سلطنت اشکانیان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(پارتھیا سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سلطنت اشکانیان
[[سلوقی سلطنت|]]
247 قبل مسیح–224 عیسوی [[ساسانی سلطنت|]]
The Parthian Empire at its greatest extent
دارالحکومت Ctesiphon,[1] Ecbatana, Hecatompylos, سوسن (شہر), Mithradatkirt, Asaak
زبانیں Parthian, Persian, Aramaic,[2] Akkadian[1]
مذہب زرتشتیت
Babylonian religion[3]
حکومت Feudal monarchy[4]
شہنشاہ
 - 247–211 ق-م Arsaces I (first)
 - 208–224 Artabanus V (last)
مقننہ Megisthanes
تاریخی دور Classical antiquity
 - قیام 247 قبل مسیح
 - اختتام 224 عیسوی
سکہ Greek drachma
موجودہ ممالک Flag of Afghanistan.svg افغانستان
Flag of Armenia.svg آرمینیا
Flag of Azerbaijan.svg آذربائیجان
Flag of Bahrain.svg بحرین
Flag of Georgia.svg جارجیا
Flag of Iran.svg ایران
Flag of Iraq.svg عراق
Flag of Kuwait.svg کویت
Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of Qatar.svg قطر
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
Flag of Syria.svg شام
Flag of Turkey.svg ترکی
Flag of Turkmenistan.svg ترکمانستان
Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات
سلطنت اشکانیان کا نقشہ

سلطنت اشکانیان یا سلطنت پارثاوا یا پارت یا پارث (انگریزی: Parthian Empire) فارس یا ایران کی ایک قدیم سلطنت جس میں ایران کے موجودہ صوبہ جات خراسان اور گورگان اور وسطی ایشیاء کا ایک ملک ترکمنستان کا جنوبی علاقہ شامل تھا۔ اس کو آسان اردو میں "پارثی سلطنت" بھی کہا جاتا ہے جو بعد ازاں اور بھی وسیع ہوگئی تھی-

ابتدائی تاریخ[ترمیم]

پارتی ادر ماد اور پارس کی طرح وسط ایشیاء سے آئے تھے اور ان کی طرح آریا نسل سے تھے۔ پارتھیا کا ذکر سب سے پہلے دارا عظم کے کتبے میں ملتا ہے۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 75) جسٹین Jasttain کے خیال میں پارتی سیکاتی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اسٹرابو Strabous کا خیال ہے کہ پارتی سیکاتی قبیلے کی ایک شاخ ہیں جو داہیDbes میں رہتے تھے۔ یہ لوگ داہی کو چھور کر خوارزم آئے جو کے خراسان کے شمال میں واقع ہے۔ پھر وہاں سے کر خراسان میں سکونت اختیار کرلی۔ (پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 225)

سکندرنے ہخامنشی خاندان کا خاتمہ کیا تو پارتی بھی محکوم ہوگئے۔ سکندرکے جانشین سلوکی Seleucids ہوئے، مگر پارت کے ایک سردار اشک Asaak یا ارشک Arsaces نے سیاسی قوت حاصل کرنے کے بعد 249 ق م میں سلوکی خاندان کے خلاف بغاوت کرکے سمرقند سے مرو کا علاقہ آزاد کرالیا اور ایک نئے خاندان کی بنیاد دالی۔ کچھ عرصہ تک اشکانی حکومت سلوکیوں کے متوازی چلتی رہی اور دونوں کے درمیان جنگ و جدل کا سلسلہ جاری رہا۔ سلوکس حکمران انطیوکس اعظم یا انطیوکس سوم Antiochus The Garet Or Antiochus 3ed نے اشکانی فرمانروا ارشک سومArsaces 3ed کو شکست دے کر اس کے پایہ تخت پر قبضہ کرلیا۔ مگر یہ قبضہ زیادہ دیر تک جاری نہ رکھ سکا اور پارتیوں کی قزاخانہ جنگ سے مجبور ہوکر صلح کر لی اور ارشک کو پارتھیا کا بادشاہ تسلیم کرلیا اور ارشک نے انطیوکس کو ہمدان کا علاقہ واپس کردیا، جس پر اس نے قبضہ کرلیا تھا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 75۔ 76)

توسیع اور استحکام[ترمیم]

ارشک ششم یا مہردادا اول Arsaces 6th Mithradates 1th (170۔ 138 ق م) نے سلوکی حکمرانوں کی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینا، خوزستان، پارس اور بابل پر قبضہ کرلیا۔ نیز سلوکی بادشاہ دمیترس دومDemetius 2ed کو شکست دے کر گرفتار کرلیا۔ اس واقع کے بعد سلوکی حکومت عملی طور پر ایران سے ختم ہوگئی، پھر بھی چھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اس خاندان کا دوسرا نامور بادشاہ ارشک ہفتم یا فرہاد دومArsaces 7th or Phrates 2ed (138۔ 125 ق م) تھا جو باپ کی موت کے بعد ایران کے تخت پر بیٹھا۔ سلوکیوں کے مکمل اخراج کا سہرا اس کے سر رہا۔ دمیترس دوم Demetius 2edکی گرفتاری کے بعد سلوکس ہفتم Selecus 7th تخت پر بیٹھا۔ 139 ق م میں ایک بڑی فوج کے ساتھ ایران کی طرف بڑھا اور تین کامیاب جنگوں کے بعد اس نے آرمینا، سلوکیہ اور بابل پر قبضہ کرلیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انطیوکس کی تاریخ دہرائی جائے گی اور اشکانی اطاعت پر مجبور ہوں گے۔ فرہادنے بھی اپنی کمزوری محسوس کرتے ہوئے مصالحت کی کوشش کی۔ مگر انطوکس فتوحات کے نشے میں سرشار تھا۔ مصالحت کے لیے ایسی سخت شرائط پیش کیں کہ فرہاد منظور نہ کرسکا مجبوراً آمادہ جنگ ہوا۔ ہمدان کے قریب سلوکیوں اور اشکانیوں کی آخری فیصلہ کن جنگ ہوئی۔ جس میں انطوکس مارا گیا اور اس کے ساتھ ہی ایران سے یونانی حکومت ہمیشہ ہی ختم ہوگئی۔ سلوکی سیادت شام کے صوبوں تک محدود ہوکر رہے گئی۔

اس واقعہ کے بعد سک قبائل نے اشکانی علاقوں میں لوٹ مار کردی۔ اس لئے فرہاد کو ان کی طرف توجہ کرنی پڑی اور فرہاد سھتیوں سے جنگ کرتا ہوا مارا گیا۔ ارشک نہم یا مہر داد دومMithradates 2ed Arsaces 9th or (124۔ 80) میں سک قبائل کی سرکوبی کی اور اپنی حدودیں مشرق میں پنجاب تک وسیع کرلیں۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 78)

رومیوں سے چبقلش[ترمیم]

پھر مہرداد اس نے آرمینا کے جو علاقے اشکانی حکومت کے قبضہ سے نکل گئے تھے دوبارہ فتح کئے۔ مگر آرمینا پرسلوکیوں کا دعویٰ تھا، اس لئے دونوں حکومتوں میں کشمکش شروع ہوگئی اور جب رومیوں نے شام پر قبضہ کیا تو یہ کشمکش رومیوں کی طرف منتقل ہوگئی۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 79)

80 ق م میں مہرداداکی موت واقع ہوگئی اور اس کے بعد اشکانیوں کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ ایک طرف خانہ جنگی شروع ہوگئی اور دوسری طرف رومیوں سے جنگوں کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ ارشک سیزدہم Arsaces 13th کے عہد میں حران کے مقام پر رومیوں کو شکست ہوئی اور رومی سلار کراسوس Carassus 53 ق م میں مارا گیا۔ اس واقع کے سترہ سال کے بعد 36 ق م میں دوسری جنگ ہوئی، اس میں بھی رومیوں کو شکست ہوئی اور رومی سالار انطونی Antony جان بچا کر بھاگ نکلا، مگر رومی آرمینا پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 79)

ان دوشکستوں نے رومیوں کی ایشیاء کی طرف پیش قدمی روک دی، مگر اس کامیابی کے باجود اشکانی حکومت کمزور ہوتی چلی گئی۔ پھر بھی یہ دو سو سال تک قائم رہی۔ اشکانی عہد کو مسعودی اور دوسرے مورخین نے ملوک الطوف کا دور بتایا ہے۔ اس کو اپنی انحاط کی آخری منزلوں پر ایک نئی طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ جو اسی ایران کی سرزمین سے ابھر رہی تھی، اور ساسانی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اشکانی حکومت اس کا مقابلہ نہیں کرسکی اور 475 سال کے طویل عہد حکومت کے بعد اشکانیوں نے ساسانیوں کے لئے جگہ خالی کردی۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 80)

دارلحکومت[ترمیم]

اشکانیوں کا پہلا دارلحکومت ہکاتم پیلس Hecatompylus تھا، جس کا صیح تعیین نہیں ہوسکا، غالباََ دامغان کے جنوب میں قومس کے قریب واقع تھا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تک رے، پھر ہمدان ان کا دارلحکومت رہا۔ آخری عہد میں انہوں نے طیسفون Ctesiphonکو اپنا دارلحکومت بنایا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 76)

بعض مورخین ان کا دارلحکومت اساک Asaka بتاتے ہیں، جسے موجودہ قوجان یا بخیود سے مطابقت دی جاتی ہے۔ بعض مورخین کے نزدیک ان کا دارلحکومت نسا تھا۔ یہ اب ترکستان میں ہے اور عشق آباد اور فیروز کے مابین واقع تھا۔ یہاں کھدائیوں سے اشکانی عہد کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ ان آثار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اشکانی دارلحکومت رہے چکا ہے۔ قرن اسلامی کے بعض مورخین لکھتے ہیں کہ ان کا دارلحکومت رے تھا۔ مگر پیری شا Peerisha کا کہنا ہے کہ اشکانی بادشاہوں نے رے میں کچھ عرصہ تک اقامت اختیار کی تھی۔ یونانی مورخین کا کہنا ہے کہ اشکانی بادشاہوں کا دربار کسی ایک شہر میں مستقلاََ نہیں لگتا تھا، بلکہ شہر شہر بدلتا رہتا تھا، مگر مرکزیت طیسفون کو حاصل تھی۔ (پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 307)

مذہب[ترمیم]

اشکانی بادشاہوں کے مذہب کے بارے میں بہت کم معلومات میسر آئی ہیں۔ تاریخوں سے اس قدر پتہ چلتا ہے کہ وہ پارت میں وارد ہونے سے پہلے دوسرے آریوں کی طرح مناظر فطرت کی پوجا کیا کرتے ہوں گے۔ یعنی آب و آتش، خاک و باد، آفتاب و ماہتاب اور برق و رعد وغیرہ کی پرستش کرتے ہوں گے۔ خاص کر متھر ایعنی سورج کی نظر و نیاز زیادہ دیتے تھے۔ بعد میں انہوں نے ایرانیوں کے زیر اثر ھرمز Hormuz کی پوجا کرنے لگے اور ھرمز ان کا سب سے بڑا محافظ بن گیا۔ ان کا مذہب بہت سی باتوں میں زرتشتی مذہب سے ملتا جلتا تھا، گو انہوں نے بعد میں زرتشتی مذہب بھی اختیار کرلیا تھا۔ لیکن ساتھ ساتھ دوسرے دیوتاؤں کی پوجا بھی کرتے تھے۔ پارتی زرتشتوں کے برخلاف اپنے مردے نظر آتش کرتے تھے۔ (پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 310۔ 311) اشکانی فرمانروؤں کے مذہب کی تفصیل نہیں معلوم ہے، مگر چند ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واردان دوم کے عہد تک وہ قدیم آریائی مذہب پر قائم رہے اور آریائی معبودں کے علاوہ وہ اپنے اباء اجداد کی بھی پرستش کیا کرتے تھے۔ بلاش اول کے عہد میں زرتشتی دین کو سرکاری مذہب قرار دیا گیا، نیز اوستا کی تدوین ثانی کی کوشش کی گئی اور اس کی تفسیر بھی لکھی گئی۔ ساتھ ساتھ آریائی پروہتوں یعنی مغMage کی اہمیت کم کردی گئی اور ان کی جگہ محافظین آتشکدہ یعنی آوروان Athrawan نے لے لی۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 153)

حکومت و انتظامیہ[ترمیم]

اس عہد کی دوسری حکومتوں کی طرح اشکانی باشاہت بھی شخصی، مورثی اور مطلق العنان تھی اور بادشاہ تمام طاقتوں کا سرچشمہ تھا، وہی واضع قانون تھا اور قانون کو نافذ کرنے والا بھی۔ عدالت ہو فوج ہر صیغے کے اعلیٰ اختیارت اسے حاصل تھے۔ وہ تمام قانونی اور دستوری بندشوں سے آزاد تھا۔ اس کی زات رائے زنی و تنقید سے بالاتر تھی۔ وہ اپنے اعمال میں خود مختیار تھا اور کسی دینوی طاقت کے وہ جواب دہ نہیں تھا۔ ملکی مصالح کے پیش نظر وہ بوقت ضرورت اپنے امراء سے مشورے طلب کیا کرتا تھا اور یہ محض اس کی دور بینی اور دور اندیشی موقوف تھا، ورنہ کوئی فرد یا مجلس اس کی حاکمانہ حثیت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی تھی۔ شاہی احکامات و ہدیات ہرکاروں کے ذریعے بھیجے جاتے تھے اور ہر ستراپی میں ایسے لوگ بھی متعین تھے جو بادشاہ کو پوشیدہ طور پرخبریں بھیجا کرتے تھے ۔ بادشاہ کو ان پر اعتماد تھا اور ان کے ذریعہ وہ سلطنت کے حالات سے باخبر رہتا تھا۔ چونکہ اشکانی مذہب پر ایمان رکھتے تھے اور رعایا کے ہم نسل تھے، اس لیے ملکی رسم و رواج اور مذہبی قوانین کا بھی پاس و لحاظ تھا۔ پھر بھی مذہبی قوانین کواس نافذ کرنے والا کوئی طاقت ور طبقہ نہیں تھا مذہبی قوانین کی پیشوائی کا بھی بادشاہ کو حق حاصل تھا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم،118 ۔ 117 (

انتظامی لحاظ سے مملکت علاقوں یا صوبوں میں بٹی ہوئی تھی، جس کوسٹراپی Satrapy کہتے تھے۔ ہر سٹراپی پر ایک سٹراپ Satrap مقرر تھا .۔ اس کی تقریری براہ راست بادشاہ کے ہاتھ میں تھی۔ وہ اپنے حلقہ میں آزادنہ حکومت کرتا تھا اور صرف بادشاہ کو جواب دہ تھا۔ ہر سٹراپی میں فوجیں بھی رہتی تھیں جن کا تعق سٹراپ سے ہوتا تھا۔ بوقت ضرورت بادشاہ ہر صوبے سے طلب کرسکتا تھا۔ صوبے کی مالیات کا تعلق بھی سٹراپ سے تھا، وہ مقرر رقم بادشاہ کو دیا کرتا تھا۔ شاہی احکامات و ہدایات ہر کارے کے ذریعہ بھیجی جاتی تھیں۔ ہر سٹراپی میں ایسے لوگ متعین تھے جو بادشاہ کو براہ راست پوشیدہ طور پر خبریں بھیجا کرتے تھے۔

مرکزی انتظامیہ و نیم خود مختار بادشاہ[ترمیم]

ایسے کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں کہ اشکانی بادشاہ مختیار کل نہیں ہوتے تھے۔ اعلیٰ اختیارات کی تین مجلسوں کاپتہ چلتا ہے، جس سے بادشاہ امور سلطنت میں مشورہ کرنا ہوتا تھا۔ ایک مجلس شاہی خاندان کے افراد پر مشتمل تھی اور ہر بالغ شہزادہ خود بخود اس کا رکن بن جاتا تھا۔ دوسری مجلس دینی رہنماؤں پر مشتمل ہوتی تھی، جسے مجلس مغزان کہتے تھے۔ تیسری مجلس کا نام مجلس سہتان تھا، جس میں پہلی دو مجلسوں کے نمائندے شریک ہوا کرتے تھے، تاہم بادشاہ مختارکل ہوتا تھا۔ مجلس سہتان جس کو بادشاہ کا اہل سمجھتی تھی اسے بادشاہ بنا لیتی تھی۔ لیکن بادشاہ کے فوت ہونے پر بیٹا نابالغ ہو یا باشاہت کے لئے ناہل ہو تو مجلس متوفی بادشاہ کے بھائی یا چچا کو باشاہ منتخب کر لیتی تھی۔ ان مجلسوں کو بادشاہوں کے اختیارات پر قید وبند عائد کرنے حاصل تھا۔ بھر بھی ان مجلسوں کی نوعیت اور حقیقت کے بارے میں پورا علم نہ ہونے کی وجہ سے ان پر سیر بحث نہیں کی جاسکتی ہے۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 118۔ 119)

امراء[ترمیم]

اشکانی عہد میں اکثر ستراپیوں نے نیم آزادی حاصل کرلی تھی۔ بادشاہ ان کے داخلی معاملات میں کم ہی دخل دیتا تھا۔ اور ان کو اپنے طور پر زندگی بسر کرنے کی آزادی تھی، مگر سیاسی معملات میں وہ بادشاہ کے ماتحت تھے۔ اشکانی بادشاہوں نے انہیں آزادی دے رکھی تھی۔ ممکن ہے انہوں نے مرکزی حکومت کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے اس نظام کو گوارہ کرلیا اور اس پر اکتفاکیا کہ ماتحت سٹراپیاں انہیں مقرر خراج اور وقت ضرورت پر فوج فراہم کردیا کریں۔ یہی وجہ ہے مسعودی نے اشکانیوں کے دور کو طواف الملوک میں شمار کیا ہے۔ گبن Gibbon کا خیال ہے پارتی نظام یورپ کے جاگیرداری نظام سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ اشکانی عہد میں صوبہ داروں کو ویتا کسا Vitaxa کہتے تھے

عسکری[ترمیم]

قدیم ایرانیوں کا فوجی نظام آشوریوں کے عسکری نظام سے ماخوذ تھا۔ فوج کے دو حصے سوار اور پیادہ ہوتے تھے۔ اشکانیوں کی طاقت کا دارو مدار سواروں پر تھا اس اسی طاقت پر مملکت قائم تھی۔ پیادہ اور سواروں کے علاوہ رتھ بھی ہوتے تھے جن کو گھوڑے کھنچتے تھے۔ عموماً بادشاہ خود ہی لشکر کی قیادت کرتا تھا یا کوئی بآثر امیر۔ فوج کے ساتھ نقارے بجتے تھے اور بادشاہ اپنی کنیزوں کے جھرمٹ میں میدان جنگ میں جاتا تھا۔ لیکن اشکانیوں نے فوجی تنظیم کی طرف توجہ نہیں دی، اس لیے ان کے دور میں فوجی تنظیم میں کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی بلکہ ان کے عہد میں باضابطہ فوجوں کی تعداد گھٹ کر حفاظتی دستے تک محدود ہوگئی۔ جنگ کے وقت حسب قائدہ بادشاہ مختلف ساتراپیوں سے فوج طلب کر لیتا تھا۔ اس طرح ان کے ہتیار بھی وہی رہے جو اس پہلے ہخامنشی اور آشوریوں کے دور میں رہے، یعنی تیر کمان، خنجر، بھالے، برچھے، چھرے تلواریں نیزے کمند ڈھالیں، پوستین، زرہیں اور خود شامل ہیں۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 128 تا 129)

سکے[ترمیم]

اشکانی بادشاہوں کے سکے جو دستیاب ہوئے ہیں۔ ان کے سکے نقرئی اور برنجی تھے، انہوں نے میں کوئی طلائی سکہ جاری نہیں کیا۔ ان کے سکوں پر ان کی شکلیں نقش تھیں اور انہیں تخت پر بیٹھے دیکھایا گیا تھا، نیر ان پر ’شاہ بزرگ‘ اور شاہ شہان‘ جیسے القاب تھے۔ یہ سکے مختلف اوزران اور قیمتوں کے اور ان سکوں کو ’درخم‘ کہتے تھے جو عربی میں درہم بن گیا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 190) معاشرہ اور ثقافت ملبوسات کے حالات کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن اس قدر پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ فوجی ملازمت پسند کرتے تھے۔ شکار ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ شکار کئے ہوئے جانور ان کی خوراک کا اہم حصہ تھے۔ شراب نوشی کا رواج عام تھا۔ شراب عام طور پر انگور کھجوروں سے کشید کی جاتی تھی۔ بانسری اور نقارہ ان کا پسندیدہ ساز تھے۔ رقص ان کی بڑی تقریب تھی۔ یہاں کے لوگ لمبے لمبے چوغے پہنتے تھے، جن کے ساتھ لمبے لمبے جیب ہوتے تھے۔ لباس کے رنگ مختلف ہوتے تھے۔ بعص کی پوشاکوں پر زری کا کام ہوتا تھا۔ ان کے بال عموماََ گھنگرویالے ہوتے تھے اور ڈاھاڑھیاں بھی رکھتے تھے۔ (پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 309) ایرانیوں میں سالانہ جشن منانے کا رواج رہا ہے، خصوصاً موسم بہار میں نوروز کا اور اور خزاں میں قہرگان کا جشن بڑے زور شور سے منایا جاتا تھا اور ایک دوسرے کو تحفہ تحائف بھیجتے تھے اور پر تکلف دعوتیں کرتے تھے۔ بیٹیوں کی پیدائش نامبارک خیال کی جاتی تھی۔ پانج سال تک کا بچہ ماں کی نگرانی میں رہتا تھا اس کی تعلیم و تربیت کا بار باپ ذمہ ہوتا تھا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 167)

فن تعمیر[ترمیم]

اشکانی عہد کی تعمیرات کے نشانات بہت کم دریافت ہوئے ہیں۔ یونانی روایات کے مطابق انہوں ایک شہر ہیکاتم پیلس آباد تھا جو اوئل میں ان کا دارلحکومت تھا، مگر اب تک اس کا تعین نہیں ہوسکا۔ اس کا محل وقوع کا تعین ہوجائے تو اس کی کھدائی سے شاید ان کے تعمیرات پر کچھ روشنی دالی جاسکتی تھی۔ ان کی یادگاروں میں دریائے دجلہ کے کنارے الخصر کے مقامات پر محل کے کھنڈرات ملے ہیں، جن کی بنیادیں تو ایرانی طرز کی ہیں لیکن محرابیں رومی انداز کی معلوم ہوتی ہیں۔ اس طرح کنگادر اور ہمدان میں معبدوں کے چھوٹے کمرے ہیں، ان کمروں کے بعد مربع شکل کے تین کمرے ہیں جن کے اوپر بیضاوی قبے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی معتدد کمرے ہیں جن کا طول عرض مختلف ہے۔ تنرئین کے لیے اس پر سرخ پلاسٹر کیا ہوا ہے۔ اس طرح فروز آباد کے قریب سروستان Sarvitan میں اس طرح کا ایک محل ہے۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 180 تا 181)

تجارت[ترمیم]

ایرانیوں کو ان کے سیاسی عروج کے ساتھ تجارتی اہیت بھی حاصل ہوئی، مگر ایرانیوں نے تجارت کی طرف کبھی خود اپنا نے کی کوشش نہیں کی، ان کے ملک کی تجارت غیر ملکی فنیقیوں، یہودیوں، بابلیوں اور یونانیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اگرچہ اہم اور بڑی شاہراہیں ان کے ملک سے گرتی تھیں اور مشرق اور مغرب کی تجارت ایران کے راستہ سے ہوتی تھی، اس لیے ایران کو اشکانی دور میں تجارتی اہمیت بھی حاصل تھی۔ کاروبار کی ہماہمی نے ایرانی شہروں کو تجارتی اہمیت حاصل ہوگئی تھی۔ چینی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ تجارتی استوار کرنے کے لئے چینی وفود اشکانی دربار میں آتے رہتے تھے اور رومی ممالک سے تجارت کرنے کے لیے اجازت نامے حاصل کرتے رہے۔ 79ء؁ انہوں نے خلیج فارس اور خلیج عقبہ کے بحری راستوں کو استعمال کرنے کی اجازت طلب کی جو شاید منظور نہیں ہوئی۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 189)

زبان و ادب[ترمیم]

اشکانیوں کے دور میں جو زبان وجود میں آئی اس کو وسط فارسی یا پہلوی کہتے ہیں۔ اس کو کتابی پہلوی بھی کہتے ہیں۔ (سدھیشورورما، آریائی زبانیں۔ 74) پہلوی ہخامنشی عہد کی قدیم فرنس سے نکلی تھی، مگر اس پر دوسری زبانوں کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں۔ موجودہ فارسی بھی اسی پہلوی سے مشتق ہے۔ اس وجہ سے اسے میانہ فارسی یعنی قدیم فارسی اور فارسی کے درمیان کی زبان بھی کہتے ہیں۔ یہ کلمہ پرتو سے مشقق ہے یعنی پارتوں کی زبان اور یہ زبان ساسانی عہد تک قائم رہی۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 169 تا 170)

تاریخ ایران کے ارمنی ماخذ سے پتہ چلتا ہے کہ پارت کو پہلے پہل شاہستان کہتے تھے۔ غالباََ اسی نسبت سے پہلوی یا پہلوانی کہنے لگے۔ پروفیسربراؤنProf Brown کا خیال ہے کہ رفتہ رفتہ پرتو تبدیلی سے پربہاؤ بنا پھر پربہاؤ پہلاوا بنا اور اسی نسبت سے یہ لوگ پہلوی کہلانے لگے اور وہاں کی زبان پہلوی کہلانے لگی۔ (پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 224) اشکانی عہد کی کوئی کتاب دستیاب نہیں ہوئی ہے، پہلوی زبان کی چند کتابیں دستاب ہیں۔ محقیقن انہیں مسلم عہد کی بتاتے ہیں۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم،176)

فہرست شہاہان[ترمیم]

  1. ارشک اول ارشک Arsaces 249 ؁ق م تا 247؁ ق م
  2. ارشک دوم تیر داد Tridates 247؁ ق م تا 214؁ ق م
  3. ارشک سوم اردوان اول214 Artabanus 1th ؁ق م تا 196؁ ق م
  4. ارشک چہارم فری یا پت Fhriapatus 196 ؁ق م تا 181 ق م
  5. ارشک پنجم فرہاد اول Phrastes 1th 181؁ ق م تا 170؁ ق م
  6. ارشک ششم مہر داد اعظمMithradates the Grat 170 ؁ق م تا 138؁ ق م
  7. ارشک ہفتم فرہاد دومPhrastes 2ed 138؁ ق م تا 125؁ ق م
  8. ارشک ہشتم اردوان دومArtabanus 2ed 125 ؁ق م تا 124؁ ق م
  9. ارشک نہم مہر داد دومMithradates 2ed 124؁ ق م تا 80؁ ق م
  10. ارشک دہم سندروگSenaruces 80 ؁ق م تا 69 ؁ق م
  11. ارشک یاز دہم فرہاد سومPhrastes 3ed 69 ؁ق م تا 60؁ ق م
  12. ارشک دواز دہم مہر داد سومMithradates 3ed 60 ؁ق م تا 55؁ ق م
  13. ارشک سیز دہم ارُدُ اولOrotes 1th 55 ؁ق م تا 37 ؁ق م
  14. ارشک چہار دہم فرہاد چہارمPhrastes 4th 37 ؁ق م تا 2 ؁ق م
  15. ارشک پانز دہم فرہاد پنجمPhrastes 5th 2 ؁ق م تا 2 ء؁
  16. ارشک شانز دہم ارد دومOrotes 2ed ۲ ء؁ تا 2 ء؁ تا 6 ء؁
  17. ارشک ہف دہم وانان اولVonones 1th 6 ء؁ تا 16 ء؁
  18. ارشک ہژ دہم اردوان سومArtabanus 3ed 16 ء؁ تا 40 ء؁
  19. ارشک نوز دہم واردان اولVordanes 1th 40 ء؁ تا 51 ء؁
  20. ارشک بیستم گودرزGotarzes 51 ء؁ تا 51 ء؁
  21. ارشک بسیت و یکم واردان دوم Vordanes 2ed 51 ء؁ تا 51 ء؁
  22. ارشک بسیت و دوم بلاش اول و واردن چہارمVolagases 1th & Vordanes 4th 51 ء؁ تا 77ء؁
  23. طوائف الملوکی اور خانہ جنگی 77 ء؁ تا 107ء؁
  24. ؁ ارشک بسیت و سوم خسرو Volagases 107ء؁ تا 133ء؁
  25. ارشک بیست و چہارم بلاش دومVolagases 2ed 133 ء؁ تا 149ء؁
  26. ارشک بیست و پنجم بلاش سومVolagases 3ed 149 ء؁ تا 191ء؁ء؁
  27. ارشک بیست و ششم بلاش چہارمVolagases 4th 191 ء؁ تا 207ء؁
  28. ارشک بیست و ہفتم بلاش پنجمVolagases 5th 207ء؁ تا 217ء؁
  29. ارشک بیست و ہشتم پنجم اردوانArtabanus 5th 107ء؁ تا 224ء؁
  30. طوائف الملوکی اور خانہ جنگی 224 ء؁ تا 228ء؁

(ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 81 تا 83)

صنعت و حرفت[ترمیم]

اشکانی عہد کی صنعت و حرفت کے متعلق بہت کم معلومات ہوسکیں ہیں۔ کچھ ایسے شواہد ملے ہیں چھوٹے بڑے کارخانے ملک میں قائم تھے، قالین اور رنگ برنگے پردوں کے لیے ایران اس وقت بھی مشہور تھا اس کے بنے ہوئے نقش زردوز اور رنگین سوتی اور ریشمی کپڑے دوسرے ملکوں میں بھیجے جاتے تھے اور وہ ضروف پر طرح طرح کے نقش و نگار بنانا جانتے تھے۔ وہ زرگری کے فن سے بھی واقف تھے۔ فنکاراہ حثیت سے قابل قدر ہیں، ان پر رنگ و روغن کا خوبصورت اور پائیدار تھا، ان کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفال سازی نے انہوں نے غیر معمولی ترقی کی تھی اور بہت پہلے وہ اس فن سے آگاہ ہوگئے تھے۔ اشکانی عہد تک ظروف کے علاوہ رنگین انیٹوں کے بڑے بڑے کارخانے ملک میں قائم ہوچکے تھے۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 187۔ 188)

زراعت[ترمیم]

تمام پیشوں میں زراعت کا پیشہ ایرانیوں کے نذدیک سب سے مقبول اور محبوب تھا۔ یہ ایک مذہبی بیشہ تھا، جسے زرتشت نے مبارک بتایا تھا اور لوگوں کو اس کو اختیار کرنے کی ہڈایت کی تھی۔ چونکہ دین و دنیا کی دولت انحصار اس پر تھا، اس لیے اس کو ترقی دینے کی خاطر خواہ کوشش کی گئی۔ ملک دریاؤں کی کمی تھی اس کے لیے کاریزین نہری نظام کے زریعہ پورا کیا گیا۔ باوجود اس اہمیت کے اشکانی عہد کا زرعی نظام دوسرے ملکوں سے مختلف نہیں تھا۔ زمین بڑے بڑے زمیندار اور جاگیر داروں کے درمیان بٹی ہوئی تھی، جن پر ان کو مالکانہ حقوق حاصل تھے۔ وہ حکومت کو مقرر لگان ادا کرکے تمام امور سے آزاد ہوجاتے تھے۔ ان زمین کو آباد کرنے کے لیے غلاموں اور ہاریوں کا ایک طبقہ موجود تھا، جو دائمی طور پر ان سے وابستہ ہونے کے باوجود اس سے مستفید ہونے کا کوئی حق نہیں رکھتا تھا، صرف زندہ رہنے کے لیے ہی کچھ اندوختہ حاصل ہوجاتا تھا۔ (ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم، 186۔ 187)

حدود[ترمیم]

ایران کے قدیمی ماخد سے پتہ نہیں چلتا ہے کہ ان کی سلطنت کی حدودیں کہاں سے کہاں تک تھیں۔ ان کی سلطنت کی کی حدود کا پتہ یونانی، ارمنی، رومی اور یہودی مورخین کی تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ اشکانی Arsacids عہد حکومت میں پارت (خراسان) دامغان، سہنان، ماد بزرگ یا عراق عجم، ہمدان، گروس، کرمان شاہان، نہاوند، نوسیرکات، عراق، یعنی سلطان آباد، ماد کوچک، قزدین، ری، اصفہان، یزد، خواستار گلپا نبگان، پترہ، کلاہ قدیم، بابل سے خلیج فارس تک، خوزستان، پارس،کرمان، سیستان، ساگارتی، شمالی ہند کاسلسلہ کوہ خراسان سے جیحوں تک کے علاقے شامل تھے۔ (پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 307) ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Fattah، Hala Mundhir (2009). A Brief History Of Iraq. Infobase Publishing. p. 46. ISBN 978-0-8160-5767-2. "One characteristic of the Parthians that the kings themselves maintained was their nomadic urge. The kings built or occupied numerous cities as their capitals, the most important being Ctesiphon on the دریائے دجلہ, which they built from the ancient town of Opis."
  2. ^ Chyet، Michael L. (1997). Afsaruddin، Asma; Krotkoff، Georg; Zahniser، A. H. Mathias. eds. Humanism, Culture, and Language in the Near East: Studies in Honor of Georg Krotkoff. Eisenbrauns. p. 284. ISBN 978-1-57506-020-0. "In the Middle Persian period (Parthian and Sassanid Empires), Aramaic was the medium of everyday writing, and it provided scripts for writing Middle Persian, Parthian, Sogdian, and Khwarezmian."
  3. ^ Brosius، Maria (2006). The Persians. Routledge. p. 125. ISBN 978-0-203-06815-1. "The Parthians and the peoples of the Parthian empire were polytheistic. Each ethnic group, each city, and each land or kingdom was able to adhere to its own gods, their respective cults and religious rituals. In بابل the city-god Marduk continued to be the main deity alongside the goddesses عشتار and Nanai, while Hatra's main god, the sun-god شمش, was revered alongside a multiplicity of other gods."
  4. ^ Sheldon 2010, p. 231