ویکیپیڈیا:منتخب مضامین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ویکیپیڈیا کے منتخب مضامین

یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔

منتخب مضامین ویکیپیڈیا کے بہترین ترین مضامین کو کہا جاتا ہے، جیسا کہ انداز مقالات میں واضح کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہ مضمون کو اس فہرست میں شامل کیا جائے، مضامین پر نظرِ ثانی کے لیے امیدوار برائے منتخب مضمون میں شاملِ فہرست کیا جاتا ہے تاکہ مضمون کی صحت، غیر جانبداری، جامعیت اور انداز مقالات کی جانچ منتخب مضون کے معیار کے مطابق کی جاسکے۔ فی الوقت اردو ویکیپیڈیا پر 75 ہزار سے زائد مضامین میں سے بہت کم منتخب مضامین موجود ہیں۔ جو مضامین منتخب مضمون کو درکار صفات کے حامل نہیں ہوتے، اُن کو امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ اُن میں مطلوبہ بہتری پیدا کی جاسکے اور اُس کے بعد جب وہ تمام تر خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہوجاتی ہیں تو اُنہیں دوبارہ امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ مضمون کے بائیں جانب بالائی حصے پر موجود کانسی کا یہ چھوٹا سا ستارہ (یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔۔) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔مزید برآں یکہ اگر کوئی مضمون بیک وقت کئی زبانوں میں منتخب مضمون کی حیثیت حاصل کرچکا ہے تو اسی طرح کا چھوٹا ستارہ دیگر زبانوں کے آن لائن پر دائیں جانب اُس زبان کے نام کے ساتھ نظر آئے گا۔

  • مضمون کے منتخب ہونے پر {{امیدوار برائے منتخب مضمون}} کا سانچہ ہٹا کر {{منتخب مقالہ}} سانچہ کا اندراج کر دیا جائے۔
اختصار:
وپ:منتخب مضامین

منتخب مواد:

آلات منتخب مضمون:


مجموعات

·فنون، فنِ تعمیر اور آثارِ قدیمہ ·اعزاز،سجاوٹ اور امتیازیات ·حیاتیات ·تجارت، معیشت اور مالیات ·کیمیاء اور معدنیات ·کمپیوٹر ·ثقافت و سماج ·تعلیم ·انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی ·کھانا اور پینا ·جغرافیہ اور مقامات ·ارضیات، ارضی طبیعیات اور موسمیات ·صحت و طب ·تاریخ ·زبان و لسانیات ·قانون ·ادب اور فن کدہ ·ریاضیات ·شامہ میان (میڈیا) ·موسیقی ·فلسفہء اور نفسیات ·طبیعیات و فلکیات ·سیاسیات و حکومت ·مذہب، عقیدہ اور ضعف الاعتقاد ·شاہی، شریف اور حسب نسب ·کھیل اور تعمیری سرگرمیاں ·نقل و حمل ·بصری کھیل ·جنگ و جدل

2020/ہفتہ 01 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 01

2020/ہفتہ 02 [ترمیم]
AgasthiyarG.jpg

اگستیہ (ہندی: अगस्त्य) ہندو مت میں ویدوں کے ایک مشہور دانشور (رشی) تھے۔ ہندوستانی روایات کے مطابق وہ ایک قابل ذکر سنیاسی اور برصغیر کی مختلف زبانوں میں ایک بااثر عالم تسلیم کیے گئے ہیں۔ وہ اور ان کی زوجہ لوپا مُدرا سنسکرت کی مذہبی کتاب رگ وید کے بھجن 1.165 تا 1.191 اور دیگر ویدی ادب کے مصنف ہیں۔

اگستیہ کا نام متعدد داستانوں اور پرانوں (مثلاً دیومالائی کہانیوں اور علاقائی داستانوں) میں آتا ہے جن میں خاص طور پر رامائن اور مہا بھارت شامل ہیں۔ وہ ویدوں کے سات یا آٹھ انتہائی قابل احترام رشیوں میں سے ایک ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کا ذکر شیو مت کی روایت تمل سِدّھار میں ایک سِدّھار کی حیثیت سے آتا ہے۔ علاوہ ازیں شکتی مت اور ویشنو مت کے پرانوں میں بھی ان کو بہت قابل قدر گردانا گیا ہے۔ نیز وہ ان ہندوستانی دانشوروں میں سے ایک ہیں جن کے قدیم مجسمے اور خاکے جنوبی ایشیا کے ہندو مندروں اور جنوب مشرقی ایشیا جیسے جاوا، انڈونیشیا وغیرہ میں ابتدائی قرون وسطیٰ میں تعمیر شدہ شیو کے مندروں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ قدیم جاوی زبان کی تحریر، اگستیہ پروا میں وہ ایک بنیادی کردار اور استاذ کا درجہ رکھتے ہیں جس کا 11 ویں صدی کا نسخہ اب تک موجود ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 03 [ترمیم]
Nicosia Collage.png

نیکوسیا (یونانی: Λευκωσία لیفکوسیا) قبرص کا سب سے بڑا شہر اور میساوریا میدانی علاقہ کے تقریباً وسط میں دریائے پیدیوس کے کنارے پر واقع حکومت قبرص کا دار الحکومت ہے۔ یہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں انتہائی جنوب مشرقی دار الحکومت ہے۔ یہ شہر 4،500 برسوں سے مسلسل آباد ہے اور دسویں صدی سے قبرص کا دار الحکومت چلا آرہا ہے۔ قبرص بحران 1955–64ء کے بعد سے ترک قبرصی اور یونانی قبرصی شہر کی تقسیم کے بعد شہر کے شمالی اور جنوبی الگ الگ حصوں میں آباد ہیں۔ 1974ء میں ترکی کے قبرص کے حملے کے بعد شہر کے درمیان میں ایک عسکری خط اخضر قائم ہے جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہے۔ اس تقسیم کے بعد نیکوسیا کا جنوبی حصہ جمہوریہ قبرص کا دار الحکومت اور شمالی قبرص ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا دار الحکومت ہے۔

قانون سازی اور انتظامی افعال کے علاوہ نیکوسیا نے خود کو جزیرے کے اقتصادی دار الحکومت اور اہم بین الاقوامی کاروباری مرکز کے طور پر بھی منوایا ہے۔ 2018ء میں نیکوسیا دنیا کے تقابل میں قوت خرید میں بتیسواں امیر ترین شہر تھا۔ دیوار برلن کے خاتمے کے بعد نیکوسیا دنیا کا واحد منقسم دار الحکومت ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 04 [ترمیم]
Jinnah.jpg

محمد علی جناح متحدہ ہندوستان کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔

کراچی کے پیدائشی اور لنکن ان سے بیرسٹری کی تربیت حاصل کرنے والے جناح، بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں میں آل انڈیا کانگریس کے اہم رہنما کے طور پر ابھرے۔ اپنی سیاست کے ابتدائی ادوار میں انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کیا۔ 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے مابین ہونے والے میثاق لکھنؤ کو مرتب کرنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ جناح آل انڈیا ہوم رول لیگ کے اہم رہنماوں میں سے تھے، انہوں نے چودہ نکات بھی پیش کیے، جن کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔ بہر کیف جناح 1920ء میں آل انڈیا کانگریس سے مستعفی ہوگئے، جس کی وجہ آل انڈیا کانگریس کے موہن داس گاندھی کی قیادت میں ستیاگرا کی مہم چلانے کا فیصلہ تھا۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 05 [ترمیم]
ارضیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر قدیمی مریخ کس طرح  کا نظر آتا ہوگا، ایک مصور کا تخیل۔

ددور حاضر میں اگرچہ مریخ پر پانی کی تھوڑی سی مقدار کرۂ فضائی میں بطور آبی بخارات موجود ہے تاہم یہاں پر زیادہ تر پانی صرف برف کی صورت ہی میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ کبھی کبھار تھوڑے سے نمکین پانی کی مقدار مریخ کی مٹی میں کم گہرائی پر بھی پائی جاتی ہے۔ وہ واحد جگہ جہاں پر پانی کی برف سطح پر دکھائی دے سکتی ہے وہ شمالی قطبی برفیلی ٹوپی ہے۔ پانی کی برف کی فراواں مقدار مریخ کے جنوبی قطب پر سدا بہار کاربن ڈائی آکسائڈ کی برفیلی ٹوپی کے نیچے اور معتدل عرض البلد میں سطح زمین سے قریب موجود ہے۔ پچاس لاکھ مکعب کلومیٹر سے زیادہ برف کا سراغ مریخ کی سطح پر یا اس کے قریب لگایا جا چکا ہے۔ یہ مقدار اس قدر ہے کہ پورے سیارے کی سطح کو 35 میٹر کی گہرائی میں ڈبو سکتی ہے۔ بلکہ سطح سے نیچے اور گہرائی میں مزید برف کی موجودگی کا امکان ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 06 [ترمیم]
Uruguay 1930 World Cup.jpg

فیفا نے 1930ء میں پہلا فیفا عالمی کپ مردوں کی قومی ٹیموں کے درمیاں یوراگوئے میں منعقد کروایا۔ اس کی میزبانی کے لیے یوراگوئے، سپین، نیدرلینڈز، اٹلی اور سویڈن نے بولی لگائی، لیکن فیفا نے یوراگوئے کی بولی قبول کی اور اس طرح یوراگوئے پہلے عالمی کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل کر سکا۔ پہلے عالمی کپ میں صرف تیرہ ممالک کی قومی ٹیمیں شریک ہوہیں۔ جن کو شامل ہونے کے لیے کوئی مقابلہ نہیں کرنا پڑا، بلکہ پہلے عالمی کپ میں کسی بھی ملک کی قومی ٹیم شرکت کی اہل تھی، دنیا بھر کی ٹیموں کو دعوت نامے ارسال کیے گئے، مگر طویل سفر اور سفری اخراجات کی وجہ سے صرف تیرہ ممالک کی ہی ٹیمیں شامل ہوہیں، ان کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا، پہلا گروپ چار ٹیموں پر اور باقی تین گروپوں میں تین تین ٹیمیں شامل تھیں، ہر گروپ کی ٹیم نے اپنے گروپ کی ہر ہر ٹیم سے ایک ایک مقابلہ کرنا تھا، اس طرح پہلے مرحلہ میں نو ٹیمیں باہر ہو گئیں، دوسرا مرحلہ سیمی فائنل کا تھا، پہلے عالمی کپ میں تیسرے اور چوتھے درجہ کے لیے مقابلے منعقد نہیں کیے گئے۔ یوراگوئے میں منعقد ہونے والے 1930 کے فیفاعالمی کپ کے فائنل میں میزبان یوراگوئے نے ارجنٹائن کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر پہلے فیفا عالمی کپ کا فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔

اٹلی، سویڈن، نیدرلینڈز، سپین اور یوراگوئے نے پہلے عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی کے لیے درخواست پیش کیں۔ اس وقت یوراگوئے فٹ بال اولمپکس کا فاتح تھا، بولی میں ایک نیا فٹ بال کا میدان (stadium) بنانے کا اعلان کیا گيا اور ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ اختتام پر ہونے والی عالمی کپ کی آمدنی سے، شریک ٹیموں کا شرکت پر اٹھنے والا خرچ واپس کیا جائے گا۔ اس طرح یوراگوئے نے ایک اچھی بولی سے پہلے فیفا عالمی کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل کر لیا۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 07 [ترمیم]
KL Composite2.jpg

کوالا لمپور رسمی طور پر وفاقی علاقہ کوالا لمپور جسے مقامی طور پر اس کے مخفف کے ایل (KL) کے نام سے جانا جاتا ہے ملائیشیا کا قومی دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ ملائیشیا کے عالمی شہر کے طور پر اس کا رقبہ 243 مربع کلومیٹر (94 مربع میٹر) اور 2016ء کے مطابق اس کی آبادی تقریباً 1.73 ملین تھی۔ کوالا لمپور عظمی جسے وادی کلانگ بھی کہا جاتا ہے ایک شہری علاقہ ہے جس کی آبادی 2017ء میں 7.25 ملین افراد تھی۔ آبادی اور اقتصادی ترقی دونوں میں یہ جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے میٹروپولیٹن علاقوں میں سے ایک ہے۔

کوالا لمپور ملائیشیا کا ثقافتی، مالیاتی اور اقتصادی مرکز ہے۔ یہاں پارلیمان ملائیشیا اور شاہ ملائشیا (یانگ دی‌ پرتوان آگونگ) کی سرکاری رہائش گاہ استانا نگارا بھی موجود ہے۔ شہر میں پہلے ایگزیکٹو اور وفاقی حکومت کی عدلیہ کی شاخوں دفاتر بھی موجود تھے تاہم 1999ء کے آغاز میں یہ ملائیشیا کے وفاقی انتظامی مرکز پتراجایا منتقل کر دیے گئے ہیں۔ تاہم سیاسی اداروں کے بعض حصے اب بھی کوالا لمپور میں موجود ہیں۔ کوالا لمپور ملائیشیا کے تین وفاقی علاقہ جات میں سے ایک ہے۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 08 [ترمیم]
الناصر کے عہدِ خلافت کے دینار۔

الناصر لدین اللہ خلافت عباسیہ کا چونتیسواں خلیفہ، جس کا عہد خلافت 575ھ سے 622ھ تک محیط تھا۔ الناصر لدین اللہ خلافت عباسیہ کا وہ واحد حکمران خلیفہ ہے جس کا عہد حکومت ایک طویل عرصہ یعنی 47 سال قمری تقریباً تک قائم رہا۔ اِس طویل عہد حکومت میں اسلامی حکومت کا دائرہ اِقتدار دوبارہ بلاد عراق و شام سے نکل ہر ہندوستان اور مغرب یعنی مراکش تک قائم ہو گیا۔ الناصر کے زمانہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا عہد حکومت بہت اہم ہے جبکہ اِسی زمانہ میں ہندوستان میں باقاعدہ طور پر خاندان غلاماں دہلی کی حکومت منظم انداز میں قائم ہو گئی جسے خلافت عباسیہ کی جانب سے سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی۔ وہ المعتصم باللہ کے بعد پُرہی بت و جلال زدہ خلیفہ واقع ہوا جس کی ہیبت سے امرائے حکومت و وزرا اور سلاطین تک لرزہ براندام رہتے۔ الناصر کے عہد حکومت میں دوبارہ خلافت عباسیہ کی شان و شوکت قائم ہو گئی حتیٰ کہ 581ھ میں دوبارہ بلاد مغرب (مراکش) میں اُس کے نام کا خطبہ جاری ہوا۔ ناصر کا زمانہ روشن جبیں اور طرہ تاج فخر تھا۔ خلیفہ ناصر کے عہد خلافت میں دنیائے اسلام میں دو اہم ترین واقعات رُونما ہوئے، اول تو 589ھ/ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے چھڑوایا اور 1189ء تا 1192ء تک تیسری صلیبی جنگ جاری رہی۔ دوم یہ کہ ناصر کے زمانہ میں تاتاریوں کا عظیم طوفان اُٹھا جس نے دنیائے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا اور کئی مسلم سلطنتیں اِن کے حملوں سے ختم ہوگئیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 09 [ترمیم]
EmperorSuleiman.jpg

سلیمان اول (المعروف سلیمان قانونی اور سلیمان اعظم) سلطنت عثمانیہ کے دسویں فرمانروا تھے جنہوں نے 1520ء سے 1566ء تک 46 سال تک حکمرانی کے فرائض انجام دیئے۔ وہ بلاشبہ سلطنت عثمانیہ کے سب سے عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے بے مثل عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت پوری مملکت اسلامیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مملکت کے لئے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کا اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 10 [ترمیم]
Hokusai-sketches---hokusai-manga-vol6-crop.jpg

ننجا (忍者) یا شنوبی (忍び) نوابی دور کے جاپان میں خفیہ کارندے یا قاتل ہوتے تھے۔ ننجا کے کاموں میں جاسوسی، سبوتاژ، دشمن کی صفوں میں گھسنا، قتل اور گوریلا جنگیں شامل تھیں۔ یہ کارروائیاں سامورائی سے کمتر درجے کی سمجھی جاتی تھیں کیونکہ سامورائی لڑائی اور عزت کے حوالے سے انتہائی سخت اصولوں کی پابندی کرتے تھے۔

سینگوکو دور میں (پندرہویں سے سترہویں صدی تک) کرائے کے قاتل اور جاسوس جو ایگا صوبے اور کوگا دیہات سے ملحقہ علاقوں میں سرگرم ہو گئے اور اسی علاقے کے قبائل کے پاس ننجا کے بارے میں زیادہ تر معلومات ہیں۔ توکوگاوا شوگون شاہی کے تحت جاپان کے اتحاد کے بعد (سترہویں صدی میں) ننجا گمنامی کا شکار ہو گئے۔

1868ء میں بحالی میجی کے بعد شنوبی کو قصے کہانیوں میں بہت اہمیت دی گئی۔ ننجا کے بارے بہت سی غلط باتیں مشہور ہو گئیں تھیں مثلاﹰ وہ غائب ہو سکتے تھے، پانی پر چل سکتے تھے اور قدرتی عناصر کو قابو میں کر سکتے تھے۔ چنانچہ اُس دور کے ننجا کے بارے میں بیشتر معلومات سینگوکو دور کی بجائے تخیل کی مدد سے اخذ کی گئی ہیں۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 11 [ترمیم]
Varanasi collage.png

وارانسی (ہندی: वाराणसी؛ جسے بنارس بھی کہا جاتا ہے) بھارت کی ریاست اتر پردیش کا ایک تاریخی شہر ہے۔ اس کا ایک اور معروف نام کاشی بھی ہے۔ دریائے گنگا کے بائیں کنارے آباد ہے۔ اصل نام وارانسی ہے جو بگڑ کر بنارس ہوگیا۔ ہندوؤں کے نزدیک بہت متبرک شہر ہے۔ یہاں ایک سو سے زائد مندر ہیں۔ ہر سال تقریباً دس لاکھ یاتری یہاں اشنان کے لیے آتے ہیں۔ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی تعمیر کردہ مسجد اسلامی دور کی بہترین یادگار ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی جو 1916ء میں قائم کی گئی تھی بہت بڑی درس گاہ ہے۔ اس میں سنسکرت کی تعلیم کا خاص انتظام ہے۔ ہندومت کے علاوہ بدھ مت اور جین مت میں بھی اسے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

وارانسی کی ثقافت اور دریائے گنگا کا انتہائی اہم مذہبی رشتہ ہے۔ یہ شہر صدیوں سے ہندوستان بالخصوص شمالی ہندوستان کا ثقافتی اور مذہبی مرکز رہا ہے۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا بنارس گھرانا وارانسی سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ بھارت کے کئی فلسفی، شاعر، مصنف، وارانسی ہیں، جن میں کبیر، رویداس، مالک رامانند، شوانند گوسوامی، منشی پریم چند، جيشكر پرساد، آچاریہ رام چندر شکلا، پنڈت روی شنکر، پنڈت ہری پرساد چورسیا اور استاد بسم اللہ خان کچھ اہم نام ہیں۔ یہاں کے لوگ بھوجپوری بولتے ہیں جو ہندی کا ہی ایک لہجہ ہے۔ وارانسی کو اکثر مندروں کا شہر، ہندوستان کا مذہبی دار الحکومت، بھگوان شو کی نگری، ديپوں کا شہر، علم نگری وغیرہ جیسے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ مشہور امریکی مصنف مارک ٹوین لکھتا ہے "بنارس تاریخ سے بھی قدیم ہے، روایات سے بھی پرانا ہے"۔

 دیگر منتخب مضامین
2020/ہفتہ 12 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 12

2020/ہفتہ 13 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 13

2020/ہفتہ 14 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 14

2020/ہفتہ 15 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 15

2020/ہفتہ 16 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 16

2020/ہفتہ 17 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 17

2020/ہفتہ 18 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 18

2020/ہفتہ 19 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 19

2020/ہفتہ 20 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 20

2020/ہفتہ 21 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 21

2020/ہفتہ 22 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 22

2020/ہفتہ 23 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 23

2020/ہفتہ 24 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 24

2020/ہفتہ 25 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 25

2020/ہفتہ 26 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 26

2020/ہفتہ 27 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 27

2020/ہفتہ 28 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 28

2020/ہفتہ 29 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 29

2020/ہفتہ 30 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 30

2020/ہفتہ 31 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 31

2020/ہفتہ 32 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 32

2020/ہفتہ 33 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 33

2020/ہفتہ 34 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 34

2020/ہفتہ 35 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 35

2020/ہفتہ 36 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 36

2020/ہفتہ 37 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 37

2020/ہفتہ 38 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 38

2020/ہفتہ 39 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 39

2020/ہفتہ 40 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 40

2020/ہفتہ 41 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 41

2020/ہفتہ 42 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 42

2020/ہفتہ 43 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 43

2020/ہفتہ 44 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 44

2020/ہفتہ 45 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 45

2020/ہفتہ 46 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 46

2020/ہفتہ 47 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 47

2020/ہفتہ 48 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 48

2020/ہفتہ 49 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 49

2020/ہفتہ 50 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 50

2020/ہفتہ 51 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 51

2020/ہفتہ 52 [ترمیم]

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2020/ہفتہ 52