پاکستان میں ہندومت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پاکستانی ہندو
Hindu Temple, Sadh Belo 4.jpg
کل آبادی
3,885,000 ملین (2017)
پاکستانی آبادی کا 1.85%
گنجان آبادی والے علاقے
زبانیں
زیادہ تر اردو، سندھی  • کم تر: گجراتی، پنجابی اور انگریزی

پاکستان میں ہندومت کے پیروکاروں کی تعداد کل پاکستانی آبادی کا 1.85% ہے۔[1] سنہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق اسلام کے بعد پاکستان میں ہندومت دوسرا بڑا مذہب ہے۔[2] سنہ 2010ء تک پاکستان میں دنیا کی پانچویں سب سے بڑی ہندو آبادی تھی اور پیو نے پیش گوئی ہے کہ 2050ء تک پاکستان میں دنیا کی چوتھی سب سے بڑی ہندو آبادی ہو گی۔[3]

پیو ریسرچ کے مطابق ہندو آبادی کی تعداد 5.6 ملین تک پہنچ جائے گی[3] اور سنہ 2050ء میں ہندو پاکستان کی آبادی کا 2% ہوں گے۔[4] 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی آزادی اور برطانوی ہندوستان سے علاحدگی کے بعد مغربی پاکستان کے 4.7 ملین ہندو اور سکھ بھارت ہجرت کر گئے جبکہ 6.5 ملین مسلمان بھارت سے مغربی پاکستان میں رہنے کے لیے چلے گئے۔[5]

سنہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق ہندوؤں کی تعداد 2,443,614 تھی۔[2] ہندو پاکستان کے تمام صوبوں میں پائے جاتے ہیں مگر سندھ میں ان کی اکثریت ہے۔[6] یہ بہت سی زبانیں بولتے ہیں[7] مگر زیادہ تر سندھی، سرائیکی، مارواڑی اور گجراتی زبانیں بولی جاتی ہیں۔[8]

تاریخ[ترمیم]

ہنگلاج ماتا مندر
پشاور، پاکستان

قدیم ترین ہندو کتاب رگ وید کے متعلق عقیدہ ہے کہ وہ خطہ پنجاب (موجودہ پاکستان اور بھارت کے کچھ علاقوں) میں دریائے سندھ کے کناروں پر لگ بھگ 1500 قبل مسیح میں لکھی گئی۔[9] مختلف آثار قدیمہ جیسے کہ سواستک کی علامت اور یوگی شخص جو دکھنے میں پشوپتی کی تصویر معلوم ہوتی ہے، موئن جو دڑو، سندھ کے لوگوں کی مہروں (seals) پر دریافت ہوئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم دور میں یہاں ہندومت کا بول بالا تھا۔ جنوبی ایشیا کے اس حصہ میں وادیٔ سندھ کے لوگوں کی اکثریت یقین کے مطابق ہندو عقیدہ پر قائم تھی۔

ہندوستانی رزمیہ نظم مہابھارت میں سندھ سلطنت اور اس کے حکمرانوں کا اہم کردار یے۔ ایک مشہور ہندو روایت ہے کہ پاکستانی شہر لاہور کی بنیاد سب سے پہلے لو جبکہ قصور کی بنیاد اس کے جڑواں کش نے رکھی، یہ دونوں راماین کے رام کے بیٹے تھے۔ شمال مغرب کی گندھارا سلطنت اور اس کے افسانوی لوگ بھی ہندو ادب جیسے کہ راماین اور مہابھارت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ کئی پاکستانی شہروں کے نام (جیسے کہ پشاور[10] اور ملتان[11]) سنسکرت زبان سے اردو زبان میں داخل ہوئے ہیں۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Population by religion"۔ مورخہ 2 اپریل 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. ^ ا ب "Population Distribution by Religion, 1998 Census" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Pakistan Bureau of Statistics۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 دسمبر 2016۔
  3. ^ ا ب "10 Countries With the Largest Hindu Populations, 2010 and 2050"۔ Pew Research Center۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2017۔
  4. "Projected Population Change in Countries With Largest Hindu Populations in 2010"۔ Pew Research Center۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2017۔
  5. Arif Hasan؛ Mansoor Raza۔ Migration and Small Towns in Pakistan۔ IIED۔ صفحہ 12۔ آئی ایس بی این 978-1-84369-734-3۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ When the British Indian Empire was partitioned in 1847, 4.7 million Sikhs and Hindus left what is today Pakistan for India, and 6.5 million Muslims left India and moved to Pakistan.
  6. "The truth about forced conversions in Thar"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "Pakistan"۔ Ethnologue۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. Zia Ur Rehman۔ "With a handful of subbers, two newspapers barely keeping Gujarati alive in Karachi"۔ The News International۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2017۔ InPakistan, the majority of Gujarati-speaking communities are in Karachi including Dawoodi Bohras, Ismaili Khojas, Memons, Kathiawaris, Katchhis, Parsis (Zoroastrians) and Hindus, said Gul Hasan Kalmati, a researcher who authored “Karachi, Sindh Jee Marvi”, a book discussing the city and its indigenous communities. Although there are no official statistics available, community leaders claim that there are three million Gujarati-speakers in Karachi – roughly around 15 percent of the city’s entire population.
  9. "Rigveda | Hindu literature"۔ Encyclopædia Britannica۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-13۔
  10. Kumkum Roy۔ Historical Dictionary of Ancient India۔ Rowman & Littlefield۔ صفحہ 259۔
  11. Jarred Scarboro۔ Ultimate Handbook Guide to Multan : (Pakistan) Travel Guide۔ صفحہ 7۔