پاکستان کرکٹ کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پاکستان کرکٹ کی تاریخ
Flag of Pakistan.svg

پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ 1947ء میں پاکستان کے معرض وجود آنے سے شروع ہوتی ہے۔ موجودہ پاکستان میں شامل علاقوں میں سب سے پہلا میچ 22 نومبر 1935 کو کراچی میں سندھ اور آسٹریلیا کرکٹ ٹیموں کے درمیان میں ہوا۔ اس میچ کو دیکھنے کے لیے کراچی سے 5000 لوگ آئے۔[1] یہ میچ برطانوی ہندوستان کے دور مین برطانیہ کے زیر انتظام کھیلا گیا۔ کرکٹ پاکستان میں سب سے مقبول کھیل ہے۔[2] پاکستان نے بین الاقوامی کرکٹ میں بہت سے قابل ذکر بلے باز اور گیند باز کھلاڑی پیدا کیے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ مقامی کرکٹ مقابلوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کا رکن ملک ہے۔

مشہور کھلاڑی[ترمیم]

پاکستان کے مشہور کھلاڑیوں میں حنیف محمد، ظہیر عباس، منصور اختر، عبدالقادر، وسیم اکرم، جاوید میانداد، عمران خان، وقار یونس، انضمام الحق، شعیب اختر، سعید اجمل، سعید انور، شاہد آفریدی، شعیب ملک، عمر گل، یونس خان، رمیز راجہ، عامر سہیل اور ثقلین مشتاق شامل ہیں۔

عالمی کرکٹ[ترمیم]

پاکستان کی مقامی کرکٹ ٹیمیں قائد اعظم ٹرافی، پیٹرنز ٹرافی، پنٹینگولر ٹرافی، قومی ایک روزہ چیمپئن شپ اور فیصل بینک ٹی/20 کپ میں شرکت کرتی ہیں۔ بین الاقوامی ایک روزہ اور ٹیسٹ میچ پاکستان قومی کرکٹ ٹیم اور دیگر ممالک کی قومی ٹیموں کے درمیان میں کھیلے جاتے ہیں۔

پاکستان 1992ء کا کرکٹ عالمی کپ اور 2009ء میں آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی/20 جیت چکا ہے، جبکہ کرکٹ عالمی کپ 1999 اور 2007ء ورلڈ ٹوئنٹی/20 میں رنرز اپ اور 2017ء میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیت چکا ہے۔

پاکستان ایشیائی کرکٹ کونسل کے زیراہتمام ایشیائی مقابلوں میں بھی حصہ لیتا ہے۔ ان مقابلوں میں ایشیاء کپ، ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ، اے سی سی ٹرافی اور ایشین کرکٹ جونیئر ٹورنامنٹ شامل ہیں۔

مقامی کرکٹ[ترمیم]

پاکستان کی مقامی کرکٹ کا موجودہ کفیل فیصل بینک ہے۔ پاکستان کے مشہور مقامی مقابلے درج ذیل ہیں:

منتظم[ترمیم]

پاکستان کرکٹ بورڈ مقامی کرکٹ مقابلوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کا رکن ملک ہے۔

پاکستان کے تقریباً تمام شہروں اور علاقوں کی اپنی کرکٹ ٹیمیں ہوتی ہے جو غیر سرکاری مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں۔ پاکستانی بچے بہت چھوٹی عمر میں ہی کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کھیل پاکستان میں سے سے زیادہ مشہور اور مقبول کھیل ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ایک روزہ بین الاقوامی اور ٹیسٹ کرکٹ میچوں میں پاکستان کا ایشیائی کرکٹ ٹیموں میں بہت اچھا ریکارڈ ہے۔ پاکستان 1992ء کا کرکٹ عالمی کپ اور 2002,2012 میں ایشیاء کپ اور 2009ء میں آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی/20 اور 2017ء میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیت چکا ہے۔

کرکٹ کی رخصتی[ترمیم]

لاہور، پاکستان میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ
Gaddafi stadium daytime.jpg
مقام لاہور، پاکستان
تاریخ 3مارچ، 2009ء
8بج کر چالیس منٹ مقامی وقت کے مطابق [3] (UTC+5)
حملے کی قسم گھات لگا کر حملہ
ہلاکتیں پانچ پاکستانی پولیس اہلکار
زخمی 6 سری لنکن کرکٹر مع دو عملہ کے اہلکار اور ایمپائر حسن رضا
شرکا کی تعداد 12
دفاع کنندگان پاکستانی پولیس

3 مارچ، 2009ء کو مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجکر چالیس منٹ پر 12 نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کارواں کی بس کو قذافی اسٹیڈیم لاہور، پاکستان کے نزدیک دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔[4] سری لنکن کرکٹر پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی تیسرے دن کے کھیل کے لیے قذافی اسٹیڈیم جا رہے تھے۔ اس حملے میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے چھ ارکان زخمی اور پاکستان پولیس کے پانچ سپاہی ہلاک ہوئے۔[5] پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے دستی بم اور راکٹ لانچر برآمد ہوئے۔[6] سری لنکا کی کرکٹ ٹیم ممبئی میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی وجہ سے بھارت کے دورے کی منسوخی کے بعد پاکستان کے دورے پر تھی۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کو برابر قرار دے دیا گیا۔[7] حملے کے بعد سری لنکا کی کرکٹ ٹیم فوری طور پر اسٹیڈیم لے جایا گیا، جہاں سے ہنگامی طور پر پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے لے جایا گیا[8] اور فوری طور پر اگلی دستیاب پرواز سے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو وطن واپس بھیجنے کے انتظامات کردیے گئے۔[9]

نقصانات[ترمیم]

سری لنکا کی ٹیم کے کپتان مہیلا جے وردن جوکہ حملے میں زخمی ہوئے

چھ پاکستانی پولیس کے اہلکار اور دو عام شہری ان حملوں میں جاں بحق ہوئے۔[10] جبکہ سری لنکن ٹیم کے کئی اراکین معمولی زخمی ہوئے، جن میں درج ذیل ارکان شامل ہیں:

سمارا ویرا اور پرانا ویتانا کو واقعے کے فوراً بعد اسپتال میں داخل کر دیا گیا جبکہ دیگر کھلاڑیوں کے زخم معمولی نوعیت کے تھے۔[11] سماراویرا کو ران پر جبکہ پرانا ویتانا کو سینے پر گولی کا زخم لگا۔[12] ٹیم کے نائب کوچ پاؤل فربریس بھی زخمی ہوئے۔[13] یہ اطلاعات بھی تھیں کہ ٹیم کے کوچ ٹریور بائیلس بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں[14][15] تاہم بعد میں یہ اطلاعات غلط ثابت ہوئیں۔[10]

دورے کا پس منظر[ترمیم]

پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم کی حفاظت عرصہء دراز سے موضوعِ گفتگو رہی جبکہ حال ہی میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے حفاظتی نقطہء نظر سے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا۔[16] مئی 2002ء میں نیوزی لینڈ نے اپنی کرکٹ ٹیم کو اُس وقت فوری طورپر پاکستان سے واپس بلالیا، جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے ہوٹل کے باہر ایک خود کش حملے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔[17] سری لنکا کی کرکٹ ٹیم بھی پاکستان میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی جگہ آئی تھی جو ممبئی حملوں کی وجہ سے کھیل میں حصہ نہ لے سکے۔[18]

کرکٹ کی واپسی[ترمیم]

زمبابوے کادورہ پاکستان2015ء[ترمیم]

2015 پاکستان بمقابلہ زمبابوے
Pakistan vs Zimbabwe
Flag of Pakistan.svg
پاکستان
Flag of Zimbabwe.svg
زمبابوے
تاریخ 19 مئی 2015 – 31 مئی 2015
کپتان شاہد آفریدی (ٹی-20)
اظہر علی (ODIs)
Elton Chigumbura (ٹی-20 اور پہلا ایک روزہ)
Hamilton Masakadza (دوسرا اور تیسرا ایک روزہ)
ایک روزہ بین الاقوامی سیریز
نتیجہ پاکستان 3 سے یہ دور جیت گيا 2–0
زیادہ دوڑیں اظہر علی (227) Chamu Chibhabha (138)
زیادہ ووکٹیں وہاب ریاض (5) سکندر رضا بٹ & Graeme Cremer (3)
بہترین کھلاڑی اظہر علی (پاک)
ٹی-20 بین الاقوامی سیریز
نتیجہ پاکستان 2 مقابلوں کا دور 2–0 سے جیت گيا
زیادہ دوڑیں مختار احمد (145) Hamilton Masakadza (82)
زیادہ ووکٹیں محمد سمیع (4) سین ولیم (3)
سیریز بہترین کھلاڑی مختار احمد (پاک)

زمبابوے قومی کرکٹ ٹیم نے 19 سے 31 مئی 2015ء تک پاکستان کا دورہ کیا[19] اس دورے کے دوران میں 3 ایک روزہ میچ اور 2 ٹوئنٹی/20 ہوئے، تمام مقابلے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقد ہوئے۔2009ء میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کے بعد یہ کسی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی اہلیت رکھنے والی قومی ٹیم کا پہلا دورہ پاکستان تھا۔[19] اس میں دونوں ٹی-20 اور پہلے دونوں ایک روزہ پاکستان نے جیت کر دورہ اپنے نام کیا، تیسرے ایک روزہ میں بارش ہوئی، جس وجہ سے وہ بلا نتیجہ رہا۔

پی ایس ایل 2017ء کافائنل لاہور میں[ترمیم]

پشاور زلمی بمقابلہ کوئیٹہ گلیڈی ایٹرز یہ میچ پشاور زلمی جیتا اور یہ اس کا پہلا پی ایس ایل ٹائیٹل تھا اس سے پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی کی راہیں ہموار ہوئیں لاہور آنے والے کھلاڑیوں میں ڈیرن سیمی،مارلن سیمیولز،کرس جورڈن اور ڈیوڈ ملان شامل تھے جو کے پشاور زلمی کی نمائندگی کر رہے تھے۔

ورلڈالیون کا دورہ پاکستان 2017ء[ترمیم]

سری لنکا کا دورہ پاکستان 2017ء[ترمیم]

پی ایس ایل 2018ء[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "سندھ کے خلاف میچ"۔ ڈیلی سڈنی مارننگ ہیرالڈ، آسٹریلیا۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1935-11-23۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  2. برصغیر پاک و ہند میں کرکٹ کی مقبولیت
  3. سامے لائیو کا وقت پر مضمون
  4. "سری لنکا کی ٹیم پر حملے میں ملوث چار افراد پاکستانی پولیس نے گرفتار کرلئے"۔ SamayLive.com۔ 3 مارچ 2009۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ 2009۔
  5. "مسلح افراد کی سری لنکن کرکٹرز پر فائرنگ"۔ بی بی سی نیوز۔ 3 مارچ 2009۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ 2009۔
  6. "سری لنکن کرکٹ ٹیم پر فائرنگ"۔ گارڈین۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-03-03۔
  7. "پاکستان بمقابلہ سری لنکا 2008/9"۔ Cricket Archive۔ 3 مارچ 2009۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ 2009۔
  8. جیو سپر کا پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز پر مضمون
  9. "سری لنکن کھلاڑی واپس زخموں کے ساتھ وطن واپس"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-03-03۔
  10. ^ ا ب "سری لنکن کرکٹ ٹیم پر فائرنگ"۔ اسکائی نیوز۔ 3 مارچ، 2009ء۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 March 2009۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  11. سائمن برگس (3 مارچ 2009)۔ "سری لنکا کے کھلاڑی پاکستان میں حملے میں بچ گئے"۔ دی ٹیلیگراف۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ 2009۔
  12. سائمن برگس (3 مارچ 2009)۔ "سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ:کمارا سنگا کارا پاکستان میں فارئرنگ سے زخمی"۔ دی ٹیلیگراف۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ 2009۔
  13. "حملے کے بعد لاہور ٹیسٹ منسوخ"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-03-03۔
  14. Rizwan Ali۔ "Sri Lankan cricket team attacked in Pakistan"۔ Associated Press۔ مورخہ 2009-03-04 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-03-03۔
  15. "پانچ سری لنکن کھلاڑی زخمی۔ وزیرِ کھیل"۔ مشترکہ مطبوعات۔ مورخہ 2009-03-06 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-03-03۔
  16. Ben Knight (9 اگست 2002ء)۔ "آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا"۔ اے بی سی نیوز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ، 2009ء۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  17. "انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں بم دھماکے کے بعد شدید ہلچل"۔ بی بی سی کھیل۔ 8 May 2002۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ، 2009ء۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  18. "سری لنکا نے دورے کی منظوری دے دی ۔ پاکستان بورڈ"۔ کرک انفو، پاکستان۔ 10 دسمبر، 2008ء۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ، 2009ء۔ Check date values in: |accessdate=, |date= (معاونت)
  19. ^ ا ب "زمبابوے کرکٹ ٹیم پاکستان میں"۔ ESPNCricinfo۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اپریل 2015۔