں کا اہم تہوار ہی نہیں بلکہ اہم رسم یا رواج بھی ہے، اور بھارت کے علاقوں کی بنیاد پر اس کا دارومدار ہے۔ بھارت کے کئی علاقوں میں, یہ تہوار دھنتیراس سے شروع ہوتا ہے، ناراکا چتُردسی دوسترے دن منائی جاتی ہے، دیوالی تیسرے دن، چوتھے دن دیوالی پاڑوا شوہر بیوی کے رشتوں کے لیے وقف ہے، اور پانچواں دن بھاؤبیج بھائی بہن کے رشتوں لے ہے مخصوص ہے، اس سے یہ تہوار ختم ہوجاتا ہے۔ عام طور پر دھنتیراس، دسہرا کے اٹھارہ دن بعد واقع ہوتا ہے۔
جس رات کو ہندو دیوالی مناتے ہیں، اُسی رات کو جین پیروکار مہاویر کے موکش (نجات) پانے کی خوشی میں جشنِ چراغاں دیوالی مناتے ہیں, سکھ پیروکار اس تہوار کو بندی چھوڑ دیوس کے نام سے مناتے ہیں.
بھارت میں، دیوالی کے ایام ایک سرکاری تعطیل ہے, بھارت کے ساتھ ساتھ نیپال، ماریشس، سری لنکا، میانمار، گیانا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، سرینام، ملیشیا، سنگاپور اور فجی میں بھی دیوالی سرکاری تہوار ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 37 [ترمیم]
Billets de 5000.jpg

کرنسی سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد کاغذی کرنسی بتدریج ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

ساڑھے تین سال کی مدت میں 5600 میل کا سفر طے کر کے جب مئی، 1275ء میں مارکو پولو پہلی دفعہ چین پہنچا تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ چیزیں تھیں: جلنے والا پتھر( کوئلہ)، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس) ،کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔ مارکو پولو لکھتا ہے "آپ کہہ سکتے ہیں کہ ( قبلائ ) خان کو کیمیا گری ( یعنی سونا بنانے کے فن ) میں مہارت حاصل تھی۔ بغیر کسی خرچ کے خان ہر سال یہ دولت اتنی بڑی مقدار میں بنا لیتا تھا جو دنیا کے سارے خزانوں کے برابر ہوتی تھی۔ لیکن چین سے بھی پہلے کاغذی کرنسی جاپان میں استعمال ہوئی ۔ جاپان میں یہ کاغذی کرنسی کسی بینک یا بادشاہ نے نہیں بلکہ پگوڈا نے جاری کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ جولائی، 2006ء کے ایک جریدہ وسہل بلور کے ایک مضمون کا عنوان ہے کہ ڈالر جاری کرنے والا امریکی سینٹرل بینک "فیڈرل ریزرو اس صدی کا سب سے بڑا دھوکا ہے"۔ مشہور برطانوی ماہر معاشیات جان کینز نے کہا تھا کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں۔ 1927ء میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر جوسیہ سٹیمپ ( جو انگلستان کا دوسرا امیر ترین فرد تھا ) نے کہا تھا کہ"جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ ایک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔۔۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بینک مالکان کی غلامی کرتے رہو اور اپنی غلامی کی قیمت بھی ادا کرتے رہو تو بینک مالکان کو کرنسی بنانے دو اور قرضے کنٹرول کرنے دو۔ بنجمن ڈی اسرائیلی نے کہا تھا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ملک کےعوام بینکاری اور مالیاتی نظام کےبارے میں کچھ نہیں جانتے کیونکہ اگر وہ یہ سب کچھ جانتے تو مجھے یقین ہے کہ کل صبح سے پہلے بغاوت ہو جاتی۔ روتھسچائلڈ نے 1838 میں کہا تھا کہ مجھے کسی ملک کی کرنسی کنٹرول کرنے دو۔ پھر مجھے پروا نہیں کہ قانون کون بناتا ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 38 [ترمیم]
پطرس بخاری.jpg

سید احمد شاہ پطرس بخاری (پیدائش: یکم اکتوبر 1898ء - وفات: 5 دسمبر 1958ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مزاح نگار، افسانہ نگار، مترجم، شاعر، نقاد، معلم، برطانوی ہندوستان کے ماہر نشریات اور پاکستان کے سفارت کار تھے۔ پطرس کے طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مختصر مجموعہ پطرس کے مضامین پاکستان اور ہندوستان میں اسکولوں سے لے کر جامعات تک اردو نصاب کا حصہ ہے۔ ان کا شمار متحدہ ہندوستان میں نشریات کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پطرس اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل مندوب کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ پطرس انگریزی کے پروفیسر تھے اور انگریزی میں اتنی قابلیت تھی کہ انہوں نے امریکا کی جامعات میں انگریزی پڑھائی، اور وہیں وفات پائی اور دفن ہوئے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 39 [ترمیم]
Flag of India.svg

بھارت کا قومی پرچم تین مختلف رنگوں کے افقی مستطیل خانوں پر مشتمل ہے، جو زعفرانی، سفید اور سبز رنگوں کے ہیں۔ اس پرچم کے درمیان میں نیلے رنگ کا اشوک چکر ہے جو درمیان کی سفید پٹی پر نظر آتا ہے۔ اس پرچم کو ڈومنین بھارت کے اجلاس مورخہ 22 جولائی، 1947ء کے موقع پر اختیار کیا گیا، اور بعد ازاں جمہوریہ بھارت کے قومی پرچم کے طور پر اسے برقرار رکھا گیا۔ بھارت میں لفظ ترنگا (ہندی: तिरंगा) سے مراد ہمیشہ اسی پرچم کو لیا جاتا ہے۔ یہ پرچم سوراج کے جھنڈے سے مشابہت رکھتا ہے جو انڈین نیشنل کانگریس کا جھنڈا تھا اور اس کے خالق پینگالی ونکایا تھے۔

مہاتما گاندھی کی خواہش کو دیکھتے ہوئے قانونی طور پر اس جھنڈے کو کھادی (ہاتھوں سے بُنا گیا کپڑا) اور ریشم کے کپڑوں سے بنایا جاتا ہے۔ اس جھنڈے کو بنانے کے مراحل کی نگرانی بیورو آف انڈین سٹینڈرڈ کرتا ہے۔ اسے بنانے کے حقوق کھادی ڈیولپمنٹ اینڈ لیج انڈسٹریز کمیشن مختلف علاقوں کو جاری کرتا ہے۔ سنہ 2009ء تک کرناٹک کھادی گرام ادیوگ سنیوکتا سنگھ ہی اس جھنڈے کو بنانے والی واحد کمپنی تھی۔

بھارتی قانون کے مطابق اس پرچم کے استعمال کے قواعد مقرر ہیں جو دیگر قومی علامات پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق عام شہری اسے صرف قومی دن جیسے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ وغیرہ پر لہرا سکتے ہیں۔ سنہ 2002ء میں ایک شہری ناوین جندل کی درخواست پر بھارتی عدالت عظمی نے حکومت بھارت کو حکم دیا کہ وہ عام شہریوں کو پرچم کے استعمال میں رعایت دیں۔ اس پر یونین کیبنٹ نے شہریوں کو بعض حدود میں اسے استعمال کرنے کی رعایت فراہم کی۔ 2005ء میں قانون میں ترمیم کرتے ہوئے اس پرچم کو کچھ خاص قسم کے کپڑوں سے تیار کرنے کی اجازت دی گئی۔ فلیگ کوڈ اس قومی پرچم کے لہرانے اور خصوصاً دیگر قومی اور غیر قومی پرچموں کے ساتھ اسے لہرانے کے اصول و ضوابط بیان کرتا ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 40 [ترمیم]
Ottoman Empire 16-17th century.jpg

سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ (عثمانی ترک زبان: "دولت علیہ عثمانیہ"، ترک زبان:Osmanlı Devleti) سن 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 41 [ترمیم]
پوٹوچاری میں ایک اجتماعی قبر، تصویر 2007ء

سریبرینیتسا قتل عام جسے سریبرینیتسا نسل کشی بھی کہا جاتا ہے، جولائی 1995ء میں سرب افواج نے ایک ہی دن میں 8,000 سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا، جن میں بڑی تعداد مردوں اور لڑکوں کی شامل تھی۔ سریبرینیتسا بوسنیا و ہرزیگووینا کا ایک شہر ہے۔ یہ شہر بوسنیا و ہرزیگووینا کے علاقے سرپسکا میں شامل ہے جو قدرے آزاد ہے۔ سرپسکا سرب اکثریتی علاقہ ہے مگر سریبرینیتسا ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔بوسنیا و ہرزیگووینا کو دو علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں سے ایک وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا کہلاتا ہے اور دوسرا سرپسکا کہلاتا ہے۔ 24 مارچ 2007ء کو سریبرینیتسا کی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی جس میں سرپسکا سے علیحدگی اور وفاق بوسنیا میں شمولیت منظور کی گئی۔ اس میں سربوں نے حصہ نہیں لیا تھا۔ سریبرینیتسا میں بوسنیائی مسلمان 63 فی صد سے زیادہ ہیں۔ یہاں سونے، چاندی اور دیگر کانیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 1995ء کے قتلِ عام سے پہلے یہاں فولاد کی صنعت بھی مستحکم تھی۔ 12، 13 جولائی 1995ء کو سرب افواج نے اس شہر پر قبضہ کیا اور ایک ہی دن میں آٹھ ہزار مردوں اور لڑکوں کا قتل عام کیا۔ اس کے علاوہ علاقہ سے جان بچا کر بھاگنے والے ہزاروں افراد کی بیشتر تعداد مسلمان علاقے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ قتل عام شہر میں اقوام متحدہ اور نیٹو (NATO) افواج کی موجودگی میں ہوا جو اس پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ہیگ کی جرائم کی عالمی عدالت (بین الاقوامی فوجداری ٹرائبیونل برائے سابقہ یوگوسلاویہ) نے 2004ء میں اس قتل عام کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 42 [ترمیم]
ارضیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر قدیمی مریخ کس طرح  کا نظر آتا ہوگا، ایک مصور کا تخیل۔

ددور حاضر میں اگرچہ مریخ پر پانی کی تھوڑی سی مقدار کرۂ فضائی میں بطور آبی بخارات موجود ہے تاہم یہاں پر زیادہ تر پانی صرف برف کی صورت ہی میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ کبھی کبھار تھوڑے سے نمکین پانی کی مقدار مریخ کی مٹی میں کم گہرائی پر بھی پائی جاتی ہے۔ وہ واحد جگہ جہاں پر پانی کی برف سطح پر دکھائی دے سکتی ہے وہ شمالی قطبی برفیلی ٹوپی ہے۔ پانی کی برف کی فراواں مقدار مریخ کے جنوبی قطب پر سدا بہار کاربن ڈائی آکسائڈ کی برفیلی ٹوپی کے نیچے اور معتدل عرض البلد میں سطح زمین سے قریب موجود ہے۔ پچاس لاکھ مکعب کلومیٹر سے زیادہ برف کا سراغ مریخ کی سطح پر یا اس کے قریب لگایا جا چکا ہے۔ یہ مقدار اس قدر ہے کہ پورے سیارے کی سطح کو 35 میٹر کی گہرائی میں ڈبو سکتی ہے۔ بلکہ سطح سے نیچے اور گہرائی میں مزید برف کی موجودگی کا امکان ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2017/ہفتہ 43 [ترمیم]
کریمیائی تاتاریوں کی جبری ملک بدری کی یادگار

سورگون (معنی "جلا وطنی" بزبان کریمیائی تاتاری اور ترکی) 1944ء میں کریمیا کے تاتاریوں کی موجودہ ازبکستان کی جانب جبری ہجرت اور قتل عام کو کہا جاتا ہے۔

سوویت اتحاد میں جوزف استالین کے عہد میں 17 مئی، 1944ء کو تمام کریمیائی باشندوں کو اُس وقت کی ازبک سوویت اشتراکی جمہوریہ میں جبراً منتقل کر دیا گیا تھا۔ استالین عہد میں ملک کے خلاف مبینہ غداری کی سزا اجتماعی طور پر پوری قوموں کو دینے کی روش اپنائی گئی جس کا نشانہ کریمیا کے تاتاری باشندے بھی بنے جن پر الزام تھا کہ انہوں نے نازی جرمنوں کا ساتھ دے کر روس کے خلاف غداری کا ثبوت دیا ہے۔ اس جبری بے دخلی میں روس کے خفیہ ادارے این کے وی ڈی کے 32 ہزار اہلکاروں نے حصہ لیا اور ایک لاکھ 93 ہزار 865 کریمیائی تاتاری باشندوں کو ازبک و قازق اور دیگر علاقوں میں جبراً بے دخل کیا گیا۔

اس جبری ہجرت کے دوران میں مئی سے نومبر کے مہینے میں 10 ہزار 105 تاتاری بھوک و موسم کی شدت سے جاں بحق ہوئے جو ازبک علاقوں کی جانب منتقل کیے گئے کل باشندوں کا 7 فیصد بنتا ہے۔ خفیہ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے اندر اندر تقریباً 30 ہزار تاتاری (کل مہاجرین کا 20 فیصد) اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کریمیائی تاتاریوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ تعداد 46 فیصد تھی۔ استالین کے عہد میں سزا کے طور پر جبری مشقت کا نظام گولاگ (Gulag) قائم کیا گیا تھا اور سوویت دستاویز ثابت کرتی ہیں کہ کئی کریمیائی باشندوں کو اس نظام کے تحت جبری مشقت پر بھی لگایا گیا۔ جبری مشقت کے اسی نظام کے تحت کریمیا کے تاتاری اور کئی دیگر قوموں کے باشندوں کو سائبیریا بھی بھیجا گیا۔ کریمیا کے تاتاریوں کا مطالبہ ہے کہ سرگون کو منظم قتل عام (Holocaust) قرار دیا جائے۔

کریمیا کے تاتاریوں کی جبری وطن بدری کی کہانی صدیوں پر محیط ہے۔ 1944ء اسی جبری وطن بدری کا تسلسل ہے۔ یہ سلسلہ 1783ء سے شروع ہوا جب روس نے کریمیا پر قبضہ کیا۔ اس قتل عام اور جبری وطن بدری پر پردہ پوشی کی جاتی رہی مگر موجودہ دور میں روس کے ٹوٹنے کے بعد سوویت عہد کے خفیہ ادارے کے جی بی کی دستاویزات سامنے آنے سے اس ظلم سے کچھ پردہ ہٹا خصوصاً 1944ء اور اس کے بعد کے مظالم سامنے آئے۔ برائن گلن ولیمز کے مطابق روسی استعمار کے ظلم سے جو 1783ء میں شروع ہوا، تاتاری اپنے ہی وطن میں ناپید ہونے لگے۔ تاتاریوں نے دو قسم کی ہجرت کی۔ ایک ہجرت کریمیا سے ان علاقوں کی طرف تھی جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کاحصہ تھے۔ دوسری ہجرت پچھلی صدی میں روس کی باقی ریاستوں کی طرف ہوئی یہاں تک کہ تاتاری اپنے ہی وطن میں اقلیت بن گئے اور وہ کریمیا کی آبادی کا 13 فی صد رہ گئے۔ 1944ء اور اس کے بعد کریمیا کے لوگوں کی آبادی کو ریاستی اقدامات سے کم کیا گیا۔ اول تو تاتاریوں کو جبری طور پر روس کے دیگر علاقوں کو بھیجا گیا جن کی اکثریت کو جبری مشقت کے لیے سائیبیریا لے جایا گیا۔ دوم غیر کریمیائی لوگوں کو بھاری تعداد میں کریمیا میں بسایا گیا جس کے لیے کئی طریقے استعمال کیے گئے۔کریمیا سے نکالے جانے والے لوگ مسلمان تھے اور بسائے جانے والے لوگ تمام کے تمام غیر مسلم تھے۔

 دیگر منتخب مضامین