ٹوٹکا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ٹوٹکا ایسا آسان حربہ جس سے کسی مشکل، بیماری، تکلیف یا مسئلہ کا حل کیا جائے۔ گھروں میں استعمال ہونے والے ٹوٹکے گھریلو ٹوٹکے کہلاتے ہیں۔

لفظ[ترمیم]

ٹوٹْکا {ٹوٹ (و مجہول) + کا} (سنسکرت)

سنسکرت سے اردو زبان میں داخل ہوا۔ اصل لفظ تنترہ ہے۔ 1683ء، میں "سہاگن نامہ" میں استعمال ہوا۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

واحد غیر ندائی: ٹوٹْکے {ٹوٹ (و مجہول) + کے}

جمع: ٹوٹْکے {ٹوٹ (و مجہول) + کے}

جمع غیر ندائی: ٹوٹْکوں {ٹوٹ (و مجہول) + کوں (و مجہول)}

معانی[ترمیم]

1۔ جادو، ٹونا، جنتر منتر، وہ جتن جو کسی بیماری یا بری بات کے دفع کرنے یا کسی بات کے حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔

"کل اس جوگی کے درشن کیے اور بھبھوت لا کے کوئی ٹوٹکا کیا"۔، [1]

مترادفات[ترمیم]

ٹونا، جادُو، حربہ

مرکبات[ترمیم]

ٹوٹْکے ہائی

ٹوٹکے[ترمیم]

گھریلو ٹوٹکے[ترمیم]

۱۔ گھیکوار کا گودا صبح شام منہ پر لگانے سے چہرے کے داغ دھبے آہستہ آہستہ دور ہو جاتے ہیں۔

۲۔ پیشاب کی جلن دور کرنے کے لیے پانی زیادہ استعمال کیجیے۔

۳۔ زیادہ پیاس لگے، تو ککڑیاں کھائیے۔ پیاس کسی صورت نہ بجھے، تو دودھ کی کچی لسی بنا کر دو تین گلاس پئیں، پیاس ختم ہو جائے گی۔

۴۔ پائوں کے تلوے جلتے ہوں، تو صبح شام گھیکوار کے گودے سے تلوئوں کی مالش کریں۔

۵۔ دل کی تیزدھڑکن اور پیٹ میں گیس بننے سے روکنے کی خاطر سونف اور خشک دھنیا ایک ایک چھٹانک صاف کر کے پیس لیں۔ اس آمیزے میں ڈیڑھ چھٹانک شکر ملائیں۔ صبح شام ایک ایک چمچ لیں۔

۶۔ نظر بہتر بنانے کے لیے سات بادام پیس کر آدھا آدھا چمچ سونف و مصری کے ساتھ روزانہ لیں۔

۷۔ گرمیوں میں آنکھ کی سرخی اور جلن دور کرنے کے لیے پانچ یا سات آملے مٹی کے پیالے میں رات کو بھگو دیں۔ صبح پانی چھان کر اس سے آنکھوں پر چھینٹے ماریں۔

۸۔ بچوں میں پیٹ کے کیڑوں سے نجات کے لیے کمیلہ کا ۳؍گرام سفوف صبح شام دیں۔

۹۔ پائوں کی ایڑیاں پھٹنے اور جلن سے بچانے کے لیے ایک تولہ کچا سہاگا، ایک تولہ پھٹکری، ایک تولہ گندھک لے کر پیس لیں۔ اس میں پٹرولیم جیلی ملا کر رات کو سوتے وقت ایڑیوں پر لگائیں۔ چند دنوں میں افاقہ ہو جائے گا۔

۱۰۔ موٹاپا کم کرنے کے لیے پسی کلونجی آدھا چمچ ایک پانی میں ابال کر صبح نہار منہ اور شام کو لیں۔ ایک گلاس پانی میں کلونجی تیل کے چار پانچ قطرے اور ایک لیموں کا رس ڈال کر صبح شام متواتر ایک ماہ استعمال کرنے سے موٹاپا کم جا سکتا ہے۔

۱۱۔ زکام کے خاتمے کے لیے تھوڑی سی چینی دہکتے ہوئے کوئلوں پر ڈال کر اس کا دھواں سونگھیں۔

۱۲۔ ہرے دھنیے کا پانی نکال کر سونگھنے سے چھینکوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

۱۳۔ نکسیر کا خون بند کرنے کے لیے بھی ہرے دھنیے کا پانی نکال کر سونگھیں۔

۱۴۔ ناک کی بدبو دور کرنے کے لیے چٹکی بھر پھٹکری تھوڑے سے پانی میں حل کر کے ناک میں ڈالیں۔

۱۵۔ چھوٹے بچوں میں پیشاب کی جلن دور کرنے کے لیے پانی میں پیاز کچل کر ۶۰گرام چینی ملا لیں۔ صبح شام دو سے تین چمچ یہ آمیزہ پلائیں۔

۱۶۔ بدہضمی اور الٹیاں روکنے کے لیے ۳۰گرام پیاز، پودینہ کے چند پتے اور سات عدد کالی مرچ اچھی طرح ملا کرکھائیے۔

۱۷۔ صبح شام سلاد کے طور پر پیاز کا استعمال بدہضمی روکتا اور جسمانی طاقت بڑھاتا ہے۔

۱۸۔ بھوک بڑھانے کی خاطر پھلوں کے سرکے میں پیاز اور ادرک کاٹ کر ملائیے۔ پھر پودینے کے پتے، لہسن کے دوچار ٹکڑے اور تھوڑی سی کشمش ملا کر کھانے میں بطور سلاد استعمال کریں۔

۱۹۔ سر کے زخم اور خارش دور کرنے کے لیے نیم کی نمولیاں پیس، پانی میں ملا، گاڑھا لیپ بنا کر رات کو بالوں میں اچھی طرح لگائیں۔

۲۰۔ سردیوں میں ہاتھ پائوں کی انگلیوں میں سوجن دور کرنے کے لیے گھیا (لوکی) کدوکش کر اسے ہاتھ پائوں پر اچھی طرح ملیں۔ ایک گھنٹے بعد ہاتھ پائوں دھولیں اور پھر پٹرولیم جیلی لگائیں۔

۲۱۔ کھانسی روکنے کے لیے صبح، دوپہر شام ملٹھی منہ میں رکھ کر چوسیں۔

۲۲۔ آنکھوں کی جلن دور کرنے کے لیے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں اور برف سے ٹکور کریں۔

۲۳۔ زخم کی سوجن دور کرنے کے لیے پیاز جلا اس میں ہلدی ملا کر لیپ بنائیے۔ اسے پھر زخم پر لگائیں۔

۲۴۔ دائمی قبض دور کرنے کے لیے صبح شام زیتون کا تیل معتدل مقدار میں استعمال کریں۔

۲۵۔ پیٹ کے جملہ امراض روکنے کے لیے اسپغول کا چھلکا بلاناغہ استعمال کریں۔

۲۶۔ ہچکی روکنے کے لیے دیسی گھی میں سوجی کا حلوہ بنا کر کھائیے۔ یا منہ میں برف کی ڈلی رکھیں یا آہستہ آہستہ گنڈیریاں چوسیں۔

۲۷۔ بچوں کو بخار زیادہ ہو جائے، تو فوراً نہلا دیں یا ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں۔

۲۸۔ دست اور قے روکنے کے لیے سونف اور پودینہ کا قہوہ بنا کر پیجیے۔

۲۹۔ پائوں نرم و ملائم کرنے کے لیے سونے سے دس منٹ پہلے پائوں تازہ پانی میں بھگوئیے۔ اس پانی میں چند قطرے روغن زیتون اور تھوڑا سا نمک ملا لیں۔ خشک کر کے پٹرولیم جیلی یا سرسوں کا تیل لگائیں۔سردیوں میں نیم گرم پانی استعال کریں۔

۳۰۔ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ایک ایک چمچ آملہ اور مصری ملا کر روزانہ صبح نہار منہ ایک گلاس پانی کے ساتھ لیں۔

۳۱۔ زہریلا کیڑا کاٹ لینے کی صورت میں لہسن کا تیل اور شہد ملا کر زخم والی جگہ پر لگائیں۔

۳۲۔ بچوں میں پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کے لیے کلونجی پانی میں ابال اس کا پانی رات کو سونے سے پہلے پلائیں۔

۳۳۔ جوڑوں کا درد روکنے کے لیے نیم کے پتوں کے تیل کی مالش کریں۔

۳۴۔ کھانسی دور کرنے کے لیے ایک ایک چمچ شہد اور ادرک کا رس ملا کر روزانہ صبح، دوپہر، شام تین سے پانچ روز تک لیں۔

۳۵۔ لہسن جلا سرکے اور شہد میں ملا کر لگانے سے پھوڑے پھنسیاں اور نشان دور ہو جاتے ہیں۔

۳۶۔ ذیابیطس قابو کرنے کے لیے بغیر چھنے آٹے میںتازہ یا پسی میتھی ملا کر روٹی بنائیے اور روزانہ ناشتے میں کھائیں۔ دو سے تین ہفتوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔

۳۷۔ دانت کا درد دور کرنے کے لیے لونگ استعمال کیجیے۔

۳۸۔ بلڈپریشر قابو میں لانے کے لیے آڑو، پھلیاں، لوبیا، مٹر، ناشپاتی اور کیلا زیادہ استعمال کریں۔

۳۹۔ کولیسٹرول کی سطح کم کرنے کے لیے جئی کا آٹا اور گاجر زیادہ کھائیے۔

۴۰۔ سونف کا زیادہ استعمال آنکھوں کی بینائی تیز کرتا ہے۔

۴۱۔شکر اور سونف ہم وزن لے کر اسے کوٹ لیں۔ سر کے چکر دور کرنے کے لیے صبح شام ایک چمچ پانی کے گلاس میں لے لیں۔

۴۲۔ صبح نہار منہ روزانہ دو سے تین گلاس پانی پئیں، نظام انہضام درست ہو جائے گا۔

۴۳۔ دانتوں کی چمک برقرار رکھنے کے لیے صبح و شام نیم کی مسواک استعمال کریں۔

۴۴۔ برص کے داغ دور کرنے کے لیے خالص شہد ایک چمچ، عرق پیاز ایک چمچ اور نمک آدھا چمچ ملا کر داغوں پر لگائیں۔

۴۵۔ حمل میں گرمی، قے اور سر درد دور کرنے کے لیے آلو بخارہ زیادہ استعمال کریں۔ آلو بخارہ کا شربت بنانے کے لیے پانچ چھے آلو بخارے رات کو پانی کے گلاس میں بھگو دیں۔ صبح تھوڑی سی چینی اور نمک ملا کر آلو بخارے مسل دیں۔ برف ڈال کر استعمال کیجیے۔

۴۶۔ موٹاپا دور کرنے کے لیے اپنی خوراک سے ہر قسم کی چکنائی، مشروبات اور مٹھائیوں کا استعمال بالکل ترک کر دیں۔

۴۷۔ تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ کھائیے۔

۴۸۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے صبح و شام سیر کیجیے اور مرغن غذائوں سے پرہیز کریں۔

۴۹۔ چھینکوں کی بھرمار سے بچنے کے لیے ایک چمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں ابال لیں۔ ٹھنڈا کر اور چھان کے سونے سے پہلے دو تین ہفتے تک پئیں۔

۵۰۔ ڈکار دور کرنے کے لیے کھانے کے بعد ادرک کے باریک ٹکڑوں پر نمک چھڑک کر آہستہ آہستہ چبا کر کھائیں۔ اس کے علاوہ سالن میں ادرک اور لہسن کا استعمال زیادہ کریں۔

۵۱۔ خون کی کمی دور کرنے کے لیے انار کا رس زیادہ پئیں۔ چقندر کا استعمال بطور سلاد کریں اور سیب بھی خوب کھائیں۔

۵۲۔ہاتھ یا پائوں میں پسینا زیادہ آتا ہو، تو پانی میں لیموں کا رس یا سرکہ ملا کر دن میں تین بار اور سونے سے پہلے دھوئیں، افاقہ ہو گا۔

۵۳۔پیٹ میں ہر وقت گیس رہتی ہو، تو میتھی کے بیج کھائیں۔ گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے کے لیے روزانہ نہار منہ پانچ عدد انجیر کھائیں یا پتھر چٹ پودے کے پتے چبائیں۔

۵۴۔آنکھوں کے گرد حلقے دور کرنے کے لیے صبح سویرے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رگڑیںاور گرم گرم انگلی آنکھوں کے گرد حلقے پر پھیرئیے۔

۵۵۔جسم کی چربی پگھلانے کے لیے نہار منہ پانی میں شہد اور چند قطرے لیموں ڈال کر روزانہ لیں۔

۵۶۔مسوڑھوں سے خون بہتا ہو، تو جامن کے دو تین پتے دھو کر چبائیے اور آمیزے کو مسوڑھوں پر ملیں۔

۵۷۔بچوں میں ناک کی نکسیر روکنے کے لیے انھیں ککڑی اور کھیرا کھلائیے۔

۵۸۔ناخن مضبوط کرنے کے لیے روزانہ چند ہفتے تک ہلکے گرم زیتون کے تیل میں تھوڑی دیر ناخنوں کو ڈبو کر رکھیں۔

۵۹۔بدہضمی اور بھاری پن سے بچنے کے لیے کھانے کے بعد تھوڑا سا گڑ بطور ’’سویٹ ڈش‘‘ لیں۔

۶۰۔دانتوں میں خون آنے سے روکنے کے لیے ایک لیموں کا رس، ایک پیالی نیم گرم پانی اور آدھا چمچ نمک ملا کر صبح و شام غرارے کریں۔

۶۱۔پھنسیوں پر فالسے کے پتے باریک پیس کر لگانے سے وہ ختم ہو جاتی ہیں۔

۶۲۔قے روکنے کے لیے چھوٹی الائچی یا املی استعمال کریں۔

۶۳۔چھوٹے بچے نمکول کا پانی نہ پئیں، تو دو چمچ شہد، آدھا چمچ نمک، ایک چمچ چینی اور تین چار قطرے لیموں ڈال کر دو گلاس پانی میں حل کر گھریلو نمکول بنا لیں۔اسہال اور قے کی صورت میں بچوں کو دیجیے۔

۶۴۔ہاتھ جلنے کی صورت میں متاثرہ جگہ گاجر پیس کر اس کا لیپ لگائیں۔

۶۵۔بھاپ سے ہاتھ جل جائے، تو متاثرہ جگہ آلو کے ٹکڑے کاٹ کر ملیں۔

۶۶۔آملہ کا مرباّ کھانے سے بار بار نکسیر آنا بند ہو جاتی ہے۔

۶۷۔پیٹ میں شدید درد ہو، تو بڑی الائچی، دارچینی، سونف، پودینہ کا قہوہ بنا کر پئیں۔

۶۸۔آواز بیٹھ جائے تو نیم گرم پانی میں ہلکا نمک ملا کر غرارے کریں یا ملٹھی چبائیں۔ ادرک کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی گلا ٹھیک ہو جاتا ہے۔

۶۹۔انجیر کھانے سے منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔

۷۰۔ٹیکے کی جگہ سوجنے کی صورت میں برف سے ٹکور کریں۔

۷۱۔آنکھوں کو طراوت دینے کے لیے کچی گاجروں کا استعمال زیادہ کریں۔

۷۲۔ہرے دھنیے کا عرق چھالوں پر لگانے سے وہ دور جاتے ہیں۔

۷۳۔دانتوں میں درد دور کرنے کے لیے لونگ پیس لیموں کے رس میں ملا کر درد والی جگہ پر لگائیں۔

۷۴۔خراب اور کٹے پھٹے ہونٹ ٹھیک کرنے کے لیے گلاب کا پھول آدھا پیس، اس میں ذرا سا مکھن لگا کر ایک ہفتہ تک ہونٹوںپر لیپ کریں۔

۷۵۔زخموں میں پیپ آنے سے روکنے کے لیے دو تا تین جاپانی پھل روزانہ کھائیں۔

۷۶۔جسمانی کمزوری دور کرنے اور وزن میں اضافے کی خاطر روزانہ دودھ کا ملک شیک لیں۔ رات کو گیارہ بادام اور ایک چمچ کشمش آدھی پیالی پانی میں بھگو لیجیے۔ صبح بادام اور کشمش کے دانے کھا کر بچا ہوا پانی پی لیں۔

۷۷۔لیکوریا اور ٹانگوں میں مستقل درد ختم کرنے کے لیے تین ہفتے تک روزانہ صبح کے وقت سات بادام کھائیے۔

۷۸۔آپریشن وغیرہ کے زخم اور نشان دور کرنے کے لیے گھیکوار کے گودے میں تھوڑا سا زیتون کا تیل ڈال گرم کر کے روزانہ لگائیں۔

۷۹۔ہاتھوں میں کھجلی اور خارش روکنے کے لیے گھیا (لوکی) کچل کر صبح شام اس کا رس ہاتھوں پر اچھی طرح ملیں۔

۸۰۔دل کی گھبراہٹ دور کرنے اور ہائی بلڈپریشر روکنے کے لیے ایک پیالی خالص شہد، پھلوں کا سرکہ ایک پیالی اور دیسی لہسن (آٹھ دانے) تینوں اچھی طرح پیس کر آمیزہ فریج میں رکھ دیں۔ ایک ہفتے بعد صبح و شام ایک چمچ لیں۔

۸۱۔سر کی خشکی دور کرنے کی خاطر چقندر کے پتے ابال کر روزانہ اس پانی سے سر دھوئیں۔

۸۲۔موسم گرما میں پیشاب کی جلن اور رکاوٹ دور کرنے کے لیے ’’گرما‘‘ استعمال کریں۔

۸۳۔جلنے کی صورت میں متاثرہ جگہ پر فوری طور پر کسٹر آئل لگائیں۔

۸۴۔خارش دور کرنے کے لیے ناریل کے تیل میں کافور ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں۔

۸۵۔شہد کی مکھی یا بھڑ کے کاٹنے کی صورت میں نمک سرکہ میں ملا متاثرہ جگہ پر لگا کر ڈنگ نکال دیں۔ درد اور سوجن کم ہو جائے گی۔

۸۶۔آدھے سر کا درد دور کرنے کے لیے لیموں کے چھلکے پیس، اس میں تیل زیتون کا ملا، سرپر لیپ کریں۔

۸۷۔نیند نہ آتی ہو، تو سونے سے پہلے پائوں کے تلوئوں پر خالص سرسوں کے تیل کی مالش کریں اور دو چمچ شہد کھا لیں۔

۸۸۔سخت ہاتھوں کو نرم و ملائم رکھنے کے لیے رات کو سونے سے پہلے لیموں کا عرق، گلیسرین میں ملا کر ہاتھوں میں ملیں۔

۸۹۔منہ کی بدبو دور کرنے کے لیے دن میں دو تین بار سونف چبائیے کر کھائیے۔

۹۰۔آواز بیٹھ جائے تو ایک گلاس پانی میں دو چمچ سونف ڈال کر ہلکی آنچ میں پکائیں۔ جب ایک ابال آ جائے، تو پانی ٹھنڈا کر کے پی لیجیے۔ چینی اور دار چینی بھی ڈال لیں۔ اس قہوے کو دن میں دو تین بار استعمال کریں۔

۹۱۔جسم میں کسی جگہ کانٹا چبھ جائے، تو تھوڑا سا گڑ لے اس میں پیاز کاٹ کر ملائیں اور متاثرہ جگہ باندھ دیں، کانٹا خودبخود نکل آئے گا۔

۹۲۔پائوں کے چھالے دور کرنے کے لیے رات سوتے وقت آبلے پر انڈے کی سفیدی لگا لیں۔

۹۳۔لو لگنے کی صورت میں پیازکا رس، لیموں اور تھوڑا سا نمک ڈال کر پیجیے۔

۹۴۔چھوٹے بچوں میں کھانسی ختم کرنے کے لیے تھوڑی سی کالی مرچ، الائچی پیس کر شہد کے آدھے چمچ میں ملا کر صبح و شام دیں۔

۹۵۔چہرے کی جھریاں دور کرنے کے لیے سو گرام عرق گلاب، ۱۵گرام روغن بادام اور پندرہ گرام پھٹکری لے کر چار انڈوں کی سفیدی ملا ہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب آمیزہ یک جان ہو جائے، تو اتار لیں۔ سوتے وقت اس سے چہرے کی مالش کریں۔

۹۶۔کیل مہاسے دور کرنے کے لیے انڈے کی سفیدی پھینٹ کر چہرے پر پندرہ بیس منٹ تک لگائیں۔ بعد میں صابن سے منہ دھو کر صاف کر لیں۔

۹۷۔زکام سے بچنے کے لیے قہوے میں ادرک اور دار چینی ملا کر استعمال کریں۔

۹۸۔دانتوں کے کیڑے ختم کرنے کے لیے، چنبیلی کے پتے پانی میں اُبال لیں۔ اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر غرارے کریں۔

۹۹۔صبح چاق چوبند اور تروتازہ رہنے کے لیے ایک پیالی گرم دودھ میں ایک چمچ شہد ڈال سونے سے پہلے روزانہ لیں۔

۱۰۰۔بار بار پیشاب آنے سے روکنے کے لیے سونے سے پہلے اخروٹ کھائیں۔ چھوٹے بچوں کا سوتے میں پیشاب نکل جاتا ہو، تو انھیں سونے سے قبل تل کے لڈو یا باجرے کی کھچڑی کھلائیے۔

پھل و سبزیاں اپنے اپنے موسم میں بیماریوں کا بہترین علاج ہیں۔ ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ رات کو بھوک رکھ کر کھانا بھی بیماریوں سے بچنے کا گُر ہے۔ رات گئے شادی، بیاہ وغیرہ کے کھانے بھی بیماری بڑھنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے بے دریغ کھانے سے پرہیز کریں۔

دانت کے ٹوٹکے[ترمیم]

11 ٹوٹکے جو دانتوں کو جگمگائیں

سفید دانتوں کی چمک سے اپنی مسکراہٹ کو جگمگانا کس کی خواہش نہیں ہوتی اور لاتعداد افراد اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ڈینٹسٹ کو دے کر ان کی صفائی بھی کرواتے ہیں تاہم کیا آپ نے کبھی قدرتی طریقوں یا غذاؤں کے بارے میں سوچا جو آپ کے دانتوں کو موتیوں کی طرح سفید کرسکتے ہیں؟

درحقیقت موتیوں جیسے چمکتے دانت تو آج کے دور میں خوبصورتی کے معمولات میں شامل ہوچکے ہیں جیسے بالوں کو رنگوانا وغیرہ۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ اپنی مسکراہٹ کو جگمگانے کے لیے آپ کو بہت زیادہ خرچہ کرنے کی ضرورت نہیں، درحقیقت اسٹرابری سے لے کر پاپ کورن وغیرہ بھی یہ کام بخوبی کرسکتے ہیں۔

دانتوں کو کھانے یا بیکنگ سوڈا سے صاف کرنا[ترمیم]

اپنے باورچی خانے سے بیکنگ سوڈا کو نکال کر باتھ روم میں منتقل کردیں، یہ سفید سفوف جو بیشتر ٹوتھ پیسٹس کا حصہ ہوتا ہے، قدرتی طور پر دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ چوتھائی چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا پانی میں ملائیں اور پھر اپنے دانتوں پر ٹوتھ برش کی مدد سے لگائیں۔ اس سے دانتوں کی سفیدی بتدریج بحال ہونے لگتی ہے اور اس کو معمول بنالینے سے کچھ عرصے میں دانت موتیوں کی طرح چمکنے لگتے ہیں۔

اسٹرابریز کا استعمال[ترمیم]

اسٹرابریز کے داغ ہوسکتا ہے کہ کپڑوں سے نہ ہٹ سکیں مگر دانتوں پر ان کا اثر بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس پھل میں شامل مالیس ایسڈ قدرتی طور پر دانتوں کی صفائی بحال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، تاہم بس اس کو کھائیں اس کو دانتوں پر چپکنے نہ دیں کیونکہ اس سے دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

نمکین گرم پانی[ترمیم]

نمکین پانی نہ صرف دانتوں کو قدرتی طور پر صفائی میں مدد فراہم کرتا ہے بلکہ مسوڑوں کو صحت مند رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لیے آپ ایک چائے کا چمچ نمک ایک کپ گرم پانی میں شامل کریں، پھر اسے ٹھنڈا کرکے ماﺅتھ واش کے طور پر استعمال کریں۔

پنیر کا استعمال[ترمیم]

پنیر بھی دانتوں کی صفائی کے لیے ایک زبردست قدرتی غذا ہے جو دانتوں کو مضبوط کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ پنیر میں کیلشیئم موجود ہوتا ہے اور اس میں سطح کی صفائی کا اسٹرکچر بھی شامل ہے خاص طور پر سخت پنیر میں جیسے شیڈر چیس وغیرہ۔

ناریل کے تیل کا استعمال[ترمیم]

ایک چمچ ناریل کے تیل سے دانتوں کو دھو لیں کیونکہ یہ عمل انہیں داغ دھبوں سے بچاتا ہے۔ دانتوں کی صفائی کا یہ جس حد تک ممکن ہو دیر تک کریں خاص طور پر 15 منٹ مثالی وقت ہے، اس سے بیکٹریا کے خاتمے اور اس پر گندگی کو ہٹانے میں مدد ملتی ہے۔

دودھ کا زیادہ استعمال[ترمیم]

دودھ میں موجود کیلشیئم دانتوں کی سطح اور اسٹرکچر کو مضبوط کرتا ہے جبکہ جبڑوں کی ہڈی بھی مضبوط ہوتی ہے۔ تاہم دودھ کے ساتھ ساتھ لیموں پانی یا ٹانک واٹر بھی دانتوں کی جگمگاہٹ کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پاپ کورن[ترمیم]

پاپ کورن کو صفائی والی غذا کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، اس کے سخت کونے دانتوں پر سے بیکٹریا کو ہٹانے یا صفائی کا کام کرتے ہیں، اگر کسی وجہ سے رات کو آپ اپنے دانتوں پر برش نہیں کرسکتے تو کوشش کریں کہ آخری غذا کے طور پر پاپ کورن کی کچھ مقدار کھالیں۔

چیونگم[ترمیم]

چیونگم دانتوں کی صفائی میں اس طرح مدد کرتی ہے کہ وہ کونوں یا سوراخوں میں پھنس جانے والے ذرات کو نکال دیتی ہے، اس کے علاوہ یہ تھوک کی مقدار بڑھاتی ہے جس سے ایسا قدرتی ایسڈ دانتوں کی سطح کو ملتا ہے جو ان کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔ تاہم چینی سے پاک چیونگم کا استعمال زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے۔

زبان کی صفائی مت بھولیں[ترمیم]

ہماری زبان خوراک جیسے چائے اور کافی کے ذرات کو دبا لیتی ہے جس کے نتیجے میں اگر توجہ نہ دی جائے تو دانتوں کی بیماریوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اگر زبان کی صفائی نہ کی جائے تو دانتوں کے امراض کے باعث بننے والے بیکٹریا کی تعداد میں 10 گنا اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کا حل بہت آسان ہے یا تو اپنا برش زبان پر پھیر لیں یا زبان کی صفائی کے لیے ملنے والا آلہ گھر لے آئیں۔

ویسلین کا اپنے منہ کے اندر استعمال[ترمیم]

کچھ مقدار میں ویسلین خواتین کے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک کو دانتوں میں منتقل ہونے سے روکتی ہے جو کچھ عرصے بعد دانتوں پر داغ دھبوں کا باعث بن کر انہیں بدنما بنا دیتی ہے۔

روزانہ ایک سیب[ترمیم]

سیب کو قدرت کا ٹوتھ برش بھی کہا جاتا ہے اور وہ دانتوں کی صفائی کے لیے ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں اگر کسی وجہ سے آپ دانتوں کی صفائی نہیں کرسکتے تو ایک سیب کو کھالیں جبکہ اس طرح کچی گاجریں یا کھیرا بھی بہترین متبادل ثابت ہوتے ہیں۔

لیموں کے ٹوٹکے[ترمیم]

لیموں گرمیوں میں اپنے عرق یا جوس کی بدولت پاکستان یا اس جیسے دیگر ممالک میں بہت زیادہ استعمال ہونے والا پھل ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانے یا پینے سے ہٹ کر بھی یہ کیا کرشمے دکھا سکتا ہے؟

درحقیقت یہ ترش پھل آپ کو صحت مند، خوبصورت، صفائی اور اچھا باورچی (یقیناً) بنا سکتا ہے۔

تو لیموں کے چند ایسے ہی حیرت انگیز فوائد جانے جو آپ کو دنگ کر کے رکھ دیں گے۔

؛فریج میں بساند دور کرے فریج میں بس جانے والی بو کو ختم کرنے کے لیے لیموں کا عرق سے کسی روئی یا اسفنج کو بھگوئیں اور اسے کچھ گھنٹوں کے لیے فریج کے اندر چھوڑ دیں۔ اس دوران یہ بات یقینی بنائیں کہ کوئی بو پیدا کرنے والی چیز فریج میں نہ ہو۔

؛المونیم کے برتنوں کو چمکائیں اپنی بدنما پتیلیوں اور برتنوں کو اندر اور باہر سے چمکانا چاہتے ہیں؟ تو لیموں کو آدھا کاٹ کر اسے برتن پر ہر جگہ رگڑیں اور پھر کسی نرم کپڑے سے پونچھ دیں۔

؛کیڑوں کو کچن سے دور رکھیں آپ کو مہنگے اسپرے کی ضرورت نہیں جو چیونٹیوں کو کچن سے دور رکھ سکے۔ سب سے پہلے تو لیموں کا عرق کچھ مقدار میں فرش پر دہلیز کے مقام پر اور کھڑکیوں پر چھڑک دیں، اس کے بعد ایسے کسی سوراخ یا دراڑ میں اس عرق کو ڈالیں جہاں سے چیونٹیاں آتی ہوں۔ آخر میں لیموں کے چھلکے کے چھوٹے ٹکڑے کرکے بیرونی دروازے کے گرد رکھ دیں، چیونٹیاں دور ہوجائیں گی۔ لیموں لال بیگ اور پسو وغیرہ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوتا ہے، سب سے پہلے چار لیموں کا عرق چھلکوں سمیت 2 لیٹر پانی میں مکس کریں اور پھر فرش کو اس سے دھولیں اور پھر آپ خود لال بیگوں کووہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھیں گے کیونکہ انہیں اس کی خوشبو سے نفرت ہے۔

؛مائیکرو ویو کی صفائی مائیکرو ویو کے اندر اکثر چکنائی اور دیگر چیزیں جم جاتی ہیں اور ان کی صفائی اگر کھرچے یا کسی تیز کلینر سے نہ کرنا چاہے تو تین چائے کے چمچ لیموں کے عرق کو ڈیڑھ کپ پانی میں مکس کرکے کسی مائیکرو ویو میں رکھے جانے والے ڈونگے میں رکھ دیں۔ اس کے بعد مائیکرو ویو کو 5 سے 10 منٹ تک چلائیں جس سے پیدا ہونے والا دھواں اندرونی دیواروں اور چھت میں جذب ہوجائے گا جس کے بعد جم جانے والی چکنائی یا دیگر دیگر نرم ہوجائیں گے جنھیں صاف کرلیں۔

؛چھائیوں کو دور کریں جب آپ کے پاس لیموں کا عرق ہے تو مہنگی کریموں کو کیوں خریدتے ہیں؟ چہرے یا جسم پر چھائیاں پڑجانے پر لیموں کے عرق کو براہ راست متاثرہ حصے پر لگا کر 15 منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔ یہ جلد کو جگمگانے والا ایک محفوظ اور موثر پھل ہے۔

؛چہرے کی صفائی آپ اپنے چہرے کو لیموں کے عرق سے دھوئیں تو یہ قدرتی کلینر کا کام کرتا ہے اور چند دن تک اس کے استعمال سے جلد میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

؛بالوں کی خشکی سے نجات اگر سر میں کھجلی اور خشکی نے آپ کو تنگ کررکھا ہے تو اس سے ریلیف کے لیے دو چائے کے چمچ لیموں کے عرق کی مالش اپنے سر پر کریں اور پھر پانی سے دھولیں۔ اس کے بعد ایک چائے کا چمچ لیموں کا عرق ایک کپ پانی میں ملائیں اور اس سے اپنے بال دھولیں۔ اس عمل کو روزانہ اس وقت تک دہرائیں جب تک خشکی غائب نہ ہوجائے۔

؛خراشوں سے ریلیف چھوٹی خراشیں آجانے پر ان پر کچھ قطرے لیموں کا عرق ڈالیں یا روئی کو عرق میں بھگو کر متاثرہ جگہ پر ایک منٹ تک کے لیے دبا کر رکھیں۔

؛مسوں سے نجات اگر آپ نے مسوں سے نجات کے لیے متعدد نسخے آزمائے ہیں اور کوئی کام نہیں آیا تو اگلی بار روئی کے ذریعے لیموں کے عرق کو براہ راست اس جگہ پر لگائیں۔ اس عمل کو کئی دن تک دہرائیں جب تک لیموں کے عرق میں موجود تیزابی اثرات مسوں کو مکمل طور پر تحلیل نہ کردیں۔

؛کپڑوں کو بلیچ کرنا گرم پانی میں لیموں کا عرق شامل کریں اور اس میں اپنے سفید کپڑے بھگو دیں، کچھ دیر بعد انہیں معمول کی طرح نچوڑ کر دھولیں۔ اس کے علاوہ آپ واشنگ مشین میں بھی بلیچ کی جگہ آدھا کپ لیموں کا جوس ڈال کر بھی بہترین نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں۔

؛کپڑوں کی سفیدی اپنے سفید کپڑوں کو زیادہ سفید کرنا چاہتے ہیں تو لیموں کا عرق کپڑے دھونے والے پانی میں ملادیں، آپ کے کپڑے زیادہ جگمگانے لگیں گے جبکہ ان میں لیموں کی خوشبو میں بس جائے گی۔

؛سنگ مرمر کی صفائی سنگ مرمرکے فرش پر سے زنگ کے دھبوں کو ہٹانے کے لیے کھانے کا سوڈا داغ پر چھڑکیں اور اس پر کچھ لیموں کا عرق ڈال دیں، اس جگہ کو رگڑیں، ضرورت پڑنے پر پھر سوڈا اور لیموں کا عرق ڈالیں، اس کے بعد صاف گیلے کپڑے سے اس جگہ کو صاف کردیں، آپ کا فرش جگمگانے لگے گا۔

؛فرنیچر پالش اپنے گھر کے فرنیچر کے لیے گھریلو ساختہ پالش تیار کریں جس کی مہک اچھی اور لاگت کسی عام پالش کے مقابلے میں بہت کم ہے، بس لیموں سے عرق نکال کر اسے زیتون کے تیل میں شامل کریں ہلانے کے بعد اس محلول کو کپڑے پر ڈال کر اپنے فرنیچر کو پالش کریں، آپ کرسیوں اور میزوں کی چمک کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

؛پانی کے دھبوں کی صفائی پانی کے نتیجے میں نلکوں اور شاور وغیرہ پر نظر نہ آنے والے دھبے پڑ جاتے ہیں اور بتدریج جم کر موٹے ہوتے چلے جاتے ہیں، جس کی صفائی کے لیے ایک لیموں کو کاٹ کر اسے اپنے نلکے یا شاور پر رگڑے، اس عمل کے بعد چمکنے لگیں گے اور بالکل نئے جیسے ہوجائیں گے۔

بالوں کا خضاب[ترمیم]

بالوں پر رنگ یا کلر کروانا خاص طور پر باہر سے سستا نہیں پڑتا مگر اس کا دورانیہ بڑھانے کے لیے آپ کو کچھ زیادہ خرچہ نہیں کرنا پڑتا۔

ایک ویب سائٹ ہیلتھ ڈاٹ کام کی جانب سے ہیئر کلر کے دورانیے کو طویل تر کرنے کے حوالے سے 7 سادہ طریقے بتائے گئے ہیں۔

اگر آپ بھی بالوں کو رنگتے ہیں تو درج ذیل ٹپس کو اپنا کر دیکھیں آپ کو خود ان کے فائدے کا احساس ہوگا اور ہاں ان طریقوں سے بالوں کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔

؛کم شیمپو بالوں کو روزانہ شیمپو سے دھونا مہنگے ہیئر کلر کو بہت جلد صاف کردیتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے ایک دن کا وقفہ دے کر بالوں کو شیمپو سے دھوئیں۔

؛زیادہ کنڈیشنر ہیئر کلر میں موجود کیمیکلز بالوں کو مسام دار اور خشک کردیتے ہیں، تو انہیں نرم اور صحت مند رکھنے کے لیے ہفتے میں ایک بار شیمپو سے دھونے کے بعد اچھے کنڈیشنر کا استعمال کریں۔ اگر بال گھنے ہیں تو بالوں کی جڑوں کے قریب اسے لگائیں، دس منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔

؛بہت زیادہ گرم پانی سے گریز ٹھنڈے پانی سے نہانا بالوں کی بیرونی سطح کو قریب رکھ کر ہیئر کلر کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتا ہے۔

؛شاور فلٹر اگر تو آپ شاور لینے کے عادی ہیں تو جان لیں کہ پانی میں موجود منرلز بالوں کے رنگ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں تو اگر ان سے بچنا چاہتے ہیں تو شاور ہیڈ میں فلٹر کا اضافہ کرکے آئرن اور دیگر منرلز سے بالوں کو ہونے والے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔

؛سورج سے بچیں سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں بالوں کی سطح پر اثرانداز ہوکر ہیئر کلر کو اڑا سکتی ہیں، تو اس سے بچنے کے لیے شدید دھوپ میں باہر نکلتے ہوئے سر پر ٹوپی پہن لیں یا ان شعاعوں سے تحفظ دینے والے ہیئر اسپرے کا استعمال کریں۔

؛بالوں کا انداز بدل لیں کوشش کریں کہ بالوں کا انداز ایسے ہو کہ جڑیں کم نمایاں ہو تاکہ ماحول سے ہیئر کلر پر مرتب ہونے والے اثرات سے بچا جاسکے یا رنگ اڑنے والے حصے چھپ جائیں۔

؛درست ہیئر کلر کا انتخاب اگر تو آپ نے اپنے بالوں کے اصل رنگ سے ہٹ کر کسی رنگ کا انتخاب کیا تو ان میں خرابی کی صورت میں مضحکہ خیز صورتحال کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، تو اپنے بالوں سے قریب تر رنگت کا انتخاب کریں۔

بانجھ پن[ترمیم]

شادی کے بعد بچوں کا نہ ہونا میاں بیوی کے تعلق میں دوری لانے کا باعث بھی بن سکتا ہے اور آج کے عہد میں بانجھ پن کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی وجہ عام طور پر آلودگی، نیند کی کمی اور طرز زندگی کی چند دیگر عادات ہوتی ہیں۔

ویسے ضروری نہیں کہ کوئی مرد یا خاتون بانجھ ہو درحقیقت ہارمونز کا نظام درست نہ ہونا بھی بچوں کی پیدائش میں تاخیر کا باعث بن جاتا ہے۔

اب اس کی تیکنیکی وجوہات جاننا تو ضروری نہیں مگر بس یہ جان لیں کہ ہارمونز کو متاثر کرنے والے کیمیکلز اور ذہنی تناﺅ ہمارے جسموں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

تاہم طبی سائنس کا کہنا ہے کہ غذائی عادات بھی اس خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور یہاں کچھ ایسی ہی غذاﺅں کا ذکر کیا گیا ہے جو فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

؛میٹھا کدو

میٹھا کدو غذائیت اور صحت بخش اجزاءسے بھرپور سبزی ہے جس میں متعدد وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس کے ساتھ ساتھ کافی مقدار میں قابل ہضم فائبر موجود ہوتا ہے۔ میڈیکل جرنل فرٹیلیٹی اینڈ اسٹیرلیٹن میں 2013 میں شائع ایک تحقیق کے مطابق بیٹا کیروٹین سے بھرپور یہ سبزی ہارمون کے نظام کو بہتر بناکر مردوں کے اندر اولاد کے لیے ضروری اسپرم کو بڑھاتی ہے۔

؛چقندر

اینٹی آکسائیڈنٹ resveratrol کا زبردست ذریعہ چقندر عمر بڑھنے سے پیدا ہونے والے بانجھ پن کے مسائل کے خلاف مددگار ثابت ہوتی ہے، جبکہ اس میں نائٹریٹ بھی موجود ہوتا ہے جو خونی کی روانی کو بہتر بناتا ہے۔

؛مچھلی

مچھلی پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے خاص طور پر اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اسے خاص بناتے ہیں، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین میں بانجھ پن کے حوالے سے اومیگا تھری کی کمی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مچھلی عام صحت کے لیے بھی بہترین ہے جو خون کی شریانوں کا نظام ٹھیک کرنے کے ساتھ دماغی افعال اور آنکھوں کی صحت کو بھی بہتر بناسکتی ہے۔

؛انڈے

انڈوں میں کولائن نامی جز موجود ہوتا ہے جو بانجھ پن کے خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جیسا کہ کارنیل یونیورسٹی کی ایک تھقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ بھی یہ مختلف وٹامنز اور منرلز کا مجموعہ ہوتے ہیں جو مختلف طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔

؛اخروٹ

اخروٹ کے فوائد اکثر سامنے آتے رہتے ہیں جیسے کینسر کے خلاف جدوجہد، موٹاپے سے بچاﺅ وغیرہ، اسی طرح یہ اومیگا تھری فیٹس اور وٹامن ای سے بھرپور ہونے کے باعث مردوں میں اسپرم کا معیار بہتر کرتے ہیں جبکہ وٹامن بی اور پروٹین خواتین کے سسٹم کی صحت بہتر بنانے مین مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اخروٹ کا روزانہ کچھ مقدار میں استعمال بانجھ پن کے خطرے سے تحفظ دیتا ہے۔

؛انار

انار وٹامن سی، وٹامن کے، فولک ایسڈ اور متعدد دیگر وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتے ہیں، ان میں عمر کے اثرات جھاڑنے، انسداد کینسر خوبیاں بھی موجود ہیں جبکہ یہ خون کی شریانوں کی صحت کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کو مضبوط بھی بناکر خون کی روانی کو بڑھاتے ہیں۔ طبی تحقیق کے مطابق انار کا استعمال بانجھ پن سے بچا سکتا ہے جبکہ دوران حمل اس کا جوس پینا بچوں کی دماغی نشوونما کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ( 1900ء، خورشید بہو، 85 )

مزید دیکھیے[ترمیم]