ياجوج اور ماجوج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قرآن واضح طورپر گواہى ديتا ہے كہ يہ دو وحشى خونخوار قبيلوں كے نام تھے ،وہ لوگ اپنے ارد گرد رہنے والوں پر بہت زيادتياں اور ظلم كرتے تھے _ عظيم مفسر علامہ طباطبائي نے الميزان ميں لكھا ہے كہ توريت كى سارى باتوں سے مجموعى طورپر معلوم ہوتا ہے كہ ماجوج يا ياجوج و ما جوج ايك يا كئي ايك بڑے بڑے قبيلے تھے ،يہ شمالى ايشيا كے دور دراز علاقے ميں رہتے تھے ،يہ جنگجو ،غارت گر اور ڈاكو قسم كے لوگ تھے _


تاريخ كے بہت سے دلائل كے مطابق زمين كے شمال مشرق مغولستان كے اطراف ميں گزشتہ زمانوں ميں انسانوں كا گويا جوش مارتا ہو اچشمہ تھا، يہاں كے لوگوں كى ابادى بڑى تيزى سے پھلتى اورپھولتى تھى ،ابادى زيادہ ہونے پر يہ لوگ مشرق كى سمت يا نيچے جنوب كى طرف چلے جاتے تھے اور سيل رواں كى طرح ان علاقوں ميں پھيل جاتے تھے اور پھر تدريجاً وہاں سكونت اختيار كر ليتے تھے ،تاريخ كے مطابق سيلاب كى مانند ان قوموں كے اٹھنے كے مختلف دور گزرے ہيں _(2) علامہ آلوسی رحمہ اللہ علیہ کا کلام روح المعانی میں ہے۔ یاجوج ماجوج کون ہیں : لوگوں نے اس میں کلام کیا ہے کہ یاجوج ماجوج کون لوگ ہیں۔ جمہور علماء تفسیر و حدیث کا قول یہ ہے کہ یاجوج و ماجوج بنی نوع انسان کی دو قوموں یا دو قبیلوں کا نام ہے آدم (علیہ السلام) ور یافث بن نوح (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں جو ترک کا جد اعلیٰ ہے اور ترک اس خاندان کی ایک شاخ ہے جو سد ذوالقرنین کے اس طرف ترک کردئیے گئے تھے یعنی چھوڑ دئیے گئے تھے۔ گویہ کہ لفظ ترک متروک سے مشتق ہے، اور یہ لوگ کافر ہیں اور دوزخی ہیں اور اس قدر کثیر اور بے شمار ہیں کہ ان میں اور اہل بہشت میں وہ نسبت ہے کہ جو ایک اور ہزار میں ہے۔ امم سابقہ و لاحقہ میں سے جس قدر افراد دوزخ میں جائیں گے ان تمام کے مقابلہ میں اکثریت یاجوج و ماجوج کی ہوگی۔ بخاری کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) کو حکم دیں گے کہ اپنی اولاد سے دوزخ کا لشکر جدا کیجیے عرض کریں گے کہ کس قدر۔ ارشاد ہوگا ہر ہزار سے ایک کم ہزار۔اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یاجوج ماجوج آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے تو ہیں مگر حوا کے پیٹ سے نہیں گویا کہ وہ عام آدمیوں کے محض باپ شریک بھائی ہیں۔ حافظ عسقلانی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ بات سوائے کعب احباررضی اللہ عنہ کے اور کسی سے منقول نہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یاجوج و ماجوض ترکوں کے دو قبیلے ہیں۔[1]


كورش كے زمانے ميں بھى ان كى طرف ايك حملہ ہوا ،يہ تقريباً پانچ سو سال قبل مسيح كى بات ہے ليكن اس زمانے ميں ماد اور فارس كى متحد ہ حكومت معرض وجود ميں آچكى تھى لہذا حالات بد ل گئے اور مغربى ايشيا ان قبائل كے حملوں سے آسودہ خاطر ہوگيا_ لہذا يہ زيادہ صحيح لگتا ہے كہ ياجوج اور ماجوج انہى وحشى قبائل ميں سے تھے ،جب كورش ان علاقوں كى طرف گئے تو قفقاز كے لوگوں نے درخواست كى كہ انھيں ان قبائل كے حملوں سے بچايا جائے ،لہذ اس نے وہ مشہور ديوار تعمير كى ہے جسے ديوار ذوالقرنين كہتے ہيں _

(1)قران مجيد كى دو سورتوں ميں ياجوج ماجوج كا ذكر ايا ہے ايك سورہ كہف ايت 94 ميں اور دوسرا سورہ انبياء كى ايت 96 ميں _

(2)ان ميں ايك حملہ ان وحشى قبائل نے چوتھى صدى عيسوى ميں اتيلا كى كمان ميں كيا،اس حملے ميں روم كا شاہى تمدن خاك ميں مل گيا _ايك اور دور كہ جو ان كے حملوں كا تقريباً اخرى دور شمار ہوتا ہے ،وہ بارہويں صدى ہجرى ميں چنگيز خاں كى سر پرستى ميں ہوا ،انھوں نے مسلمان اور عرب ممالك پر حملہ كيا ،اس حملے ميں بغداد سميت بہت سے شہر تباہ بر باد ہو گئے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تفسیر معارف القرآن مولاناادریس کاندہلوی