پاکستان سپر لیگ 2016ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2016ء
PSL.svg
تاریخ 4 فروری 2016 – 23 فروری 2016
منتظم پاکستان کرکٹ بورڈ
کرکٹ طرز ٹوئنٹی/20
ٹورنامنٹ طرز راؤنڈ روبن اور playoffs
میزبان  متحدہ عرب امارات
فاتح (1 بار)
شریک ٹیمیں 5
کل مقابلے 24
کثیر رنز Flag of پاکستان عمر اکمل (لاہور قلندرز) (335)
کثیر وکٹیں Flag of ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ آندرے رسل (اسلام آباد یونائیٹڈ) (16)
باضابطہ ویب سائٹ psl-t20.com
2017ء

پاکستان سپر لیگ 2016 پاکستان کرکٹ بورڈ کی زیرنگرانی ایک ٹوئنٹی/20 کرکٹ سیزن تها۔ یہ سیزن 4 فروی 2016 سے شروع ہو کر فائنل میچ، 24 فروری 2016 تک منعقد ہوا۔[1] فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ہرا کر فتح اپنے نام کی۔ اس سیزن کے سرکاری لوگو کی 20 ستمبر کو رونمائی کی گئی۔[2][3] اسی تقریب میں سرکاری گانے "اب کھیل کے دکھا" کو بھی علی ظفر کے آواز میں پیش کیا گیا۔[4]

تاریخ[ترمیم]

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ستمبر 2015 میں اک کرکٹ لیگ کروانے کا اعلان کیا گیا جس کا بنیادی مقصد کرکٹ کے چاہنے والوں اور پاکستان کی کرکٹ میں بہتری لانا تھا پاکستان کے سابق کھلاڑی وسیم اکرماوررمیز راجہنے پی ایس ایل کی تشہیر لے لیے کیاتین سال کا معاہدہ بھی کیا گیا معاہدہ کے بعد مزید کھلاڑی بھی شامل ہوئے۔ سالوں کی منصوبہ بندی اور محنت کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مقابلے کے کا اہتمام دوبئی میں 4 فروری سے شروع ہوا۔ پہلے مقابلے کے لیے ملک بھر سے پانچ ٹیمیں شامل کی گئی اور اس کے لیے بیرون ملک سے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو بھی مدعو کیا گیا

امپائرز[ترمیم]

سفیر[ترمیم]

پاکستان سپر لیگ کے افتتاحی سیزن کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے درج ذیل کو اپنا سفیر مقرر کیا۔[5][6]

مقامات[ترمیم]

ابتدائی طور پرپی ایس ایل کے پہلے سیزن کے لیے دوحہ، قطر کا نتخاب کیا گیا، لیکن 24 ستمبر 2015 کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ ٹورنامنٹ دوحہ سے دبئی اور شارجہ، متحدہ عرب امارات میں منتقل کر دیا۔[7][8]

Flag of متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات
دبئی شارجہ
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم
گنجائش: 25٫000 گنجائش: 27٫000
Dubai Sports City Pak vs Aussies.jpg SharjahCricket.JPG
متحدہ عرب امارات

اصول و ضوابط[ترمیم]

پی ایس ایل آئی سی سی کی طرف سے جاری شدہ قوانین اور اصول و ضوابط کی پابند ہوگی۔

گروپ میں درج ذیل طریقہ سے پوائنٹ دیے جائیں گے:

پوائنٹس
نتیجہ پوائنٹس
جیت 2 پوائنٹس
بے نتیجہ 1 پوائنٹ
ہار 0 پوائنٹ

اگر میچ کے اختتام پر سکور برابر ہو جائیں تو دونوں ٹیموں کو سپر اوور کھیلنا ہو گا اور اس سپر اوور میں جیتنے والی ٹیم کو فاتح قرار دیا جائے گا۔[9]

گروپ اسٹیج میں ٹیموں کی درجہ بندی درج ذیل طریقہ کار کے مطابق ہو گی:[10]

  1. زیادہ پوائنٹس
  2. اگر پوائنٹ برابر ہوں تو زیادہ فتوحات
  3. اب بھی اگر برابر ہوں تو دونوں ٹیموں کے مابین میچوں کے نتائج کے مطابق فیصلہ ہو گا۔
  4. اگر پھر بھی برابر ہوں تو نیٹ رن ریٹ

مسائل اورخدشات[ترمیم]

مسلسل تاخیر کے بعد بالآخر فروری 2016 میں کھیلی جانی والی اس لیگ کے آغاز سے پہلے ہی کچھ کرکٹ بورڈوں نے اپنے کھلاڑیوں کو اس لیگ میں حصہ لینے سے روک دیا۔ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے اپنے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی مستفیض الرحمن کو پاکستان کرکٹ لیگ کھیلنے سے روک دیا۔ بنگلہ دیشی بورڈ کا کہنا تها کہ وہ مستفیض کے ایشیا کپ اور 2016 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے قبل زخمی یا ان فٹ ہونے کے ڈر سے ایسا کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ ویسٹ انڈین بورڈ نے تقریباً انہی وجوہات کی بنا پر اپنے نوجوان کرکٹ کپتان جیسن ہولڈر کو این او سی نہیں دیا،جس کی وجہ سے وہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر پائے۔
اس کے علاوہ پاکستان کے موجودہ بہترین سپنر یاسر شاہ بھی ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے پی ایس ایل کے پہلے سیزن کاحصہ نہیں بن پائے۔

شریک ٹیمیں اور درجہ بندی[ترمیم]

ٹیم کھیلے جییتے ہارے بے نتیجہ پوائنٹس این آر آر
پشاور زلمی (تیسری) 8 6 2 0 12 +0.573
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز (فائنل ہاری) 8 6 2 0 12 +0.216
(فاتح) 8 4 4 0 8 -0.282
کراچی کنگز (چوتھی) 8 2 6 0 4 -0.036
لاہور قلندرز 8 2 6 0 4 -0.536
  • درجہ بندی میں اولین چار ٹیمیں اگلے مرحلے میں چلی جائیں گی۔

لیگ مرحلہ[ترمیم]

مہمان ٹیم →IU LQ PZ KK QG
میزبان ٹیم ↓
اسلام آباد یونائیٹڈاسلام آباد
5 ووکٹ
پشاور
24 رنز
اسلام آباد
5 ووکٹ
کوئٹہ
7 ووکٹ
لاہور قلندرزاسلام آباد
8 ووکٹ
پشاور
9 ووکٹ
کراچی
27 رنز
کوئٹہ
2 ووکٹ
پشاور زلمیپشاور
7 ووکٹ
لاہور
4 رنز
پشاور
5 ووکٹ
پشاور
8 ووکٹ
کراچی کنگزاسلام آباد
2 رنز
کراچی
7 ووکٹ
پشاور
3 رنز
کوئٹہ
5 ووکٹ
کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکوئٹہ
8 ووکٹ
لاہور
63 رنز
کوئٹہ
3 ووکٹ
کوئٹہ
8 ووکٹ
میزبان ٹیم جیتیمہمان ٹیم جیتی
  • نوٹ: یہ نتائج میزبان (افقی) اور مہمان (عمودی) ٹیموں کے مطابق ہیں۔
  • نوٹ: نتائج پر کلک کر کے مقابلے کا خلاصہ دیکھیے۔
میچ

نتائج[ترمیم]

4 فروری
22:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
'
128/7 (20 اوور)
بمقابلہ
مصباح الحق 41 (28)
محمد نواز 4/13 (4 اوور)
لیوک رائیٹ 86* (53)
عمران خالد 2/20 (4 اوور)
کوئٹہ 8 ووکٹوں سے جیتے
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم
امپائر: جول ولسن (ویسٹ انڈیز) اور شوذب رضا (پاک)
  • کوئٹہ گلیڈیئٹر نے ٹاس جیت لیا اور پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔
  • یہ سوپر لیگ کا پہلا میچ تھا۔

5 فروری
16:30
اسکور کارڈ
لاہور قلندرز
125/8 (20 اوور)
بمقابلہ
کراچی کنگز
131/3 (15.5 اوور)
محمد رضوان 37 (31)
محمد عامر 3/27 (4 اوور)
لنڈل سائمنز 62* (46)
ضیاء الحق 1/7 (2 اوور)
کراچی 7 ووکٹوں سے جیتے
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: جول ولسن (ویسٹ انڈیز) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: ثاقب الحسن (کراچی کنگز)
  • کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کو بلے بازی کی دعوت دی۔
  • محمد عامر نے میچ میں ہیٹ ٹرک کی۔[11]

5 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
پشاور زلمی
145/7 (20 اوور)
بمقابلہ
'
121/9 (20 اوور)
تمیم اقبال 51 (51)
آندرے رسل 3/31 (4 اوور)
شین واٹسن 28 (31)
محمد اصغر 3/20 (4 اوور)
پشاور won by 24 runs
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: شوذب رضا (پاکستان) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: محمد اصغر (پشاور زلمی)
  • پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی۔

6 فروری
16:30
اسکور کارڈ
کراچی کنگز
147/7 (20 اوور)
بمقابلہ
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
153/2 (17.2 اوور)
روی بوپارہ 40 (29)
محمد نبی 2/32 (4 اوور)
احمد شہزاد 71 (46)
عماد وسیم 1/31 (4 اوور)
کوئٹہ won by 8 wickets
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: شوذب رضا (پاکستان) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: احمد شہزاد (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)
  • کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹاس جیت کر کراچی کنگز کو بلے بازی کی دعوت دی۔

6 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
لاہور قلندرز
117/6 (20 اوور)
بمقابلہ
پشاور زلمی
118/1 (16 اوور)
ڈوین براوو 32 (31)
محمد اصغر 2/11 (4 overs)
تمیم اقبال 55*(47)
اجنتھا مینڈس 1/23 (4 اوور)
پشاور won by 9 wickets
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: جول ولسن (ویسٹ انڈیز) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: تمیم اقبال (پشاور زلمی)
  • پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کو بلے بازی کی دعوت دی۔

7 فروری
16:30
اسکور کارڈ
'
132/8 (20 اوور)
بمقابلہ
کراچی کنگز
130/9 (20 اوور)
خالد لطیف 39(35)
روی بوپارہ 2/25 (4 اوور)
روی بوپارہ 32*(19)
سعید اجمل 3/27 (3 اوور)
کی 2 رنز سے جیت
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: جول ولسن (ویسٹ انڈیز) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: سعید اجمل (اسلام آباد یونائیٹڈ)
  • کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی۔

7 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
پشاور زلمی
135/7 (20 اوور)
بمقابلہ
ڈیرن سامی 48(31)
محمد نواز 3/29 (4 اوور)
کیون پیٹرسن 29*(23)
شاہد آفریدی 1/17 (4 اوور)
کوئٹہ تین ووکٹوں سے جیتے
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: شوذب رضا (پاکستان) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: محمد نواز (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)
  • کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو بلے بازی کی دعوت دی۔

17 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
لاہور قلندرز
150/5 (20 اوور)
بمقابلہ
'
151/5 (19 اوور)
عمر اکمل 72* (49)
محمد عرفان 3/22 (4 اوور)
Brad Haddin 54 (42)
محمد ضیاء الحق 2/38 (4 اوور)
5 ووکٹوں سے جیت گيا
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: جؤل ولسن (ویسٹ انڈیز) اور علیم ڈار (پاکستان)
مرد میدان: محمد عرفان (اسلام آباد یونائیٹڈ)
10 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
لاہور قلندرز
166/6 (20 اوور)
بمقابلہ
'
169/2 (15.5 اوور)
محمد رضوان 50* (27)
محمد سمیع 2/21 (3 اوور)
شرجیل خان 79* (43)
احسان عادل 2/41 (3.5 اوور)
8 ووکٹوں سے
شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، شارجہ
امپائر: جوئل ولسن (ویسٹ انڈیز) اور علیم ڈار (پاکستان)
مرد میدان: شرجیل خان (اسلام آباد یونائیٹڈ)
  • اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کی۔
  • The opening partnership of 153 runs between شرجیل خان and شین واٹسن was the highest in PSL.[12]

11 فروری
16:30
اسکور کارڈ
پشاور زلمی
182/4 (20 اوور)
بمقابلہ
کراچی کنگز
179/9 (20 اوور)
محمد حفیظ 59 (35)
روی بوپارہ 2/31 (4 اوور)
روی بوپارہ 67 (33)
وہاب ریاض 2/29 (4 اوور)
پشاور 3 رنز سے
شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، شارجہ
امپائر: شوذب رضا (پاکستان) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: محمد حفیظ (پشاور زلمی)
  • پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی۔

11 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
'
117 (19.1 اوور)
بمقابلہ
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
118/3 (16.1 اوور)
شین واٹسن 40 (28)
گرانٹ ایلیٹ 3/25 (4 اوور)
سرفراز احمد 51* (39)
آندرے رسل 3/18 (3 اوور)
کوئٹہ 7 ووکٹوں سے
شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، شارجہ
امپائر: جوئل ولسن (ویسٹ انڈیز) اور علیم ڈار (پاکستان)
مرد میدان: گرانٹ ایلیٹ (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)
  • کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کی۔

12 فروری
16:30
اسکور کارڈ
کراچی کنگز
178/5 (20 اوور)
بمقابلہ
لاہور قلندرز
151/8 (20 اوور)
روی بوپارہ 71* (43)
ظفر گوہر 2/26 (3 اوور)
کراچی 27 رنز سے
شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، شارجہ
امپائر: جوئل ولسن (ویسٹ انڈیز) اور علیم ڈار (پاکستان)
مرد میدان: روی بوپارہ (کراچی کنگز)
  • لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کی۔

12 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
'
152/6 (20 اوور)
بمقابلہ
پشاور زلمی
153/3 (18.3 اوور)
خالد لطیف 59 (41)
وہاب ریاض 2/24 (4 اوور)
تمیم اقبال 80* (58)
سیموئل بدری 1/23 (4 اوور)
پشاور 7 ووکٹوں سے
شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، شارجہ
امپائر: شوذب رضا (پاکستان) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: تمیم اقبال (پشاور زلمی)
  • پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کی۔

13 فروری
16:30
اسکور کارڈ
کراچی کنگز
126/9 (20 اوور)
بمقابلہ
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
127/5 (18.5 اوور)
شعیب ملک 45 (38)
گرانٹ ایلیٹ 4/15 (4 اوور)
احمد شہزاد 41 (27)
اسامہ میر 2/27 (4 اوور)
کوئٹہ 5 ووکٹوں سے
شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، شارجہ
امپائر: شوذب رضا (پاکستان) اور راشد ریاض (پاکستان)
مرد میدان: گرانٹ ایلیٹ (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)
  • کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی۔

13 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
لاہور قلندرز
164/3 (20 اوور)
بمقابلہ
پشاور زلمی
160/7 (20 اوور)
لاہور 4 ووکٹوں سے جیتے
شارجہ کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، شارجہ
امپائر: جوئل ولسن (ویسٹ انڈیز) اور علیم ڈار (پاکستان)
  • پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کی۔

14 فروری
16:30
اسکور کارڈ
'
بمقابلہ

14 فروری
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
بمقابلہ

حتمی مقابلے[ترمیم]

ابتدائی فائنل
  23 فروری — دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم
19 فروری — دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم
1 پشاور زلمی 132/9 (20 اوور)
2 کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 133 (19.3 اوور) کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 174/7 (20 اوور)
کوئٹہ جیت گیا 1 رنز  175/4 (18.4 اوور)
جیت گیا 6 ووکٹوں سے 
21 فروری — دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم
1 پشاور زلمی 126 (18 اوور)
3 176/3 (20 اوور)
جیت گیا 50 رنز 
20 فروری — دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم
3 115/1 (14.2 اوور)
4 کراچی کنگز 111/9 (20 اوور)
جیت گیا 9 ووکٹوں سے 

Preliminary[ترمیم]

کوالیفائر 1
فروری 19
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
بمقابلہ
پشاور زلمی
132/9 (20 اوور)
کیون پیٹرسن 53 (38)
وہاب ریاض 3/17 (3.3 اوور)
ڈیرن سامی 38 (29)
گرانٹ ایلیٹ 3/19 (4 اوور)
کوئٹہ won by 1 run
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: علیم ڈار (پاکستان) اور شوذب رضا (پاکستان)
مرد میدان: محمد نواز (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)
  • Peshawar Zalmi won the toss and elected to field.
خارج کنندہ
فروری 20
21:00 (د/ر)
اسکور کارڈ
کراچی کنگز
111/9 (20 اوور)
بمقابلہ
'
115/1 (14.2 اوور)
روی بوپارہ 37 (36)
محمد سمیع 5/8 (4 اوور)
Brad Haddin 52* (29)
Sohail Khan 1/25 (3.2 اوور)
9 ووکٹوں سے جیت گيا
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: علیم ڈار (پاکستان) اور احسن رضا (پاکستان)
مرد میدان: محمد سمیع (Islamabad United)
کوالیفائر 2
فروری 21
21:00 (د/ر)
Scorecard
'
176/3 (20 اوور)
بمقابلہ
پشاور زلمی
126 (18 اوور)
شرجیل خان 117 (62)
Shaun Tait 2/34 (4 اوور)
کامران اکمل 45 (32)
عمران خالد 4/20 (3 اوور)
50 رنز سے جیت گيا
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: جوئل ولسن (ویسٹ انڈیز) اور علیم ڈار (پاکستان)
مرد میدان: شرجیل خان (Islamabad United)
  • Peshawar Zalmi won the toss and elected to field.
  • شرجیل خان scored the first ever century of PSL.[15]

فائنل[ترمیم]

فروری 23
21:00 (د/ر)
اسکور کاڑد
بمقابلہ
'
175/4 (18.4 اوور)
احمد شہزاد 64 (38)
آندرے رسل 3/36 (4 اوور)
Dwayne Smith 73 (51)
Nathan McCullum 1/25 (3 اوور)
6 ووکٹوں سے جیت گيا
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دبئی
امپائر: جوئل ولسن (ویسٹ انڈیز) اور علیم ڈار (پاکستان)
  • اسلام آباد یونائٹڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی۔

شماریات[ترمیم]

سب سے زیادہ رنز[ترمیم]

کھلاڑی ٹیم میچ اننگز رنز Ave SR HS 100 50 چوکے چھکے
Flag of بنگلادیش تمیم اقبال پشاور زلمی || 6 || 6 || 267 || 66.75 || 115.08 || 80* || 0 || 3 || 24 || 5
Flag of جنوبی افریقا کیمرون ڈیلپورٹ لاہور قلندرز || 6 || 6 || 226 || 37.66 || 123.49 || 78 || 0 || 3 || 22 || 8
Flag of انگلستان روی بوپارہ کراچی کنگز || 6 || 5 || 224 || 74.66 || 158.86 || 71* || 0 || 2 || 14|| 10
Flag of پاکستان عمر اکمل لاہور قلندرز || 5 || 5 || 208 || 52.00 || 149.64 || 93 || 0 || 2 || 18 || 10
Flag of پاکستان احمد شہزاد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز || 6 || 6 || 195 || 32.50 || 144.44 || 71 || 0 || 1 || 23 || 6
ماحذ: ESPNcricinfo.com، آخری بار اضافہ 14 فروری 2016

سب سے زیادہ ووکٹیں[ترمیم]

کھلاڑی ٹیم میچ اننگز ووکٹ اوسط اکانومی BBI SR 4WI 5WI
Flag of انگلستان روی بوپارہ کراچی کنگز || 6 || 6 || 10 || 10.00 || 5.88 || &100000000000000031499996/16 || 10.2 || 1 || 1
Flag of پاکستان وہاب ریاض پشاور زلمی || 6 || 6 || 10 || 17.80 || 7.46 || &100000000000000013076923/23 || 14.3 || 0 || 0
Flag of پاکستان محمد اصغر پشاور زلمی || 6 || 6 || 9 || 14.88 || 6.09 || &100000000000000031304343/20 || 14.6 || 0 || 0
Flag of پاکستان محمد نواز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز || 6 || 6 || 9 || 16.11 || 6.30 || &100000000000000082857144/13 || 15.3 || 1 || 0
Flag of نیوزی لینڈ گرانٹ ایلیٹ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز || 2 || 2 || 7 || 5.71 || 5.00 || &100000000000000061111114/15 || 6.8 || 1 || 0
ماحذ: ای ایس پی این کرک انفو۔ کام، آخری بار اضافہ 14 فروری 2016

بلحاظ ٹیم سب سے زیادہ رنز[ترمیم]

ٹیم کل اننگز مخالف رنریٹ
لاہور قلندرز || 194/3 (20 اوور) || 1 || کوئٹہ گلیڈی ایٹرز || 9.70
پشاور زلمی || 182/4 (20 اوور) || 1 || کراچی کنگز || 9.10
کراچی کنگز || 179/9 (20 اوور) || 2 || پشاور زلمی || 8.95
کراچی کنگز || 178/5 (20 اوور) || 1 || لاہور قلندرز || 8.90
اسلام آباد یونائیٹڈ || 169/2 (15.5 اوور) || 2 || لاہور قلندرز || 10.67
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو۔ کام، آخری بار اضافہ 14 فروری 2016

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "فروری 2016 میں ہونے والی سپر لیگ کی میزبانی دوبئی اورشارجہ نے کی"۔ کرک بز۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2015۔
  2. "پاکستان سپر لیگ نے ستاروں سے بھری لیگ کے انعقاد کا اعلان کر دیا"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2015۔
  3. "پاکستان سپر لیگ کے لوگو کی لاہور میں رونمائی کی تقریب"۔ کرک بز۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 ستمبر 2015۔
  4. "پاکستان سپر لیگ"۔ ایکسپریس ٹریبیون۔ 19 ستمبر 2015۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2015۔
  5. "وسیم اکرم اور رمیز راجہ کو پی ایس ایل کے لیے سفیر چن لیا گیا"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 ستمبر 2015۔
  6. "وسیم اکرم اور رمیز راجہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کر دئیے"۔ دی نیوز ٹرائیب۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2015۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  7. "دبئی اور شارجہ کو پی ایس ایل کے لیے منتخب کر لیا گیا"۔ کرک انفو۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2015۔
  8. "پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے لیے متحدہ عربا امارات کا انتخاب کر لیا"۔ دی نیشنل۔ عثمان سمیع الدین۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2015۔
  9. کھیل کی شرائط
  10. فائنل ورلڈ ٹوئنٹی/20، کھیل کی شرائط، بمطابق ورلڈ ٹوئنٹی/20 صفحہ، تاریخ: 12 ستمبر 2007
  11. "عامر کی ہیٹرک اور کراچی کی جیت"۔ کرک انفو۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 فروری 2016۔
  12. "PSL 2016: Islamabad beat Lahore by eight wickets"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2016۔
  13. "Malik steps down as Karachi Kings captain"۔ ESPNcricinfo۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2016۔
  14. "Five-star محمد سمیع bowls Islamabad to thumping victory"۔ Cricbuzz۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2016۔
  15. "Sharjeel ton powers Islamabad United to final"۔ Cricinfo۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2016۔

بیرونی روابط[ترمیم]