پامیلا گیلر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پامیلا گیلر
Geller in 2011
Geller in 2011

معلومات شخصیت
پیدائش جون 1958 (عمر 61 سال) [1]
لانگ آئلینڈ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ہیولٹ ہاربر، نیویارک، ریاستہائے متحدہ[2]
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر نام پامیلا اوشری
نسل یہودی [3]
آبائی علاقے ہیولٹ ہاربر، نیو یارک[2]
شوہر مائیکل اوشری (1990–2007; طلاق)[2]
اولاد 4
تعداد اولاد 4   ویکی ڈیٹا پر تعداد اولاد (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدین روبن اور للین گیلر[2]
عملی زندگی
مادر علمی ہوفسٹرا یونیورسٹی; ڈگری مکمل کرنے سے پہلے چھوڑ دیا[2]
پیشہ سیاسی فعالیت پسند، مبصر، سابق اخبار کی ایڈیٹر
تنظیم Co-founder of American Freedom Defense Initiative and Stop Islamization of America[4]
ویب سائٹ
ویب سائٹ pamelageller.com
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پامیلا گیلر (Pamela Geller) ایک امریکی سیاسی فعالیت پسند اور مبصر ہے۔[6] وہ ریاستہائے متحدہ میں جہاد مخالف تحریک کی ایک ممتاز کارکن ہے۔ اسے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب ایک اسلامی کمیونٹی سینٹر اور مسجد کی مجوزہ تعمیر سے اختلاف اور گارلینڈ، ٹیکساس میں "ڈرا پرافٹ" کارٹون مقابلہ ("Draw the Prophet" cartoon contest) کی کفالت کے لیے جانا جاتا ہے۔[2][7]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Barnard, Anne; Feuer, Alan (October 8, 2010). "Outraged, and Outrageous". نیو یارک ٹائمز.
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث Barnard, Anne; Feuer, Alan (October 8, 2010). "Outraged, and Outrageous". نیو یارک ٹائمز.
  3. Jacobs, Charles (May 10, 2013). "Pamela Geller, Jewish heroine". The Jewish Advocate. Geller thinks Radical Islam is a threat to Western civilization and that our politically correct leaders who persist in being willfully blind are endangering us all. Having this view attracts detractors. Expressing it daily, with no holds barred, with gory photos of the victims of jihad and outrageous details of how our leaders betray us, has earned Pamela a baying herd of defamers. Jump up ^
  4. "'Islamic Apartheid' Ads Submitted To MTA By Pamela Geller in Response To Pro-Palestinian Ads"۔ The Huffington Post۔ مارچ 28, 2013۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 6, 2013۔
  5. Geller, Pamela; Spencer, Robert (July 2010). The Post-American Presidency: The Obama Administration's War on America. Simon & Schuster. ISBN 978-1-4391-8930-6.
  6. Jessica Elgot (جون 20, 2013)۔ "Pamela Geller, Robert Spencer To Speak At EDL Rally In Woolwich, Campaigners Call For UK Entry Ban"۔ The Huffington Post۔ London۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. Terry Davidson (مئی 1, 2013)۔ "York Regional Police threaten rabbi's role as chaplain over Pamela Geller speech"۔ Toronto Sun۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 5, 2013۔