پارگلی ابراہیم پاشا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پارگلی ابراہیم پاشا
تفصیل= ابراہیم پاشا

وزیر اعظم سلطنت عثمانیہ
مدت منصب
27 جون 1523 – 14 مارچ 1536
(مدت حکومت: 12 سال 8 ماہ 16 دن شمسی)
بادشاہ سلیمان اول
Fleche-defaut-droite-gris-32.png پیری محمد پاشا
ایاز محمد پاشا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عثمانی گورنر مصر
مدت منصب
1525 – 1525
بادشاہ سلیمان اول
Fleche-defaut-droite-gris-32.png گوزیلجے قاسم پاشا
گوزیلجے قاسم پاشا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1493  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پارگا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 مارچ 1536 (42–43 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
استنبول[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھانسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات سزائے موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام، سابقہ راسخ العقیدہ مسیحیت
زوجہ خدیجہ سلطان (1523–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد خانم سلطان
عالمہ سلطان
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
نسلی تعلق یونانی

پارگلی ابراہیم پاشا (Pargalı Ibrahim Pasha)

(ترکی: Pargalı İbrahim Paşa) جسے فرنگ ابراہیم پاشا (مغربی)، مقبول ابراہیم پاشا جو توپ قاپی محل میں اس کی موت کے بعد مقتول ابراہیم پاشا ہو گیا۔ وہ سلطنت عثمانیہ کا پہلا وزیر اعظم تھا جسے سلیمان اول نے یہ مرتبہ عطا کیا۔

ابراہیم پارگا کا پیدائشی مسیحی تھا جسے بچن میں ہی غلام بنا دیا گیا۔ وہ اور سلیمان اول بچپن سے ہی گہرے دوست بن گئے تھے۔ سلطان سلیمان نے 1523ء وزیر اول پیری محمد پاشا کو جسے اس کے والد سلیم اول نے وزیر اول مقرر کیا تھا، تبدیل کر کے ابراہیم پاشا کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ ابراہیم تیرہ سال تک اس عہدے پر فائز رہا۔ لیکن 1536ء میں سلطان نے ابراہیم پاشا کو سزائے موت کا حکم دیا اور اس کی جائداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔

زندگی[ترمیم]

ابراہیم نسلا یونانی تھا جو پارگا، اپیروس، شمالی یونان میں جو اس وقت جمہوریہ وینس کا حصہ تھا، میں ایک یونانی آرتھوڈوکس مسیحی خاندان میں پیدا ہوا۔[2][3][4][5][6][7]

وہ پارگا کے ایک ملاح کا بیٹا تھا، جسے بحری قزاقوں نے غلام بنا کر مغربی اناطولیہ کے مانیسا محل جہاں عثمانی شہزادوں کی تربیت ہوتی تھی، میں فروخت کر دیا۔ یہاں اس کی دوستی ولی عہد شہزادہ سلیمان سے ہوئی۔ یہیں اس کی تربیت بھی ہوئی اور وہ ماہر کثیر لسانی (Polyglotism) اور ماہر کثیر علوم (Polymath) بن گیا۔

1520ء میں سلیمان اول کے تخت نشین ہونے کے بعد اسے مختلف عہدے ملے، جس میں سب سے پہلے وہ مصاحب خاص بنا۔

سلیمان کی فوج کے ایک ماہر کماندار ہونے کے باوجد فارسی صفوی سلطنت کے خلاف جنگ میں وہ سلطان کی نظروں سے گر گیا۔ عثمانی-صفوی جنگ (1532-55) کے دوران اس نے اپنے نام کے ساتھ سلطان بھی شامل کر لیا، جسے سلیمان نے اپنے لیے سنگین توہین گردانا۔[8] اس کے علاوہ ابراہیم اور اس کے سابقہ ناصح سکندرچلبی کے مابین صفوی جنگ کے دوران بار بار فوجی قیادت اور پوزیشنوں پر جھڑپیں ہوئیں۔ ان واقعات کی بنا پر 1536ء میں اسے سزائے موت دی گئی ( سکندرچلبی کو ایک سال قبل 1535ء میں سزائے موت دے دی گئی)۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابراہیم پاشا سلیمان اول کی بیوی خرم سلطان کی سازشوں کا شکار ہوا۔ ابراہیم شہزادہ مصطفی جو ماہ دوراں سلطان اور سلیمان اول کا سب سے بڑا بیٹا تھا اور تخت کا ظاہری وارث بھی تھا کو سلطان بنانا چاہتا تھا مگر خرم سلطان اپنے بیٹے کو سلطان بنانا چاہتی تھی۔ شہزادہ مصطفی کو 6 اکتوبر، 1553ء کو سلطان نے غداری کے جرم میں موت کی سزا سنائی، جس کے لیے خرم سلطان نے عرصے سے سازشوں کا جال بن رکھا تھا۔

اگرچہ ابراہیم پاشا نے طویل عرصے قبل اسلام قبول کر لیا تھا لیکن مسیحی سے اپنے کچھ تعلقات کو برقرار رکھے۔ یہاں تک کہ اپنے مسیحی والدین کو عثمانی دار الحکومت اپنے ساتھ لا کر رکھا۔[9]

چونکہ سلیمان اول نے ابراہیم پاشا کی جان نہ لینے کا عہد کر رکھا تھا، اس لیے ایک مقامی مذہبی رہنما سے فتوی حاصل کیا گیا، جس نے عہد وفا نہ کرنے کی پاداش میں قسطنطنیہ میں ایک مسجد کی تعمیر کروانے کا کہا۔ بعد میں ابراہیم پاشا کی سزائے موت کے فیصلے پر سلطان سلیمان نے افسوس کا اظہار کیا جس کی جھلک اس کی نظموں میں نظر آتی ہے۔

تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. Margaret Rich Greer, Walter Mignolo, Maureen Quilligan. "Ibrahim%20Pasha,%20his%20intimate%20and%20grand%20vezir,%20a%20Greek%20from%20Parga%20in%20Epirus"&f=false Rereading the Black Legend: the discourses of religious and racial difference in the Renaissance empires., University of Chicago Press, 2007. ISBN 978-0-226-30722-0, p. 41: "Ibrahim Pasha, his intimate and grand vezir, a Greek from Parga in Epirus"
  3. Willem Frederik Bakker."Ibrahim%20was%20the%20son%20of%20a%20Greek%20fisherman%20from%20the%20Epirot%20town%20of%20Parga"&f=false Studia Byzantina et Neohellenica Neerlandica. BRILL, 1972. ISBN 978-90-04-03552-2 ,p. 312
  4. Roger Bigelow Merriman."He%20was%20by%20birth%20a%20Christian%20Greek,%20the%20son%20of%20a%20sailor%20from%20the%20town%20of%20Parga%20on%20the%20Ionian%20Sea."&f=false Suleiman the Magnificent 1520-1566. READ BOOKS, 2008. ISBN 978-1-4437-3145-4, p. 76
  5. Walter G. Andrews, Najaat Black, Mehmet Kalpaklı."Born%20a%20Greek%20near%20Parga"&f=false Ottoman lyric poetry: an anthology. University of Washington Press, 2006. ISBN 978-0-295-98595-4, p. 230.
  6. Machiel Kiel. "Ibrahim+Pasha+(son+of+a+Greek+fisherman+of+Parga)"#search_anchorStudies on the Ottoman architecture of the Balkans. Variorum, 1990. ISBN 978-0-86078-276-6, p. 416.
  7. Robin Ostle (2008-10-14)۔ Sensibilities of the Islamic Mediterranean: self-expression in a Muslim culture from post-classical times to the present day۔ I.B. Tauris۔ صفحہ 75۔ آئی ایس بی این 978-1-84511-650-7۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 December 2011۔ 
  8. Kinross, 230.
  9. Walter G. Andrews, Najaat Black, Mehmet Kalpaklı.Ottoman lyric poetry: an anthology. University of Washington Press, 2006. ISBN 978-0-295-98595-4, p. 230.