پارتھیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پارت پارتھیا پارت جسے آج کل خراسان کہتے ہیں [1] اس کو دارا یوش کبیر نے کتبہ بہستون میں پراتوPartto لکھا ہے اور پہلوی پرتو Partto سے مشتق ہے۔ [2] ہیروڈوٹس اس کا ذکر آپارتیوےApartyway کے نام سے ذکر کرتا ہے۔ دیکھئے پختون پارت اور خراسان کی حدودیں اس زمانے میں کچھ اس طرح تھیں۔ اس علاقے کے مشہور شہر دامغان، شاپور، جوین، سبزوار، نشاپور، مشہد، تر تیز اور تربت حیدری تھے۔ قدیم جغرافیہ داں پارت کا حدود اربعہ اس طرح بتاتے ہیں، شمال میں خوارزم اور مرو، مشرق کی جانب زرنگ سیستان اور ساگارتی، مغرب کی طرف ہرکینا گرگان ہے۔ [3] پارتی ادر ماد اور پارس کی طرح وسط ایشیاء سے آئے تھے اور ان کی طرح آریا نسل سے تھے۔ پارتھیا کا ذکر سب سے پہلے دارا عظم کے کتبے میں ملتا ہے۔ [4] جسٹین Jasttain کے خیال میں پارتی سیکاتی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اسٹرابو Strabous کا خیال ہے کہ پارتی سیکاتی قبیلے کی ایک شاخ ہیں جو داہیDbes میں رہتے تھے۔ یہ لوگ داہی کو چھور کر خوارزم آئے جو کے خراسان کے شمال میں واقع ہے۔ پھر وہاں سے کر خراسان میں سکونت اختیار کرلی۔ [5] پارت خراسان کے حالات کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن اس قدر پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ فوجی ملازمت پسند کرتے تھے۔ شکار ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ شکار کئے ہوئے جانور ان کی خوراک کا اہم حصہ تھے۔ شراب نوشی کا رواج عام تھا۔ شراب عام طور پر انگور کھجوروں سے کشید کی جاتی تھی۔ بانسری اور نقارہ ان کا پسندیدہ ساز تھے۔ رقص ان کی بڑی تقریب تھی۔ یہاں کے لوگ لمبے لمبے چوغے پہنتے تھے، جن کے ساتھ لمبے لمبے جیب ہوتے تھے۔ لباس کے رنگ مختلف ہوتے تھے۔ بعص کی پوشاکوں پر زری کا کام ہوتا تھا۔ ان کے بال عموماََ گھنگرویالے ہوتے تھے اور ڈاھاڑھیاں بھی رکھتے تھے۔ [6] تاریخ ایران کے ارمنی ماخذ سے پتہ چلتا ہے کہ پارت کو پہلے پہل شاہستان کہتے تھے۔ غالباََ اسی نسبت سے پہلوی یا پہلوانی کہنے لگے۔ پروفیسربراؤن Prof Brown کا خیال ہے کہ رفتہ رفتہ پرتو تبدیلی سے پربہاؤ بنا پھر پربہاؤ پہلاوا بنا اور اسی نسبت سے یہ لوگ پہلوی کہلانے لگے اور وہاں کی زبان پہلوی کہلانے لگی۔ [3] پارتھیاکے ابتدائی ہزارو سال تاریکی میں دوبے ہوئے ہیں۔ یہاں کوئی منعظم حکومت قائم نہیں تھی۔ یہاں مقامی سرداروں کی حکومت قائم تھیں، جنہیں آئے دن شمال کی طرف سے سھتیوں کے حملے کا سامنا کرنا پرتا تھا۔ یہاں سھتیوں کی بھی مقامی حکومتیں قائم تھیں۔ اس ابتدا میں میدی فرمانروا ہوخشتر یا ساکتسرUrekhshtar or Cyaxares 640۔ 584 ق منے زیر نگیں کرلیاتھا۔ مگر پارس کا کچھ حصہ پارس کے ہخامنش یا اکامنش خاندان کے زیر نگیں بھی تھا۔ کیوں کے پارس کے ہخامنشی خاندان کے دوسرے حکمران چائش مشChaais Pash ۵۷۶۔ ۵۵۶ ق م نے اپنی سلطنت دوحصوں میں تقسیم کرکے پارتھیا کا حکمران اپنے بیٹے اریا رامنAriamna کو بنایا تھا۔ جس کا صدر مقام باختر تھا۔ لیکن یہ کوئی آزاد حکومت نہیں تھی، بلکہ اس کی حثیت ایک صوبے کے گورنر یا باج گزار کی تھی۔ کیوں کی گستاسب یا استاسب دارا اول کے باپ نے میدی حکمران استاغیس اور خورس کی کشمکش سے فائدہ اٹھا تے ہوئے اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا۔ مگر استاغیس کی شکست کے فوراََ بعد باخترکا علاقہ خورس نے اپنی سلظنت میں ضم کرلیا اور اس کی حثیت سابق ایک صوبے کی رہی۔ کتبہ بہستون بھی اس پر روشنی پرتی ہے۔ داراکا کہنا ہے کہ پارتو خراسان، بلخ دھرگینا گرگان نے میرے باپ کے خلاف بغاوت کی اور خرورشش کو اپنا رہنما بنا لیا۔ اس علاقے کے تمام لوگوں نے میرے باپ استاسب گستاسب سے جو پارت میں تھا انحراف کیا۔ ایسی حالت میں میں ایک لشکر لے کر گیا اور باغیوں کی سرکوبی کی۔ اس بیان سے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارا کا باپ یہاں کا والی یا گورنر تھا۔[7] سکندرنے ہخامنشی خاندان کا خاتمہ کیا تو پارتھیا پر بھی قبضہ کرلیا۔ سکندر کے جانشین سلوکی ہوئے۔ مگر جلد ہی ایک پارتھی سردار ارشک یا اشک نے سیاسی قوت حاصل کرکے خلاف بغاوت کردی اور اشکانیوں نے یونانیوں کو ایران سے نکال باہر کیا۔ مگر اس علاقہ پر سیتھی چھاگئے جو اشکانیوں کے زیر دست تھے اور جلد ہی یہاں ہوچی چھاگئے۔ جب یوچی کمزور ہوئے تو ہنوں نے اپنی حکومت قایم کرلی۔ دیکھئے۔ اشکانی ہن جو ابتدا میں ایرانیوں کے باج گزار تھے انہوں نے اپنی باج گزاری ختم کر کے ایک آزاد حکومت کی بنیاد رکھی، جو جلد اتنی طاقتور ہوگئی کہ ایرانیوں سے خراج وصول کرنے لگی۔ آساسانی فرمان روا نوشیرواں عادل نے ترکوں مدد سے انہیں شکست۔ دی اس ساتھ ہی ترکوں کا اس علاقہ پر اقتدار قائم ہوگیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، ۴۲۲
  2. ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 129
  3. ^ 3.0 3.1 پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 224
  4. ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 75
  5. پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 225
  6. پروفیسر مقبول بیگ درخشانی۔ تاریخ ایران، جلد اول، 309
  7. ڈاکٹرمعین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم۔ 35، 139، 140