پاکستانی ادب
| History of modern literature | |||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| By decade | |||||||||
| Early modern by century | |||||||||
| Mid-modern by century | |||||||||
| 20th–21st century | |||||||||
| By region | |||||||||
|
|||||||||
| Related topics | |||||||||
| لوا خطا ماڈیول:Portal-inline میں 81 سطر پر: attempt to call upvalue 'processPortalArgs' (a nil value)۔ | |||||||||
| بسلسلہ مضامین |
| پاکستانی ثقافت |
|---|
| روایت |
| پکوان |
|
تہوار |
|
موسیقی اور فعلی فنون |
|
ذرائع ابلاغ |
| کھیل |
|
پاکستانی ادب (اردو: ادبیاتِ پاکستان) سے مراد وہ تحریری کام ہیں جو پاکستان میں یا پاکستانی مصنفین نے تخلیق کیے ہیں۔ پاکستانی ادب کی تاریخ قدیم تہذیبوں سے لے کر جدید دور تک پھیلی ہوئی ہے، جو خطے کے ثقافتی، لسانی اور سیاسی ارتقا کی عکاسی کرتی ہے۔[1] یہ ایک طرح کی رائے ہے وگرنہ نظریاتی سطح پر وہی ادب پاکستانی ادب کے دائرے میں شامل ہوگا جو اپنی سماجی نفسیات اور ثقافتی تغیرات میں پاکستانی معاشرے, افراد اور یہاں جاری زندگی کے متفرق تعاملات کی نمائندگی کرے۔
جائزہ
[ترمیم]پاکستانی ادب میں اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور انگریزی سمیت متعدد زبانوں میں تخلیقات شامل ہیں۔ یہ ادب خطے کے مختلف ادوار—قدیم تہذیبوں، اسلامی دور، برطانوی راج اور آزادی کے بعد کے دور—کے تجربات کو پیش کرتا ہے۔ پاکستانی ادب کی امتیازی خصوصیت اس کا خطے کی متنوع ثقافتوں اور اسلامی تہذیب کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔[2]
تاریخ
[ترمیم]پاکستانی ادب کی نوعیت نے آزادی کے فوراً بعد ہی مصنفین کے درمیان تنازع کھڑا کر دیا، کیونکہ یہ زیادہ تر تحریک پاکستان کی منفی واقعات پر مرکوز تھا۔[3] جیلانی کامران (گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور) کے مطابق، پاکستانی ادب سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ پاکستان کی نئی ریاست کے ساتھ ایک نئی سمت اختیار کرے گا، لیکن اس نے فوری طور پر اس توقع کو پورا نہیں کیا۔[3]
سعادت حسن منٹو (1912–1955)، جو بنیادی طور پر اردو میں لکھنے والے جنوبی ایشیا کے ممتاز افسانہ نگار تھے، نے ہندوستان-پاکستان کی آزادی سے متعلق واقعات سے عظیم ادب تخلیق کیا۔ ان کا ادب اپنے لہجے اور روح کے اعتبار سے ترقی پسند سمجھا جاتا ہے۔ متعدد نقادوں کے مطابق اس نے نہ صرف اپنی شناخت تشکیل دی بلکہ بیسویں صدی کے آخری حصے میں پاکستان کی مشکلات اور امیدوں کو دستاویزی شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔[3]
آج، پاکستانی ادب نے پیچیدہ طبقاتی نظام اور عام آدمی کی تصویر کشی کر کے اپنی ایک الگ شکل اختیار کر لی ہے۔ اس نے اردو ادبی اصناف اور انگریزی ادب کو یکجا کر کے تجرباتی راہیں بھی کھولی ہیں۔ بہت سے افسانہ نگار انگریزی سے استفادہ کرتے ہیں اور اس کے برعکس بھی۔
پاکستانی ادب کا اہم سرکاری پلیٹ فارم اکادمی ادبیات پاکستان ہے، جس کا کام گورنرز کے بورڈ کی نگرانی میں ہوتا ہے۔
تاریخی ادوار
[ترمیم]قدیم ادب (قبل از اسلام)
[ترمیم]پاکستانی ادب کے ابتدائی دور میں موہنجو دڑو اور ہڑپہ کی قدیم تہذیبوں کی زبانی روایات شامل تھیں۔ اس دور کے ادب کے بارے میں معلومات زیادہ تر آثار قدیمہ کے شواہد سے ملتی ہیں۔ بعد میں ویدک ادب کے اثرات خطے میں پہنچے، جن کے ثبوت رگ وید میں ملتے ہیں۔[4]
اسلامی دور (712ء–1857ء)
[ترمیم]محمد بن قاسم کی سندھ آمد کے بعد اسلامی ادب نے خطے میں قدم جما لیا۔ اس دور میں فارسی اور عربی زبانوں میں مذہبی اور صوفیانہ ادب تخلیق ہوا۔ سندھی اور پنجابی زبانوں میں صوفی شاعری نے عروج حاصل کیا۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی، بلھے شاہ، سچل سرمست اور رحمان بابا جیسے صوفی شعرا نے مقامی زبانوں میں عشق حقیقی کے موضوع پر شاعری کی۔[5]
جدید ادب (1857ء–1947ء)
[ترمیم]برطانوی راج کے دور میں پاکستانی ادب نے جدید شکلیں اختیار کیں۔ سر سید احمد خان کی تحریک نے جدید اردو نثر کی بنیاد رکھی۔ مرزا غالب، الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد جیسے مصنفین نے اردو شاعری اور نثر کو جدید رنگ دیا۔ اس دور میں بنگالی ادب نے بھی ترقی کی، جس میں رابندرناتھ ٹیگور کا کردار اہم تھا۔[6]
پاکستانی ادب (1947ء کے بعد)
[ترمیم]پاکستان کے قیام کے بعد ادب نے ایک نئی سمت اختیار کی۔ ابتدائی دور میں قومی تشخص کی تلاش اور تقسیم کے المیے نے ادب کو متاثر کیا۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور منٹو جیسے مصنفین نے نئے ملک کے چیلنجوں اور امکانات کو اپنی تحریروں میں پیش کیا۔[7]
ڈائجسٹ
[ترمیم]1960 کی دہائی سے پاکستان میں اردو ڈائجسٹوں کی ایک وسیع روایت رہی ہے۔ اس وقت ملک میں سیکڑوں ڈائجسٹ شائع ہو رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ ڈائجسٹ موجودہ واقعات کو پیش کرتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد پلپ فکشن شائع کرتی رہی ہے۔ کراچی مقبول پلپ فکشن کی اشاعت میں سب سے آگے رہا ہے۔ ابن صفی اور سب رنگ (ڈائجسٹ) (1960 کی دہائی) کے شکیل عدیل زادہ پاکستان کے ابتدائی مقبول پلپ فکشن مصنفین تھے۔ محی الدین نواب نے 2010 تک سسپنس ڈائجسٹ میں "دیوتا" کے عنوان سے 33 سال طویل سلسلہ جاری رکھا۔
کچھ فکشن ڈائجسٹ پاکستان کے مذہبی عقیدے کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے جنرل ضیا کے دور میں مشکلات کا شکار ہوئے اور انھیں سرکاری و غیر سرکاری اخلاقی پولیس سے نمٹنے کے لیے کبھی کبھی رشوت دینے سمیت مختلف طریقے اپنانے پڑے۔ حسیب آصف کے مطابق تاریخی طور پر نہ صرف رومان اور جنسیت بلکہ نرم ایروٹیکا بھی ہمیشہ سے پاکستانی پلپ فکشن ڈائجسٹ کا حصہ رہا ہے، البتہ کچھ ڈائجسٹ اسے فطری انسانی جبلت کے ساتھ کچھ منفی عنصر شامل کر کے guilt-free محسوس کراتے ہیں۔
حکومت کی مداخلت کے باوجود ایک اہم موڑ ٹیلی ویژن اور اس کے بعد ڈیجیٹل میڈیا کی آمد کے ساتھ آیا۔ کچھ ڈائجسٹ مصنفین ڈراما اسکرپٹ رائٹنگ کی طرف چلے گئے، جبکہ پرنٹ میڈیا ڈائجسٹوں نے سبسکرپشن کی بجائے اشتہارات اور روحانی کاروبار پر انحصار بڑھا دیا، جس کی وجہ سے انھیں اپنی جنسی کھلے پن سے کسی حد تک سمجھوتہ کرنا پڑا۔
اہم انواع
[ترمیم]پاکستانی شاعری میں غزل، نظم، حمد، نعت اور مرثیہ شامل ہیں۔ فیض احمد فیض، احمد فراز، پروین شاکر اور جون ایلیا جیسے شعرا نے پاکستانی شاعری کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔ شاعری کی مختلف اصناف میں صوفیانہ کلام، جدید نظم اور ثقافتی شاعری شامل ہیں۔
پاکستانی نثر میں ناول، افسانہ، ڈراما، سفرنامہ اور تنقید شامل ہیں۔ قرت العین حیدر، عبداللہ حسین، بانو قدسیہ اور مستنصر حسین تارڑ جیسے ناول نگاروں نے پاکستانی نثر کو نئی بلندیاں بخشیں۔ افسانہ نگاری میں منٹو، کرشن چندر اور غلام عباس کے نام نمایاں ہیں۔[8]
لسانی تنوع
[ترمیم]پاکستانی ادب کی اہم خصوصیت اس کا لسانی تنوع ہے۔ اردو ادب قومی سطح پر رابطے کی زبان کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی ادب اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ہر زبان کا ادب اپنے علاقائی ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔[9]

اہم مصنفین
[ترمیم]پاکستانی ادب کے عظیم مصنفین میں علامہ اقبال کا نام سر فہرست ہے، جنھیں قومی شاعر کا درجہ حاصل ہے۔ فیض احمد فیض نے ترقی پسند تحریک کی نمائندگی کی۔ احمد ندیم قاسمی نے شاعری اور افسانہ نگاری دونوں میں اپنا لوہا منوایا۔ جمیل الدین عالی اور جانثار اختر جیسے شعرا نے قومی نغمے تخلیق کیے۔[10]
خواتین مصنفین میں قرت العین حیدر، بانو قدسیہ، پروین شاکر، فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید کے نام قابل ذکر ہیں، جنھوں نے پاکستانی ادب میں اہم کردار ادا کیا۔
بین الاقوامی اثر
[ترمیم]پاکستانی ادب نے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کی ہے۔ محسن حامد، کامریا شمسی اور نیہا گھائر جیسے انگریزی مصنفین نے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ پاکستانی مصنفین کے تراجم مختلف زبانوں میں شائع ہوئے ہیں اور بین الاقوامی ادبی انعامات جیت چکے ہیں۔[11]
پاکستانی ادب بلحاظ زبان
[ترمیم]اردو پاکستاتنی ادب
[ترمیم]بلوچی ادب
[ترمیم]پنجابی ادب
[ترمیم]پشتو ادب
[ترمیم]سندھی ادب
[ترمیم]سرائیکی ادب
[ترمیم]کشمیری ادب
[ترمیم]مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Tariq Rahman (2012)۔ Language and Politics in Pakistan۔ Oxford University Press۔ ص 45–67
- ↑ Ali Asdar (2015)۔ The Pakistani Novel: A Critical Study۔ Cambridge University Press۔ ص 78–102
- ^ ا ب پ Pakistan Literature: Evolution & trends آرکائیو شدہ 2006-03-24 بذریعہ وے بیک مشین, Gilani Kamran, 2004.
- ↑ Zaheer Kazmi (2008)۔ The Origins of Pakistani Literature۔ University of Karachi Press۔ ص 112–134
- ↑ Shemeem Abbas (2010)۔ "Sufi Poetry in Pakistani Literature"۔ Journal of Pakistani Studies۔ ج 15 شمارہ 2: 23–45
- ↑ Muhammad Sadiq (2006)۔ A History of Urdu Literature۔ Oxford University Press۔ ص 156–178
- ↑ Rashid Malik (2018)۔ Post-Colonial Pakistani Literature۔ Penguin Random House۔ ص 89–115
- ↑ Aamer Hussein (2019)۔ The Pakistani Short Story۔ Bloomsbury۔ ص 167–189
- ↑ Sabiha Mansoor (2007)۔ "Multilingualism in Pakistani Literature"۔ International Journal of Linguistics۔ ج 12 شمارہ 4: 134–156
- ↑ Ali Zaidi (2020)۔ Great Pakistani Writers۔ National Book Foundation۔ ص 203–225
- ↑ Muneeza Shamsie (2016)۔ Hybrid Tapestries: The Development of Pakistani Literature in English۔ Oxford University Press۔ ص 156–178