پاکستان میں سائنٹولوجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں سائنٹولوجی یا سائنس مت کی بہت ہی کم لوگوں میں پیروی ہیں، جن میں زیادہ تعداد کراچی میں درمیانے اور امیر طبقے کے افراد کی ہے۔[1][2]

چرچ آف سائنٹولوجی[ترمیم]

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع ڈایانیٹکس مرکز برائے ذاتی بہتری کا الحاق "چرچ آف سائنٹولوجی ہے"۔ یہ مرکز، تعارفی کورسز، انفرادی مشاورت اور زندگی کو بہتر بنانے کے کورسز کرواتا ہے۔[3]

سائنٹولوجی سے وابستہ تنظیمیں[ترمیم]

ملک میں سائنٹولوجی سے وابستہ کئی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ ”انجمنِ نوجوانان برائے تعلیمِ انسانی حقوق“ (YTHRE)، جس کی وابستگی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم سے ہے، انسانی حقوق کی تعلیم کے فروغ پر کام کرتی ہے اور اس نے ہزاروں شرکاء کی کردار سازی کے لیے نشستیں کروائی ہیں۔[4][5] سائنٹولوجی برادری کے زیر اہتمام چلنے والی مجلس برائے بہتریٔ صحت و تعلیم و ماحولیات (SAHEE) کے "Criminon Program" (جرائم کی بیخ کنی کا منصوبہ) کو پاکستانی جیلوں کے 1,500 قیدیوں کی بحالی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ 12,000 سے زائد پولیس افسران نے بھی ان نشستوں سے استفادہ کیا ہے۔[6][7][8] سائنٹولوجی کے بانی ایل رون ہبرڈ کے تیار کردہ اسٹدی ٹیک (Study Tech) تدریسی طریقۂ کار کو پاکستانی اسکولوں میں اپنایا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے عملی معلمین نے بہت سے اساتذہ کو تربیت دی ہے۔[9][10][11] سائنٹولوجی برادری کے تحت چلنے والی تنظیموں نے قدرتی آفات کے دوران میں کئی امدادی کاموں میں بھی حصہ لیا ہے۔[12][13]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈیورے ایس احمد (1994)۔ Masculinity, Rationality and Religion: A Feminist Perspective (اشاعت وومنز اسٹڈیز جرنل سیریز کی جلد 3۔)۔ اے ایس آر پبلکیشنز۔ صفحہ 44۔ آئی ایس بی این 9789698217198۔ ...The increasing popularity of 'scientology' among the middle and upper class in Karachi. It is not clear whether the writer is a psychologist or not, but his report and analysis belies an attitude of suspicion and condescension insofar as dianetics and scientology make use of symbols far removed from mainstream psychology.
  2. فاطمہ بھٹو (23 جولائی 2015)۔ "Inside Karachi's strange North Korean embassy"۔ جی کیو انڈیا۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2015۔ Karachi is home to Parsis and Burmese, Chinese and, of course, North Koreans. There are Seventh Day Adventists and Mormon missionaries here, Africans that came from Zanzibar and Kenya as warriors and have stayed on to set up Sufi shrines. “Did you know we have Scientologists here?
  3. "Directions"۔ Dianetics Centre of Karachi for Personal Excellence۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 اکتوبر 2015۔
  4. "About Youth Together for Human Rights Education"۔ یوتھ ٹوگیدر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2015۔
  5. "Pakistan: Human rights education"۔ Youth for Human Rights۔ 15 اپریل 2014۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2015۔
  6. رابعہ علی (6 اپریل 2015)۔ "Serving a sentence: Helping Karachi's prisoners, the Criminon way"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2015۔
  7. فاطمہ بھٹو (5 نومبر 2013)۔ "Exclusive: Fatima Bhutto on falling in love with Karachi"۔ ووگ انڈیا۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2015۔ By the autumn of 2010, I began to spend my time in archival libraries and museums and interviewing a motley crew of Karachiites — from the scientologists who have infiltrated the city's jails (who, understandably, don't like to be known as scientologists, so they hide behind the cover of a health NGO curiously led by the principles of L Ron Hubbard) to South Korean evangelicals, urban planners and transgender rights activists.
  8. زبیدہ مصطفیٰ (15 مئی 2015)۔ "Changing mindsets"۔ ڈان۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2015۔
  9. "Study Technology Projects"۔ ماڈرن ٹیچنگ۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2015۔ An Applied Scholastics representative recently returned to the UK from Islamabad where she was working with the Minister for Education, the Permanent Secretary and the Federal Directorate of Education. She has been training teachers within the Federal Directorate of Education where the Director General selects teachers for training as trainers.
  10. "Education"۔ بونافائڈ سائنٹولوجی۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2015۔ Today, more than 3 million people have participated in these educational programs. Mr. Hubbard’s study technology is used by hundreds of organizations and schools in 30 countries on six continents, including China, Pakistan, Australia, South Africa, the United States and much of Europe.
  11. چرچ آف سائنٹولوجی انٹرنشینل (1998)۔ Scientology: theology & practice of a contemporary religion۔ برج پبلکیشنز۔ صفحہ 81۔ آئی ایس بی این 9781573181457۔
  12. "International Dianetics Assist Team Responds to Pakistan Floods"۔ سائنٹولوجی نیوز۔ 26 اگست 2015۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اکتوبر 2015۔
  13. "Countrymen aiding countrymen: flood relief in Pakistan"۔ سائنٹولوجی۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اکتوبر 2015۔