پانی پت (فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پانی پت
Panipat (film) poster.jpg
پانی پت فلم کا پوسٹر
ہدایت کاراشوتوش گواریكر
پروڈیوسرسنیتا گواریکر
روہیت شیلاٹکر
ماخوذ ازپانی پت کی تیسری لڑائی
ستارےسنجے دت
ارجن کپور
کریتی سینون
موسیقیاجے اتل
سنیماگرافیسی۔ کے مرالی دھرن
پروڈکشن
کمپنی
اشوتوش گواریكر پروڈکشن
وژن ورلڈ فلمز
تقسیم کاروژن ورلڈ فلمز
تاریخ اجراء
  • 6 دسمبر 2019ء (2019ء-12-06)
ملکبھارت
زبانہندی زبان
بجٹ200cr

پانی پت 2019 ء میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ کی ایک زیر تکمیل ، تاریخی دور کی ڈراما فلم ہے جس کی ہدایتکاری اشوتوش گواریکر نے کی ہے ، [1] سنجے دت ، ارجن کپور اور کریتی سانون اس فلم میں اہم کردار ادا ک رہے ہیں۔یہ تاریخی فلم پانی پت کی تیسری جنگ پر مبنی ہے ، جو جنوری 1761 میں لڑی گئی۔ فلم کی پرنسپل فوٹو گرافی 30 نومبر 2018 کو شروع ہوئی ، [2] اور یہ 6 دسمبر 2019 کو ریلیز ہونے والی ہے۔ [3]

فلم کی کہانی[ترمیم]

فلم کی کہانی پانی پت کی تیسری جنگ پر مبنی ہے ، جو افٖغانستان کے درانی سلطنت کے بانی احمد شاہ ابدالی (سنجے دت) اور مراٹھہ سلطنت کے فوج کے سربراہ سداشو راؤ بھاؤ (اردجن کپور) کے 14 جنوری 1761 میں لڑکی گئی۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب مغل سلطنت کا آخری دور شروع ہو گیا تھا، مغل شہزادے آپس میں جانشینی کی جنگیں لڑ رہے تھے۔ نسل در نسل مغلوں کے مظالم برداشت کرنے کے بعد مرہٹہے اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور مغلوں کو درجنوں جنگوں میں شکست دی۔ یہاں تک کہ 1755ء میں مرہٹہ فوج کے سردار رگھوناتھ راؤ نے مغلوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔ پھر لاہور پر قبضہ کرکے اٹک کا علاقہ فتح کر لیا۔ 1760ء تک مرہٹے برصغیر پاک و ہند کے بڑے حصے کو فتح کر چکے تھے۔ احمد شاہ ابدالی نے اپنے مقبوضات واپس لینے کے لیے چوتھی مرتبہ برصغیر پر حملہ کیا۔ احمدشاہ کی ہندوستان میں سب سے پہلی جھڑپ پشاور میں بالاجی باجی راو (موہنیش بہل) کی طرف سے تعینات دتہ جی شندے (ملند گناجی) سے ہوئی اور وہ اس جنگ میں مارے گئے۔ بالاجی باجی راو نے اس وقت سداشو راؤ بھاؤ کو احمدشاہ سے لڑنے کے لیے دہلی کی جانب روانہ کیا۔ 14 جنوری 1761ء کو پانی پت کے میدان میں گھمسان کا رن پڑا۔ اس جنگ میں روہیلا کے سردار نجیب الدولہ (منترا) اور اودھ کے نواب شج الدولہ (کنال کپور) نے احمد شاہ ابدالی کا ساتھ دیا۔ جبکہ مرہٹھہ سلطنت کی افواج میں پیشوا باجی راؤ اول کے بیٹے شمشیر بہادر اول (ساحل سلاتھیا) کے ساتھ اتحادیوں میں ریاست گوالیار سے جانکوجی شندے (گسمیر مہاجنی)، ریاست ہولکر اندور سے ملہار راؤ ہولکر (رویندر مہانجی) کے اور ایک افغان قبائلی سردار ابراہیم خان گاردی (نواب شاہ) شامل تھے۔ اس جنگ میں مرہٹوں نے شکست کھائی۔ سداشو راؤ بھاؤ (اردجن کپور) اور دیگر فوجی سربراہ شہید ہوئے، شمشیر بہادر اول (ساحل سلاتھیا) زخمی ہوئے مگر چندروز بعد وفات پاگئے، ابراہیم خان گاردی (نواب شاہ) اور جانکوجی شندے (گسمیر مہاجنی) کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ سداشو راؤ بھاؤ کی بیوی پاروتی بائی (کریتی سانن ) کو ان کے سپاہی میدانَ جنگ بچاکر محفوظ مقام پر لے گئےتھے۔ احمد شاہ ابدالی نے دہلی پہنچ کر شہزادہ علی گوہر کو دہلی کے تخت پر بٹھایا اور دو ماہ بعد واپس چلا گیا۔ مرہٹوں کی طاقت مکمل طور پر توٹ گئی۔ مغلوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ دوبارہ اپنا اقتدار مضبوط کریں۔ ان کی کمزوری سے فائدہ انگریزوں نے اٹھایا انہوں نے باآسانی مرہٹہ سرداروں کو شکست دے کر اپنی حکومت مضبوط کی۔

اداکار[ترمیم]

  • سنجے دت-بطور - احمد شاہ ابدالی (درانی سلطنت کے بانی)
  • ارجن کپور -بطور - سداشیو راؤ بھاؤ (مرہٹہ فوج کا سربراہ)
  • کریتی سانن -بطور - پاروتی بائی (سداشیو راؤ بھاؤ کی بیوی)
  • پدمنی کولہا پوری -بطور -گوپیکا بائی (مراٹھہ بالاجی باجی راؤ کی بیوی )
  • زینت امان -بطور -سکینہ بانو بیگم
  • موہنیش بہل -بطور -بالاجی باجی راؤ (مراٹھہ سلطنت کے پیشوا)
  • منترا -بطور - نجیب الدولہ (روہیلی قبائلی سربراہ)
  • میر سرور -بطور -عماد الملک (غازی الدین خان فیروز جنگ سوم)
  • ساحل سلاتھیا-بطور - شمشیر بہادر اول (کرشنا راؤ) (پیشوا باجی راؤ اول کے بیٹے)
  • نواب شاہ -بطور -ابراہیم خان گاردی (مراٹھہ فوج کا اتحادی)
  • کروتیکا دیو -بطور- رادھیکا بائی (باروتی بائی کی بھتیجی)
  • ملند گناجی -بطور- دتہ جی شندے (ریاست گوالیار سے مراٹھہ اتحادی فوج کے سربراہ)
  • کنال کپور -بطور- شجاح الدولہ (اودھ کے نواب)
  • سہاسنی مولی -بطور- رادھا بائی (باجی راؤ اول کی والدہ)
  • رویندر مہانجی -بطور- ملہار راؤ ہولکر (ریاست اندور سے مراٹھہ اتحادی ہولکرفوج کے سربراہ)
  • گسمیر مہاجنی -بطور- جانکوجی شندے (ریاست گوالیار سے مراٹھہ کا اتحادی)
  • موہت آنند -بطور- تیمور شاہ درانی (احمد شاہ ابدالی کا بیٹا)

پروڈکشن[ترمیم]

تیاری[ترمیم]

اس فلم کی ہدایتکاری آسکر نامزد اور قومی ایوارڈ یافتہ ہدایتکار آشوتوش گواریکر کررہے ہیں کر رہے ہیں ، جو اس سے پہلے بھی تاریخی موضوعات پر فلم جودھا اکبر اور موئن جوداڑو بناچکے ہیں قومی ایوارڈ یافتہ آرٹ ڈائرکٹر نتن چندرکانت دیسائی کرجات کے این ڈی اسٹوڈیوز میں شاہی شنوار واڈا کا سیٹ تیار کر رہے ہیں۔ [4] نیتا للا ملبوسات ڈیزائن کررہی ہیں۔ [5] تجربہ کار اداکارہ پدمنی کولہاپوری اکتوبر 2018 کو اس فلم کی کاسٹ میں شامل ہوگئیں۔ [6] زینت امان جون 2019 میں فلم میں شامل ہوگئیں۔ [7] [8]

فلم بندی[ترمیم]

30 نومبر ، 2018 کو ، گواریکر اور اداکاروں نے پرنسپل فوٹوگرافی کے آغاز کا اعلان کرنے کے لیے ایک پروموشنل پوسٹر ٹویٹ کیا۔ [2] 30 جون 2019 کو ، سانون نے گواریکر اور کپور کے لیے تصاویر اور نوٹ پوسٹ کرکے کام مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ [9]

مارکیٹنگ اور ریلیز[ترمیم]

پہلا ٹیزر پوسٹر 15 مارچ 2018 کو جاری کیا گیا تھا۔ [10] فلم 6 دسمبر 2019 کو ریلیز ہونے والی ہے۔

اجے اتول اس فلم کی موسیقی ترتیب دے رہے ہیں۔ گانے جاوید اختر تحریر کریں گے ۔ سونو نگم ، شریہ گھوشال گیت کار ہیں۔ [11] [12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "'اشوتوش گواریکر کی نئی فلم ' پانی پت کی تیسری جنگ". یو این آئی اردو سروس. 15 جولائی 2018ء. 
  2. ^ ا ب استشهاد فارغ (معاونت) 
  3. استشهاد فارغ (معاونت) 
  4. "Ashutosh Gowariker To Recreate Shaniwar Wada for Panipat". Koimoi. 
  5. استشهاد فارغ (معاونت) 
  6. استشهاد فارغ (معاونت) 
  7. "زینت امان پانی پت میں کیمیوکریں گی". اعتماد. 17 جنوری 2019ء. 
  8. DelhiJune 17، India Today Web Desk New؛ June 17، 2019UPDATED:؛ Ist، 2019 12:22. "Veteran actress Zeenat Aman joins cast of Ashutosh Gowariker's Panipat. Details here". India Today (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2019. 
  9. "Kriti Sanon wraps up the shoot of Panipat; shares a note thanking Arjun Kapoor and Ashutosh Gowariker | Bollywood News". Times Now News. (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2019. 
  10. استشهاد فارغ (معاونت) 
  11. استشهاد فارغ (معاونت) 
  12. استشهاد فارغ (معاونت) 

بیرونی روابط[ترمیم]