يوكون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
یوکون، کینیڈا

یوکون (انگریزی نام: Yukon) کینیڈا کا ایک شمال مغربی علاقہ ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے کینیڈا کے تین چھوٹے ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام “یوکون“ ہونے کی وجہء تسمیہ “دریائے یوکون“ ہے، جس کے معنی گوچ زبان میں عظیم دریا ہیں۔

یوکون کو ریاست یوکون بھی کہا جاتا ہے لیکن مقامی افراد اس پر ناراض ہوتے ہیں۔ 2003 میں وفاقی حکومت نے یوکون ایکٹ کے ذریعے ریاست کا نام ریاست یوکون سے بدل کر یوکون رکھ دیا ہے۔

یوکون کا پہاڑ لوگن 5959 میٹر بلند ہے جو کہ کلایون نیشنل پارک اینڈ ریزرو میں ہے۔ یہ پہاڑ اس ریاست کا سب سے بلند مقام ہے اور شمالی امریکہ میں دوسرا بلند ترین مقام۔

جغرافیہ[ترمیم]

یہ انتہائی کم آباد علاقہ برفیلے پانیوں کی جھیلوں اور سارا سال برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے کا موسم اگرچہ برفانی اور نیم برفانی اور انتہائی خشک ہے۔ یہاں سردیاں طویل اور سرد ہوتی ہیں۔ گرمیوں کے مختصر عرصے میں لمبے دنوں کی وجہ سے سبزیوں اور پھولوں کی مختصر فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔

یہ ریاست ایک زاویہ قائمہ مثلث کی مانند ہے جس کے سرے امریکی ریاست الاسکا سے مغرب میں، شمال میں نارتھ ویسٹ ریاست اور جنوب میں برٹش کولمبیا سے ملتے ہیں۔ اس کے شمالی ساحل پر بیوفورٹ سمندر ہے۔ اس کی غیر ہموار مشرقی سرحد یوکون بیسن اور میکنزی دریا کے درمیان سرحد کا کام کرتی ہے۔ اس کا دارلخلافہ وائٹ ہارس ہے۔

کینیڈا کا بلند ترین مقام یعنی ماؤنٹ لوگن اسی ریاست کے جنوب مغربی حصے میں موجود ہے۔ ماؤنٹ لوگن اور یوکون کے جنوب مغرب کا بڑا حصہ کلوآن نیشنل پارک اینڈ ریزرو کا حصہ ہیں جو یونیسکو کی طرف سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دئے گئے ہیں۔

ریاست کا زیادہ تر حصہ دریائے یوکون میں ہے۔ یوکون کے جنوبی حصے میں گلیشئر سے بننے والی جھیلوں کی کثرت ہے جو بڑی لمبی اور تنگ ہر قسم کی ہیں۔ ان کی اکثریت یوکون دریا سے جا ملتی ہے۔ بڑی جھیلوں میں تیسلین، آٹلن، ٹاگیش، مارش، لبیرگ، کساوا اور کلوآن جھلیں ہیں۔ بینیٹ جھیل ناریس جھیل سے جا ملتی ہے اور اس کا زیادہ تر رقبہ یوکون میں موجود ہے۔

پانی کے دوسرے ذرائع میں میکنزی دریا اور السیک ٹاٹشینشینی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سارے دیگر چھوٹے چھوٹے دریا بیوفورٹ سمندر میں جا گرتے ہیں۔ یوکون کے دو بڑے دریا لیارڈ اور پیل شمالاً جنوباً بہتے ہوئے میکنزی سے جا ملتے ہیں۔

دارلخلافہ وائٹ ہارس یہاں کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ یہاں ریاست کی دو تہائی آبادی رہتی ہے۔ دوسرا بڑا شہر ڈاسن شہر ہے جو 1952 تک یہاں کا دارلخلافہ تھا۔

تاریخ[ترمیم]

یورپئین لوگوں کی آمد سے قبل وسطی اور شمالی یوکون برفانی دور میں جمنے سے بچا رہا۔ یاہں انسانی رہائش کی نشانیاں اولڈ کرو کے علاقے میں ملتی ہیں جو کہ شمالی امریکہ میں قدیم ترین باقیات ہیں۔ 800 عیسوی میں الاسکا کے قیرب ماؤنٹ چرچل میں آتش فشانی سے جنوبی یوکون میں راکھ کی تہہ جم گئی جو ابھی بھی کلونڈیک ہائی وے کے آس پاس دیکھی جا سکتی ہے۔ ساحلی اور اندرونی مقامی قبائل یہاں پہلے سے تجارتی جال بچھا چکے تھے۔ یہاں انیسویں صدی میں یورپیئوں کی آمد شروع ہوئی جو کھالوں کی تجارت سے وابستہ تھے۔ ان کے بعد مشنری اور ویسٹرن یونین ٹیلی گراف کی مہمیں آئیں۔ بعد میں انیسویں صدی کے اختتام پر سونے کی تلاش کی دوڑ شروع ہوئی۔ اس وجہ سے آبادی اتنی بڑھ گئی کہ یہاں پولیس تعینات کرنی پڑی۔ 1897 میں کلونڈیک گولڈ رش کی وجہ سے آبادی اتنی بڑھی کہ اس علاقے کو الگ کر کے ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔

آبادی

اقوام[ترمیم]

2001 کے کینیڈین مردم شماری کے مطابق یوکون میں انگریز آبادی کا تناسب 27 فیصد سے زیادہ، قدیم قبائل 22 فیصد سے زیادہ، سکاٹش تقریباً 22 فیصد، آئرش تقریبا 19 فیصد، جرمن تقریبا 14 فیصد اور فرانسیسی 13 فیصد تھے۔ اگرچہ ایک چوتھائی نے خود کو کینیڈین ظاہر کرنے پر ترجیح دی۔

زبان[ترمیم]

2006 کی مردم شماری میں کل آبادی 30372 افراد تھی۔ ان میں سے 29940 نے رائے شماری میں حصہ لیا اور تقریباً پچاسی فیصد افراد نے اپنی مادری زبان انگریزی اور تین فیصد سے کچھ زائد نے فرانسیسی کو مادری زبان کہا۔

یوکون کے لینگوئج ایکٹ میں مقامی زبانوں کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے تاہم قانون، عدالتی اور مقننہ کے لئے صرف انگریزی اور فرانسیسی ہی استعمال ہوتی ہیں۔

مذہب[ترمیم]

2001 کی مردم شماری کے مطابق رومن کیتھولک چرچ کے پیروکاروں کی تعداد 5985 تھی جو کل آبادی کا 21 فیصد ہے۔ دوسرے نمبر پر انگلیکن چرچ آف کینیڈا تھا جس کے پیروکار 3795 یعنی کل آبادی کا تیرہ فیصد تھے۔ تیسرے نمبر پر کینیڈا کا متحدہ چرچ ہے جس کے پیروکار 2105 یعنی سات فیصد ہیں۔

معیشت[ترمیم]

تاریخی اعتبار سے یوکون کی اہم صنعت کان کنی ہے جو سیسہ، زنک، چاندی، سونا، ایس بیس ٹاس اور تانبے پر مشتمل ہے۔ 1870 میں حکومت نے ہڈسن بے کمپنی سے زمین حاصل کر کے اسے 1898 میں نارتھ ویسٹ ریاست سے الگ کر دیا تاکہ سونے کی تلاش میں آنے والے لوگوں کی آباد کاری آسان ہو سکے۔

سونے کے متلاشی افراد ہزاروں کی تعداد میں ریاست پہنچے۔ اس ابتدائی دور کی یادیں اور رائل کینیڈین گھڑ سوار پولیس کے اوائل کے دن اور ریاست کے خوبصورت قدرتی مناظر وغیرہ مل کر سیاحت کو یہاں کی دوسری بڑی صنعت بناتے ہیں۔

مینوفیکچرنگ میں بشمول فرنیچر، ملبوسات اور ہینڈی کرافٹ کے ساتھ ساتھ پن بجلی بھی شامل ہے۔ روایتی طور پر جانور اور مچھلی پکڑنے کی صنعتیں زوال کا شکار ہیں۔ اس وقت حکومت سب سے ملازمتیں مہیا کر رہی ہے۔ اس وقت 12500 افرادی قوت میں سے 5000 افراد براہ راست حکومت کے لئے کام کرتے ہیں۔

سیاحت[ترمیم]

یوکون کی سیاحت کا موٹو ہے "زندگی سے بھی بڑا"۔ یوکون کی سب سے بڑی کشش اس کی فطری خوبصورتی ہے۔ سیاحت کا دارومدار بھی اسی بات پر ہے اور بہت سارے پیشہ ور گائیڈ شکاریوں اور مچھلی کے شکار کے شوقینوں اور فطری ماحول سے محبت کرنے والوں کی رہنمائی کے لئے موجود رہتے ہیں۔ کھیل کود کے شائقین کے لئے جھیلوں اور دریاؤں میں میں کشتی رانی کے مواقع ہیں۔ پیدل چلنا ہو یا سکی کی مدد سے یا سنو بورڈ کی مدد سے، برف پر چلنے والی گاڑیوں پر سفر ہو یا اونچی چوٹیاں سر کرنی ہوں، یا پھر برف پر پھسلنا ہو یا کتوں والی برف گاڑی پر سفر، ہر چیز ممکن ہے۔

سردیوں میں جب رات کو آسمان صاف ہو تو آرورا دیکھنے کے لئے بہت لوگ باہر نکلتے ہیں۔

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

جدید ذرائع نقل و حمل سے قبل دریا اور پہاڑی درے ہی مقامی لوگوں کے راستے تھے۔ پہلے پہل یورپیوں نے بھی انہیں اختیار کیا۔

گولڈ رش سے لے کر 1950 تک یوکون دریا میں کشتیاں چلتی رہیں جو زیادہ تر وائٹ ہارس اور ڈاسن شہر کے درمیان تھیں۔ چند ایک آگے الاسکا اور بیرنگ سمندر تک بھی جاتی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر کشتیاں برٹش یوکون نیویگیشن کمپنی کی ملکیت تھیں۔ یہ کمپنی ایک نیرو گیج ٹرین بھی چلاتی تھی جو سکاگوے، الاسکا اور وائٹ ہارس کو ملاتی تھی۔ 1980 میں اس ٹرین کو فارو کی کان کے ساتھ ہی بند کر دیا گیا۔ آج کل یہ گرمیوں میں سیاحت کی غرض سے چلائی جاتی ہے اور کارکراس تک چلتی ہے۔

آج اہم زمینی راستوں میں الاسکا ہائی وے، کلونڈیک ہائی وے، ہینز ہائی وے اور ڈیمپسٹر ہائی وے تمام کی تمام ماسوائے ڈیمپسٹر، پختہ ہیں۔ دیگر ہائی وے جہاں کم ٹریفک ہوتی ہے میں رابرٹ کیمپبل ہائی وے کارمک کو واٹسن لیک سے ملاتی ہے۔اولڈ کرو کے علاقے میں آباد لوگوں تک رسائی کا واحد راستہ ہوائی جہاز ہے۔

وائٹ ہارس انٹرنیشنل ائیرپورٹ اس علاقے کے ذرائع نقل و حمل کا مرکز ہے۔ یہاں سے براہ راست پروازیں وینکوور، کیلگری، ایڈمنٹن، فئیربینکس اور فرینکفرٹ کے لئے چلتی ہیں۔ فرینکفرٹ صرف گرمیوں میں پروازیں چلتی ہیں۔ یوکون میں موجود ہر شہر میں ائیرپورٹ موجود ہے۔ ڈاسن سٹی، اولڈ کرو، انوویک کے لئے ائیر نارتھ کی باقاعدہ سروس ہے۔ ائیر چارٹر بزنسز بھی اس علاقے میں سیاحت اور کان کنی کے مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

حکومت اور پالیسیاں[ترمیم]

انیسویں صدی میں یوکون ہڈسن بے کمپنی کا ایک حصہ تھی جو نارتھ ویسٹرن ٹیریٹوری کا انتظام سنبھالے ہوئی تھی ۔ 1895 میں اسے پہلی بار قابل ذکر مقامی حکومت دی گئی جب اسے نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری کے ضلع سے الگ کیا گیا۔ 1898 میں اسے الگ ریاست کا درجہ دے کر اس میں کمشنر کا تقرر کر دیا گیا۔

1979 سے قبل تک ریاست کا انتظام کمشنر کے پاس ہوتا تھا جو وفاقی وزارت برائے انڈین افیئرز اینڈ ناردرن ڈیلویلپمنٹ مقرر کرتی تھی۔ کمشنر ریاست کی ایگزیکٹو کونسل کی تقرری کرتا تھا اور ان کے سربراہ کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے ریاست کی حکومت میں روز مرہ کام بھی سرانجام دینے ہوتے تھے۔ 1979 میں وفاقی وزارت اور کمشنر سے کافی سارے اختیارات لے کر انہیں ریاستی کونسل کو دے دیا گیا۔

یوکون ایکٹ جسے یکم اپریل 2003 میں منظور کیا گیا تھا، نے ریاستی حکومت کو زیادہ اختیارات دیئے گئے ہیں۔ 2003 سے ریاستی حکومت کے پاس ما سوائے جرائم کے خلاف، دیگر تمام اختیارات وہی ہیں جو دیگر صوبائی حکومتوں کو حاصل ہیں۔ کسی حد تک کمشنر کا کردار صوبائی لیفٹیننٹ گورنر سے ملتا جلتا ہے تاہم کمشنر کو وفاقی حکومت تعینات کرتی ہے جبکہ لیفٹییننٹ گورنر کو ملکہ کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

1978 میں پہلی بار ذمہ دار حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئی ہیں اور انہوں نے یوکون کی مقننہ کے لئے اپنے امیدوار مقرر کئے۔پروگریسو کنزرویٹو نے ان انتخابات کو جیت لیا اور یوکون کی حکومت جنوری 1979 میں سنبھالی۔ یوکون نیو ڈیموکریٹک پارٹی نے 1985 سے 1992 تک حکومت بنائے رکھی۔اس کے بعد 1996 سے 2000 تک ان کی حکومت رہی۔ کنزرویٹیو کی واپسی 1992 میں ہوئی۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر یوکون پارٹی رکھ دیا۔

اگرچہ یوکون کو کینیڈا کا گیارہواں صوبہ بنانے کے بارے بات ہوتی رہی ہے تاہم اس کی قلیل آبادی کی بناٗ پر اس تجویز پر عمل ہونا محال ہے۔

وفاقی سطح پر اس پارٹی کا ایک پارلیمانی ممبر اور ایک سینیٹر ہے۔ یوکون کے باشندوں کو دیگر صوبوں کے باشندوں کی طرح یکساں حقوق ملے ہوئے ہیں اور اسی طرح پارلیمنٹ میں ان کے اراکین کو بھی یکساں حقوق ہیں۔ یوکون کا ایک رکن پارلیمان ایک بار ڈپٹی پرائم منسٹر رہ چکا ہے اور دوسرا ممبر وفاقی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی کا صدر بھی۔

یوکون ان نو علاقوں میں سے ہے جہاں ہم جنس شادیوں کی اجازت ہے۔

قدیم قبائل کی حکومتیں[ترمیم]

ریاست کی زیادہ تر آبادی مقامی قبائل پر مشتمل ہے۔ امبریلا لینڈ کلیم معاہدے کے تحت، جس میں چودہ مختلف قبائل کے 7000 اراکین نے اپنی رائے دی، پر وفاقی حکومت نے 1992 میں دستخط کئے۔ دسمبر 2005 تک ان چودہ میں سے گیارہ قبائل اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔