مندرجات کا رخ کریں

پاشوپت شیومت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

پاشوپت شیو مت (سنسکرت: पाशुपत، نقل حرفی: پاشُ پَت) شیو مت کے بڑے اور قدیم ترین دبستانوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مرکزی دھارا جو ویدک "پاشوپت" تپسیا کا پیروکار ہے، "مہا پاشوپت" کہلاتا ہے جب کہ دوسرے گروہ لکولیش کا فکری دبستان "لکولا پاشوپت" ہے۔

اس فکری گروہ کا آغاز تاحال موضوع بحث ہے۔ ایک طرف "نکولیش درشن" کا گوا مکتبِ فکر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ نکولیش اس کے بانی تھے اور لکولیش و پتنجلی ناتھ ان کے شاگرد تھے۔ دوسری جانب گجرات کا مکتبِ فکر اس نظریے کا حامی ہے کہ نکولیش اور لکولیش ایک ہی ہستی کے دو نام ہیں۔ سرو درشن سنگرہ میں، جسے ودیارنیہ (جو بسا اوقات مادھواچاریہ کے نام سے بھی یاد کیے جاتے ہیں) نے تصنیف کیا، اس مکتب فکر کا ذکر "لکولیش درشن" کی بجائے "نکولیش درشن" کے نام سے ملتا ہے۔ یہ دونوں ذیلی مکاتبِ فکر آج بھی اپنے اپنے علاقوں میں سرگرم ہیں۔ پاشوپت فرقے کے فلسفے کو دوسری صدی عیسوی میں لکولیش نے (جنھیں نکولیش بھی کہا جاتا ہے[1]) باقاعدہ ایک نظام کی صورت میں مدون کیا۔

اس دبستان کے بنیادی متون میں "پاشوپت سوترکونڈنیہ کی "پنچ ارتھ بھاشیہ"، "گن کارِکا" اور بھاسروج کی "رتن ٹیکا" شامل ہیں۔ یہ دونوں متون بیسویں صدی میں ہی دریافت ہوئے تھے۔ اس سے قبل اس فرقے کے بارے میں معلومات کا سب سے بڑا ذریعہ فقط ودیارنیہ کی تصنیف "سرو درشن سنگرہ" کا ایک مخصوص باب تھا۔

تاریخ

[ترمیم]

اس دبستان کے قیام کی حتمی تاریخ غیر یقینی ہے۔ تاہم یہ قرینِ قیاس ہے کہ پاشوپت کے پیروکار پہلی صدی عیسوی میں موجود تھے۔[2] گیون فلڈ ان کا عہد دوسری صدی عیسوی کے لگ بھگ قرار دیتے ہیں۔[3] رزمیہ داستان "مہا بھارت" میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے چوتھی صدی عیسوی تک اپنی حتمی شکل اختیار کر لی تھی۔[4][مکمل حوالہ درکار] ساتویں اور چودھویں صدی عیسوی کے درمیانی عہد میں جنوبی ہند میں پاشوپت تحریک کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔[5]

ساتویں صدی عیسوی کے اوائل میں ہندوستان کی سیاحت کے دوران میں بودھ سیاح اور راہب ہیون سانگ نے اپنے سفرنامہ میں ملک بھر میں پاشوپت فرقے کے پیروکاروں کو دیکھنے کی خبر دی تھی۔ چنانچہ مالوہ کے علاقے میں وہ مختلف نوع کے سو مندروں کا ذکر کرتا ہے جن میں پاشوپتوں کی اکثریت تھی۔[6] "او تن پو چی لو" (اتیانباکیلا) نامی مقام کے دار الحکومت میں اس نے شیو کا ایک مندر دیکھا جس پر سنگ تراشی کا مہنگا کام تھا اور جہاں پاشوپت مقیم تھے۔[7] بھارت سے ایران کے راستے پر واقع "لانگلا" نامی ایک اور شہر میں وہ کئی سو دیو مندروں اور ایک پرشکوہ مہیشور مندر کی موجودگی کی اطلاع دیتا ہے جہاں پاشوپتوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور وہ اپنی عبادت میں مصروف رہتے تھے۔[8]

آخری با اثر ویدک پاشوپت "مٹھوں" میں سے ایک "ایکا ویرمبل مٹھ" تھا، جو اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر تک قائم رہا۔ یہ مٹھ تِرِچی کے قریب جمبوکیشور مندر اور رام ناتھ سوامی مندر کے امور کا نگران تھا۔[9]

جائزہ

[ترمیم]

پاشوپت شیو مت ایک عقیدت مندانہ اور زاہدانہ تحریک تھی۔[5][10] "پشوپتی" میں لفظ "پشو" سے مراد معلول یا اثر (یا یہ تخلیق شدہ دنیا) ہے؛ یہ لفظ اس شے کی نشان دہی کرتا ہے جو کسی برتر علت پر منحصر ہو۔ اس کے برعکس "پتی" کے معنی سبب یا علتِ اولیٰ (principium) کے ہیں؛ یہ لفظ پروردگار کے لیے مخصوص ہے جو کائنات کا خالق اور پتی یعنی حاکم ہے۔[11] دنیوی زنجیروں سے نجات پانے کے لیے پاشوپتوں کو "پاشوپت ورت" رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ "اتھرو سِرَس اپنشد" میں پاشوپت ورت کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ یہ اپنے پورے بدن پر راکھ ملنے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ منتر پڑھنے کا نام ہے کہ "اگنی (آگ) راکھ ہے، وایو (ہوا) راکھ ہے، آکاش (آسمان) راکھ ہے، یہ سب کچھ راکھ ہے، ذہن اور یہ آنکھیں بھی راکھ ہیں۔"[12]

ہردت آچاریہ نے "گَن کارِکا" میں صراحت کی ہے کہ روحانی استاد وہ ہے جو آٹھ "پنجکوں" اور تین وظائف سے واقف ہو۔ حصول (مصلحت کا نتیجہ)، آلائش (روح کی برائی)، مصلحت (تطہیر کا ذریعہ)، مقام (علم میں اضافے کے معاونین)، استقامت (پنجکوں میں پائداری)، تطہیر (آلائشوں کو دور کرنا)، بیعت اور قوتوں کے وہ آٹھ پنجک درج ذیل ہیں[11]

حصول علم تپسیا جسمانی بقا ثبات قدمی پاکیزگی
آلائش باطل تصور بد عملی رغبت و لگاؤ خود غرضی زوال
مصلحت رہائش کا استعمال زاہدانہ ذکر مراقبہ رودر کی مسلسل یاد فہم و ادراک
مقام روحانی اساتذہ غار مخصوص مقام شمشان گھاٹ رودر
استقامت ممتاز غیر ممتاز ذکر (جاپ) قبولیت عقیدت
تطہیر جہالت کا خاتمہ بد عملی کا خاتمہ رغبت کا خاتمہ خود غرضی کا خاتمہ زوال کا خاتمہ
بیعت مادہ مناسب وقت رسم شبیہ روحانی رہنما
قوتیں روحانی رہنما سے عقیدت صفائے دانش رنج و راحت پر فتح نیکی و ثواب احتیاط و تدبر

تین وظائف کا تعلق روزانہ کی خوراک حاصل کرنے کے طریقوں سے ہے یعنی گداگری، خیرات پر گذر بسر اور اس مقدار پر قناعت جو اتفاقاً میسر آ جائے۔[11]

فلسفہ

[ترمیم]

پاشوپت کے پیروکار ویشنوائی الہیات کے اس نظریے کو مسترد کرتے ہیں جو برتر ہستی کے لیے روحوں کی غلامی یا بندگی کا قائل ہے؛ ان کا استدلال یہ ہے کہ کسی بھی شے پر انحصار کرنا دکھوں کے خاتمے اور دیگر مطلوبہ مقاصد کے حصول کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ وہ لوگ جو دوسروں پر تکیہ کرتے ہیں اور پھر بھی آزادی کے خواہاں رہتے ہیں، وہ کبھی نجات نہیں پا سکیں گے کیونکہ وہ اب بھی اپنی ذات کے علاوہ کسی دوسری شے پر منحصر ہیں۔ پاشوپتوں کے نزدیک جب روحیں "ہر دکھ کے بیج" سے آزاد ہو جاتی ہیں تو وہ خود صفات خداوندی سے متصف ہو جاتی ہیں۔[13] اس نظام میں دکھوں کے خاتمے کی دو قسمیں ہیں: لاشخصی اور شخصی۔ لاشخصی نجات تمام دکھوں کے کلی خاتمے پر مشتمل ہے، جبکہ ذاتی نجات بصری اور عملی قوتوں کی نشو و نما کا نام ہے، جیسے خیال کی سرعت اور حسب مرضی مختلف روپ دھار لینا۔ یہاں پروردگار کو لامتناہی بصری اور عملی قوتوں کا مالک تسلیم کیا گیا ہے۔[14]

"پنچ ارتھ بھاشیہ دیپیکا" تخلیق شدہ دنیا کو "غیر ذی روح" (جامد) اور "ذی روح" (حساس) میں تقسیم کرتی ہے۔ غیر ذی روح لاشعور ہے لہذا شعور پر منحصر نہیں۔ غیر ذی روح کو مزید معلولات (Effects) اور اسباب (Causes) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ معلولات کی دس قسمیں ہیں: زمین، عناصر اربعہ اور ان کی خصوصیات جیسے رنگ وغیرہ۔ اسباب کی تیرہ اقسام ہیں: ادراک کے پانچ اعضا، عمل کے پانچ اعضا اور تین باطنی اعضا یعنی عقل، اصولِ انا اور اصولِ ادراک۔ یہ غیر ذی روح اسباب ہی ذات کی غیر ذات کے ساتھ واہمہ آمیز شناخت کے ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں۔ ذی روح روح، جو آواگون کے تابع ہے، دو طرح کی ہوتی ہے: "خواہش مند" اور "غیر خواہش مند"۔ خواہش مند روح وہ ہے جو کسی نامیاتی جسم اور حسّی اعضا سے وابستہ ہو، جبکہ غیر خواہش مند روح ان سے مبرا ہوتی ہے۔[15]

پاشوپت نظام میں "اتحاد" سے مراد عقل کے وسیلے سے روح کا خدا کے ساتھ اتصال ہے۔ یہ دو طریقوں سے حاصل ہوتا ہے: "عمل" اور "ترکِ عمل"۔ عمل کے ذریعے اتحاد مقدس منتروں کے جاپ اور مراقبے وغیرہ پر مشتمل ہے، جبکہ ترکِ عمل کی راہ سے یہ اتحاد خالص شعور کے ذریعے وقوع پزیر ہوتا ہے۔[15]

رسومات

[ترمیم]

رسومات اور روحانی ریاضتوں کا مقصد "پُنیہ" یا نیکی و ثواب کا حصول تھا۔ ان رسومات کو بنیادی اور ثانوی رسومات میں تقسیم کیا گیا تھا، جہاں بنیادی رسومات ثواب حاصل کرنے کا بلاواسطہ ذریعہ تھیں۔ ان بنیادی رسومات میں تقویٰ کے اعمال اور مختلف نشستیں (آسن) بتائی گئی تھیں۔ تقویٰ کے ان اعمال میں دن میں تین مرتبہ غسل کرنا، ریت پر لیٹنا اور قہقہہ، گیت، رقص اور مقدس ذکر (جاپ) وغیرہ جیسی زاہدانہ صورتیں شامل تھیں۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Cowell and Gough, p. 108.
  2. پہلی صدی عیسوی کے ظنی تعین کے لیے مائیکلز (2004)، صفحہ 62 سے رجوع کیجیے۔
  3. دوسری صدی عیسوی سے آغاز کے ممکنہ تعین کے لیے فلڈ (2003ء)، صفحہ: 206 دیکھیے۔
  4. Buitenen (1973) pp. xxiv–xxv
  5. 1 2 Lorenzen, David N. Śaivism. An Overview, [in]: Gale's Encyclopedia of Religion, vol. 12, 2005, ISBN 0-02-865981-3
  6. "Country of Mo-la-p'o (Malava) [Chapter 5]"۔ 28 جون 2018
  7. "Country of 'O-tin-p'o-chi-lo (Atyanabakela) [Chapter 18]"۔ 28 جون 2018
  8. "Country of Lang-kie-lo (Langala) [Chapter 19]"۔ 28 جون 2018
  9. "Sadāśiva Brahmam, a Pāśupata at Tiruvānaikkā"
  10. For Pāśupata as an ascetic movement see: Michaels (2004), p. 62.
  11. 1 2 3 Cowell and Gough, p. 104-105.
  12. Indian History, V. K. Agnihottri, 2003. ISBN 81-7764-393-2.
  13. Cowell and Gough, p. 103
  14. Cowell and Gough, p. 106
  15. 1 2 Cowell and Gough, p. 107

مآخذ

[ترمیم]