ٹویٹر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ٹوئٹر سے رجوع مکرر)
ٹویٹر
Twitter-logo.svg
اسکرین شاٹ
سائٹ کی قسم
سماجی رابطہ کاری خدمات
دست‌یابکثیر لسانی
قیاممارچ 21، 2006؛ 16 سال قبل (2006-03-21)
علاقہ خدمتWorldwide, except blocking countries
مالکTwitter, Inc.
مؤسس
سی ای اوپراگ اگروال (CEO)[1]
ویب سائٹtwitter.com
اندراجدرکار ہے
صارفین229 ملین ماہانہ فعال صارفین (2022)
آغازجولائی 15، 2006؛ 16 سال قبل (2006-07-15)
موجودہ حیثیتفعال
Native client(s) on
تخلیقی زبان
[2][3][4][5][6][7][8]

ٹویٹر ایک سماجی ویب سائٹ ہے۔ یہ سماجی رابطے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس کا آغاز 2001ء میں ہوا۔ دنیا بھر میں اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد 300000000 کے قریب ہے۔ اس جبالہ کے ذریعے آپ دوسرے لوگوں کو مختصر پیغا مات بھیج سکتے یا کسی اور کی طرف سے بھیجا گیا پیغام پڑھ سکتے ہیں۔ ان مختصر پیغامات کو ٹوئیٹس کہا جاتا ہے۔ اس موقع کے صارفین کو ایک سہولت ملتی ہے کہ وہ اپنے پروفائل میں وقتاً فوقتاً ایسے پیغامات بھیج سکیں (مختلف زبانوں میں، جن میں اردو بھی شامل ہے) جو 280 حروف کے اندر ہوں۔ یہ پیغامات موبائل کے ذریعے بھی بھیجے جا سکتے ہیں اور پڑھے بھی جا سکتے ہیں۔ اگر آپ کا بلاگ ہے، تو آپ اپنے ٹویٹر کھاتے میں اپنے بلاگ کا ربط شامل کر سکتے ہیں، جس سے یہ ہوگا کہ جب بھی آپ اپنے بلاگ پر کوئی پوسٹ کریں تو خودکار طور پر بلاگ پوسٹ کا عنوان اور پوسٹ کے چند ابتدائی جملے، بلاگ پوسٹ ربط کے ساتھ آپ کے ٹویٹر پروفائل پر شائع ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کسی فورم کے مخصوص زمرہ جات کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ٹویٹر کے استعمال کنندگان کسی بھی صارف کے پیغامات کو جنہیں ٹویٹس کہا جاتا ہے کی پیروی کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Twitter CTO Parag Agrawal will replace Jack Dorsey as CEO". cnbc.com. November 29, 2021. 
  2. "US SEC: FY2021 Form 10-K Twitter, Inc.". U.S. Securities and Exchange Commission. اخذ شدہ بتاریخ March 27, 2022. 
  3. "Twitter – Company". about.twitter.com. اخذ شدہ بتاریخ July 30, 2019. 
  4. Humble، Charles (July 4, 2011). "Twitter Shifting More Code to JVM, Citing Performance and Encapsulation As Primary Drivers". InfoQ. اخذ شدہ بتاریخ January 15, 2013. 
  5. Lauren Feiner (28 April 2022). "Twitter reports user bump, revenue miss for Q1, days after accepting Musk's takeover bid". CNBC.