ٹلہ جوگیاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ٹلہ جوگیاں
Hindu Temple at Tilla Gogian.jpg
پہلی صدی ق م کا ٹلہ جوگیاں ہندو مندر
ٹلہ جوگیاں is located in پنجاب، پاکستان
ٹلہ جوگیاں
پنجاب، پاکستان میں محل وقوع
ٹلہ جوگیاں is located in پاکستان
ٹلہ جوگیاں
ٹلہ جوگیاں (پاکستان)
مقام سلسلہ کوہ نمک
پنجاب
پاکستان Flag of پاکستان
متناسقات 33°23′59″N 73°17′59″E / 33.3997°N 73.2997°E / 33.3997; 73.2997متناسقات: 33°23′59″N 73°17′59″E / 33.3997°N 73.2997°E / 33.3997; 73.2997
قسم خانقاہ
تاریخ
قیام نویں صدی عام زمانہ
متروک 1947ء
ادوار برہمن شاہی
ثقافتیں پنجابی ہندو
Tilla-Jogian.jpg

ہم یقینی طور پر نہیں جانتے کہ ٹلہ کی خانقاہ کب وجود میں آئی لیکن ہمیں کے پہلوٹی کے بیٹے پورن کی داستان میں اس سیالکوٹ کے راجا سلواہن سوتیلی خانقاہ کا ذکر پہلی مرتبہ ملتا ہے۔ داستان کے مطابق پورن کو اس کی ماں کے لگائے ہوئے بد کاری کے الزام کی وجہ سے ہاتھ پاؤں کاٹ کر شہر سے باہر ایک کنویں میں ڈال دیا گیا۔ وہ وہاں زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑا تھا کہ ایک روز ادھر سے گرو گورکناتھ کا گزر ہوا۔ گرو کے ایک چیلے نے کنویں میں پورن کو دیکھا اور گرو کے ہدایت پر اسے باہر نکالا۔ پورن کے گورو کو اپنی کہانی سنائی جس پر گرو بہت رنجیدہ ہوئے۔ بس گرو کا پورن کے مسخ شدہ جسم پر ہاتھ پھیرنا تھا کہ وہ معجزاتی طور پر ٹھیک ہو گیا۔

پنجابی کی معروف رومانی داستان ہیر رانجھا میں پنجابی شاعر وارث شاہ نے بھی ٹلہ جوگیاں کا ذکر کیا ہے ـ

وارث شاہ کے مطابق گورو گورکہناتھ کے چیلے بالناتھ جوگی نے رانجھے کو جوگی بنایا تھاـ

ٹلہ جوگیاں سلسلہ کوہ نمک پاکستان کا ایک اہم پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 3200 فٹ ہے۔ اس کی چوٹی پر ہندووں کے مندراورپانی جمع کرنے کے تالاب ہیں۔ سکندر اعظم، مغل بادشاہ جہانگیر، گورونانک اور رانجھا یہاں آئے۔ یہاں سے جہلم 30 کلومیٹر اور قلعہ روہتاس 5 کلومیٹر دور ہے۔ یہ ایک پرفضا مقام ہے۔

Pond-in-memory-of-Gurur-Nanik-at-Tilla-Jogian.jpg

پہاڑ دکھائی دیتا ہے۔ اور اگر آپ شیر شاہ سوری کے مشہور قلعہ رہتاس میں ہوں تو یہی پہاڑ عین جنوب کو نظر آئے گا۔ یہ ہے ٹلہ جوگیاں کا پہاڑ جو کے ایک ہزار میٹر یا تین سو فٹ اونچا ہے۔ اس کی چوٹی پر خستہ کھنڈر ہیں جو ایک قدیمی خانقاہ کی باقیات ہیں۔ یہاں آپ دو راستوں سے پہنچ سکتے ہیں۔ اول تو جیپ کا رستہ ہے جو قلعہ رہتاس سے ہوتا ہوا سیدھا یہاں پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور رستے ہیں جو پیدل سفر کے ہیں اور جو پہاڑ کے دامن میں مختلف آبادیوں سے نکلتے ہیں۔ اور یہی وہ رستے ہیں جن کے ذریعے کئی صدیوں تک یاتری ٹلہ جوگیاں کے بیساکھی کے میلے پر آتے رہے ہیں۔

اکبر نامہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے دو مختلف مواقع پر ٹلہ جوگیاں کی سیر بھی کی۔ انہی شاہی دوروں کا نتیجہ قد آور چیڑ کے پیڑوں کی چھاؤں میں گھرا ہوا مغل طرز کا تالاب ہے۔ یقیناً وہ خشک سالی کا دور ہوگا اور جوگیوں نے بادشاہ سے پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے تالاب کی درخواست کی ہوگی۔ چند سال پہلے تک تالاب کے بالکل ساتھ ہی کوئی بارہ پندرہ سمادھیاں تھیں لیکن کچھ لالچی لوگوں نے خزانے کے لالچ میں ان سب کو تباہ کر ڈالا۔

تالاب سے شمال کی جانب نظریں کریں تو بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کا ایک جھمگھٹا ہے۔ یہاں پیپل اور جنگلی زیتون کے گھنے سائے میں مندر اور سمادھیاں ہیں۔ یہاں بھی انسانی لالچ کے ہاتھوں ہونے والی تباہ کاری واضح ہے۔ اگر آپ آثار قدیمہ کے ماہر والی آنکھ رکھتے ہیں تو آپ بھانپ لیں گے کہ اوپر کی سطح والی عمارتوں کے نیچے ایک تہ مزید پرانی عمارتوں کی ہے۔ کہیں ملبے تلے محراب، کہیں بوسیدہ دیوار اور کہیں سیڑھیاں جو کسی گم گشتہ عمارت کے اندر اترتی تھیں۔ اس سب پر طاری ایک گمبھیر خاموشی جس کو صرف ہوا کی سرگوشی اور پرندوں کا چہچہانا توڑتا ہے۔

مغرب کی جانب ٹلہ کی سب سے اونچی چوٹی پر نیلے آسمان تلے ایک عمارت آپکی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے کیونکہ بناوٹ کے لحاظ سے وہ قائد اعظم کے مزار سے مشابہت رکھتی ہے۔ گنبد والی یہ عمارت تقریباً آٹھ فٹ اونچی ہے اور طرز تعمیر سے واضح طور پر سکھ دور کی ہے۔ اپنے زمانے میں عین اسی مقام پر گورو نانک نے چلہ کشی کی تھی۔ اور پھر ساڑھے تین سو سال بعد راجا رنجیت سنگھ کے دور میں جب گورو نانک کے ماننے والوں نے پنجاب کی حکومت سنبھالی تو اس یاد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کی خاطر یہ گنبد کھڑا کیا

تعارف

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]