پاکستانی نظم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جہاں تک نظم کی ارتقاءکا تعلق ہے تو نظم کی ترقی کا دور 1857ءکے بعد شروع ہوا لیکن اس سے پہلے بھی نظم ہمیں ملتی ہے۔ مثلا جعفر زٹلی اور اور شاہ حاتم وغیرہ کے ہاں موضوعاتی نظمیں ملتی ہیں۔ لیکن ہم جس نظم کی بات کر رہے ہیں اس کا صحیح معنوں میں نمائندہ شاعر نظیر اکبر آباد ی ہے۔ نظیر کا دور غزل کا دور تھا لیکن اُس نے نظم کہنے کو ترجیح دی اور عوام کا نمائندہ شاعر کہلایا۔ اُس نے پہلی دفعہ نظم میں روٹی کپڑ ا اور مکان کی بات کی اور عام شخص کے معاشی مسائل کو شعر میں جگہ دی۔ اُن کے بعد 57 تک کوئی قابل ذکر نام نہیں لیکن 57 کے بعد انگریزی ادب کا اثر ہمارے ادب پر بہت زیادہ پڑا اور اس طرح انجمن پنجاب کے زیر اثر موضوعاتی نظموں کا رواج پڑا۔ آزاد اور حالی جیسے لوگ سامنے آئے نظم کو سرسید تحریک نے مزید آگے بڑھایا لیکن اس نظم کا دائرہ محدود تھا۔ موضوعات لگے بندھے اور ہیئت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ ہاں اس دور میں ہیئت کے حوالے سے ا سماعیل میرٹھی اور عبدالحلیم شرر نے تجربات کیے لیکن انھیں اتنی زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ اکبر الہ آبادی اور اسماعیل میرٹھی کے ہاں مقصدیت کا سلسلہ چلتا رہا

لیکن علامہ اقبال نے نظم کہہ کر امکانات کو وسیع تر کر دیا اُس نے ہیئت کا تو کوئی تجربہ نہیں کیا لیکن اُس نے نظم کی مدد سے انسان خدا اور کائنات کے مابین رشتہ متعین کرنے کی کوشش کی اور اس طرح اس فلسفے سے نئی راہیں کھلیں انھوں غیر مادی اور مابعد الطبعیاتی سوالات اُٹھائے جس کی وجہ سے نظم میں موضوع کے حوالے سے نئے راستوں کا تعین ہوا۔ اس کے بعد رومانیت پسند وں کے ہاں نظم آئی جن میں اختر شیرانی، جوش ،حفیظ اور عظمت اللہ خان شامل ہیں لیکن وہ اقبال کی نظم کو آگے نہ بڑھا سکے اور محدود اور عمومی سطح کی داخلیت تک نظم کو ان لوگوں نے محدود کر دیا ۔

اس کے بعد نظم کا سفر ترقی پسند تحریک تک پہنچا ان لوگوں کے ہاں بھی ہیئت کے تجربے ہمیں نظر نہیں آتے ان شعراءمیں فیض، مجاز، ندیم، ساحر وغیرہ شامل تھے۔

اس کے بعد ہمارے سامنے حلقہ ارباب ذوق کی نظم آتی ہے جن میں ن۔م راشد، میراجی شامل ہیں انھوں نے شعوری کوشش کے ساتھ آزاد نظم کے تجربات کیے اور تہذیبی روایات ان فیض سے ہوتے ہوئے جب ان لوگوں تک آئی تو ٹوٹ گئی اور انھوں نے ایک جدید نظم کی ابتداءکی ان دونوں شعراءکی نظم پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم نظم کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں ۔

پاکستانی نظم 47 کے بعد[ترمیم]

47 کے بعد جو نظم سامنے آتی ہے اس میں تین بڑے رجحانات ہیں۔ پہلا ترقی پسندی جس میں رومان اور انقلاب دونوں کا حوالہ موجود ہے۔ دوسرا حلقہ ارباب ذوق کا داخلیت پسند رجحان جس میں معاشرے کی داخلی سطح کو دیکھا گیا۔ جبکہ تیسرا رجحان جدید شعراءکا ہے جو مشینی اور صنعتی زندگی کاپیدا کر دہ ہے۔

رومانی او ر انقلابی قدروں کا رجحان[ترمیم]

اس رجحان کو ترقی پسند تحریک سے وابستہ قرا ر دیا جاتا ہے۔ یہ تحریک ایک مقصدی تحریک تھی جس نے مقاصد پر زیادہ زور دیا۔ آزادی کے بعد جب عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو وہ جس لائن پر چل رہے تھے اسی پر چلتے رہے۔ اُن کا مقصد یہ تھا کہ معاشرہ جس بحران اور غربت و افلاس کا شکار ہے اس کو ختم ہونا چاہے ے۔ اسی رجحان سے وابستہ شاعر مندرجہ ذیل ہیں ۔

جوش ملیح آبادی[ترمیم]

جوش دراصل رومانی شاعر تھے لیکن رومانیت کے ساتھ ساتھ جوش کے ہاں جو معاشرتی ڈھانچے کے خلاف احتجاج کا عمل نظر آتا ہے اور انقلاب کی جو للکار ہے وہ انھیں ایسا انقلابی فرد بناتے ہیں کہ ترقی پسند شعراءانھیں اپنے صف میں شامل کر دیتے ہیں۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جوش کے ہاں رومانی اور انقلابی دونوں حوالے ملتے ہیں:

اے دوست دل میں گردِ کدورت نہ چاہیے
اچھے تو کیا بروں سے بھی نفر ت نہ چاہیے

فیض احمد فیض[ترمیم]

اس رجحان کے حوالے سے فیض احمد فیض کا نام بہت بڑا ہے نئے شاعروں پر ان کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ فیض ترقی پسند تحریک میں اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ فیض نے صرف وہ نہیں کیا جو ترقی پسند چاہتے تھے اُنہوں نے ترقی پسند تحریک کی مقصدیت اور اپنی انفرادیت کو ملا کر ایک نیا جہاں آباد کیا۔ اس طرح فیض نے محبت کی بھی بات کی اور انقلاب کی بھی بات کی۔ اُنہوں نے سارے استعارے عشقیہ لیے اور اسلوب پر بھی زور دیا اس طرح ان کی نظم میں رومان اور انقلاب کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے ان کی ایک نظم” دو عشق “ ملاحظہ ہو:

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کا م کیا
عشق کام کے آڑے آتا رہا
اور کام سے عشق الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

احمد ندیم قاسمی[ترمیم]

احمد ندیم قاسمی نے پابند ،معراءاور آزاد کی ہیئت میں نظمیں لکھیں۔ لیکن پابند نظم کی طرف ان کی توجہ زیادہ رہی ان کے ہاں بھی انقلابی حوالہ کافی مضبوط ہے۔ ان کی نظموں میں ہمیں پوری پاکستانی تاریخ نظرآتی ہے۔ انھوں نے اپنی نظم کی بنیاد انسانی عظمت پر رکھی یوں ان کی نظم کا رابطہ اقبال سے جڑ جاتا ہے۔ انھوں نے انسانی مسائل کا حل انسانی عظمت میں تلاش کیا۔ اقبال کی طرح انسان کے مقام کے تعین کے لیے وہ خدا سے جڑا اور اُس میں کہیں تصادم کی بھی کیفیت پیدا ہوئی :

نہیں بے مدعا تخلیق انساں
سمجھ میں مدعا لیکن نہ آیا
خدا خالق سہی، مخلوق کے پاس
رسول آئے خدا اب تک نہ آیا

مصطفی زیدی[ترمیم]

مصطفی زیدی باقاعدہ طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ نہیں رہے لیکن ان کی نظموں میں ترقی پسند عناصر ملتے ہیں۔ اُنہوں نے محبت کی باتیں بھی کی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ سماج میں پیدا ہونے والی بے اعتدالیوں کا بھی شکوہ کیا ہے۔ لیکن ان کے ہاں یہ دونوں کیفیات ایک خاص مرکز پرجمع ہو جاتی ہیں اور وہ مرکز ہے پر عمل انسان کا ذہنی خواب، وہ ایک غیر مادی انسان کی طرح معاشرے کے لیے کچھ خواب رکھتا ہے لیکن جب وہ پورے نہیں ہوتے تو وہ خود بھی انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور یہی ذات کی محرومی مصطفی زیدی کی نظم کا مرکزی حوالہ ہے۔ ان کی شاعری حلقہ اربابِ ذوق اور ترقی پسند تحریک کے سنگم پر تخلیق ہوتی ہوئی نظرآتی ہے۔

تم نے کس پیار سے یہ بات ہمیں سمجھائی
کہ یہاں تو کوئی ظالم کوئی کمزور نہیں
مختلف نقطوں سے چلتے تو ہیں دنیا والے
کرہ ارض مگر گول ہے، چوکور نہیں

قتیل شفائی[ترمیم]

قتیل شفائی کانام ترقی پسندتحریک کے حوالے سے سامنے آتا ہے اُن کی نظم میں رومان اور انقلابی جدوجہد دونوں کے حوالے اپنی جگہ موجود ہیں۔ ان کی شاعری کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کامحبوب مادیت پرستانہ روشنی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ اس طرح اُس کی محبت کا دکھ اُس کی ذات سے ساری انسانیت کی طرف پھیل گیا ہے۔

کیا یہی تجھ کو سکھایا ہے نظام زر نے
کہ محبت کا جنازہ سحر و شام اُٹھے
کیا یوں ہی پیا ر کی توقیر ہوا کرتی ہے
کہ مہکتی ہوئی ہرسانس کا نیلام اُٹھے

احمد فراز[ترمیم]

احمد فراز کی نظم ہر حوالے سے غزل کے مقابلے میں مضبوط ہے۔ ان نے ہر ہیئت میں نظم لکھی۔ رومانی حوالے سے ان کے ہاں خوبصورت نظمیں ملتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انقلابی روے ے بھی اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ خاص کر پاکستان کے مختلف المے ے مثلا ً جو کچھ ضیاءکے دور میں ہوار ٥٦ کا المیہ ہو یا ا٧ کا المیہ یاکراچی کے حالات ہوں سب کا ذکر ان کی نظم میں ملتا ہے۔

ہم اُس قبیلہ وحشی کے دیوتا ہیں کہ جو
پجاریوں کی عقیدت پہ پھول جاتے ہیں
اور ایک رات کے معبود صبح ہوتے ہی
وفاپرست صلیبوں پہ جھول جاتے ہیں

حلقہ اربابِ ذوق کا داخلیت پسند رجحان[ترمیم]

ترقی پسند شعرا نے زیادہ تر پابند نظم کو اپنا اور اُن کی نظر زیادہ تر معاشرے اور انسان کے خارجی مسائل ہی رہے لیکن ایک خاص نظریے کے زیر اثر ان کی کے ہمیں انتہا پسندی بھی نظرآتی ہے۔ اس کے برعکس حلقہ ارباب ذوق والوں کاخیال تھا کہ اظہار میں انفرادی آزادی ہونی چاہے ے اور شاعر کو کسی نظرے ے کا پابند نہیں رہنا چاہے ے وہ جو کچھ محسوس کرتا ہے اُس کو بیان کر دے اس کے علاوہ حلقے کے شعرا ءکا خیال تھا کہ ادب میں تازگی ہونی چاہے ے اور ہمیں جدید یت کو اپناناچاہے ے لہٰذا روایت پر ان کا حملہ ترقی پسندوں سے زیادہ شدید تھا۔ اس طرح انہوں نے نظم میں آزاد نظم کو رواج دیا نئی لفظیات، نئی علامتوں اور استعاروں پر زور دیا۔ ان شعراءمیں میراجی، قیوم نظر، یوسف ظفر، مختار صدیقی اور ضیا جالندھری وغیرہ شامل ہیں لیکن سب سے زیادہ اہمیت ان شعراءمیں میراجی اور ن۔ م راشد کو حاصل ہے۔ اردو نظم کو جدیدیت کی طرف لانے میں ان دو اصحاب کا ہاتھ بہت زیادہ ہے۔ ان کے ہاں معلوم ہوتا ہے کہ اقبال اور ترقی پسندوں تک روایت کا جو تسلسل تھا وہ ٹوٹ گیا ہے۔ ان کا موضوع جدید معاشرے کا انسان ہے۔

ن۔ م راشد[ترمیم]

ن۔م راشد ایک ایسا شاعر ہے جو ہمارے سامنے ایک جدید انسان کا تصور پیش کرتا ہے۔ وہ انسان جس کاتعلق مغربی تہذیب سے ہے جو مغربی تعلیم کا پروردہ ہے۔ جس کا رابطہ نہ مذہب سے ہے اور نہ روایت سے نہ تہذیب سے اور نہ اخلاقیات سے۔ اُس نے اپنے سارے مرکز گم کر دئے ے ہیں اور اس طرح ہوا میں معلق ہے۔ راشد کا یہ انتشاری انسان سے پہلے روحانیت کی طرف سفر کرتا ہے پھر وہ خوابوں کی سرزمین کی طرف جاتا ہے اور کبھی عورت کے جسم کی طرف لیکن کہیں بھی اُسے فرار حاصل نہیں اس لیے آخر میں وہ خودکشی کا سوچتا ہے۔ اس طرح آگے چل کر راشدمشرق کے لیے آواز اور یہاں کو کے انسان کو عمل کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ مغرب سے بغاوت کرتا ہے اور عجیب انداز میں جیسے ”اجنبی عور ت میں وہ کہتے ہیں:

اُس کا چہر ہ اُس کے خدوخال یادآتے نہیں
اک برہنہ جسم اب تک یاد ہے
اجنبی عورت کا جسم
میرے ہونٹوں نے لیا تھا رات بھر
جس سے اربابِ وطن کی بے بسی کا انتقام
وہ برہنہ جسم اب تک یاد ہے

آگے چل کر اُس کا انسان آفاقی بن جاتا ہے جس کے لیے سرحدیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں اس طرح وہ مشرق اور مغرب کے اتحاد کی بات کرنے لگتا ہے۔ اس طرح راشد کی نظم باہر سے اندر کی طرف سفر کرتی ہے۔ معاشرے کی خارجیت سے فرد کی داخلیت کی طرف ۔

میراجی[ترمیم]

شخصی حوالے سے میراجی اردو نظم کے بدنام ترین شاعر ہیں بدقسمتی سے لوگ ان کی شخصیت میں الجھ کر رہ گئے اور ان کی شاعری کی طرف توجہ بہت کم رہی۔ لیکن پاکستانی نظم پران کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان کے ہاں منفی دنیا کی سیاحت کے ساتھ ساتھ اندر کی دنیا کی طرف سفر اور زمین سے گہری وابستگی ملتی ہے۔ ان کی نظم کی بنیاد داخلیت پر ہے۔ میراجی کا بنیادی سوال انسان کے بارے میں ہے کہ انسان کیا ہے۔ اس جواب کے لیے اُس نے مختلف سفر کیا اور جنس کو اپنا موضوع بنایا۔ اس کے بعد اُس نے تصوف کا راستہ اختیار کیا کیونکہ وہ عرفانِ نفس چاہتا تھا۔ جہاں تک جنس کا تعلق ہے تو اُس کے ہاں جنسی تجربے ہیں تو ہیں لیکن تلذذ کا کوئی شائبہ تک نہیں

ایک ہی پل کے لیے بیٹھ کے پھر اُٹھ بیٹھی
آنکھ سے صرف یہ دیکھا کہ نشستہ بت ہے
پھر بصارت کو نہ تھی تاب کہ وہ دیکھ سکے
کیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہ
ایک لمحے کے لیے چشمے کی مانند بنا

عبوری دور[ترمیم]

ان شعراءکا تعلق کسی تحریک سے نہیں ہے اُن شعراءنے کسی خاص فارمولے کے تحت نظم تخلیق نہیں کی۔ نہ ترقی پسندوں کی طرح موضوعات کا اور نہ حلقہ ارباب ِ ذوق کی طرح تجربوں کے قائل نہیں۔ ان شاعروں کی شاعری کی بنیاد جذبے اور تجربے پر ہے۔

مجید امجد[ترمیم]

مجید امجد کی نظم کا بنیادی نکتہ فرد اور اس کی ذات اور اس کی محرومیاں ہیں۔ ان کا فرد راشد کی طرح نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہے۔ جو اپنے ماحول سے متنفر ہے اس کی بڑی محرومی یہ ہے کہ اس جہاں کی عمر مختصر ہے۔

اگر میں خدا اس زمانے کا ہوتا
تو عنواں کچھ اور اس فسانے کا ہوتا
عجب لطف دنیا میں آنے کاہوتا
مگر ہائے ظالم زمانے کی رسمیں
ہے کڑواہٹیں جن کی امرت کی رس میں
نہیں میرے بس میں نہیں میرے بس میں
میری عمر بیتی چلی جا رہی ہے
دوگھڑیوں کی چھائوں چلی جا رہی ہے

اس کے علاوہ وہ اپنی محرومیوں کو فطرت کے ساتھ شیر کرتا ہے۔ وہ ماضی کا شاعر ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”مقبرہ جہانگیر“ بہت اہم ہے :

تم نے دیکھا نہیں آج بھی ان محلوں میں
قہقہے جشن مناتے ہوئے نادانوں کے
جب کسی ٹوٹتی محراب سے ٹکراتے ہیں
مرقد شاہ کے ایوان لرز جاتے ہیں

منیر نیازی[ترمیم]

منیر نیازی کی نظم میں جدید دور کے مسائل موجود ہیں۔ جب کہ ان کی نظم تنہائی، خوف اور آسیب سے تشکیل پاتی ہے۔ وہ اندر کی تنہائی کو باہر کی طرف منتقل کرتے ہیں اور باہر کی تنہائی کو اندر کی طرف اور اندر کی تنہائی کو فطرت سے وابستہ کرتے ہیں۔ ان کے ہاں رومانیت کے ساتھ ساتھ ایک پراسرار قسم کی روحانی فضا بھی ملتی ہے۔ اُن کی ایک نظم”صحرا بہ صحرا “ میں یہ کیفیات ملتی ہیں

چاروں طرف ہے خوب اندھیرا اور گھٹاگھنگور
وہ کہتی ہے کون میں کہتا ہوں میں
کھولو یہ بھاری دروازہ
مجھ کو اندر آنے دو

ڈاکٹروزیر آغا[ترمیم]

ڈاکٹر وزیر آغا کا شمار عبوری دور کے شعراءمیں ہوتا ہے جو برائے نام شاعر ہیں۔ اور حقیقت میں کوئی کامیاب شاعر نہیں رہے۔ ان کی نظم میں عرضیت نظرآتی ہے خاص کر دیومالائی اور اساطیری حوالے ان کے ہاں زیادہ ملتے ہیں۔ مٹی کی مہک اور فرد کا اندرونی تعلق فطرت کے خارج کے ساتھ ان کے نظم کا ایک خصوصی پہلو ہے۔

جدیدیت کارجحان[ترمیم]

جدید نظم کاآغاز 1960ءکے بعد ہوا ان شعراءکے ہاں مالطبیعاتی تصورات سے کٹ جانے کے بعد یہ سولات باقی رہ گئے ہیں کہ یہ کائنات کیا ہے؟ زندگی کیا ہے؟ معاشرہ کیا ہے؟ میں کون ہوں؟ سب کاآپس میں رابطہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان شعراءکے ہاں ہمیں روح کے تحفظ سے زیادہ جسم کے تحفظ کا حوالہ کافی مضبوط ہے۔ او رنیا شاعر اپنی شاخت چاہتا ہے۔ ان شعراءمیں کچھ شعراءتشکیلاتی گروپ میں شامل ہیں جو درج ذیل ہیں۔

لسانی تشکیلاتی گروپ[ترمیم]

اس گروپ کا تعلق لسانی تشکیلات سے ہے۔ ان شعراءنے نئے الفاظ کورواج دینے کی کوشش کی لہٰذا بہت سے نامانوس الفاظ نظم کا حصہ بن گئے۔ ان شاعروں کے خیال میں بنیادی اہمیت لفظ کی ہے خیال لفظ کی وساطت سے آگے بڑھتا ہے۔ ان میں افتخار جالب، انیس ناگی، جیلانی کامران، سعادت سعید، عبد الرشید، فہیم جوزی اور تبسم کاشمیری شامل ہیں

افتخار جالب[ترمیم]

افتخار جالب کا خیال ہے کہ ہم لفظ کے حوالے سے کب تک اس محدود دائرے میں بند رہیں گے اور کب تک یہ گرائمر والے ہم پر حکومت کرتے رہیں گے۔ لہٰذا نیا لسانی نظام وضع کرنا چاہے ے۔ اس لیے ان کی شاعری کو پڑھتے وقت یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم مختلف قسم کی شاعری پڑھ رہے ہیں۔ ان کے ہاں تنہائی، بے سمتی اور انتشار کے تصورات کثرت سے موجود ہیں۔ ان کی نظم ”تنہائی کا چہرہ“ میں یہ ساری کیفیات موجود ہیں۔

انیس ناگی[ترمیم]

انیس ناگی نے تنقید میں بھی کام کیا اورنظمیں بھی لکھیں ان کے ہاں مکروہ، ممنوع اور نامانوس الفاظ بکثرت نظر ا تے ہیں۔ ان کی نظم میں انتشار، بے سمتی اور ابہام سے پر تصورات موجود ہیں۔ انیس کی نظم کا کافرد بے سمتی کا شکار ہے۔ اس طرح لسانی تشکیلات سے وابستہ دوسرے شعراءمیں سلیم الرحمن، زاہد ڈار وغیرہ شامل ہیں۔

نئی نظم اور نئے موضوعات کے شعرا[ترمیم]

جیلانی کامران[ترمیم]

جیلانی کامران ایک نقاد اور نظم نگار ہیں۔ ان کے ہاں ملک کی محبت کے ساتھ ساتھ اسلامی تہذیب کی بازیافت بھی ملتی ہے۔ انہوں نے روحانی قدروں کے مٹنے کا ماتم شدت سے کیا ہے۔ ان کی ایک نظم ”نقش کفِ پا“ کے کردار عیش وعشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور موت سے دور بھاگتے ہیں۔ وہ جسم کو تسخیر کرنا چاہتے ہیں اور روح سے منحرف ہیں۔ اُن کے خیال میں ہمارا نیا شاعر جسم کے بچائو کے لیے فطرت کی پرستش کرتے ہیں ۔”بے ثبات دنیا “ میں بھی یہی کیفیات نظرآتی ہیں۔

بے ثبات کی دنیا موسموں میں اُتری ہے
پھول بن کے آئی ہے گلشننوں میں اتری ہے

تو اگر ہمیں ملتا عمر کی مسافت میں
ہم تیرے درختوں کے پھول بن گئے ہوتے

سعادت سعید[ترمیم]

سعادت سعید کے شعری مجموعے کجلی بن (مطبوعہ سنگ میل لاہور 1988) میں نئی لسانی تشکیلات کے معنوی تشکیلاتی پہلو کو سامنے لایا گیا ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ معاصر شاعری کی نظری تشکیل سے متعلق ہے۔ سعادت سعید نے فنون آشوب (مطبوعہ، مکتبہ عالیہ، لاہور 2002)کے نام سے ایک طویل نظم بھی لکھی ہے اس میں شاعری، رقص، سنگ تراشی، مجسمہ سازی، موسیقی، مصوری کے عوامی ثقافت سے مغائرت کے پہلو سامنے لائے گئے ہیں۔ ان کا مجموعہ بانسری چپ ہے (دستاویز مطبوعات، لاہور 2002) عہد حاضر میں انسان کے گم ہو جانے کی کتھا کہتا نظر آتا ہے۔ سعادت سعید کی شاعری کا مجموعہ شناخت سرمایہ دارانہ ثقافت میں انسان کے شے میں منتقل ہونے کے المیاتی حوالوں کو سامنے لاتا ہے۔ یہ کجلی بن ہے اس آدم خاکی کی کٹیا بن نہیں سکتی
یہاں اعصاب پر چنگھاڑتے وحشی لپکتے ہیں
یہاں کھڈوں میں شریانوں کی فصلیں کچلی جاتی ہیں
یہاں پیڑوں کی شاخوں سے الجھتی، خون میں لتھڑی معمر گھاگ خرطومیں
وہ لمبے کان جن میں چیخ سننے کا کوئی روزن نہیں
وہ فربہ پیٹ جن کی دلدلوں میں ڈوبنے والے کبھی ابھرے نہیں

اختر حسین جعفری[ترمیم]

اختر حسین جعفری کی نظم رنگوں سے تشکیل پاتی ہے۔ اس کی شاعری کا فرد اپنے تصورات میں گم ہو چکا ہے۔ اس کی اکائی کہیں رہ گئی ہے۔ اب وہ فرد خوف، تنہائی اور آسیب کے حصاروں میں گھرا اپنی معنویت کو تلاش کرتا ہے۔ اس تلاش کے لیے اُس نے دو طریقے اپنائے ہیں ایک فرد سے ہو کر اور دوسرا فطرت سے ہو کر جاتا ہے۔ لہٰذا وہ کبھی اپنے آپ سے مکالمہ کرتا ہے اور کبھی فطرت سے مکالمہ کرتا ہے۔ اُن کی ایک نظم ”ایک خط آشنا ورثوں کے نام“ میں یہی کیفیت موجود ہے،

میں اپنے چہرے سے منحرف ہوں
میں اپنے ورثوں سے دشت کش ہوں

ساقی فاروقی[ترمیم]

ساقی فاروقی زندگی کی معنویت تلاش کرنے کے لیے انسانوں سے لے کر نباتات تک جاتا ہے۔ ان کے خیال میں زمین کا مرکز انسا ن ہے لیکن دوسری چیزوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی نظم میں خوف اور انتشار کی کیفیت بھی ہے۔ دراصل وہ ہر چیز کے باطن میں اتر کر اس کی حقیقت تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔۔ ان کی نظم کا فرد کائنات اور دنیا کے بارے میں نہیں پوچھتا بلکہ اپنے بارے میں سوال کرتا ہے کہ میں کیاہوں؟ اور میرا رتبہ اس زمین پر کیا ہے۔ مثلاً

میں کون ہوں تو کون ہے سب لوگ ہیں بچھڑے ہوئے
دن زہر ہیں بے مہر ہیں سب شہر ہیں اجڑکے ہوئے

فہمیدہ ریاض[ترمیم]

ان کے ہاں یہ سوچ غالب ہے کہ فنکار کو ہر حوالے سے آزاد ہونا چاہے ے۔ اس لیے اپنی نظموں میں وہ حقوق نسوں کی تحریک کی لیڈر کبھی نظرآتی ہے اور کبھی جنسی محبت کرنے والی بے باک لڑکی۔ دراصل جو اُس نے سوچا اُس کو بیان کر دیا۔ خصوصاً عورت کے حوالے سے جس طرح معاشرے میں عورت کا جنسی استحصال ہوتا ہے ان سب کا بیان اُس کے ہاں ہے۔ اُسے کسی مشرقیت اور نظام سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ اس سسٹم کو ختم کرکے ایک نئے نظام کی بات کرتی ہے اُس پرانی کہانیاں فرسودہ نظرآتی ہیں ”آڈن کے نام “ ایک نظم میں یہی کیفیات موجود ہیں۔

یہ سچ ہے میرے فلسفی میرے شاعر
وہ وقت آگیا ہے کہ
بوڑھے فریبی معلم کا جبہ پکڑ کر
نئے لوگ کہہ دیں کتابیں بد ل دو
کتابیں جو صدیوں سے ہم کو پڑھاتے چلے آ رہے ہو
جلا دو کتابیں جو کہتی ہیں دنیا میں حق جیتتا ہے
کہ ہم جانتے ہیں کہ جھوٹ اور سچ میں ہمیشہ ہوئی جنگ
اور جھوٹ جیتتا ہے
کہ نفرت ہے امر ہے کہ طاقت ہے برحق
کہ سچ ہارتا ہے

مجموعی جائزہ[ترمیم]

47 سے لیکر اب تک پاکستانی نظم کے سارے رجحانات کو ایک ہی نقطہ پر سمیٹا جا سکتا ہے۔ اور نکتہ ہے پاکستانی معاشرہ۔ یہ تمام رجحانات کسی نہ کسی طرح پاکستانی معاشرے کی پیدا کردہ رجحانات ہیں۔ ہمارے سیاسی ،معاشرتی اور سماجی حالات نے ان رجحانات کو پروان چڑھایا۔ اس طرح پاکستانی نظم کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں اردو نظم میں شکل زبان و بیان، موضوع اور مواد وغیرہ کی بہت سی تبدیلیاں نظرآتی ہیں۔ غزل کی نسبت نظم نے عالمی تحریکوں کے زیادہ اثرات قبول کیے۔ پاکستانی نظم اہل وطن کی سیاسی، بیداری، سماجی شعور اور نظریاتی وابستگی کی عکاس رہی ہے۔ اور اب بھی اسلوب اور موضوع کے حوالے سے نئے نئے مراحل طے کر رہی ہے۔