ٹونی بزان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ٹونی بزان (انگریزی: Tony Buzan) کا تعلق برطانیہ سے تھا۔ وہ مائنڈ میپ تکنیک کا بانی، جس نے دنیا بھر میں مائنڈ لٹریسی ، کرئیٹو تھنکنگ اور سپیڈ ریڈنگ کے نئے دور کا آغاز کیا ۔ ان کی وجہ شہرت انسانی دماغ کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں استعمال کرنے کے لئے ان کی وضع کردہ تکنیکس اور میتھڈز ہیں۔انہوں نے وہ شہرہ آفاق مائنڈ میپنگ (Mind Mapping)تکنیک دریافت کی ،جس نے مغربی دنیا کے ٹاپ کے تعلیمی اداروں، ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور اہل دانش میں دھوم مچا رکھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چار سو سال پہلے اطالوی جینئس لیونارڈو جسے ان کی شہرہ آفاق تصویر مونا لیزا کی وجہ سے عوامی شہرت حاصل ہے، وہ بھی مائنڈ میپ کا طریقہ استعمال کرتے تھے۔ ٹونی بزان نے نہ صرف اس طریقہ کو باقاعدہ علم بنایا، سائنسی شکل دی بلکہ انسانی دماغ پر ریسرچ کر کے تخلیقی صلاحیت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے طریقے ایجاد کئے۔ ٹونی بزان کے مائنڈ میپ نے بل گیٹس جیسے کارپوریٹ کنگ سے لے کر آئی بی ایم، جنرل موٹرز،بڑے بڑے بینکوں اور ہاورڈ ، آکسفورڈ جیسی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں اور دانشورو ں کو حیرت زدہ کر رکھا ہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ مائنڈ میپنگ کرنے والے ہی ہماری انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اگلی سٹیج پر لے جا رہے ہیں۔ ٹونی بزان ایک سو چالیس سے زیادہ کتابوں کا مصنف ہے، دنیا کی چالیس کے قریب زبانوں میں جن کی کروڑوں کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ مائنڈ میپ اس کا مرکزی کام ہے، مگر میموری اور سپیڈ ریڈنگ پر بھی ٹونی کے کام کو دنیا بھر میں سراہاجا چکا ہے۔ اس کی سب سے پہلی کتاب یوز یور ہیڈ(Use Your Head)اکتالیس سال پہلے شائع ہوئی، اس کے درجنوں ایڈیشن آ چکے ہیں، تیس سے زیادہ زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے اور اسے لرننگ سائنسز میں کلاسیکل کتاب کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ بنیادی طور پر یہ بی بی سی کے لئے تیس اکتیس سالہ ٹونی کی تیارکردہ سیریز تھی، جس میں اس نے بتایا کہ کس طرح سوچنے، یاداشت اور اپنے ذہن کو استعمال کرنے کے پرانے طریقوں کو چھوڑ کر نئے ، جدید اور سائنسی طریقوں کو اپنانا چاہیے۔ اسی سے مائنڈ میپ تکنیک، یاداشت بہتر بنانے کا فارمولا اور تیز پڑھنے کی تکنیک نے جنم لیا۔ نہ صرف مغربی دنیا بلکہ ملائشیا ، سنگا پور جیسے ممالک ٹونی بزان کو بلوا کر اپنے ہزاروں ٹیچرز کو مائنڈ میپ ٹریننگ دلوا چکے ہیں تاکہ وہ سکول کی سطح پر یہ تکنیک ہر ایک کو سکھا دیں۔

'ٹونی بزان پاکستان میں[ترمیم]

'ٹونی بزان پاکستان بھی آئے تھے۔ان کو پاکستان لے آنے کا سہرا این ایل پی (NLP)کے ماہر، سائیکالوجسٹ اور موٹی ویٹر(Motivator) عارف انیس ملک کے سر جاتا ہے۔ٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖ پاکستان میں ہونے والے سیمینار میں ٹاپ کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ ٹونی کی ڈسکشن کی نشستیں بھی رکھی گئی تھیں۔ ایک نشست کے آخر میں ایک ایگزیکٹو نے سوال کیا کہ ہمیں ٹائم مینجمنٹ کے حوالے سے کوئی مشورہ دیں۔ بوڑھے انگریز نے مسکرا کر سوال کرنے والے کی طرف دیکھا اور بولا، وقت تو ہزاروں سال سے یہاں پر ہے، ہمیشہ رہے گا۔ وقت کی مینجمنٹ کی فکر چھوڑیں، وقت اپنے آپ کو خود ہی دیکھ لے گا، آپ اپنے دماغ کی مینجمنٹ کریں۔ جب اپنے دماغ کو درست انداز سے استعمال کرنا،نئے طریقے سے سوچنا شروع کر دیں گے تو باقی تمام مسائل از خود ختم ہوجائیں گے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]