ٹڈی (جراد)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام میں[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے‘۔ ”ہم نے رسول اللہ کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی‘ اور ٹڈی کھائی“[1][2]

تعارف اور 2020 میں حملہ[ترمیم]

بی بی سی کی 7 جنوری 2020 کی رپورٹ کے مطابق صحرائی ٹڈیوں کے جھنڈ کے جھنڈ جنوبی ایشیا اور قرنِ افریقہ میں حملہ آور ہو رہے ہیں جس سے انسانی خوراک اور اس سے جُڑی اشیا کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ یہ اس ربع صدی کا بدترین حملہ ہے۔ اس طرح کی صحرائی ٹڈّی جو ایک ٹڈے کی قِسم ہے، عموماً تنہائی پسند ہوتی ہے۔ یہ ایک انڈے سے نکل کر ایک نوجوان ٹڈی کی شکل اختیار کرتی ہے اور پھر یہ بالغ ٹڈیوں کے ہمراہ اڑنا شروع کرتی ہے۔ تاہم یہ صحرائی ٹڈیاں ایک من ترنگ انداز میں ایک تبدیلی کے دور سے گزرتی ہیں۔ جب یہ ایک بڑے ہجوم کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اور سبز خوراک والا علاقہ کم پڑنے لگتا ہے تو پھر یہ تنہا رہنے والی مخلوق نہیں رہتیں اور اپنے خول سے باہر نکل کر ننھی ننھی وحشی مخلوق بن جاتی ہیں۔ اس نئے سماجی رابطوں کے دور میں اس کیڑے کے رنگ اور شکل میں تبدیلی آتی ہے، پھر یہ بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کرتی ہیں جوایک وبا کی مانند غارت گری کرنے والے جھنڈوں کی طرح پرواز کرتے ہیں۔ ایسے جھنڈ بسا اوقات بہت بڑے ہوسکتے ہیں۔ کسی ایک دن ان میں دس ارب سے زیادہ ٹڈیاں شامل ہو سکتی ہیں اور یہ سینکڑوں کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹڈی دل روزانہ 120 کلومیٹر کا سفر کر سکتے ہیں اور دیہی زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں جہاں یہ اپنی بھوک مٹانے کے لیے ہر شے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے زراعت اور خوراک (ایف اے او) کے مطابق، ایک اوسط درجے کا جھنڈ انتی فصلیں تباہ کر سکتا ہے جو ڈھائی ہزار افراد کے لیے سال بھر کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق، سنہ 2003 میں شروع ہونے والے ٹڈیوں کے حملے میں جو دو برس تک جاری رہا، صرف مغربی افریقہ میں ڈھائی ارب ڈالر مالیت کی فصلیں تباہ ہوئی تھیں۔ تاہم سنہ تیس، چالیس اور پھر سنہ پچاس کی دہائیوں میں بھی بہت بڑی تباہی والے ٹڈیوں کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ ان میں ٹڈیوں کے کچھ جھنڈ تو کئی علاقوں میں پھیل گئے جس کی وجہ سے انھیں ایک وبا قرار دینے کی ضرورت سمجھی گئی۔ مجموعی طور پر ایف اے او کے مطابق، اس کرہ ارض پر ہر دس افراد میں سے ایک فرد کی زندگی ان ٹڈیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے یہ دنیا میں منتقل ہونے والی بدترین وبا قرار دی جاتی ہے۔

ٹڈی دل مشرقی افریقہ اور پاکستان کی فصلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں[ترمیم]

صحرائی ٹڈّیوں کے یہ جھنڈ اس وقت قرنِ افریقہ کی فصلوں اور جانوروں کے چارے وغیرہ کو تباہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پورے خطے میں غذائی تحفظ خطرے میں ہے۔

یہ تباہ کن حشرات صومالیہ اور ایتھوپیا میں تباہی پھیلانے کے بعد اس وقت کینیا میں غارت گری کر رہے ہیں۔ یہ کینیا میں گذشتہ 70 برس کی بدترین وبا ہے جبکہ صومالیہ اور ایتھوپیا کے لیے 25 برس میں بدترین حملے ہیں۔

صومالیہ نے اس بحران سے پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے قومی سطح پر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان بھی قومی سطح پر ہنگامی حالت کا اعلان کر چکا ہے جہاں ٹڈیوں کے ان جھنڈوں نے ملک کے مشرقی علاقوں میں کپاس، گندم، مکئی اور کئی دیگر اجناس کی فصلوں کو برباد کیا ہے۔

لیکن اس وقت قرنِ افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جس کے بارے میں بہت زیادہ تشویش ہے جہاں ایف اے او کے مطابق ٹڈیوں کی افزائش اتنی تیزی سے ہو رہی ہے کہ شاید جون تک ان کی تعداد میں پانچ سو گنا اضافہ ہو جائے۔

اس وقت کئی ممالک ٹڈیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں[ترمیم]

ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ کچھ جھنڈ ایسے بھی ہیں جو آئندہ دنوں میں یوگنڈا اور جنوبی سوڈان تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو یہ پورے خطے کے لیے ایک وبائی صورت اختیار کرسکتے ہیں۔

ٹڈّی دل گذشتہ برس دسمبر تک صومالیہ اور ایتھوپیا میں پونے دو لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلے کھیت تباہ کرچکے ہیں۔ حکام کا خدشہ ہے کہ ٹڈّیوں کا یہ بحران ایک ایسے خطے میں زرعی پیداوار میں شدید کمی پیدا کر سکتا ہے جو پہلے ہی سے سیلاب اور خشک سالی کی وجہ سے خوراک کی کمی کے بحران سے دو چار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دو کروڑ کے قریب افراد اس بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایف اے او کے ٹڈّیوں کے بارے میں سینئیر مشاورت کار، کیتھ کریسمن کہتے ہیں کہ 'ہمیں کینیا اور ایتھوپیا کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش ہے کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بہت ہی بڑے بڑے جھنڈ ہیں۔‘

'اس کے علاوہ ایتھوپیا میں ان کی افزائش جاری ہےاس لیے وہاں ٹڈّیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔‘ علی بِِلا واکو 68 برس کے کسان ہیں جن کا تعلق شمال مشرقی کینیا سے ہے۔ انھیں امید تھی کہ اس مرتبہ کی فصل انھیں اچھا فائدہ دے گی کیونکہ اس بار بارشیں زیادہ ہوئی تھیں اور خشک سالی ختم ہو گئی تھی۔

لیکن ٹڈّیوں نے اس کی مکئی اور لوبیے کی فصل تباہ کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہ ہماری اجناس کا بیشتر حصہ کھا گئیں اور جو بچا وہ خشک ہو گیا۔ اس سے ہمیں بہت نقصان ہوا ہے۔ ہم نے اپنی فصل پکتے دیکھی لیکن ہم اسے کھا نہ سکے۔‘

علی واکو نے اس سے پہلے ٹڈّی دل سنہ 1960 کی دہائی میں دیکھے تھے اور وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح یہ جھنڈ آسمان کو سیاہ کر دیتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ 'اتنی تاریکی ہو جاتی تھی کہ آپ سورج بھی نہیں دیکھ سکتے تھے

موسموں میں شدت پیدا ہونے کی وجہ سے اس بحران میں اضافہ ہوا ہے[ترمیم]

ٹڈیوں کے موجودہ بحران کی وجہ 19-2018 میں ہونے والی شدید بارشیں اور آنے والے طوفان ہیں۔

صحرائی ٹڈیاں مغربی افریقہ سے لے کر انڈیا تک محیط تیس ممالک میں پھیلے خشک آب و ہوا والے خطے میں رہتی ہیں -- یہ تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ مربع کلو میٹر کا رقبہ بنتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دو برس قبل جنوبی عربی جزیرہ نما کے علاقے میں نمی والے سازگار حالات کی وجہ سے ٹڈیوں کی تین نسلوں کی افزائش ہوئی اور کسی کو اس کا علم نہیں ہو سکا.

جھنڈوں کا موجودہ اضافہ سنہ 2018 سے شروع ہوا ہے[ترمیم]

سنہ 2019 کے اوائل میں ٹڈی دل کی پہلی کھیپ نے یمن، سعودی عرب اور ایران کا رخ کیا اور مشرقی افریقہ تک پہنچنے سے پہلے اپنی افزائشِ نسل بھی تیزی سے کی۔

مزید جُھنڈ پیدا ہوئے اور سنہ 2019 کے اواخر تک یہ اریٹریا، جبوتی اور کینیا تک پہنچ چکے تھے۔ اگرچہ اس قسم کے جھنڈوں کے خلاف مزاحمت میں ناکامی ہوئی ہے باوجود اس کے کہ اس سے زمین کا ایک بہت بڑا رقبہ متاثر ہوتا ہے، تاہم ایف اے او کے کریسمن سمجھتے ہیں کہ ٹڈّیوں کے موجودہ جھنڈوں کے خلاف شروع دور میں بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اگر ان ملکوں کے کچھ اہم علاقوں میں ان پر قابو پانے کی بروقت کارروائی کی جاتی تو نقصان کو کم کیا جا سکتا تھا۔

نمٹنے کی کوششیں[ترمیم]

کریسمن کہتے ہیں کہ 'اس وقت ایک بڑی سطح پر کینیا اور ایتھوپیا میں اور اگر ممکن ہو تو صومالیہ میں بھی، ہوائی جہاز کے ذریعے سپرے کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ان ممالک میں سکیورٹی کے حالات خراب ہونے کی وجہ یہ کرنا عملاً ممکن نہیں ہے۔‘

'اب جبکہ ٹڈیوں کی افزائش مربوط جھنڈوں کی صورت اختیار کر چکی ہے تو اب یہ بہتر ہو گا کہ انھیں آسمان سے ہوائی جہازوں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے تاکہ ہم ان کی تعداد کم کر سکیں اور انڈوں سے مزید ٹڈّیاں نکلنے سے روک سکیں۔‘

اگرچہ اس وقت تحقیق جاری ہے کہ ماحول خراب کیے بغیر ان ٹڈّیوں سے نمٹا جا سکے، فی الحال سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ کرم کُش ادویات کا چھڑکاؤ ہے۔

ان حشرات پر ہاتھ سے سپرے کرنے یا مشینوں سے سپرے کرنے یا ہوائی جہاز سے سپرے کرنے سے بڑے بڑے جھنڈوں کو نشانہ بنا کر کیمیائی ادویات کے ذریعے ایک چھوٹے سے وقت میں تلف کیا جا سکتا ہے

کینیا میں ٹڈّیوں کے حملے کو روکنے کے لیے ہوائی سپرے کرنے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں ان کی آبادی اور وہ بھی دور دراز پھیلے جھنڈوں کو روکنا کافی مشکل کام ہے۔ اور ایسا ان ملکوں میں کرنا اور بھی دشوار ہوجاتا ہے جنھوں نے کئی دہائیوں سے ٹڈّیوں کے حملوں سے نمٹا ہی نہ ہو کیونکہ وہاں اس قسم کا کوئی انفراسٹرکچر موجود ہی نہیں ہوتا ہے۔

کریسمن کہتے ہیں کہ 'اس سے بہت زیادہ پریشانی پیدا ہوتی ہے حب ٹڈّیاں دوبارہ واپس آتی ہیں۔‘

صومالیہ، ایتھوپیا اور کینیا اور ساتھ ساتھ پاکستان میں کیے گئے اقدامات اب حالات کی سمت کا تعین کر سکیں گے کہ آئندہ کیا ہو گا۔ اگر موجودہ حملوں کا سلسلہ مزید ملکوں کی سرحدوں کو عبور کرتا ہے اور مزید خطوں کو برباد کرتا ہے تو پھر اسے وبائی کیفیت قرار دیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ان متاثرہ خطوں میں ہوائی سپرے کی کارروائیاں ناکافی ہیں اور اس نے عطیات دینے والے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سات کروڑ ڈالر کی امداد دیں۔

تاہم کینیا کے علی بلا واکو اور اس کے خاندان کے لیے اب کسی بھی مدد کا وقت گزر چکا ہے۔ دنیا اب ٹڈّیوں کے خلاف جنگ میں صرف یہ کر سکتی ہے کہ جیسے ہی ان کی یلغار ہو تو ان کو مارنے کے لیے ادویات کے کنستر کے کنستر پہنچائے جائیں۔

لیکن علی واکو اب فلسفیانہ انداز میں اپنے نقصان کی بات کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ خدا کی مرضی ہے۔ یہ ٹڈیاں بھی اسی کی مخلوق ہیں۔‘ ایف اے او کا کہنا ہے کہ یہ روزانہ ساڑھے تین سو مربع میل علاقے میں تقریباً اٹھارہ لاکھ ٹن کی زرعی خوراک کھا رہے ہیں

ایف اے او کا خیال ہے کہ ٹڈیوں کا ایک اوسط سائز کا جھنڈ 40 کلومیٹر سے لے کر 60 کلومیٹر کے علاقے پر پھیلا ہو سکتا ہے۔ [3]

ٹڈیاں پکانے کا طریقہ[ترمیم]

ڈیڈیاں کھانے کے شوقین لوگ اسے ’خشکی کا جھینگا‘ کہتے ہیں اور ان کے مطابق جتنی طاقت سمندری جھینگوں میں ہوتی ہے اتنی ہی طاقت ٹڈیوں میں بھی ہوتی ہے۔ سعودی عرب میں زندہ ٹڈیاں خریدی جاتی ہیں اور انہیں پکانے کے 2طریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ ٹڈیوں کو پانی میں ابالنے کے بعد تیل میں فرائی کیا جاتا ہےاور پھر اپنی پسند کے مصالحے ڈال کر کھایا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انہیں چاولوں کیساتھ پکا کر کھایا جاتا ہے۔افریقی ممالک میں ٹڈیوں کو خشک کرکے پکایا جاتا ہے اوربعض ممالک میں تو ٹڈیوں کو سینڈوچ ڈال کر کھایا جاتا ہے۔

ٹڈیوں کے طبی فوائد[ترمیم]

ماہرین کا کہناہےکہ ٹڈیاں پروٹین سے بھرپور ہیں اوران میں 62 فیصد پروٹین، 17 فیصد تیل اور 21 فیصد میگنیگشیم ، کیلشیئم ، آئرن، سوڈیم، پوٹاشیم اور فاسفورس ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہناہے کہ ٹڈیاں کھانے سے مختلف موسمی بیماریاں ختم ہوتی ہیں۔ٹڈیاں کیونکہ مختلف پتوں سے غذا حاصل کرتی ہیں اس لیے ان کے کھانے سے جسم کو غذائیت ملتی ہے جس سے انسان توانائی اور فرحت محسوس کرتا ہے۔ جڑی بوٹیوں سے علاج معالجہ کرنے والے سعودیوں کا کہناہے کہ ٹڈیاں کھانے سے جوڑوں کا درد ختم ہوتا ہے۔ یہ کمر کے درد کا فعال علاج ہے۔ جن بچوں میں افزائش سست ہوتی ہے انہیں ٹڈیاں کھلانی چاہیں۔ اطبا کا کہنا ہے کہ ٹڈی گرم خشک ہے‘ اس میں غذائیت کم ہوتی ہے‘ہمیشہ اس کو کھانے سے لاغری پیدا ہوتی ہے۔اگر اس کی دھونی دی جائے تو سلس البول اور پیشاب کی پریشانی کو ختم کرتی ہے۔بالخصوص عورتوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔بواسیر میں بھی اس کی دھونی دی جاتی ہے اور بچھو کے ڈنک مارنے پر فربہ ٹڈیوں کو بھون کر کھایا جاتا ہے۔مغربی دنیا میں ٹڈی کو فصلوں کے لیے ایک کارآمد کیڑا خیال کیا جاتا ہے۔[4]

سعودی وزرات زراعت کی طرف سے انتباہ[ترمیم]

دوسری طرف سعودی وزارت زراعت و ماحولیات و پانی نے شہریوں سمیت غیر ملکیوں کومتنبع کیا ہے کہ ٹڈیاں کھانے سے مختلف قسم کی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ محکمے کے مطابق ملک میں آنے والی ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے مختلف اوقات میں زہریلا اسپرے کیا جاتا ہے اوران میں اسپرے کے اثرات پائے جاتے ہیں جو پکانے یا ابالنے ختم نہیں ہوتے۔ وزارت نے کہا ہے کہ سعودی شہری اور غیر ملکی اپنی سلامتی کے لیے ٹڈیاں کھانے سے اجتناب کریں۔[5]

  1. صحیح بخاری
  2. صحیح مسلم
  3. https://www.bbc.com/urdu/resources/idt-010985c5-f562-41d7-b3b9-d7f11ebec853
  4. https://dailypakistan.com.pk/13-Jul-2017/608279
  5. https://www.urdunews.com/node/416966/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85-%D8%B9%D8%B1%D8%A8/%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B1%D8%A8/%D9%B9%DA%88%DB%8C-%D8%AF%D9%84-%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%AF%DB%81-%D8%BA%D8%B0%D8%A7