ٹائٹینک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
RMS Titanic 3.jpg
ٹائٹینک ساؤتھمپٹن سے روانہ ہوتے ہوئے، 10 اپریل 1912ء
کیریئر (مملکت متحدہ)
نام: ٹائٹینک
مالک: White Star flag NEW.svg وائٹ سٹار لائن
بندرگاہ اندراج: Flag of متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ لیورپول، مملکت متحدہ
راستہ: ساؤتھمپٹن تا نیویارک شہر
با حکم: 17 ستمبر 1908
صانع: Harland and Wolff, بیلفاسٹ
لاگت: 7.5 ملین (امریکی ڈالر)
یارڈ تعداد: 401
آغاز تعمیر: 31 مارچ 1909
پانی میں اتارا: 31 مئی 1911
تکمیل: 2 اپریل 1912
پہلا سفر: 10 اپریل 1912
سروس میں: 10–15 اپریل 1912
شناخت: ریڈیو کال سائن "MGY"
قسمت: برف کے تودہ سے ٹکراو 11:40 رات (جہاز کا وقت) 14 اپریل 1912ء اپنے پہلے سفر پر ڈوب گیا 2 گھنٹے 40 منٹ بعد
حیثیت: تباہ
عمومی خصوصیات
قسم اور درجہ: Olympic-class ocean liner
ٹنبار: 46,328 GRT
ہٹاؤ کی مقدار
  • نقاطی فہرست کا متن
52,310 ٹن
لمبائی: 882 فٹ 9 انچ (269.1 میٹر)
جہاز کاعرض: 92 فٹ 0 انچ (28.0 میٹر)
اونچائي: 175 فٹ (53.3 میٹر) (keel to top of funnels)
بحری ہٹاؤ: 34 فٹ 7 انچ (10.5 میٹر)
گہرائی: 64 فٹ 6 انچ (19.7 میٹر)
عرشے: 9 (A–G)
طاقت: 24 double-ended and five single-ended boilers feeding two reciprocating steam engines for the wing propellers, and a low-pressure turbine for the centre propeller;[1] output: 46,000 اسپی طاقت
قوت دھکیل: Two three-blade wing propellers and one four-blade centre propeller
رفتار: سمندری سفر: 21 ناٹ (39 کلومیٹر/گھنٹہ؛ 24 میل فی گھنٹہ). زیادہ سے زیادہ: 24 ناٹ (44 کلومیٹر/گھنٹہ؛ 28 میل فی گھنٹہ)
گنجائش: مسافت: 2,435, عملہ: 892. کل: 3,327 (یا 3,547 دیگر ذرائع کے مطابق)
Notes: کشتیاں: 20 (کافی برائے 1,178 افراد)

ٹائٹینک یہ ایک مشہور برطانوی مسافر بحری جہاز تھا جواپنے پہلے ہی سفر کے دوران ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا۔

حادثہ[ترمیم]

اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار پانچ سو بارہ افراد تھی۔ ٹائٹینک نے امریکی شہر نیویارک کے لیے اپنے سفر کا آغاز برطانوی شہر ساؤتھمپن

10 اپریل1913کو بندرگاہ پرسفر کے لیے تیار

سے کیا تھا اور یہ شمالی بحر اوقیانوس میں ڈوبا اس کا ملبہ اب بھی سمندر میں تین یا چار ہزار میٹر گہرائی میں موجود ہے۔

اپنے سفر کے آغاز کے چوتھے اور پانچویں روز کی درمیانی شب اس میں سوار 1502 مسافر وں کی زندگی کا چراغ اس وقت گُل ہو گیا جب یہ سمندر کا بادشاہ برف کے گالے سے ٹکرا کر دوٹکڑے ہو گیا۔ لائف بوٹس کے ذریعے وائٹ سٹارلائن کمپنی کے ٹائی ٹینک کے صرف 722 مسافرزندہ بچ پائے۔ ان میں کمپنی کا مالک اسمے بھی شامل تھا جو خواتین اور بچوں کوڈوبتے جہاز میں چھوڑ کر ایک کشتی کے ذریعے نکل گیا۔ اس خود غرضی پر وہ پوری زندگی نفرت کا نشانہ بنا رہا۔ اسے ” ٹائی ٹینک کا بزدل “اور ”Bruce Ismay“ کہا جاتا تھا۔

مالک و کیپٹن[ترمیم]

اسمے اکتوبر 1937ء کو گوشہ تنہائی میں چل بسا۔ دوسری طرف جہاز کا کپتان ایڈورڈ جان سمتھ بیشترعملے کے ساتھ خواتین اور بچوں کو بچانے کی کوشش میں خود ڈوب کر انسانیت پر احسان کر گیا۔ وہ آخری آدمی تھا جس نے جہاز سے چھلانگ لگائی۔ ایک آدمی آخری کشتی کی طرف تیرتے ہوئے ہوئے لپکا تو ایک مسافر نے کہا ”یہ پہلے ہی اوور لوڈ ہے“ اس پرتیراک پیچھے ہٹ گیا اور کہا "All right boys. Good luck and God bless you" یہ جہاز کا کپتان 62 سالہ ایڈورڈجان سمتھ تھا۔ دوسروں پر اپنی جاں نچھاور کرنے کے عظیم جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اس کا مجسمہ سٹیفورڈ میں نصب کیا گیا ہے

موجودہ حالت[ترمیم]

ٹائی ٹینک جہاز تک پہچنے کے لیے آپ کو تقریبا 4 کلومیٹر سمندر کے نیچے جانا ہو گا۔ جو ناممکن ہے کیونکہ سمندر میں آپ جتنی گہرائی میں جاتے ہیں۔ اتنا ہی پانی کا پریشر زیادہ ہوجاتا ہے۔ آج تک کوئی غوطہ خور ٹائی ٹینک تک نہیں پہنچ پایا۔ یہ ڈسکوری ایک غوطہ خور گاڑی کے ذریعے ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے تقریبا 70 سال بعد ممکن ہو پائی۔ اخوطہ خور حضرات اس جہاز کے ملبے کے سامان نکال کر بڑی قیمت میں بیچ دیتے ہیں اگرچہ یہ ایک جرم ہے لیکن اس سے متعلق کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

جہاز ڈوبنے کی وجہ[ترمیم]

اب ایک نئی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ 14 اپریل 1912 کی شب زمین کے مقناطیسی کرے میں عارضی انتشار ٹائٹینک کے حادثے کا باعث بنا۔ جریدے ویدر میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ایک موسمیاتی ماہر میلا زنکووا کی جانب سے کی گئی۔عینی شاہدین نے برفانی تودے سے ٹائٹینک کے ٹکرانے کے بعد مضبوط ناردرن لائٹس کو آسمان پر دیکھا تھا۔آر ایم ایس کارپیتھا کے سیکنڈ آفیسر جیمز بسیٹ (وہ بحری جہاز جس نے 15 اپریل کو علی الصبح ٹائٹینک کے 705 مسافروں کو بچایا تھا) نے 14 اپریل 1912 کی رات کو اپنی لاگ میں لکھا تھاآسمان پر چاند نہیں تھا، مگر ناردرن لائٹس کی روشنی چاندنی کی طرح جگمگا رہی تھی۔[2]

ٹائٹینک کے حادثے میں بچ جانے والوں نے بھی صبح 3 بجے کے وقت اپنی لائف بوٹس میں آسمان پر ان روشنیوں کا ذکر کیا تھا۔ اس طرح کی روشنیاں سورج کی جانب سے تیز رفتار ذرات کے سیلاب کے اخراج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شمسی طوفان سے بنتی ہیں۔ جب یہ ذرات زمین کے ماحول سے ٹکراتے ہیں تو زمینی ماحول کی گیسز کو توانائی ملتی ہے جس سے وہ سبز، سرخ، جامنی اور نیلے رنگ میں جگمگانے لگتی ہیں۔یہ شمسی ذرات زمین کے برقی اور مقناطیسی سگنلز میں مداخلت بھی کرتے ہیں جس سے برقی ڈیوائسز کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔اس تحقیق میں یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ یہ شمسی طوفان اتنا طاقتور تھا جو اس مقام پر ناردرن لائٹس کا باعث بنا جہاں ٹائٹینک برفانی تودے سے ٹکڑایا تھا۔اس شمسی طوفان کے نتیجے میں اس کے مقناطیسی کمپاس اور جہاز کا الیکٹریکل ٹیلی گراف متاثر ہوئے تھے۔[3]

شمالی بحر اوقیانوس میں برفانی تودوں کے حوالے سے وہاں سفر کرنے والے دیگر بحری جہازوں کی معلومات سے آگاہ رہنے کے لیے ٹائٹینک کے کپتان ایڈورڈ جون اسمتھ نے حکم دیا تھا کہ زیادہ خطرناک علاقے میں جانے سے گریز کیا جائے۔

مگر تحقیق میں بتایا گیا کہ اس شمسی طوفان کے نتیجے میں جہاز کی سمت میں کمپاس کی خرابی کے نتیجے میں معمولی تبدیلی آئی اور خطرناک برفانی علاقے میں جانے سے بچنے کی بجائے وہ بحری جہاز سیدھا اس طرف چلا گیا۔ اس خیال سے ٹائٹینک کے سانحے کے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی ممکن ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ڈوبتے ہوئے جہاز سے مدد کی درخواست پر دیگر بحری جہازوں نے پہلے غلط سمت میں تلاش کی اور بعد میں درست جگہ پر پہنچے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ شمسی مداخلت ہی امداد کی کوششوں میں رکاوٹ بھی بنی، جب کپتان کو اندازہ ہو گیا کہ ٹائٹینک کو ڈوبنے سے بچایا نہیں جاسکتا تو انہوں نے 2 ریڈیو آپریٹرز کو مدد کے سگنل قریبی جہازوں کو بھیجیں۔آر ایم ایس بالٹک جو ان جہازوں میں سے ایک تھا، جس نے مدد کی کال پر جواب دیا، کے عملے نے بتایا کہ اس رات ریڈیو سگنلز بہت عجیب تھے اور بیشتر پیغامات پڑھے نہیں جاسکے اور ٹائٹینک کا جواب کبھی مل نہیں سکا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Beveridge & Hall 2004، صفحہ 1.
  2. بھٹی، مدثر. "https://jtnonline.com/%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%b9%db%8c%d9%86%da%a9-%da%88%d9%88%d8%a8%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%ac%db%81/24599/international/". jtnonline.com.  روابط خارجية في |title= (معاونت)
  3. بھٹی، مدثر بھٹی. "https://sirfurdu.com/archives/30840/%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%b9%db%8c%d9%86%da%a9-108-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af/international/".  روابط خارجية في |title= (معاونت)
  4. بھٹی، مدثر. "ٹائٹینک کے ڈوبنے کی بڑی وجہ 108 سال بعد سامنے آگئی".