پاکستان میں عوامی صحت کا نظام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ضلع لیہ کا سرکاری اسپتال

پاکستان میں عوامی صحت کے شعبے کا اندازا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں 74 طبی کالج اور 32 دندانسازی کے کالج موجود ہیں۔ ان سے ہر سال 9000 ڈاکٹر اور 2000 ڈینٹسٹ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ ملک میں ہر دس ہزار کی آبادی کے واسطے آٹھ ڈاکٹر موجود ہیں جبکہ یہ تناسب ریاستہائے متحدہ امریکا میں 24 اور مملکت متحدہ میں 25 ہے۔ شہری علاقوں یہ تناسب 14.5 ہے جبکہ دیہی علاقوں میں 3.6 ہے۔ یہ تناسب کا لمبے عرصے تک اسی طرح رہنے یا مزید کم ہونے کا امکان ہے، خاص کر طبی شعبے کے ماہرین کے بیرون ملک جاکر بس جانے کی وجہ سے، جیسا کہ اخباری اطلاعات سے پتہ چلتا ہے۔[1]

پاکستانی طبی شعبے کا نفسیاتی جائزہ[ترمیم]

2010ء میں 3,549 طبی پیشے سے جڑے لوگوں سے کیے گئے ایک سروے میں پایا گیا کہ خانگی شعبے سے جڑے لوگ عوامی صحت کی دیکھ ریکھ سے جڑے لوگوں سے زیادہ مطمئن ہیں۔ اس کی وجہ غیرتشفی بخش تنخواہیں، کیرئیر کی ترقی کے کم مواقع اور خستہ ملازمت کا ماحول بتائے گئے ہیں۔ ایک اہم مسئلہ بھرتی اور انتخاب میں یہ ہے کہ کئی جائدادیں مخلوعہ ہی رہ گئی ہیں کیونکہ تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے۔ اسی وجہ سے اکثر عوامی صحت کا نظام صرف باہری مریضوں کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ یہ بھی صحت کی مطلوبہ معیار سے کافی کم ہے۔ اس کا سبب بھرتی کے عمل میں حکومت اور ادارہ جاتی اثرات، دیر سے ہونے والی بھرتیاں اور عوامی نظام میں احتساب کی کمی ہے۔[1]

صوبہ پنجاب میں صحت کا عملہ[ترمیم]

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبے میں تین طرح کی بھرتیاں ہوتی ہیں۔ اولاً پنجاب ببلک سرویس کمیشن ڈاکٹروں کو گریڈ 17 کے تحت تحریری امتحانوں اور انٹرویوؤں کے ذریعے بھرتی کرتا ہے۔ ثانیًا خود اسپتال فوری ضرورتوں کے تحت لوگوں کا تقرر کرتے ہیں۔ ثالثًا حکومت پنجاب بھی کچھ ڈاکٹروں کو معاہدے (کانٹریکٹ) کے تحت یا حسب ضرورت (ایڈ ہاک) بھی جائدادوں کو پُر کرتی ہے۔ معاہدے کے تحت بھرتی ڈاکٹر باضابطہ بھرتی ڈاکٹروں کے مقابلے میں اپنی ملازمت سے کم ہی مطمئن پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ کم تنخواہ کے علاوہ رخصت، وظیفے اور کئی سہولتوں کا فقدان ہے۔[1]

ملک کا بنیادی طبی ڈھانچا اور اس کا صحت کے پیشے سے جڑے لوگوں پر اثر[ترمیم]

1996ء سے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت نے کوئی نیا اسپتال نہیں بنوایا۔ اس کی وجہ سے سرکاری ڈاکٹروں کو موقت انداز میں ترقی دینا یا دیگر عوامی شعبے کے ملازمین کی طرح تنخواہوں میں اضافہ کرنا دشوار ہوچکا ہے۔ چنانچہ کچھ ڈاکٹر ایک ہی ابتدائی عہدے پر 15-20 سال تک کام کر چکے ہیں۔[1]

اعداد و شمار[ترمیم]

کل آبادی[ترمیم]

ایک اندازے کے مطابق 2015 میں پاکستان کی کل آبادی 188,925,000تھی۔[2]

صحت پر خرچ[ترمیم]

2014 میں پاکستان میں صحت پر فی کس 129 ڈالر خرچ ہوئے۔2014 میں ہی جی ڈی پی کا 2.6 فیصد صحت پر خرچ ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 1.3 Aneeqa Suhail & Aisha Azhar, "Managing Human Resources in Public Health Care Systems in South Asia: A Case Study of Pakistan", South Asian Journal of Human Resources Management,Sage Publications, June 2016, Volume 3, Issue 1, Pages 75-83.
  2. http://www.who.int/countries/pak/en/